حقوق’’ نس وہاں‘‘۔۔۔
24 مارچ 2018

دوستو، جہاں حقوق نسواں کی بات ہونے لگتی ہے ہم وہاں سے ’’ نس ‘‘ جانے میں عافیت محسوس کرتے ہیں۔۔ کیوں کی جس قسم کے حقوق مانگے جاتے ہیں ،اس سے مادرپدر آزادی ہی مل سکتی ہے، اور یہی مادر پدر آزادی معاشرے کی ’’ بربادی‘‘ کا باعث بھی بن سکتی ہے۔۔ملائشیا میں حقوق نسواں کا یہ حال ہے کہ وہاں پہلی بیوی پر ٹیکس معاف ہے، ٹیکس دوسری بیوی سے شروع ہوتا ہے، تیسری بیوی ٹیکس کی شرح کچھ بڑھا دی جاتی ہے اور چوتھی بیوی پر ٹیکس کی شرح بہت زیادہ ہے، وہاں کی حکومت کا خیال ہے کہ پہلی بیوی زندگی کی ضرورت ہے، باقی بیویاں عیش و عشرت ہیں، اگر کوئی ایک سے زیادہ بیویاں رکھ سکتا ہے تو ٹیکس بھی دے سکتا ہے۔۔یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ ، دنیا میں کوئی بھی کام ناممکن نہیں، بشرطیکہ کام خواتین کی نفسیات کو سمجھنے کا نہ ہو۔۔ خواتین کو سمجھنے کے سلسلے میں یہ جاننے کے لئے کہ وہ کون سی باتیں اور کام ہیں جو ان کو مرغوب ہیں تو اب تک ایسی کوئی حتمی فہرست دنیا میں کہیں بھی مرتب نہیں ہوسکی، کیوں کہ خواتین خود بھی اس پہ پوری طرح متفق کبھی بھی نہیں ہوپائی ہیں، اسی طرح یہ بھی یقین سے نہیں بتایا جاسکتا کہ کونسی چیزیں یا کام خواتین کو مشتعل کرنے کا سب سے زیادہ یقینی سبب بنتے ہیں۔۔
حقوق کا رونا رونے والیوں کے گھر میں کسی اور کے حقوق تسلیم ہی نہیں کئے جاتے، حقوق نسواں کی علمبردار ایک خاتون جب میکے گئیں تو شوہر اپنے دفتر میں تھے، موصوف جب گھر پہنچے تو فریج پر بیگم صاحبہ کا تحریرکردہ نوٹ ملا۔۔جس پر لکھا تھا، بچوں کو لے کر امی کے گھر جارہی ہوں،درج ذیل باتوں کے معاملے میں بہت احتیاط کرنا۔۔ نمبر ایک دوستوں کو گھر بلا کر گھر کا بیڑہ غرق کرنے کی کوشش نہ کرنا ، پچھلی بار بھی واش روم اور گھر کی چھت کی بہت گندی ملی تھی۔۔کھانا گھرمیں بنالینا یا ہوٹل سے کھاکر آجانا، باہر سے لا لاکر ہر کسی کو گھر میں مت کھلانا، پچھلی بار صوفے کے نیچے سے ریسٹورنٹس کے بل ملے تھے۔۔ ہیئربرش ڈریسنگ ٹیبل کے پاس رکھنا، پچھلی بار فریج کے اندرسے ملا تھا۔۔کام والی کو تنخواہ دے چکی ہوں بلاوجہ احسان جتانے کی ضرورت نہیں اس پر، نہ اسے زیادہ ’’ لاڈیاں‘‘ کرنے کی ضرورت ہے۔۔ صبح صبح اٹھ کر پڑوسن کو جگا جگا کے اخبار آیا کہ نہیں ،یہ کہنے کی ضرورت نہیں ،ہمارا اخبار اور اخبار والا ان سے مختلف ہے اور دودھ والا اور دھوبی بھی۔۔۔ تمہارے بنیان الماری کے نیچے کے خانوں میں ہیں اور بچوں کی اوپر کے خانے میں رکھی ہوتی ہے، پچھلی بار کی طرح بچوں کی پہن کے مت چلے جانا ۔۔۔تمہاری ساری رپورٹس نارمل ہیں بار بار اس کے بہانے لیڈی ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔میری بہن اور بھابھی کی سالگرہ گزشتہ ہفتے ہوچکیں، رات کو فون کرکے انہیں ’’وش‘‘ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔وائی فائی کا پاس ورڈ تبدیل کرکے جارہی ہوں، جلدی سوجانا۔۔زیادہ خوش اور اترانے کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ میری ساری سہیلیاں بھی اپنے اپنے میکے جانے والی ہیں۔۔۔ شکر، پتی، کافی مانگنے کے بہانے اس کلموہی پڑوسن کے گھر بار بار جانے کی ضرورت نہیں ، میں نے ساری چیزیں لا کے رکھ دی ہیں۔۔۔ اور سب سے اہم بات ۔۔’’اووراسمارٹ‘‘ بننے کی کوشش مت کرنا، میں کسی بھی وقت واپس آ سکتی ہوں۔۔۔موت تین طرح کی ہوتی ہے۔۔ ایک وہ جو طبعی ہوتی، دوسری ناگہانی۔۔ایک موت وہ ہوتی ہے جو کسی بھی قسم کا کام کرتے ہوئے بعض لوگوں کوپڑتی ہے۔۔ ان لبرل خواتین کو گھر میں کام کرتے ہوئے موت پڑتی ہے۔۔ایسی ہی ایک موم بتی خانم سے شوہر نے پوچھا۔۔ آج کھانے میں کیا بناؤ گی؟؟ وہ بولی، جو آپ کہیں۔۔شوہر نے کہا، واہ بھئی، پھر ایسا کرو دال چاول بنالو۔۔وہ بولی، ابھی کل ہی تو کھائے تھے، شوہر نے کہا، چلو پھر سبزی بنالو، وہ بولی بچے نہیں کھائیں گے۔۔شوہربولا، پھر حلوہ پوری بنالوکچھ چینج ہوجائے گا، وہ بولی، جی متلاتا ہے، مجھے ہیوی ہیوی سا لگتا ہے،بہت آئلی ہوتا ہے ناں۔۔شوہر نے کچھ دیر سوچا پھر کہا، یارآلوقیمہ بنالو ہری مرچوں کے ساتھ، وہ بولی آج منگل ہے گوشت کا ناغہ ہوتا ہے،فریج میں بھی نہیں پڑا۔۔شوہرکہنے لگا، انڈہ پراٹھہ بنالو،وہ بولی، صبح ناشتے میں کھاتے تو ہیں۔۔شوہر نے غصے سے دانت بھینچتے ہوئے کہا، چھوڑو یار، ہوٹل سے منگوالیتے ہیں،وہ بولی، روزروزباہر کا کھانا نقصان دہ ہوتا ہے،جانتے ہیں ناں آپ۔۔شوہر نے کہا، کڑھی چاول ٹھیک رہے گا،وہ بولی، دہی کہاں ملے گا اس وقت گھر میں نہیں ۔۔شوہر بولا ،چکن پلاؤ بنالو،وہ بولی ،اس میں بہت ٹائم لگ جائے گاپہلے بتاتے تو بنابھی لیتی،شوہر نے کہا، پھر ایسا کرو پکوڑے بنالو اس میں تو ٹائم نہیں لگے گا، وہ بولی، وہ کوئی کھانا تھوڑی ہے کھانا بتائیں پراپر۔۔ شوہرنے ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا، پھر کیا بناؤگی؟ موم بتی خانم نے مسکرا کر کہا۔۔جو آپ کہیں سرتاج۔۔
شوہر نے بیگم کو اس کے حال پہ چھوڑا اور غصے میں گھر سے باہر نکل آیا تاکہ پیٹ کے جہنم کی آگ بجھاسکے، راستے میں اسے ایک دہی بھلے،چناچاٹ کی دکان نظر آئی، وہ دکان میں داخل ہوا تو وہاں چاٹ کی اقسام بمعہ قیمت کی ایک فہرست آویزاں دیکھی، جس پر لکھا تھا۔۔سادہ چاٹ، پچاس روپے۔۔اسپیشل چاٹ،ساٹھ روپے۔۔ایکسٹرا اسپیشل چاٹ،سترروپے۔۔ڈبل ایکسٹرا اسپیشل چاٹ، اسی روپے۔۔سنڈے اسپیشل چاٹ،سوروپے۔۔اس نے سوچاوہ پہلے بھی یہاں سے کئی بار چاٹ کھاکے جاچکا ہے، لیکن ہر بارذائقہ ایک ہی ملتا ہے۔۔اس نے دکاندار سے پوچھا،بھائی یہ کیا ماجرا ہے،تو وہ بولا۔۔سادہ چاٹ ایسے ہی پلیٹ میں دے دی جاتی ہے، اسپیشل چاٹ میں چمچہ دھو کے دی جاتی ہے۔۔ایکسٹرا اسپیشل چاٹ میں چمچہ اور پلیٹ دھوکر دی جاتی ہے۔۔ڈبل ایکسٹرا اسپیشل چاٹ میں ان سب چیزوں کے ساتھ ساتھ میں اپنے ہاتھ بھی دھوکے دیتا ہوں۔۔جب اس سے پوچھا کہ سنڈے اسپیشل چاٹ میں کیا سہولت دی جاتی ہے تو وہ کہنے لگا۔۔سنڈے یعنی اتوار کو میں خود نہا کر آتا ہوں۔۔یہ لبرل خواتین اپنے شوہروں کے لئے کسی جونک سے کم نہیں ہوتیں۔۔ایک دن صبح ہی صبح ایسی ہی ایک لبرل زوجہ ماجدہ اچانک بولیں۔۔اجی سنیئے، آخر آپ دوسری کیوں نہیں کرلیتے۔۔چندلمحے کے لئے تو شوہر سُن ہوکررہ گیا کہ صبح صبح بیگم کیا فرمارہی ہیں۔۔وہ کچھ دیر گم صم رہا،پھر دماغ نے کسی شرابی کی طرح لڑکھڑاتے ہوئے ان جادو بھرے الفاظ کو ڈی کوڈ کیا تو،شوہرکو ایسا لگا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔۔گویا ہینگ ہوکررہ گیا۔۔کسی بھی بیگم کا اتنا مسکراتے ہوئے، بل کھاتے ہوئے’دوسری‘ کی اجازت دینا، بلکہ ایک طرح خواہش کا اظہار کرنا،کسی طور کسی ’’معجزے‘‘ سے کم نہیں تھا، شوہرحیرت میں مبتلا ہوکر سوچ و بچار میں مصروف ہوگیا، اگلے ہی لمحے اس کی حیرت کو چارسوچالیس واٹ کا جھٹکا لگا،اور خوشی سے اس کا چہرہ گلاب کی سرخ ہوگیا۔۔اسے ہر طرف شہنائیوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں، درودیوار سہرابندی میں نظر آنے لگے۔۔من میں ہزاروں کلیاں کھل اٹھیں،اوروہ کسی بچے کی طرح مسرت سے قلقاری مارکر ہنس پڑا، شوہر کو ہنستا دیکھ کر محترمہ کا ماتھا ٹھنکا اور فوری طور پر ’’بیگمانہ‘‘ ذہانت سے گویا بات کی تہہ تک کسی ماہر غوطہ خور کی طرح پہنچ گئیں۔۔فورا چمک کر بولیں۔۔زیادہ دانت نکالنے کی ضرورت نہیں، دوسری نوکری کی بات کر رہی ہوں۔ جس دوسری پر آپ خوش ہو رہے ہیں ناں، اس کا تو گلا دبا دوں گی میں۔‘‘۔۔یہ سننا تھا کہ شوہر کے چہرے کی خوشی کسی مینڈک کی طرح پھدک کر کہیں بہت دورچلی گئی۔۔ حقوق نسواں کی علمبردار محترمہ کسی بے رحم صیاد کی طرح فاتحانہ انداز میں مسکرا کر شوہر کو دیکھنے لگی۔۔


ای پیپر