جوڈیشل مارشل لاء
24 مارچ 2018

جب سے شیخ رشید نااہلی کیس میں سپریم کورٹ کے محترم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ریمارکس سامنے آئے ہیں ،شیخ صاحب کی بوکھلاہٹیں بھی عروج پر ہیں اور وہ متواتر ’’بونگیاں‘‘ ماررہے ہیں۔ دراصل جسٹس صاحب کے ریمارکس تھے ہی اتنے سخت کہ شیخ صاحب کو اپنی سیاسی دُکانداری بندہوتی نظر آئی۔ جسٹس صاحب نے شیخ رشید کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اگرآپ کسی کی طرف ایک اُنگلی اُٹھائیں گے تو آپ کی طرف چار اُنگلیاں اُٹھیں گی (اُن کا اشارہ غالباََ پاناما کیس کی طرف تھا جس کے ایک مدعی شیخ صاحب بھی تھے)۔ہمارا خیال ہے کہ شیخ صاحب کو جب اپنی سیاسی موت واضح نظر آنے لگی تو اُنہوں نے عدلیہ کو ’’مکھن لگانے‘‘ کی کوشش کرتے ہوئے ایسا بیان داغ دیا جو انتہائی نامعقول تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ چیف جسٹس صاحب ملک میں جوڈیشل مارشل لاء لگا دیں۔ جب اُن کے اِس مطالبے پر چاروں طرف سے لعن طعن شروع ہوئی تو اُنہوں نے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل مارشل لاء کا مطلب ہے کہ چیف جسٹس 90 یا 120 دِنوں کے لیے شفاف نگران حکومت کا انتخاب کریں۔ یہ ایسا مطالبہ ہے جس کی آئین میں سرے سے کوئی گنجائش ہی نہیں لیکن شیخ صاحب کو اِس سے کیا۔ اُن کا سیاسی گُرو تو پرویز مشرف ہے جس کے ہاں آئین نامی کسی چڑیا کا وجود تک نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 2008ء سے اب تک شیخ صاحب کسی غیرآئینی اقدام کے لیے مَرے جا رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دَور میں وہ متواتر فوج کی آمد کی پیشین گوئیاں کرتے رہے لیکن جب کچھ بَن نہ پڑا تو کہہ دیا ’’فوج نے سَتّو گھول کر پی رکھے ہیں‘‘۔ نوازلیگ کے دَورِ حکومت میں بھی وہ فوج ،فوج ہی کھیلتے رہے لیکن یہ کہنے کی نوبت نہیں آئی کہ فوج نے سَتّو گھول کے پی رکھے ہیں کیونکہ درمیان میں معاملہ ’’پاناما کیسز‘‘ کی طرف مُڑ گیا اور سپریم کورٹ کے پانچ رُکنی بنچ کے متنازع فیصلے کی بدولت شیخ صاحب نے ساری اُمیدیں عدلیہ سے باندھ لیں۔ اب وہ فوج کی بجائے عدلیہ کو ’’مفید مشورے‘‘ دیتے رہتے ہیں۔ ’’ جوڈیشل مارشل لاء ‘‘ کا ارسطوانہ مشورہ بھی اُنہی میں سے ایک ہے۔
پہلے تو شیخ صاحب اپنی پیشین گوئیوں کے سہارے ہی میدانِ سیاست میں زندہ تھے( یہ الگ بات کہ اُن کی کوئی پیشین گوئی کبھی درست ثابت نہیں ہوئی) لیکن اب اُنہوں نے ایک غیرآئینی مطالبہ کر دیاہے۔ اُنہوں نے ایوانِ عدل کو سیاسی اور انتظامی معاملات میں مداخلت کرنے کا مطالبہ کر کے عدلیہ کے خلاف بھی شکوک وشبہات پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ محترم چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثارنے شیخ رشید کے اِس بیان کی وضاحت ضروری سمجھی۔چیف صاحب نے 23مارچ کے حوالے سے کیتھیڈرل چرچ مال روڈ لاہور میں منعقد ہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ’’ میرے ہوتے ہوئے عدلیہ کے اندر اور باہر سے مارشل لاء نہیں آئے گا۔ عدلیہ لگائے یا کوئی اور، آئین میں جوڈیشل مارشل لاء کی گنجائش نہیں۔ پاکستان میں صرف ایک ہی طرزِ حکومت ہے اور وہ صرف جمہوریت ہے۔ ملک کو آئین اور قانون کے مطابق چلنا ہے۔ ماورائے آئین اقدام کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘‘ چیف صاحب کے اِس بیان کے بعدبقول خواجہ آصف سیالکوٹی ’’کچھ شرم ہوتی ہے ،کچھ حیا ہوتی ہے ‘‘ لیکن شرم وحیا کا لال حویلی والے کے ہاں کیا کام ۔ اگر اُن میں شرم وحیا ہوتی تو وہ کم اَز کم پیشین گوئیاں کرنا تو چھوڑ دیتے۔
چیف صاحب کی خدمت میں دست بستہ عرض ہے کہ شیخ رشید کو ’’صرف شٹ اَپ کال‘‘ دینے سے بات نہیں بنتی ۔ تمام ماہرینِ آئین وقانون متفق ہیں کہ آئین سے بالا اقدام کی بات کرنے والے پر آرٹیکل 6 لاگو ہوتا ہے۔’’ بابا رحمت‘‘ نے جہاں اور کئی اَز خود نوٹسز لیے ہیں، وہاں اگر ایک اوراَزخود نوٹس لے لیا جائے تو بہتوں کا بھلا ہوگا۔ ویسے تو کئی اور اَزخود نوٹسز بابا رحمت کی راہ تَکتے تَکتے تھک بلکہ ’’ہَپھ‘‘ چکے ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جتنی تنخواہ پی ٹی وی کے چیئرمین محترم عطاء الحق قاسمی کو دینے پر اَز خود نوٹس لیا گیا تھا، اُتنی ہی تنخواہ اب پی ٹی وی کے کمرشل آفیسر کی بطور ایم ڈی تقرری پر مقرر کی گئی ہے۔ کیا اِس پراَز خود نوٹس نہیں بنتا۔ چلیں باقی تو سب جانے دیں لیکن آمر پرویز مشرف کے غلامِ بے دام شیخ رشیدکے خلاف تو اَز خود نوٹس بنتا ہی بنتا ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ ’’بابا رحمت‘‘ اَزخود نوٹس لیتے ہیں یا نہیں؟۔
آئین میں نگران حکومتوں کے قیام کا ایک واضح طریقِ کار درج ہے جس سے انحراف ناممکن۔ آئین کے مطابق وزیرِاعظم ،قائدِ حزبِ اختلاف کی مشاورت سے نگران وزیرِاعظم منتخب کرتا ہے۔ اگر دونوں کا بطور نگران وزیرِاعظم کسی ایک شخصیت پر اتفاق نہ ہو تو معاملہ سپیکر کی تشکیل دی گئی کمیٹی کے سپرد کردیا جاتاہے جس میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان کی برابر نمائندگی ہوتی ہے۔ اگر کمیٹی بھی کسی ایک نام پر اتفاق کرنے سے قاصر رہے تو نگران وزیرِاعظم کے ناموں کی فہرست الیکشن کمیشن کو بھیج دی جاتی ہے جو نگران وزیرِاعظم کا انتخاب کرتا ہے۔ اِن تمام مراحل کے لیے مدت کا تعین بھی کر دیا گیا ہے جو صرف 8 دِن ہے یعنی تین دِن وزیرِاعظم اور قائدِحزبِ اختلاف کی مشاورت کے لیے، تین دِن مشاورتی کمیٹی کے لیے اور اتفاق نہ ہونے پر الیکشن کمیشن دو دِنوں کے اندر نگران وزیرِاعظم کے نام کا اعلان کرنے کا پابند ہے۔ صوبوں کی نگران حکومتوں کی تشکیل کے لیے بھی یہی طریقِ کار اپنایا جاتا ہے۔ 2013ء کے عام انتخابات میں نگران وزیرِاعظم پر اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے الیکشن کمیشن نے ہی نگران وزیرِاعظم کے لیے میر ہزار خاں کھوسو کے نام کا اعلان کیا تھا۔ اِس سارے عمل میں سپریم کورٹ کا دور دور تک نام ونشان نہیں۔ پھر پتہ نہیں لال حویلی کے پیشین گو نے یہ بیان کیوں داغ دیا ۔ شاید اُن کے فال نکالنے والے طوطے نے اُنہیں اُکسایا ہو یا پھر شیخ صاحب نے خود ہی سوچا ہو کہ ’’بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا‘‘۔
آئینی طور پر تو نگران حکومتوں کا طریقِ کار درج ہے اور اِس میں کوئی ابہام بھی نہیں لیکن شیخ صاحب اب بھی اپنی بات پر ڈَٹے ہوئے ہیں۔ جیو ٹی وی کے اینکر شاہ زیب خانزادہ کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے شیخ صاحب ٹامک ٹوئیاں مارتے اور سوال گندم ،جواب چنا دیتے ہی نظر آئے۔ بے بسی سے پھڑپھڑاتے شیخ رشید کو جب کوئی راہِ فرار نہ ملی تو فرمایا کہ اُنہیں تو عمران خاں بار بار جیو ٹی وی پر آنے سے منع کرتے ہیں اور ناراض بھی ہوتے ہیں لیکن وہ پھر بھی چلے آتے ہیں۔ شاہ زیب خانزادہ نے کہا ’’شیخ صاحب ! آپ کی بڑی مہربانی لیکن آج آپ نے مایوس کیا ہے‘‘۔ شاہ زیب خانزادہ کی مایوسی کی وجہ دراصل یہ تھی کہ اُن کا دائرہ کار ’’ جوڈیشل مارشل لاء ‘‘ سے متعلق سوالات تک محدود تھا اور وہ بار بار شیخ صاحب سے یہی کہہ رہے تھے کہ اُنہیں جوڈیشل مارشل لاء کی آئینی حیثیت پر مطئن کیا جائے لیکن شیخ صاحب بات گھما پھرا کر یا توشریف خاندان کی کرپشن پر لے جاتے یا پھر کہتے کہ پنجاب اور سندھ میں نوازلیگ اور پیپلزپارٹی اپنی مرضی کی نگران حکومتیں بنا کر عام انتخابات میں دھاندلی کریں گی۔ جب اینکر نے کہا کہ آئین میں طریقِ کار درج ہے اور پنجاب میں تحریکِ انصاف کا اپوزیشن لیڈر ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ شہباز شریف پنجاب میں اپنا وزیرِاعظم لے آئیں تو شیخ صاحب کا جواب تھا’’اگرمیاں محمودالرشید اور میاں شہباز شریف میں اَنڈرسٹینڈنگ ہوگئی اور نگران وزیرِاعلیٰ کے لیے نام کمیٹیوں میں نہ گئے تو بعد میں سب لوگ یہی کہیں گے کہ اُن کے ساتھ ہاتھ ہو گیا‘‘۔ گویا شیخ صاحب بہرصورت جوڈیشل مارشل لاء ہی چاہتے ہیں لیکن ’’این خیال است و محال است و جنوں‘‘۔


ای پیپر