23 مارچ کا عہد اور ہم!
24 مارچ 2018



23 مارچ گزر گیا۔۔۔ فوجی پریڈ، صدر پاکستان کی تقریر۔۔۔ وزیراعظم پاکستان کی پریڈ میں شمولیت۔۔۔ 23 مارچ سے تجدید محبت کی دعا۔۔۔ ٹی وی سکرینوں پر سبز پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں، ترانے کی گونج۔ قرار داد پاکستان کے حوالے سے تاریخی واقعات اور حوالہ جات کا ذکر، مسلمانان ہند کی قیام پاکستان کے لیے قربانیاں ۔ اس زمانے کی باتیں جب پاکستان ایک تصور تھا اور کروڑوں مسلمان اس تصور کو حقیقت میں بدلنے کے لیے بے قرار تھے۔ پھر یہ تصور حقیقت میں بدل گیا۔ خواب، خواب نہ رہا۔ اسے تعبیر کا ٹھوس وجود مل گیا۔ دو قومی نظریہ جس کی اساس تھا، اور مساوات اسلامی، جس کے آئین کا حصہ۔ ایسا ملک جس نے مسلمانان ہند کو نہ صرف غلامی سے نجات دلائی اور آزادی کی نعمت سے مالا مال کیا بلکہ انہیں یہ عظیم تر آزادی بھی نصیب کی کہ یہاں اپنے اپنے دینی عقائد کے ساتھ اکثریت اور اقلیت کو اپنے جینے اور مرنے کا حق حاصل ہو گا۔ یہ ملک اپنے شہریوں کو خواب دیکھنے اور ان کی تعبیریں لکھنے کے مواقع فراہم کرے گا۔ اس ملک کا قانون، ہر مذہب و ملت کے شہری حقوق کا تحفظ کرے گا۔ یہ ملک بدعنوانی اور رشوت سے پاک ہو گا۔ یہاں عدالتوں میں رکھے ترازو کا پلڑا، طاقت ور اور ظالم کے حق میں نہیں، مظلوم اور بے بس کے حق میں جھکے گا۔ منصف ٹھوک بجا کر بغیر کسی سفارش اور دباؤ کے حق سچ کے فیصلے لکھا کریں گے۔ تھانے جرائم کی بیخ کنی کے مرکز ہوں گے۔ وکلاء جنہوں نے تحریک پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا تھا، وہ مظلوموں پر انصاف کی فراہمی آسان بنانے میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔ بیورو کریسی ہرگز ہرگز بھی نوکرشاہی کے قالب میں نہیں ڈھلے گی، بلکہ وہ انتظامی امور میں کسی بالائی دباؤ کا شکار ہوئے بغیر، اس ملک کے انتظامی ڈھانچے کی مضبوطی کا باعث ہو گی۔ یہاں تعلیم کے نظام پر امراء کی اجارہ داری نہ ہو گی۔ بلکہ تعلیم عام ہو گی، اور مملکت خدا داد کے ہر شہری کا اس پر برابر حق ہو گا۔ یہاں انگریزوں کے بنائے، انگریزی ناموں کے عظیم الشان ہسپتالوں کی راہداریوں میں محض کچہرے کے ڈھیر نہ ہوں گے، جن پر انسانیت پڑی سسکتی ہے بلکہ وہاں صحت اور زندگی پورے خلوص سے بیماروں میں بانٹی جائے گی اور یہ بیمار صرف طبقاتی تفریق کے مارے نادار نہ ہوں گے یعنی اشرافیہ کے لیے فائیو سٹار طبی سہولتوں کا تصور، اس قرار داد مقاصد میں ہرگز ہرگز شامل نہ تھا، جسے ہم کل ہی منہا کر لیتے ہیں۔ یہ قرار داد طبقاتی تفریق، طبقہ اشرافیہ ، بے رحم فوجی ایلیٹ، کرپٹ سیاستدانوں ، فیوڈل لارڈز، انگریزوں کے مہریافتہ جاگیر داروں اور دیگر مراعات یافتہ طبقات کی ہرگز ہرگز نمائندگی نہ کرتی تھی بلکہ یہ جس پاکستان کی نظریاتی بنیادوں پر حمایت کرتی تھی، وہ پاکستان ایک مزدور، ایک کسان، ایک ہاری، ایک کلرک ایک مفلس ایک بیمار کا بھی پاکستان تھا، جسے مساوات انسانی کی مثال بنا کر، قائداعظمؒ دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتے تھے۔
مگر ہوا کیا؟ کتنے ہی صدور اور وزرائے اعظم سلامی کے چبوترے پر آئے اور گزر گئے۔ درجنوں پریڈیں، ہزاروں ترانے ، تاریخ پاکستان کے اولین باب پر پڑی گرد ایک دن کے لیے جھاڑنے کے علاوہ اور کیا حاصل کیا، اس ملک اور اس کے عوام نے اس تاریخی دن سے۔ اس پاکستان سے، جس نے اس قرار داد سے جنم لیا تھا، اور اس شاندار عہد کا آغاز لکھا تھا۔ وہ لوگ جو ناک و خون کے دریا عبور کر کے لٹے پٹے یہاں پہنچے تھے، ہم دیکھتے ہیں، وہ آج بھی یہاں مہاجر کہلاتے ہیں۔ ان کی ذات، ان کی شناخت محض اسی اک پہچان میں ڈھل کر رہ گئی ہے اور یہ پہچان آج بھی انہیں پاکستانی شہری ماننے کو تیار نہیں۔ ہم دیکھتے ہیں، یہ ملک جسے اس کے بوڑھے رہنما نے جمہوری اقدار کے حوالے سے ایک واضح تصور دیا تھا، اس کی آدھی زندگی مارشل لاؤں سے نبٹتے اور آدھی زندگی نیم فوجی آمریت اور جمہوریت کے نام پر آمریت نافذ کرنے والوں سے نبٹتے گزر گئی۔ چین جو ہمارے ساتھ ہی غلامی سے آزاد ہوا تھا، وہ نہ صرف خطے کی بالادست طاقت بن گیا، بلکہ گلوب کی بالادستی بھی اب اس کے ہاتھ میں آنے ہی والی ہے ، ادھر ہم کہ ابھی تک یہ بھی طے نہیں کر سکے، کہ ہماری خارجہ پالیسی کس طرز پر استوار ہونا چاہیے۔ داخلہ پالیسی کی سمتیں کن خطوط پر استوار ہوں گی۔ عدالتیں جنہیں گزشتہ ادوار میں کینگرو کورٹس کا شرمناک خطاب مل چکا ہے، وہ اپنے پاؤں پر کیسے کھڑی ہوں گی۔ فوج کا کردار، کتنا اور کہاں تک ہونا چاہیے۔ ادارے، جو اس وقت انتہائے زوال پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں، انہیں اس شرمناک زوال سے کیسے بچایا جا سکتا ہے۔ پاکستانی کرنسی جو آج سے چند دہائیاں قبل، دنیا بھر میں نہایت معتبر سمجھی جاتی تھی، اس کی ناقدری کے اسباب کیا ہیں؟ سبز پاسپورٹ دنیا میں اس قدر نامعتبر اور ناقص کیونکر ہو گیا کہ اسے جیب میں ڈال کر آپ کسی دوسرے ملک کی سرحد پر پہنچیں تو آپ کو شرمناک سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہماری صنعت و حرفت، جو آج سے چند دہائیاں قبل قابل ذکر زر مبادلہ کا ذریعہ تھی، آج رو بہ زوال کیوں ہے، ہماری مصنوعات کی دنیا کی منڈی میں قدر کیوں گھٹ گئی ہے؟ اس مملکت خداداد میں رنگ برنگے تعلیمی نظام کیوں رائج کیے گئے؟ یہاں طبقاتی تفریق کے درجات اتنے کیوں بڑھائے گئے کہ ملک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ غربت کی لکیر کے پیچھے رینگ رہا ہے، اور ایک مختصر حصہ اک ایسے پاکستان کی شکل دکھاتا ہے، جس کا غربت، بیماریوں، مہنگائی، گندے پانی، لاقانونیت وغیرہ جیسے مسائل سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ وہ جن جزیروں کا باسی ہے ، وہاں تکبر، غرور، امارت، شان و شوکت اور آسائشوں کے ڈھیر لگے ہیں، جن پر کھڑے ہو کر، یہ اپنے اپنے جزیروں کے باسی، اس ملک، اس کے آئین، اس کے قانون اور اس کے عوام کو سر عام گالیاں دیتے ہیں اور اسے انچ انچ ہڑپ کرنے، اس کے وسائل پر قبضے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ اور ان پر کوئی گرفت نہیں۔ یہی لوگ سینیٹ میں ہمارے نمائندے کہلاتے ہیں۔ یہی مقتدر ایوانوں میں ہماری لیڈری فرماتے ہیں۔ یہی ہیں وہ لوگ جو اپنے دشمنوں کو زیر کرنے کے لیے کبھی فوج کو آواز دیتے ہیں۔ کبھی عدالتوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ یہی ہیں وہ لوگ جو اس ملک کا قانون لکھتے ہیں۔ آئین بناتے ہیں۔ پھر مختلف شقوں کے کلہاڑوں سے اس آئین کا سر قلم کرکے اس میں اپنی مرضی و منشا کے قوانین بھرتے ہیں۔ اور پھر لہجوں میں رقت بھر کے ہمارے سامنے اپنی بے گناہی اور مظلومیت کی دہائی دیتے ہیں۔ اور ادھر ہم ، جاہلوں، مفلسوں، بیماروں، حاجت مندوں، غربت کی لکیر کے پیچھے رینگنے والوں پر مشتمل اکثریت، جسے نیم خواندہ، ناخواندہ، بیمار، اور مشکلات کا جان بوجھ کر ہدف اس لیے شکار کیا گیا کہ ہم وقت پڑنے پر ان کے حق میں پرچی ڈال سکیں۔ سو ہم گزشتہ 71 برسوں سے یہ پرچیاں ڈال رہے ہیں۔ کیا ہم محض گنتی کی پرچیاں ہیں؟ بیلٹ بکسوں کے بھوکھے شکم کا سامان ہیں؟ کیا ہم ان شطرنج کے کھلاڑیوں کے ہاتھوں میں کھیلنے والے بے جان مہرے ہیں۔ جو ہمارے نجات دہندگان کے بھیس میں ہمیں گزشتہ 71 برسوں سے ٹھگ رہے ہیں۔ ہم کون ہیں، کیا ہیں؟ 23 مارچ اگر محض ایک رسم نہیں، عظیم قرار داد سے ایفائے عہد کا دن ہے تو کیا اب بھی ہم پر یہ واجب نہیں ہوا کہ ہم اس عظیم دن کو رسومات سے آزاد کریں۔ اور اس ملک ، اس کے آئین، اس کے قوانین، اور اپنے شہری حقوق کی حفاظت کا ایک عہد خود سے باندھیں۔ یہ ملک میرا ور آپ کا ہے۔ ہم نے یہاں جینا، مرنا ہے۔ انہوں نے نہیں جو ہمیں، ایک پرچی، ایک ووٹ، ایک ہندسہ بنا کر کھیسے میں ڈال چکے ہیں۔ اور ہماری آنے والی نسلوں کو ان قرضوں میں رہن رکھ چکے ہیں، جو ہم نے کبھی اٹھائے ہی نہیں۔


ای پیپر