چیف جسٹس کی خدمت میں نہایت احترام کے ساتھ
24 مارچ 2018



عزت مآب میاں ثاقب نثار
چیف جسٹس آف پاکستان
عالی محترم قدرت اور حالات نے آپ کو ریاست پاکستان کے حد درجہ معزز عہدے پر فائز کیا ہے۔۔۔ ملک خداداد کے قاضی القضاۃ کے منصب کی خلعت پہنائی گئی ہے۔۔۔ پاکستان کے غریب اور امیر ہر درجے کے شہری کو برابر کا انصاف مہیا کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔۔۔ آپ کو پے در پے تقریروں، بیانات، عدالتی آبزرویشنز اور اخباری انٹرویوز پڑھ کر معلوم ہوتا ہے آپ انصاف کیا کچھ قدم آگے بڑھاتے ہوئے پورے ملک کے سیاسی اور سماجی نظام کو تبدیل کر کے رکھ دینا چاہتے ہیں۔۔۔ پورے ریاستی ڈھانچے کے اندر انقلابی تبدیلیاں لانے کے شدت کے ساتھ متمنی ہیں۔۔۔ خاص طور پر حکومتی کارکردگی کو اس طریقے سے درست کر کے رکھ دینا چاہتے ہیں کہ کوئی سقم باقی نہ رہے ہر قسم کے ظلم و زیادتی اور نا انصافی کا خاتمہ ہو جائے۔ آپ کی یہ خواہش بھی معلوم ہوتی ہے کہ سارے کا سارا کارنامہ آپ اپنے عہدہ جلیلہ کے اختتام تک جس کا ایک سال کا عرصہ باقی رہ گیا ہے کر گزرنے کا عزم رکھتے ہیں۔۔۔ اسی خاطر آپ کے بقول آپ نے اپنے اہل خانہ کو بھی آگاہ کر دیا ہے اگلے ایک برس کے دوران آپ صبح و شام اپنے ایجنڈے کی تکمیل میں اتنے مگن ہوں گے کہ انہیں زیادہ وقت دے نہ پائیں گے۔۔۔ یعنی اس قلیل مدت میں وہ کام کر گزریں گے کہ رستم سے نہ ہوا ہو گا۔۔۔ آپ کے تازہ ترین ارشاد سے جو آپ نے لاہور میں اپنے بچپن کے سکول کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا اہل وطن کو اس بات کی یقین دہانی مل گئی ہے کہ جب تک آپ چیف جسٹس کے عہدے پر متمکن ہیں جوڈیشل مارشل لاء نہیں لگنے دیں گے کیونکہ یہ آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہو گی جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بہت مبارک عزم ہے دعا ہے اللہ تعالیٰ آپ کو اس پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔ اس نیک ارادے کے بعد کوئی شخص آپ کی نیت پر شبہ نہیں کر سکتا کہ جو بھی اقدام کریں گے وہ آئین مملکت کی حدود میں رہتے ہوئے ہو گا۔۔۔ اس کی سر بلندی پر آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔۔۔ پوری قوم کے لیے اس سے زیادہ اطمینان کی بات کیا ہو سکتی ہے۔۔۔ کیونکہ ماضی میں ہمارے ملک کے اندر ایک کے بعد دوسرے طالع آزما نے آئین کو اکھاڑ پھینکا۔۔۔ اس کے معاً بعد سپریم کورٹ سے اپنے آئین شکن ، جمہوریت دشمن ارو ملک و قوم کو تباہی کے دھانے پر لا کھڑا کرنے والے اقدام کے لیے سند جواز حاصل کرتے رہے۔۔۔ اس کی خاطر نظریہ ضرورت جیسا مکروہ ڈکٹرین وضع کیا گیا۔۔۔ بعدمیں اس کی مذمت بھی بہت ہوئی لیکن جب بھی شب خون ہوا۔۔۔ فوجی حکومت آئی ہماری اعلیٰ عدالتوں کے ذریعے اس نظریے کو نئی زندگی عطا کی گئی۔۔۔ آپ نے بہت اچھا کیا ہے اپنے اخباری انٹرویو میں صاف لفظوں میں بتا دیا ہے آپ اس نظریے کو کسی طور پسند نہیں کرتے اور تاریخ میں اپنا نام جسٹس کارنیلئس اور جسٹس حمود الرحمن کے ساتھ لکھوانا چاہتے ہیں۔۔۔ دوسرے الفاظ میں آپ ہرگز پسند نہیں کریں گے کہ آپ کا ذکر نظریہ ضرورت کا سہارا لینے والے ججوں میں کیا جائے۔۔۔ اس بیان سے بطور چیف جسٹس آف پاکستان آپ کی نیت نیتی اور ارادوں کے شفاف ہونے کا پتا چلتا ہے جو ہمارے ملک کی عدالتی تاریخ کے تناظر میں حوصلہ افزا بات ہے۔
تاہم ملک کے ایک آئین پسند، جمہوریت دوست اور اعلیٰ عدالتوں کے آزدانہ کردار کے شدت کے ساتھ خواہشمند شہری کی حیثیت سے راقم کے ذہن میں کچھ خلجان پائے جاتے ہیں۔۔۔ جنہیں آپ کے مقام و مرتبہ کا پوری طرح پاس و لحاظ کرتے ہوئے نہایت احترام کے ساتھ آپ کی خدمت میں رکھنا چاہتا ہوں تا کہ حال میں دیے جانے والے آپ کے کچھ بیانات اور اقدامات کے بارے میں دل و دماغ کو یکسوئی حاصل ہو۔۔۔ جیسا کہ آپ نے فرمایا ہے آپ اوراق تاریخ کے اندر خود کو جسٹس کارنیلئس اور جسٹس حمود الرحمن کی قطار میں کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں جو یقیناًتائید و تحسین کا مستحق ہے۔۔۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے مندرجہ بالا دونوں چیف جسٹس صاحبان اور ان سے قبل پاکستان کے پہلے اور نہایت درجہ قابل احترام چیف جسٹس عبدالرشید کو کبھی اپنے اقدامات کی وضاحت کے لیے اخباری انٹرویو نہ دینا پڑا (خواہ وہ آپ کے الفاظ میں پہلا اور آخری ہو۔۔۔) پے در پے بیانات جاری کرنے کی ضرورت پیش نہ آئی۔۔۔ ان کے ادوار میں بھی ملکی حالات دگر گوں رہے مگر تقریباً روزانہ کے حساب سے اٹھتے بیٹھتے سوو موٹو نوٹس نہ لیے جاتے تھے۔۔۔ عدالتی فعالیت کے تصور سے یہ اصحاب گرامی بھی پوری طرح واقف تھے لیکن اسے انہوں نے روز کا معمول نہیں بنایا تھا۔۔۔ ان کے کسی ایک اقدام، عدالتی آبزرویشن یا فیصلے سے دور کا شائبہ نہیں پیدا ہوتا تھا کہ حکومتی کاموں میں مداخلت کر رہے ہیں محترم چیف جسٹس صاحب ماضی میں تاریخ کے اندر اپنا نام روشن کرنے والے جن ججوں کو آپ نے اپنا آئیڈیل ٹھہرایا ہے ان کی عدالتی زندگی کا ایک ایک لمحہ سختی کے ساتھ اس اصول کی پیروی میں گزرا کہ جج صرف اپنے فیصلوں میں بولتا ہے ان کی تمام تر توجہات اصول اور انصاف پر مبنی فیصلوں کے اجراء پر مرکوز ہوتی تھیں۔۔۔ اسی لیے نام کما کر اور اپنے کردار کی بہترین مثال پیچھے چھوڑ کر اپنے عہدوں سے رخصت ہوئے مگر آپ کا پچھلے چند ماہ کا ٹریک ریکارڈ بتاتا ہے آپ بطور چیف جسٹس جتنا وقت مقدمات کی سماعت اور فیصلوں کی تیاری میں صرف کرتے ہیں کم و بیش اتنا عوامی سطح پر آپ کی جانب سے وضاحتوں کی نذر ہو جاتا ہے۔۔۔ آخر کیوں آپ نے ایک صحافی کو باقاعدہ دفتر میں بلا کر طویل سرکاری اور قیمتی وقت اپنا مؤقف پیش کرنے میں لگا دیا۔۔۔ جو بطور چیف جسٹس یہ آپ کے شایان شان نہ تھا۔۔۔ اخباری انٹرویو سیاستدان دیتے ہیں یا کاروباری اور سماجی اداروں کے مالک اور عہدیدار ۔۔۔ سیاستدان خواہ کتنا اعلیٰ درجے کا ہو بہر صورت ایک متنازع شخصیت ہوتا ہے۔۔۔ اخبارات اور ٹیلی ویژن کے ذریعے اپنے خیالات کردار اور پروگرام کی تفصیلات سے عوام کو باخبر کرتے رہنا اس کے عوامی منصب کا تقاضا ہوتا ہے۔۔۔ اسی طرح بڑی کاروباری کمپنیوں کو ہر دم مارکیٹ کے اندر اپنے حریفوں کے ساتھ مقابلے کی فضا میں زندہ رہنا ہوتا ہے ۔۔۔ وہ اگر ذرائع ابلاغ کی سہولتوں سے جائز طریقے سے فائدہ اٹھاتی ہیں تو ان کا حق ہے۔۔۔ وہ اشتہار بھی خوب دیتی ہیں کوئی اسے عیب نہیں سمجھتا ۔۔۔ اس کے برعکس ملک کا چیف جسٹس یا کسی بھی بڑی عدالت کا جج ایک غیر متنازع شخصیت ہوتا ہے۔۔۔ اسے صلے کی تمنا نہ ہوتی ہے نہ کسی قسم کے خوف کی پرواہ کرتا ہے۔۔۔ وہ اگر کسی سیاستدان کی مانند انٹرویو دینے اور عوامی سطح پر ایک کے بعد دوسری وضاحت دینے پر اتر آئے گا تو لامحالہ اس کے بارے میں متنازع شخصیت ہونے کا تاثر قائم ہو گا خواہ پسند کرے یا نہ کرے۔۔۔ اس سے نظام عدل لامحالہ ہو گا آپ نے تو عوامی تقریبات میں بھی شریک ہونا شروع کر دیا ہے۔۔۔
آپ نے ایک سے زیادہ بیانات میں قوم کو یقین دلانے کی کوشش کی ہے ’’ میں ایک مرتبہ ملک میں سوفیصد فری اور فیئر الیکشن کردا دوں گا۔۔۔ میں الیکشن کمیشن سے بھی ملتا رہتا ہوں اور کہتا ہوں آئیے کم از کم ایک بار یہ شکوہ دور کر دیں پاکستان میں شفاف اور آزاد الیکشن نہیں ہو سکتے۔۔۔ ہم سوفیصد آزاد اور شفاف الیکشن کرائیں گے۔۔۔ تمام پارٹیوں کو برابر کا موقع ملے گا جو جیت جائے گا وہ حکومت بنائے گا‘‘۔۔۔ اس ضمن میں راقم کا نہایت ادب و احترام کے ساتھ سوال ہے جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے انتخابات آپ کی آنکھوں کے سامنے ہوئے۔۔۔ معاً بعد اس مقدس ادارے کے جو وفاق پاکستان کی علامت سمجھا جاتا ہے۔۔۔ چیئرمین اور نائب چیئرمین کا چناؤ ہوا اس کی ’’شفافیت‘‘ کے بارے میں ۔۔۔ کوئی بات کسی سے ڈھکی چھپی نہ رہی۔۔۔ ایک ایک ووٹ کروڑوں روپے کے عوض بکا بھی اور خریدا بھی گیا۔۔۔ پھر ہمارے ملک کے کارکنان و قضا و قدر نے کچھ ایسا کرتب دکھایا کہ آن واحد میں ایوان کے اندر واحد اکثریتی جماعت کے طور پر کامیاب ہونے والی جماعت کے حامی اقلیت میں تبدیل ہو گئے۔۔۔ یار لوگوں نے اسی کرتب کے ذریعے سیاسی طور پر غیر ایک معروف فرد کو سینیٹ کا چیئرمین بنوا لیا۔۔۔ ووٹ اس مقصد کی خاطر بھی خریدے اور بیچے گئے۔۔۔ پوری قوم حیرانی کا شکار تھی آپ اس سے کیسے بے خبر رہ سکتے تھے۔۔۔ لیکن آپ کی جانب سے اتنی بڑی دھاندلی پر سو و موٹو نوٹس لیا گیا نہ دھاندلی کا کھلم کھلا ارتکاب کرنے والوں سے باز پرس ہوئی اور نہ خفیہ قوتوں کے کردار سے پردہ اٹھانے کے کسی ارادے کا اظہار ہوا ۔۔۔ آپ کے بیانات کے تناظر میں خاصی تعجب انگیز بات ہے یہ سب کچھ کیسے برداشت کر گئے اور اگر ’’اصل‘‘ حکمرانوں سمیت کچھ سیاسی جماعتوں کے یہی لچھن رہے تو 2018ء کے انتخابات کیونکر آزادنہ اور شفاف ہوں گے۔۔۔ یہ بات زبان زد عام ہے ان انتخابات کی کوکھ سے جنم لینے والی اسمبلی میں سینیٹ کی مانند Manufactured اکثریت ابھاری جائے گی۔ کیا آپ ڈیپ سٹیٹ کی جانب سے اس سارے انتظام و انصرام اور دیگر تدابیر کا پیشگی نوٹس لینا پسند فرمائیں گے۔ عالی مرتبت چیف جسٹس صاحب خدا آپ کی آئندہ ایک سال کے اندر حکومتی کارکردگی میں انقلابی تبدیلیاں لانے کی آرزو کو پورا کر دے۔۔۔ اس سے بہتر بات کیا ہو سکتی ہے۔۔۔ لیکن راقم کا عاجزانہ مشورہ یہ ہے آپ کے پاس گیارہ بارہ ماہ کی جو تھوڑی سی مدت باقی رہ گئی ہے، اس میں پاکستان کی چھوٹی عدالتوں کے اندر انصاف کے ساتھ جو حشر ہوتا ہے۔۔۔ ہر وقت رشوتستانی کا بازار گرم رہتا ہے۔۔۔ سفارشیں چلتی ہیں۔۔۔ دادا مقدمہ کرے تو انصاف کے حصول میں پوتے کی عمر بھی صرف ہو جاتی ہے۔۔۔ عام اور غریب آدمی اپنے لیے کم از کم انصاف کے حصول خاطر خواہر ہوتارہتا ہے۔۔۔ عام آدمی کی دہلیز پر سستا انصاف مہیا کرنے کے ارادے خواب و خیال بن کر رہ گئے ہیں۔۔۔ اگر آپ دوسرے حکومتی امور پر متوجہ ہونے کی بجائے اپنی سرگرمیاں اپنی ماتحت عدالتوں کی ناگفتہ بہ صورت حال درست کرنے پر مرکوز کر دیں جو آپ کے جلیل القدر منصب کا اصل تقاضا ہے تو اتنا بڑا انقلاب لا سکتا ہے کہ آنے والی نسلیں آپ کو یاد کریں گی۔۔۔ آپ میو ہسپتال تو تشریف لے گئے لیکن حیرت ہے لاہور یا کسی دوسرے شہر کی کچہری کا دورہ کرنے کا وقت آپ کو نہیں ملا۔


ای پیپر