اجالا
24 مارچ 2018

چند ماہ قبل علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے علاقائی دفتر ملتان میں طلباء و طالبات کے مابین لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی بابت ایک پروقار تقر یب منعقد ہوئی اسکے روح رواں علاقائی ڈائر یکٹر محترم غلام حسین کھوسہ تھے جبکہ مہمان خصوصی رئیس الجامعہ محترم پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی تھے نظامت کے فرائض پروفیسر ڈاکٹر امتیاز بلوچ نے انجام دئیے، ڈپٹی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر نگہت شاکر، پروفیسر شاکر علی، ڈپٹی ڈائریکٹر اطلاعات نعیم عاصم، میڈم شاہدہ، محمد ندیم کے علاوہ طلباء و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ ہم بھی ’’ ریسورس پرسن‘‘ کے طورپر شریک تھے۔ اگرچہ اس نوع کی تقاریب تو منعقد ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن دو اعتبار سے یہ تقریب ذرا منفرد تھی اور درد دل رکھنے والوں کو دعوت فکر دے رہی تھی۔
وائس چانسلر نے جامعہ میں ہونے والی علمی، ادبی، تحقیقی کاوشوں کا ذکر خیر کیا اور خطاب میں فرمایا کہ مذکورہ جامعہ دیگر جامعات سے کسی بھی طرح تعلیمی میدان میں پیچھے نہیں بلکہ بعض تعلیمی پروگرامات میں تو دوسروں سے بہت بہتر مقام پر ہے۔ ان تعلیمی پروگرامات میں قابل ذکر جیل کے قیدیوں کی علمی پیاس بجھانے اور نابینا افراد کے لیے تعلیم کا دروازہ کھولنے کا سہرا اس مادر علمی اور رئیس ادارہ کے سر ہے۔ علاوہ ازیں مدارس کے طلباء کے لیے بھی جامعہ خدمات فراہم کر رہی ہے۔
جہاں تک قیدیوں تک جیل رسائی کا تعلق ہے تو اسکی تفصیل فراہم کرتے ہوئے انہوں نے فر مایا کہ وہ کراچی، کو ئٹہ، راولپنڈی اور لاہور کی جیلوں کا دورہ کر چکے ہیں مزید بر آں تمام انسپکٹر جنرل پولیس کے نام بھی خط روانہ کیے گے۔ میٹرک سے بی اے تک قیدیوں کو تعلیم فراہم کرنے کا منصوبہ زیر تکمیل ہے۔ وہ باضابطہ طور پر جیل خانہ جات میں مطالعاتی مراکز قائم کرنے کے خواہاں ہیں۔ جیل سپرنٹنڈنٹ بطور کو آرڈینیٹر فرائض انجام دیں گے۔ یوں جیل میں مقید افراد اپنی علمی پیا س کو بجھا سکیں گے۔
ارض پاک میں اس وقت قریباََ ایک لاکھ سے زائد افراد ملک کی سو جیلوں میں مقیم ہیں ایک محتاط اندازے کے مطابق ان میں ستر فیصد وہ ملزمان ہیں جنہیں ابھی ٹرائل کے مراحل سے گزرنا ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق جدید نظام جیل کی بنیاد 6 سی پر ہونا لازمی ہے جن میں انکی، حفاظت ، اصلاح اور سماج سے رابطہ لازم قرار دیا گیا۔ آئینی طورپر بھی ان قیدیوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ بیرونی دنیا میں قیدیوں سے فارمنگ، لائیو سٹاک، کشیدہ کاری، فشری اور پولٹری، گارڈنگ کے شعبے میں خدمات لی جاتی ہیں اسی ذریعہ ہی سے انکی تربیت کا فریضہ انجام دیتا ہے تاکہ وہ رہائی پانے کے بعد مذکورہ شعبہ جات میں ملازمت حاصل کر سکیں یا کاروبار کے طورپر اس شعبہ کو اختیار کرسکیں۔علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے علاوہ دیگر ادارے بھی قیدیوں کی فنی تر بیت میں مصروف عمل ہیں انکی تمام کی یہ کاوش قابل تحسین ہے۔
جہاں تک نابینا افراد کے لیے تعلیمی خدمات فراہم کرنے کا تعلق ہے تو یہ کریڈٹ وائس چانسلر ہی کو جاتا ہے کہ جنہوں نے اپنی جامعہ کے 44 علاقائی دفاتر میں ’’ ای لرننگ‘‘ کی سہولت بذریعہ ’’ ای بک‘‘ فراہم کی ہے خوش آئیند بات یہ ہے کہ تعلیمی سہولت بلا معاوضہ فراہم کی جا رہی ہے۔ جامعہ نے ایسا سافٹ وئیر تیار کروایا ہے کہ ای بک کی وساطت اور ماؤس کی مدد سے نابینا افراد بذریعہ آواز مطالعہ کر سکیں گے اس مشق کا مقصد سماج کے نابینا افراد کو تعلیم یافتہ بنانا، جدید علوم کی آگاہی دینا اور معاشرہ کا ایک ذمہ دار فرد بنانا ہے اسکی مثال پروفیسر محمد عرفان کی ہے جو پروفیسر الفت کاظمی کی زیر نگرانی راقم کے ساتھ مذکورہ جامعہ کے زیر اہتمام ورکشاپ میں درس وتدریس میں مصروف رہے وہ باضابطہ طورپر ملتان ہی کی اک درس گاہ میں تعلیمی فرائض انجام دیتے ہیں۔
محترم ڈاکٹر شاہد صدیقی نے فاٹا اور بلو چستان کے عوام کے حوالہ سے بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبال اوپن یو نیورسٹی دونوں خطہ جات کے لے میٹرک تک بلا معاوضہ تعلیم فراہم کرنے کے پروگرام پر عمل پیرا ہے۔
جیل کے قیدیوں اور نابینا افراد کے لئے جامعہ کے زیر اہتمام تعلیمی پروگرامات کی جس قدر بھی تحسین کی جائے وہ کم ہے۔ جیل خانہ جات کے کنٹرول کا جہاں تک تعلق ہے تو اب یہ صوبہ جات کے زیر کنٹرول ہیں جبکہ جامعہ کی حیثیت اک مرکزی ادارہ کی سی ہے اسکے دفاتر و طن عزیز میں ہر قابل ذکر مقام پے موجود ہیں اس لئیے امید واثق ہے کہ انکا تعلیمی پروگرام قیدیوں میں ذوق مطالعہ کو فروغ دینے کا سبب بنے گا۔
شعبہ تعلیم کے لئے مختص کیے گئے بجٹ کے اعدادو شمار سے تو ہم بخوبی واقف ہیں جنوبی ایشیائی ممالک کے مقابلہ میں ہمارا تعلیمی بجٹ کم ہی رکھا جاتا ہے جس میں اضافہ کی بازگشت مسلسل سنائی دیتی رہتی ہے لیکن اس پے کان کم ہی دہرے جاتے ہیں۔
علامہ اقبال اوپن یو نیورسٹی کا شمار بھی سرکاری جامعات میں ہوتا ہے۔ اسکے پاس وسائل بھی دیگر یونیورسٹیز کی طرح ہیں اس کے باوجود نابینا افراد اور قیدیوں کی تعلیم کا بوجھ اٹھا نا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے خدا کرے وہ خواب شرمندہ تعبیر ہو سکیں جو وائس چانسلر نے اپنی جیتی جاگتی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ مذکورہ طبقات کو تعلیم کے فن سے آراستہ کرنے کی ذمہ داری صرف اس جامعہ کے کندھوں پر ہی نہیں بلکہ سماج کے مخیر حضرات کو بھی اس کار خیر شریک ہونا چاہیے اس وقت بڑے بڑے کالجز اور سکولز کے نامور’’ برانڈ‘‘ مارکیٹ میں دستیاب ہیں جو تعلیمی میدان میں اپنا جھنڈا گاڑھے ہوئے ہیں اور دن دگنی اور رات چو گنی ترقی کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ فورسز کے زیر اہتمام بھی کچھ تعلیمی ادارے شرح خواندگی کے’’ مرتکب ‘‘ہورہے ہیں۔ انہیں بھی ان قوتوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلنا چاہیے جنہوں نے جیل خانہ جات میں اپنے حصے کی شمع جلانے کا آغاز کر دیا ہے زیادہ مناسب ہوگا کہ وہ اپنی درس گاہوں کے دروازے نابینا اور’’ مخصوص افراد‘‘ کے لئیے کھول دیں جن کے دلوں میں علم کا اجالا کرنے کی شروعات جامعہ نے کی ہے۔
ہم سب اس سے متفق ہیں کہ سامراجی عہد کے جیل خانہ جات کے نظام اور عدلیہ کی سست روی کی سزا اس ملزم کو مل رہی ہے جو اپنے نا کردہ گناہوں کی پاداش میں بغیر کسی ٹرائل کے کئی سالوں سے پابند سلاسل اور اپنی زندگی کے سنہری ایام سلاخوں کے پیچھے گزارنے پے مجبور ہے کیا اسکا حق نہیں کہ ریاست اس کے لیئے تعلیم کی فراہمی کا اہتمام کرے؟
قرائن بتاتے ہیں کہ ریاست تعلیم اور صحت جیسے بنیادی آئینی حقوق کی فراہمی سے روگردانی کے بہانے ڈھونڈ رہی ہے ان حالات میں مخیر حضرات پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان قیدیوں کی تعلیم کے بندوبست میں شریک ہوں اور ان اداوں کے ساتھ معاونت کرے جو علم کی شمع روشن کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔
بڑے نجی تعلیمی اداروں کو علامہ اقبال یو نیورسٹی کے قدم سے قدم رکھتے ہوئے قیدیوں اور نابینا و مخصوص افراد کے دلوں میں تعلیمی اجالا کرکے اندھیروں کو دور کرنا چاہیے جو جہالت کو پروان چڑھاتے اور ان پر گامزن افراد جیل کی سلاخوں کے پیچھے اترجاتے اور تعلیم سے محروم رہتے ہیں۔


ای پیپر