پھر ان داستانوں کی ضرورت ہے
24 مارچ 2018 2018-03-24

یادش بخیر!23مارچ کا دن تادیر یومِ استقلال کہلاتا رہا۔اور پورے عزم و استقلال سے دو قومی نظریے کے تناظر میں منایا جاتا رہا۔ استقلال، لغت کے اعتبار سے قوم کی خود مختاری، استحکام، مستقل مزاجی کے معنی رکھتا ہے ۔ بدلتے حالات میں شاید اس لفظ سے قومی احوال کی مناسبت کمزور ہوتی چلی گئی اور خاموشی سے دبے پاؤں جہاں اور بہت کچھ بدلا، یہ بھی یومِ پاکستان ہو گیا۔ ملک دولخت ہوا اور یہ رہا سہا یومِ پاکستان! دو قومی نظریہ، سیکولر عیش کوش طبقے کو ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔ اسے ضیاء الحق کی اختراع قرار دے کر منظر سے ہٹا دیا گیا۔قائد اعظم کی تقاریر چھانٹنی بہت مشکل تھیں کہ ہر تقریر میں اسلام کا مضبوط، دوٹوک حوالہ کسی نہ کسی پیرائے میں آہی جاتا تھا۔ حتیٰ کہ 1944ء میں(8مارچ) مسلم علی گڑھ یونیورسٹی میں وہ مشہور و معروف بیانیہ کیسے چھپایا جا سکتا ہے جس کا عنوان دو قومی نظریہ ہی بنتا ہے ۔طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں:’پاکستان اسی دن وجود میں آ گیا تھا جس دن ہندوستان میں پہلے ہندو نے اسلام قبول کیا تھا۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب یہاں مسلمانوں کی حکومت بھی قائم نہیں ہوئی تھی۔ مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد کلم?توحید ہے نہ کہ وطن اور نسل۔ ہندوستان کا پہلا فرد جب مسلمان ہوا تو وہ پہلی قوم کا فرد نہیں رہا۔ وہ ایک جداگانہ قوم کا فرد ہوگیا۔ ہندوستان میں ایک نئی قوم وجود میں آ گئی‘۔ یہی علیحدہ قومیت کا تصور،قرار داد کی صورت میں ڈھلا اور مطالبہ پاکستان کی بنیاد بنا۔ علامہ اقبال کے ہاں پاکستان اور اسلام کے حوالے سے قطعیت بھی اتنی ہی محکم تھی۔ ’مسلمان ہونے کی حیثیت سے انگریز کی غلامی کے بند توڑنا اور اس کے اقتدار کا خاتمہ کرنا ہمارا فرض ہے ۔ اور اس آزادی سے ہمارا مقصد یہی نہیں کہ ہم آزاد ہو جائیں بلکہ ہمارا اول مقصد یہ ہے کہ اسلام قائم رہے اور مسلمان طاقتور بن جائے۔۔۔۔اگر آزادء ہند کا نتیجہ یہ ہو کہ جیسا دارالکفر ہے ، ویسا ہی رہے یا اس سے بدتربن جائے تو مسلمان ایسی آزادء وطن پر ہزار مرتبہ لعنت بھیجتا ہے ۔ ایسی آزادی کی راہ میں لکھنا، بولنا، روپیہ صرف کرنا، لاٹھیاں کھانا، جیل جانا، گولی کا نشانہ بننا سب کچھ حرام اور قطعی حرام سمجھتا ہے ‘۔ (مضامینِ اقبال : مرتبہ تصدق حسین تاج۔ ’جغرافیائی حدود اور مسلمان)بانیان پاکستان کے بیانیے سے زیادہ مستند بیانیہ کہاں سے لائیں گے!
جس اسلام نے پاکستان کے جسد خاکی میں روح پھونکی اور اسے وجود بخشا۔ اسے ہم تک پہنچانے والے کریم نبیؐ اور جاں نثار صحابہ تاؓ محمد بن قاسمؒ کے لشکر تھے۔ طویل تاریخ میں باطل سے نبرد آزما، انگریز استعمار کے غلبے کے خلاف سینہ سپر ہونے والے ماؤں کے بے بہا لعل وگہر۔ دہلی میں ہر درخت پر پھانسی دے کر لٹکا دئیے جانے والے علمائے حق، سید احمد شہیدؒ ، شاہ اسماعیل ؒ شہید کا قافلہ بے شمار قربانیوں کی تاریخ لیے ہوئے ہے ۔ سالہاسال کی جدوجہد کے بعد بانء پاکستان کے خون کی آخری رمق نچوڑ کر، اقبال کے دیدۂ ترکی بے خوابیاں، امنگیں، آرزوئیں یکجا ہوئیں تو پاکستان بنا۔ یہ قربانیاں کس دن کے لیے تھیں؟ جینز پہن کر مغربی ایجنڈوں پر تھرکنے کے لیے؟ این جی اوز کے مقاصد کے لیے کام کر کے جیبیں گرم کرنے کے لیے؟ تاریخ مسخ نہیں کی جا سکتی۔ یہ صرف ایک نعرے کے لیے دی گئیں ’’پاکستان کا مطلب کیا :لا الٰہ الا اللہ ‘‘۔ آج ہم اس بھاری امانت کے ذمہ دار ہیں۔ زندگی کے ہر دائرے میں اسلام کی بالادستی، اس پر فخر، اس پر عمل، اسے زندہ و توانا رکھنا پھیلانا ہمارے سپرد ہے ۔ ہم اپنے حصے کا کام کر کے گھر واپس پہنچ جائیں۔ رب تعالیٰ کے پاس،ہمیں بس اپنے عمل کا حساب دینا ہے جو قبولیت پا گیا تو اس کے بعد کا ہر منظر سہانا ہے !نرا یوم پاکستان نہیں جس سے وطنیت کی بوآتی ہے ۔ آج امتِ مسلمہ کا گلِ سر سبد پاکستان ان دو دنوں 23 مارچ اور14اگست کو صرف وطنی رنگ میں مناتا ہے ۔ سیکولر، لبرل سرمستی میں ڈوبا ہوا، ناچتا گاتا کلیتاً مخلوط لہکتا، مٹکتا، شوبز کے ناز و انداز دکھاتا۔ حالانکہ قائداعظم نے خطبۂ لاہور میں جوانوں کو پکارا تھا۔ ’جوانی کے جذبوں کی تپش اور شعلۂ ایمانی کو یکجاکر دیجئے تاکہ زندگی روشن تر ہو جائے اور اس سے ہماری آئندہ نسلوں کے لیے عمل کا ایک نیا جہاں جنم لے۔آج غلامی کا نیا جہاں جنم لے چکا! دینی، ایمانی تشخص کو ان دو دنوں کے حوالے سے اجاگر کرنا، نسل نو کے رگ و پے میں اتارنا دینی جماعتوں ، اساتذہ، والدین کا یکساں فرض ہے ۔ مقتدر حلقے بے چارے کرسی والے اونٹ کو کسی کروٹ بٹھانے کی کھینچا تانی میں سرتاپا غرق ہیں۔ شریعت نہ ان کا ذوق ہے نہ ترجیح۔ شریعت عوام دوست، ماں سی مہربان ریاست دیتی ہے ۔ حکمرانوں پر سخت ہوتی ہے ! ہمارے حکمران باضابطہ شریعت دشمن ہیں! ان کی سرپھٹول کے ہاتھوں پاکستان کی روح تو جو سلب ہوئی سو ہوئی جسمانی، مادی حالت بھی قابل رشک نہیں۔ کسی اور پیرائے میں کہاوت ہے ،ایسا شخص کبھی بوڑھا نہیں ہوتا۔ اسے کتا نہیں کاٹتا۔ اس کی چوری نہیں ہوتی۔ آج اب ہمارے ہاں بڑے ہاتھیوں کی لڑائی کے ہاتھوں یہ تینوں باتیں عوام پر صادر آتی ہیں۔ پاکستانی بوڑھے نہیں ہوتے۔ اس سے پہلے ہی مر جاتے ہیں۔ یوریا، ڈٹرجینٹ اور نجانے کیا کیا ملا دودھ پی کر، فارمی مرغی کھا کر، منرل واٹر میں رنگ برنگے صحت شکن کیمیائی عناصر کے ہاتھوں، گدھے کا گوشت مزید ہے ۔ دوائیں بھی جعلی ہیں۔ سو بڑھاپا آ نہیں پاتا۔ کتا اس لے نہیں کاٹتا کہ کمزور صحت ہاتھ میں لاٹھی تھما دیتی ہے ۔ چوری اس لیے نہیں ہوتی کہ آلودگی الرجی مارا ساری رات کھانستا ہے ، بیماریوں کی فراوانی، علاج مہنگا، ادویہ جعلی ہیں۔ ذرا احتیاط برتے تو جنت مکانی ہونا ممکن ہے (اپنی مظلومیت کے ہاتھوں)۔ تاہم تفنن برطرف حقائق نہایت تکلیف دہ اور گھمبیر ہیں۔ استحکام پاکستان کی جان کو لاگو سب سے بڑا مرض اپنی شناخت کھو دینے کا ہے ۔ بالخصوص عورت کا بگاڑ، تعلیم کی بربادی اور دین بے زاری۔نائن الیون کے بعد جو موڑ مڑے ہیں، ہر دن ہم بہروپ بھرتے بھرتے وہاں آن پہنچے ہیں کہ پہچانے بھی نہ جائیں۔’ہمیں‘ آباء سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی! عورت کو آزادی، بے باکی کی جس راہ پر ہم نے چھوڑ دیا ہے بلکہ سرپٹ دوڑا رہے ہیں، وہی استحکام پاکستان کی چولیں ہلا دینے کو کافی ہے ۔ عورت معاشرے کے بناؤ یا بگاڑ کی جڑ بنیاد ہے ۔ مغربی معاشروں کے اخلاقی بگاڑ اور بالآخر اْدھر ٹرمپ اور ادھر پیوٹن جیسے درندے بن ماں کے اجڑے بکھرے خاندانوں کے خود روپودوں کی سی پیداوار ہیں۔ پوری دنیا کی درندگی کا پیمانہ عالمی جنگی منظر نامہ ہے ۔ آج انسانیت اس لیے ختم ہو گئی کہ’ماں‘ دور دور کہیں موجود نہیں۔عورت سبھی کچھ ہے سوائے مامتا کی شفقت بھری، تربیت دیتی لقمۂ حلال کھلاتی ماں کے۔ انسانی بچہ بے پناہ توجہ، بے لوث محبت کی گرمائش میں پروان چڑھتا ہے ۔ ٹینشن فری، یکسو ایثار کش ماں!فل ٹائم ماں! بات صرف مرغی کا معیار گر کر بلبوں کے سائے میں بن ماں کے چوزے پل کر جوان ہونے کا معاملہ نہیں ہے ۔ انسان کا بچہ بھی گود کھو بیٹھا ہے ۔گلوبل ولیج کی جہالتیں مسلمان ممالک کی عورت کو بہکانے بھٹکانے میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔ ایک تصویر ملاحظہ فرمایئے۔ استحکام شکن اور استقلال شکن، نیشنل کونسل آف آرٹس کے زیر اہتمام سی پیک فیشن کلچرل شو میں ماڈل لڑکی کھڑی ہے ۔ معاشی ترقی کا یہ شاہکار، مسلمان لڑکی کے برہنہ بازؤں اور حسن و جمال آرائش و زیبائش میں جھلک رہا ہے ۔ یہ دو صدیوں کی قربانیوں کا حاصل ہے عہد آزاد مسلم مملکت میں عمران جیسے حرص و ہوس کے بھیڑیوں کی تصاویر؟ ملکی استحکام اور اسلام کا ایکسرے اخبارات ہیں۔ سیاست دانوں، مقتدروں کے مابین دنگل کی عجیب و غریب خبروں سے لپٹے پڑے ہیں۔ اندر کے دو صفحات پاکستان اور دنیا بھر کی حرا فاؤں کی برہنہ تصاویر سے آلودہ۔ جو کمی رہ جائے وہ کھیلوں کی آڑ میں پوری ہو جائے۔ نئی نسل کارول ماڈل! معاشی سکینڈل، اخلاقی، سیاسی سکینڈل، بھلی بات سننے کو کان ترستے ہیں۔ خیر کی خبر پڑھنے کو نہیں ملتی۔ مسلم دنیا جنگوں کی لپیٹ میں، پاکستان امت کے احوال سے منہ موڑے، کوئی اہم کردار ادا کرنے سے بھی قاصر، ایٹمی ملک۔ لیکن بے توقیر، امریکہ کے قدموں میں جا پڑنے کو تیار۔ امداد کی بحالی کی خاطر! روہنگیا، شام، فلسطین افغانستان کا حقِ اخوت کیا ادا کرے وہ تو خود اپنی شہ رگ کشمیر کا حق ادا نہیں کر رہا۔ پاکستان کی اپنی خود مختاری سے بے نیاز ڈرون کے چرکے ہنسی خوشی کھاتا ہے ۔ بھارت مسلسل ہماری سرحدوں پر آگ برسا رہا ہے ۔ شہری لقمہ بن رہے ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کے گریبان پھاڑنے یا امریکہ راضی کرنے سے فرصت نہیں۔ ایسے میں ہر درد مند، ذی شعور اپنے حصے کا فرض ادا کرنے کو کمر بستہ ہو جائے۔ اس کا علاج صرف خواندگی ہے ! ان پڑھ، بے جڑ بے بنیاد نسلوں کے لیے قرآن خواندگی۔ قرآن کی روح، اس کا زندہ کر دینے انقلاب برپا کر دینے والا پیغام جس نے اونٹ چرانے والے بدؤں کو دنیا کی متمدن ترین قوم پْر شکوہ سپر پاور بنا دیا۔ مگر ویسا عمل سے لبریز، زندہ قرآن پڑھائیے جو حاضر و موجود سے بے زار کر کے، احساسِ زیاں دے کر لہو گرما دے۔ اٹھا کر کھڑا کر دے۔ قوم کی عورت کو بچائے۔ اٹھیے! دوکانوں پر بکتی لڑکیاں بچایئے، عورت کو اس کی قدر و قیمت بتایئے جس کی گود میں امت کی قیادت پلنی تھی، وہ حسن و جمال، عفت و عصمت کوڑیوں کے عوض بیچنے پر لگا دی؟ بل بورڈ پر چڑھا دی؟ نظامِ تعلیم برباد ہو چکا۔ اس کے ازالے کے لیے بچوں کو خود بھی پڑھائیے۔ نظام بدلنے کے لیے سر جوڑیے۔ کرسیاں گھسیٹنے، ووٹوں کی گنتی کے لیے نہیں۔
وہ جو لکھی گئیں نوکِ سناں سے بدر و خیبر میں
مرے بچوں کو پھر ان داستانوں کی ضرورت


ای پیپر