انتہا پسندی کا زہر اور نیشنل ایکشن پلان
24 مارچ 2019 2019-03-24

ایک اور استاد کو انتہا پسندی کا اژدہا نگل گیا ۔ علم کی روشنی پھیلانے والے پروفیسر خالد حمید کو ایک طالب علم نے ان ہی کے دفتر میں بہیمانہ طرقے سے قتل کر دیا ۔ صادق ایجرٹن کالج بہاولپور میں ہونے والے اس ہولناک واقع نے ہمیں ایک بار پھر یہ یاد دہانی کروائی ہے کہ ہمارے معاشرے میں انتہا پسندی کا زہر مسلسل پھیل رہا ہے۔ نفرت کی ترویج مسلسل جاری ہے۔ نفرت کے سودا گر کھلے عام نفرت پھیلا رہے ہیں۔ وہ انتہا پسندانہ اور متشدد خیالات اور سوچ کو پروان چڑھا رہے ہیں۔

پروفیسر خالد حمید وہ پہلے استاد تو نہیں ہیں جو اس انتہا پسندی کا نشانہ بنے ہیں۔ ان سے پہلے کتنے ہی استاد ، شاعر، ادیب، دانشور، ڈاکٹرز اور انجینئر فرقہ واریت اور منافرت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ کئی عالم دین اور مذہبی مفکر جو کہ انتہا پسندی اور جنونیت کے خلاف برداشت توازن اور رواداری کی بات کرتے تھے وہ بھی اس عفریت کا نشانہ بن گئے۔ پروفیسر خالد حمید کا جرم اتنا تھا کہ وہ کالج کے انگلش ڈیپارٹمنٹ میں سالانہ تقریب کا اہتمام کر رہے تھے جس میں انگلش ڈیپارٹمنٹ کے طلباء و طالبات نے حصّہ لینا تھا۔ قاتل کا یہ ماننا ہے کہ مخلوط پارٹی یا تقریب کا اہتمام کرنا غیر اسلامی عمل ہے۔ قاتل نے جس اطمینان سے پروفیسر خالد حمید کے خلاف زہر آلود گفتگو کی اور اپنے سناکانہ فعل کو درست قرار دیا اس سے قاتل کے ذہنی حالت، سوچ اور فکر کا با آسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اسے اپنے بہیمانہ فعل پر کوئی ندامت یا شرمندگی نہیں ہے۔ اس کا خیال ہے کہ ایک معصوم اور بے گناہ جان لے کر اس نے اسلام کی خدمت کی ہے۔ اور برائی کو پھیلنے سے روکا ہے۔

پروفیسر کو قتل کرنے والے طالب علم کے ساتھی طلباء کا کہنا ہے کہ پچھلے چند ماہ سے اس کے خیالات بدل رہے تھے اور وہ انتہا پسندانہ اور کٹر قسم کے خیالات اور سوچ کو اپنا رہا تھا۔ اس میں انتہا پسندی کے خیالات اور سوچ کسی جہادی تنظیم یا مسلح جنگجو گروپ کی وجہ سے پروان نہیں چڑھ رہے تھے بلکہ ایک ایسے مذہبی گروہ یا جماعت کی وجہ سے پنپ رہے تھے جس نے 2018 ء کے عام انتخابات میں بھر پور حصّہ لیا اور لاکھوں ووٹ حاصل کیے۔ یہ کوئی کالعدم جماعت یا تنظیم نہیں ہے بلکہ الیکشن کمیشن سے با ضابطہ طور پر رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے جو کہ مذہب کی بنیاد پر سیاست کرتی ہے۔ہمارے حکمران اور پالیسی ساز اب تک اس فکری مغالطے اور ابہام سے ہی نہیں نکل سکے کہ ریاست اور سماج کے لیے خطرہ صرف وہ شدت پسند اور انتہا پسند ہیں جو کہ ہتھیار اٹھا کر ریاستی اداروں اورسکیورٹی اداروں پر حملے کرتے ہیں یا پھر دہشت گردی کی کارروائیوں کے ذریعے بے گناہ اور معصوم شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں ۔ سانحہ APS ( آرمی پبلک سکول پشاور) کے بعد بننے والا نیشنل ایکشن پلان میں اگرچہ نفرت آمیز تقاریر اور انتہا پسندانہ سوچ اور خیالات کے پھیلانے کو روکنے کی بات بھی شامل تھی مگر اب تک سارا زور ان تنظیموں اور گروپوں کے خلاف لگایا گیا ہے جو کہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھے اور بندوق کے زور پر اپنے خیالات اور سوچ کو سماج پر مسلط کرنا چاہتے تھے۔ اس حوالے سے پاکستان کو نمایاں کامیابی حاصل ہوئی اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ ملک میں امن و امان کی صورت حال میں نمایاں بہتری آئی ہے مگر دوسری طرف انتہا پسندی ، شدت پسندی اور نفرت کے تحریر و تقریر کے ذریعے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ؤثر اقدامات نہیں ہوئے۔ مذہبی انتہا پسندی اور شدت پسندی کے بیانیے کے مقابلے میں اب تک ریاست ایک واضح موثر متبادل بیانیہ سامنے لانے اور اسے اپنانے میں ناکام رہی ہے۔ پاکستان کے فیصلہ اور پالیسی ساز اب تک یہ فیصلہ نہیں کر پائے ہیں کہ انہوں نے فوجی آمر ضیاء الحق کے دور میں اپنائے گئے مذہبی بیانیے کو تبدیل کرنا ہے اور سیاسی مفادات اور مقاصد کے لیے مذہب کے استعمال کو روکنا ہے یا نہیں۔ جب تک حکمران ان طبقات اور مقتدر قوتیں سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے مذہب کو بطور سیاسی ہتھیار استعمال کرنا ترک نہیں کریں گے اس وقت تک معاشرے میں انتہا پسندی ، شدت پسندی اور عدم برداشت فروغ پاتا رہے گا۔

گزشتہ 40 سالوں سے ریاستی سر پرستی میں انتہا پسندی اور شدت پسندی کو فروغ دیا گیا ہے اس وقت پاکستان ایک دوراہے پر کھڑا ہے ۔ پاکستانی ریاست کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ مذہبی معاملات اور مسائل پر حتمی رائے اور فیصلہ ریاست اور اس کے اداروں نے کرنا ہے یا پھر مذہبی تنظیموں اور گروپوں کے لیڈروں نے ملک کی سمت کا تعین کرنے کے حوالے سے بحث اور فیصلے پارلیمنٹ نے کرنے ہیں یا پھر مخصوص گروہوں اور گروپوں نے، تمام ایسے مسائل یا معرضوعات جو متنازعہ ہیں یا پھر حساس نوعیت کے ہیں۔ ان پر پارلیمنٹ میں سنجیدہ بحث و مباحثے کے ان کا حل نکالنا ہے یا پھر مذہبی حلقوں کو یہ اختیار اور حق دینا ہے کہ وہ ان کی تشریح یا موقف ہی درست اور فیصلہ کن ہے۔مذہبی انتہا پسندی اور شدت پسندی میں اضافے نے علمی و فکری مباحث اور گفتگو کے علم کو پہلے ہی محدود کر ردیا ہے اور اس حوالے سے سماج میں شدید گھٹن ہے۔ پاکستانی ریاست کو یہ بھی طے کرنا ہے کہ مخصوص گروہوں کو یہ حق حاصل رہا ہے کہ وہ طے کریں گے کہ لوگ کیا پہنیں گے۔ کیا کھائیں گے۔ ان کا رہن سہن کیسا ہو گا۔ وہ کیا سوچیں گے اور کیا بولیں گے۔ کیا صحیح اور کیا غلط اس کا فیصلہ بھی مخصوص گروہ اور راہنما کریں گے۔ سماج میں برداشت ، رواداری، بلند انسانی اقدار، اور انسانی وقار و عظمت کے فروغ کے لیے ریاست کو چند بنیادی فیصلے کرنا ہوں گے۔ اور اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہو گا کہ انتہا پسندی اور شدت کا فروغ بھی سماج کے لیے اتنا ہی بڑا خطرہ ہے جتنا کہ مسلح دہشت گرد گروہ یا بندوق کے زور پر اپنی سوچ اور نظریات کو تھونپنے والے گروپ اور تنظیمیں۔اگر پاکستان کو ایک معتدل جمہوری اور ترقی پسند سماج بنانا ہے تو ان تمام راستوں کو بند کرنا ہو گا جو کہ انتہا پسندی اور عدم برداشت کی طرف لے کر جاتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دائیں بازو کے انتہا پسند عناصر کو اپنی سوچ، فکر، خیالات اور اخلاقیات سماج پر مسلط کرنے کی کوششوں کو روکنا ہو گا۔ ایسے عناصر ہر جگہ موجود ہیں۔ نفرت کا درس دینے والوں اور ان کی حمایت کرنے والوں کو خواہ وہ سیاسی جماعتوں میں ہوں یا میڈیا میں، تعلیمی اداروں میں ہوں یا ریاستی اداروں میں ان کے بارے میں معذرت خواہانہ اور مصالحانہ رویہ ترک کرنا ہو گا۔ بہاولپور کے کالج میں جو کچھ ہوا وہ یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ کس طرح انتہا پسندانہ سوچ کی بے گناہ اور معصوم فرد یا افراد کی جان لے سکتی ہے۔ یہ سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے۔


ای پیپر