قابض بھارتی فوجی کیمپ پر کشمیریوں کاحملہ
24 مارچ 2018

کشمیرمیں قابض بھارتی فوج کے غیر انسانی رویوں سے تنگ آکر’’تنگ آمد بجنگ آمد‘‘کے مصداق کشمیریوں نے ایک عرصے سے بھارتی فوج پر حملوں کا راستہ اپنا رکھاہے۔فروری 2018کے وسط میں اسی نوعیت کاایک حملہ جنوبی کشمیر کے ضلع ’’پلوامہ‘‘کے علاقہ’’کاک پورہ‘‘میں واقع قابض بھارتی فوج کے کیمپ پر کیاگیا۔ بھارتی اخبارات کے مطابق حملہ کرنے کامقصد وہاں موجود ایسے کشمیریوں کو آزادکرواناتھا جنہیں بھارتی فوج نے گرفتارکررکھاتھا۔ ہندوستانی اخبارات نے ان مجاہدین تحریک آزادی کو دہشت گرد لکھاہے جو بھارتی فوج کے زیرحراست تھے۔یہ فوجی کیمپ بدنام زمانہ ’’راشٹریہ رائفل(Rashtriya Rifles)‘‘کاتھا جس نے ایک طویل عرصے سے کشمیریوں پرظلم وستم کی انتہاکے ذریعے ان کی زندگی عذاب کررکھی ہے۔حکومتی اعدادوشمارکے مطابق اس حملے میں چاربھارتی فوجی واصل جہنم ہوئے جن میں سے ایک کیپٹن کے عہدے کا افسر بھی شامل تھا،ممکن ہے اصل نقصان اس سے کہیں زیادہ ہواور خفت و ناکامی کی پردہ پوشی کے لیے بہت کم نقصان بتایاگیاہے۔ابتدائی رات کو8-30بجے یہ حملہ ایک گرینیڈ کے ذریعے کیاگیا جس کے جواب میں بھارتی فوج کافی دیرتک جوابی گولیاں چلاتی رہی لیکن کشمیری مجاہدین آزادی کاکچھ بھی نہ بگاڑ سکے اور بھارتی فوج کے مطابق کشمیریوں کاکوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔جبکہ بھارتی فوج کے ایک افسرلیفٹیننٹ کرنل دیوندرآنند (Devender Anand)نے اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مرنے والے بھارتی فوجیوں کی تعداد سات بتائی ہے ۔ بھارتی فوج کے اس نمائندے نے یہ بھی بتایاہے کہ حملے کے نتیجے میں گرفتار ہونے والے مجاہدین آزادی کو حملہ آور چھڑاکر لے گئے ہیں۔ ایک پولیس افسرنے حملے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہاکہ دوموٹرسائکلوں پرحملہ آورآئے اور کاروائی کر کے چلے گئے۔اﷲتعالی اس طرح بھی اپنے خاص بندوں کی حفاظت کرتاہے کہ بے شک وہ قادرمطلق ہے جو آگ سے بھی اپنے پیاروں کو بچانکلنے کی طاقت رکھتاہے۔ ’’راشٹریہ رائفل (Rashtriya Rifles)‘‘ بھارتی فوج کاایسا خاص ظالم جتھاہے جو دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے تیار کیاگیاہے اور بھارتی وزارت دفاع کے تحت کام کرتاہے۔آج کل اس جتھے کو جموں و کشمیر کے علاقوں میں مجاہدین آزادی کشمیر کی سرکوبی پر تعینات کیا گیا ہے۔ 1990کے بعد سے کشمیر میں تحریک آزادی نے زور پکڑا تو بھارتی حکومت نے فوج کووادی میں اتار دیا تا کہ حالات پر قابو پایا جاسکے۔اس سے پہلے بھارتی فوج نے اسی نوعیت کی عوامی بغاوتوں کے خلاف مشرقی پنجاب، ناگالینڈ اور سری لنکامیں بھی کاروائیاں کی تھیں۔ان کاروائیوں میں جتنی کامیابیاں ہوئی اس سے زیادہ بدنامیاں سمیٹناپڑیں اور بھارتی حکومت کو اپنی بدمعاش فوج کے ہاتھوں شہریوں کی قتل و غارت گری اورمذہبی مقدس مقامات کی بے حرمتی پر بے پناہ سچی جھوٹی وضاحتیں دینا پڑیں تھیں۔ان علاقوں میں بغاوتوں کو شاید اتنے بڑے پیمانے پر عوامی حمایت حاصل نہیں تھی جس کے باعث بھارتی فوج کی طاقت نے وقتی طورپر جذبہ ہائے آزادی کو دبا دیا۔ان کے مقابلے میں کشمیر کی عوام نے بحیثیت قوم بھارت کے خلاف علم آزادی بلند کر کے علی الاعلان آزادی کی تحریک چلا رکھی ہے۔چنانچہ ان خاص حالات کے پیش نظر بھارتی فوج کا دستہ ’’راشٹریہ رائفل(Rashtriya Rifles)ترتیب دیاگیاتاکہ فوج کے ذریعے عوامی بغاوت کو دبانے کا کام طاقت اورقوت کے بل بوتے پر لیاجاسکے۔ قابض بھارتی فوج کے اس بدمعاش جتھے کے بارے میں عام رائے یہ ہے کہ ساری کامیابیاں کاغذوں تک ہی محدود ہیں عملی کارروائیوں میں سوائے بدنامی کے کچھ میسرنہیں ہے۔اس کا تازہ ثبوت یہی ہے کہ چندشہریوں کے حملے میں باقائدہ تربیت یافتہ فوج کے افسراورجوان مارے گئے جب کہ حملہ آور بڑی کامیابی وصفائی سے نکل گئے ۔ بھارتی اخبارات کے مطابق اس حملے کی ذمہ داری ’’جیش محمد‘‘نے قبول کرلی ہے۔ بھارتی اخبارات نے یہ بھی دعوی کیاہے کہ جیش محمد کے نمائدہ ’’حسن شاہ‘‘نے اپنے ایک بیان میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہاہے کہ مجاہدین نے راکٹوں سے حملہ کیا تھاجس سے بھارتی فوج کابے پناہ نقصان ہوا۔ بھارتی خبررساں اداروں نے یہ بھی انکشاف کیاہے کہ ایک دن قبل جیش محمدکے پانچ افرادکو فوج نے گرفتارکیاتھاجنہوں نے دوران تفتیش اپنے اس تعلق کااقراربھی کرلیاتھااور اس سے قبل کے بھارتی فوج پرحملوں میں ملوث ہونے کی تصدیق بھی کردی تھی۔ بھارتی اخبارات نے اپنے ان دعووں کی تصدیق کے لیے من گھڑت کہانی بھی تراشی جس کے مطابق ’’سجاداحمدبھٹ‘‘ نامی ایک پاکستانی گرفتاہواہے جو ایک تربیت یافتہ مجاہد ہے اور جیش محمدکی کاروائیوں میں ملوث ہے۔کشمیری پولیس کے ہاتھوں گرفتااس پاکستانی کو کسی بھارتی اخباریا برقیاتی خبررساں ادارے نے بالکل بھی نہیں دکھایا۔ لگتا ہے کہ گزشتہ کہانیوں کو سچ ثابت کرنے کے لیے ایک اور جھوٹ تراشا گیا ہے۔ بھارتی اخبارات ،ظاہر ہے،اپنی حکومت کی زبان بولتے ہیں اور اپنی خبروں میں حکومتی موقف ہی بیان کر کے سیکولرازم کی آزادی صحافت کی حقیقت طشت ازبام کردیتے ہیں۔ راشٹریہ رائفل کے فوجی ٹھکانے پر حملہ کرنااپنی کمیت میں اتنا بڑاواقعہ تھاکہ بھارتی وزیردفاع نرما لا ستھرمان ’’ Nirmala Sitharaman ‘‘کو فوری طور پرمقبوضہ وادی کادورہ کرناپڑا۔اس موقع پر اخباری نمائندوں سے گفتگوکرتے ہوئے بھارتی وزیردفاع نے کہا کہ ’’پاکستان کواس مہم جوئی کی بھاری قیمت اداکرناپڑے گی‘‘۔ بھارتی وزیردفاع نے اخباری نمائندوں کے سامنے اس جملے کو بارباردھرایا،یہاں تک کہ ایک صحافی نے سوال کیاکہ کیاآپ کی حکومت اس واقعے کے حقائق کا پاکستان کے ساتھ اشتراک کرے گی،توموصوفہ وزیرصاحبہ نے ہاں میں جواب دیا۔جب کہ ان کے دورے کے بعد بھی بھارتی فوج کی مجاہدین تحریک آزادی کشمیر کے ساتھ جھڑپیں جاری ہیں۔اس دورے سے قبل اور اس کے بعد سے آج تک اس طرح کے کئی واقعات ہو چکے ہیں جن میں قابض بھارتی فوج،مقبوضہ کشمیر کی پولیس اور دیگر خفیہ، دفاعی و نیم دفاعی اداروں کے اہلکار پہلے عوام پر ظلم ڈھاتے ہیں،عوامی مظاہرین پر عام طورپراورخواتین پر خاص طورپر ربرکی گولیاں چلاکرانہیں جسمانی طورپر معذور کرتے ہیں، کشمیریوں کے نوجوان سپوتوں کو دن دہاڑے گھروں سے اٹھاکر لے جاتے ہیں اورکشمیریوں کی قیادت کو نظر بند کر دیتے ہیں اور پھرجواب میں ان اداروں کے اہل کار عوامی غیظ و غضب کا شکارہوتے ہیں۔ عوام جہاں کہیں انہیں اکیلا دیکھتی ہے اپناغصہ اتارنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کے جواب میں بھارتی قیادت اپنے کرتوتوں کااوراپنی فوج کے مظالم کے جواب کاذمہ دار پاکستان کو قرار دے کر اپنی جان چھڑا لیتی ہے۔ اگر ایک فوج اپنے کیمپ میں بھی اپنادفاع کرنے کے قابل نہیں ہے توکیا پڑوسی ملک اس نالائقی کا ذمہ دار ہے؟ اگر ایک عسکری ادارہ گرفتار شدگان کو بھی اپنی حراست میں رکھنے کے قابل نہیں ہے اور چندعام شہری نوجوان اس ادارے کے تربیت یافتہ فوجیوں کوگولیوں کانشانہ بنا کر اپنے بے گناہ دوستوں کو چھڑالے جاتے ہیں تو بھلا اس میں کسی دوسرے ملک کاکیاقصور ہو سکتا ہے۔ بھارتی قیادت کایہ رویہ ناقابل فہم ہے اور یقیناََان کے اپنے ملک میں بھی اس پر گرفت کی جاتی ہوگی کہ آخر ہر کاروائی کا ملبہ پاکستان پرکیوں ڈال دیا جاتا ہے؟؟؟ بھارت کویہ بات سمجھ نہیں آتی کہ فوج فوج سے تولڑ سکتی ہے لیکن کوئی بھی کتنی ہی طاقتورفوج کمزورسے کمزور قوم سے قطعاََبھی نہیں لڑ سکتی۔جب کشمیری عوام بھارت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے توانہیں آزاد کر دینا چاہیے۔ لیکن واقعہ یہ ہے پورے ہندوستان میں برہمن راج کے خلاف مشرق سے مغرب تک بغاوتیں پھوٹ پڑی ہیں۔ان بغاوتوں نے ایک عرصے تک جمہوری وعوامی رنگ اختیارکیے رکھا اور کوشش کی کہ سیدھی انگلی سے گھی نکل آئے لیکن اب یہ بغاوتیں مسلح کشاکش کا رنگ اختیارکرچکی ہے اور بھارتی فوج آج کل دفاع قوم کی بجائے دفاع حکومت کا فریضہ ادا کر کے پورے ملکی عوام سے نفرت سمیٹ رہی ہے،جس کااظہار کشمیر سمیت پوری دیس میں آئے روز ہوتا رہتا ہے۔ بھارتی حکومت اگرکشمیریوں کو آزادی دیتی ہے تو پورا ہندوستان اٹھ کھڑاہوگااور کشمیریوں کی طرز پر علیحدگی چاہے گا، تب حالات یقیناََ ناقابل گرفت ہو جائیں گے لیکن آخر کب تک؟؟؟ظلم کی رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو صبح نورنے بلآخرآنا ہی ہوتاہے۔کشمیر کی آزادی تونوشتہ دیوارہے ہی لیکن کشمیرکے الحاق پاکستان کا عمل ہندوستان میں برہمن راج کے تابوت پر آخری کیل ثابت ہوگا۔تخت دہلی ماضی میں بھی مسلمانوں کا تھا اور ہندوستان سمیت کل دنیاکا مستقبل بھی وحی کی آفاقی تعلیمات سے منسلک ہے۔ سیکولرازم بہت جلد پوری دنیاسے مٹنے والا ہے اور اس کے بعد کوئی معاشی نظریہ اس دنیامیں اپنا وجود نہیں رکھتاسوائے اسلام کے معاشی نظام کے جو ہر طرح کے استحصال سے پاک نظام فراہم کرتاہے۔پس سلام ہے مجاہدین تحریک آزادی کشمیر کو جنہوں نے ایک سامراجی طاغوت کو ناکوں چنے چبوارکھے ہیں اور انہیں کشمیری شہداکامقدس خون کل دنیاسے کفر و شرک کے باطل نظام کے خاتمے کا سبب بنے گا،انشااﷲ تعالیٰ۔


ای پیپر