کیا یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی؟
24 مارچ 2018

کہتے ہیں نقارخانے میں طوطی کی آواز کوئی نہیں سنتا لہٰذا عوام جو سوچ رہے ہیں یا چاہتے ہیں وہ نہیں ہونے والا۔۔۔ ہونا وہی ہے جو ملک کے بڑے چاہیں گے ۔ !
قیاس کیا جارہا ہے بعض تجزیہ نگاروں کی طرف سے کہ کوئی این آر او ہونے جارہا ہے ہوسکتا ہے کیونکہ معمولات زندگی اور معاملات حیات بارے بہتر طورسے جاننا عام کا نہیں خاص کا کام ہے لہٰذا وہ جو مناسب سمجھیں گے کر گزریں گے اس سے متعلق کوئی حیرانی اور کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔ !
عوام تو ہوتے ہیں احکامات کی تعمیل کرنے کے لیے ۔۔۔ کھیتوں، کھلیانوں، کارخانوں فیکٹریوں اور ملوں میں محنت مزدوری کرنے کے لیے ۔۔۔ اوپر کیا ہورہا ہے کیا ہوسکتا ہے اس سے انہیں کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے۔ ہوگی بھی تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ الٹا نقصان ہوسکتا ہے کیونکہ یہ طے ہے کہ ہرفیصلہ اور ہرقدم جو بڑے اٹھاتے ہیں وہ اپنی مرضی سے اٹھاتے ہیں اگر انہیں یہ کہا جائے کہ وہ جو کریں عوام سے پوچھ کر کریں تو وہ اسے اپنی سبکی تصورکرسکتے ہیں لہٰذا چپ ہی بہتر ہے۔ ویسے اس پہلو کو بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ عوامی سوچ جذباتی بھی ہوتی ہے اور بعض اوقات سطحی بھی لہٰذا جو فیصلے سنجیدگی اور غوروفکر کے متقاضی ہوتے ہیں وہ اہل اختیار ہی کرسکتے ہیں اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ عوامی رائے کا احترام نہ کیا جائے لازم ی ہے کہ اس کو اہمیت دی جائے اور اس کے پس منظر سے متعلق سوچا جائے۔ مگر اوپر عرض کیا گیا ہے کہ طوطی کی طرف کوئی بھی متوجہ نہیں ہوتا ۔ لہٰذا چھوڑیے آگے بڑھیے اور دیکھئے کہ بالائی طبقوں کے مابین ایک کھینچا تانی ہورہی ہے جو کبھی شدید ہو جاتی ہے اور کبھی اس میں کمی آجاتی ہے۔ جس سے سیاست کا پنگھوڑا بھی زیادہ اور کم حرکت کرتا ہے اور اسے دیکھ کر دوراندیش این آراو کہنے لگتے ہیں۔ بہرحال اگر کچھ لوگ کہتے ہیں کہ این آراو ہورہا ہے تو کچھ اس سے اختلاف کرتے ہیں ان کا خیال ہے کہ اب وہ وقت گزرگیا کیونکہ نیب اور عدلیہ نے وہ کچھ کھنگال دیا ہے جو اب تک نگاہوں سے اوجھل تھا۔ لہٰذا ہرچیز واضح ثبوتوں کے ساتھ عام ہوچکی ہے جسے مانے بغیر چارہ نہیں اس صورت میں کسی دوسرے راستے کا انتخاب عوام میں مزید مایوسی کو جنم دے سکتا ہے جس کے نتائج مکمل لاتعلقی اور بیگانگی کی شکل میں برآمد ہوں گے ۔
خیر جو ہونا ہے وہ ہوکررہے گا مگر امیدواثق ہے کہ اب فیصلے اوپر ہوں گے ؟ تو عوام کی خواہشات ناقابل قبول قرار نہیں پائیں گی۔ کیونکہ لوگوں کو جگا کر سلانا شاید اب ممکن نہیں رہا۔ یعنی وقت کا پنچھی اب بہت آگے نکل چکا ۔ دباؤ اور حکمت عملی والی سیاست کاری یا حکمرانی کا دور بیت گیا آئندہ بھلے پالیسیاں چند اہل دماغ بیٹھ کر بنائیں مگر عوام کے مفاد کو ہرصورت پیش نظر رکھا جائے گا۔ کیونکہ وہ اکہتر برس سے سسک سسک کر زندگی گزار رہے ہیں انہیں دن کو چین ہے نہ رات کو آرام کہ ان کی جمع پونجیاں ہتھیالی گئیں ان کے خوابوں کو بکھیر دیا گیا۔ ان کے لبوں سے مسکراہٹیں چھین لی گئیں اور ان کے چہروں کو گل رنگ ہونے سے محروم کردیا گیا۔ اب بھی ویسا سلوک جاری رہتا ہے تو وہ بھڑک اٹھیں گے ۔ چیختے چلانے لگیں گے ۔ ذراسوچئے !حالات اس کی اجازت دیتے ہیں۔ نہیں بالکل نہیں کیونکہ وطن عزیز ایک نئے دور میں داخل ہوچکا ہے جو معیشت، ثقافت اور سماجیات میں گویا انقلاب برپا کردینے کی پوزیشن میں ہے اس سے مراد میری یہ ہے کہ سی پیک ایک ایسا منصوبہ ہے جو معمولی تحفظات کے باوجود ملکی معاشیات پر گہرے مثبت اثرات مرتب کرنے جارہا ہے۔ اس سے منسلک دیگر چھوٹے چھوٹے منصوبے بھی پورے ملک میں شروع ہونے جارہے ہیں بلکہ ہوچکے ہیں آج تک ایسی معاشی تصویر کبھی بھی نہیں دیکھنے کو ملی لہٰذا مجھے یقین ہے کہ عوامی ضروریات کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ان کا خیال رکھنا ہوگا کیونکہ سرمایے کی سیاست کسی صورت بھی اپنا نقصان برداشت نہیں کرسکتی وہ اس میں منافعے کی کمی کی بھی متحمل نہیں ہوسکتی لہٰذا آنے والے دن نسبتاً بہتر ہوں گے ۔ اسی تناظر میں ہی تمام منصوبے تیار اور فیصلے ہوں گے کہا جاسکتا ہے کوئی این آراو نہیں ہوگا۔ یہ محض اندازے ہیں ہاں تجزیہ نگاروں کی یہ رائے قریب قریب درست معلوم ہوتی ہے کہ میاں شہباز شریف کے لیے معاملہ ذرا مختلف ہے مگر اگر وہ عدالتی بلاوے میں سرخروہوجاتے ہیں تو ۔ میرا نہیں خیال کہ ایسا کچھ ہوگا کیونکہ پھر ان کے حوالے سے پنڈورابکس کھولنے کی کیا ضرورت تھی جو روز بروز نئے نئے انکشافات کررہاہے اور ان سے محفوظ رہنے کی کوئی سبیل دکھائی نہیں دیتی ۔ ؟چلیے !قیاس کرنے والے اپنی اپنی تجزیاتی حس کے مطابق قیاس آرائیاں کرتے رہتے ہیں۔ ویسے یہاں تو وہ سب ہو جاتا ہے جو کسی کے گمان میں بھی نہیں ہوتا مگر جیسا کہ میں نے چند ایک حقائق پیش کیے ہیں جن کی بناء پر ’’مل بیٹھنے‘‘ کی توقع نہیں کی جا سکتی کیونکہ اب جملہ امور عدالتوں میں ہی نمٹائے جائیں گے ۔ قانون کی حکمرانی کا اب جب علم بلند کیا جاچکا ہے تو اس پر انحصار کرنا پڑے گا۔ وہ کسی کے حق میں ہو یا اس کے مخالف۔ اسے ہی بنیاد بنایا جائے۔ لہٰذا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اب بالا بالا ہی خیرخیریت کا پتہ چلایا جائے گا۔ میری رائے و تجزیہ غلط بھی ہوسکتا ہے۔ اس کا کچھ حصہ درست بھی ہوسکتا ہے مگر زمینی حقائق کے تحت ہی سیاست کاری اور خانہ داری ہوگی۔ کیونکہ ہم ایک ایسی دنیا سے روشناس ہو رہے ہیں جن میں روایتی طرز عمل وحکمرانی کی شاید گنجائش نہیں ہوگی لہٰذا یہ منظر ضرور تبدیل ہوگا۔ !
سوال تو یہ بھی ہے کہ کیا وجہ ہے کہ یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی جبکہ سورج کی روشنی بہت ہے جو توانائی اور راستوں کی تلاش میں انتہائی ضروری ہوتی ہے۔ یعنی اہل دانش بھی بہتیرے اور اہل سیاست بھی ، پھر عوام بھی ان کے خواہشمند ۔ لہٰذا اجالوں کے جہاں میں اب دیئے نہیں طاقتور برقی قمقمے روشن ہوں گے کیونکہ یہ صدی تعمیر و ترقی کی صدی ہے اس میں بجھنے اور ٹمٹمانے چراغوں کے بس میں نہیں کہ اندھیروں کو پرے لے جا کر کھڑا کرسکیں۔ بہرکیف جوں جوں عام انتخابات قریب اور عدالتی کارروائیاں تیز ہوتی جارہی ہیں سیاست کے سمندر میں بھی ہلچل، تیز ہوتی جارہی ہے ادھر ڈالر کی قیمت میں بھی چڑھاؤ آگیا ہے۔ پٹرول بھی مہنگا ہونے لگا ہے لگتا ہے چراغوں میں روشنی نہیں رہی لہٰذا بات سوچنے کی ہے کہ ان سے منزلوں کا پتہ پوچھنا سادگی نہیں تو اور کیا ہے۔ حرف آخر یہ کہ تھوڑی سی قانونی حرکت نے ہماری اجتماعی فکر کو بدل کر رکھ دیا ہے کہ ادارے (سویلین ) سراٹھانے لگے ہیں اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرنے لگے ہیں اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو وہ جانتے ہیں کہ اب انہیں قانون کے کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑے گا لہٰذا تبدیلی ہوتے اس سیاسی منظر میں عوام نظر نہ بھی آئیں تو ادارے ضرورنمایاں ہوں گے جو امن اور خوشحالی کا واضح پیغام ہے۔


ای پیپر