اداروں کا احترام کرنا چاہیے
24 مارچ 2018 2018-03-24

مسلم لیگ نون کے سربراہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی سپریم کورٹ سے نااہلی کے بعد احتساب عدالتوں میں بدعنوانی کے مقدمات کے علاوہ اب ملک کی اعلیٰ عدلیہ کی سرعام توہین کے الزامات کا سامنا ہے اور ان کے خلاف توہین عدالت کی درخواستوں دائر ہونا شروع ہو گئی ہیں۔
جڑانوالہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حسب روایت نواز شریف نے ایک بار پھر سپریم کورٹ کے نااہلی کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے فیصلے کو قوم مسترد کر دے گی اور جب عوام کا فیصلہ ہو گا وہ ہی حتمی فیصلہ ہو گا۔اس کے علاوہ انھوں نے کہا کہ عوام نے انھیں اسمبلی میں بھیجا تو کیا پاکستان میں عوام کے بغیر انھیں کوئی نکال سکتا ہے اور اب یہ کہتے ہیں کہ نااہلی پانچ برس کے لیے ہوئی ہے یا زندگی بھر کے لیے؟۔’ تم زندگی بھر کے لیے کر لو میرا اور آپ کا رشتے کوئی نہیں توڑ سکتا۔‘
لاہور بار ایسوسی ایشن نے بھی اعلان کیا ہے کہ اگر سابق وزیراعظم کی جانب سے عدلیہ مخالف بیانات کا سلسلہ بند نہیں ہوا تو بار کی جانب سے اعلیٰ عدالتوں میں توہین عدالت کی پٹیشن دائر کی جائے گی۔بقول ایسوسی ایشن ’جس طرح سے عدالیہ کو بدنام کیا جا رہا، یہ بہت ہی سنجیدہ معاملہ ہے اور عوام کے سامنے عدلیہ کی ساکھ کو بحال رکھنے کے لیے لاہور بار ایسوسی ایشن ہر ممکن اقدامات کرے گی‘۔
سابق وزیراعظم کی جانب سے عدلیہ مخالف بیانات کا سلسلہ 28 جولائی کو نااہلی کے فوری بعد شروع ہو گیا تھا۔نواز شریف، مریم نواز اور ان کے قریبی رفقا کی طرف سے عدلیہ مخالف بیانوں میں تبدریج تلخی اور تیزی آئی ہے۔ نواز شریف کے خلاف نیب میں جیسے جیسے مقدمات آگے بڑھتے گئے ہیں ویسے ہی نواز شریف اور ان کے قریبی حلقوں کی طرف سے عدلیہ مخالف بیانات میں تیزی آتی گئی ہے۔ تاہم اس میں زیادہ تلخی سپریم کورٹ کی جانب سے دسمبر میں نااہلی کیس میں جہانگیر ترین کو نااہل قرار دینے اور عمران خان کو کلین چٹ ملنے کے بعد نظر آئی۔اسی دوران سپریم کورٹ نے نواز شریف کی جانب سے نااہلی کے فیصلے پر نظر ثانی کے لیے دائر کردہ درخواست مسترد کرتے ہوئے تفصیلی فیصلہ سنایا اور اس میں کہا گیا تھا کہ نواز شریف کی جانب سے جھوٹا بیان حلفی دیے جانے کو عمومی انداز سے نہیں دیکھا جا سکتا۔
عدالت مخالف بیانات کا تذکرہ جب ٹاک شو کا حصہ بننا شروع ہوا تو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو دسمبر میں لاہور بار ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کے دوران کہنا پڑا کہ ملکی عدلیہ پر کسی طور پر کسی فیصلے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ہے اور وہ کسی منصوبے کا حصہ بھی نہیں ہے۔چیف جسٹس کے وضاحتی بیان کے بعد بھی سابق وزیراعظم اور ان کی بیٹی مریم نواز کے عدلیہ مخالف رویے میں نرمی نہیں آئی ہے اور سابق وزیراعظم کی حالیہ عوامی مہم میں کی جانے والی تقاریر میں عوام کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ ان کے منتخب کردہ نمائندے کو عدلیہ نے وزیراعظم ہاؤس سے نکال دیا اور یہ فیصلہ منظور نہیں۔
سابق وزیراعظم نواز شریف نے اداروں کیساتھ محاذ آرائی سے روکنے کیلئے ان کے مخلص اور سمجھ دار ساتھیوں کو آگے آنا ہوگا جیسے کہ سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کا بیانیہ کیا ہے، انہیں نہیں پتا۔ میرا مؤقف ہے کہ عدلیہ اورپاک فوج سے لڑائی نہیں کرنی چاہیے ۔ بطور سیاسی پارٹی ہمیں بیچ کا راستہ نکالنا چاہیے ۔یہ بات کئی بار نوازشریف کے سامنے کہی۔ اگر ہمیں ریلیف ملنا ہے تو سپریم کورٹ سے ہی ملے گا۔ ہمیں اداروں سے لڑائی نہیں لڑنی چاہیے ۔ پاک فوج سے کوئی تمغہ نہیں لینا۔ سیاست باکسنگ یا پہلوانی کامقابلہ نہیں۔ یہ راستہ نکالنے کافن ہے۔ اداروں کی بجائے اپنا منہ سیاسی مخالفین کی طرف رکھا جائے۔
بقول چودھری نثار، سپریم کورٹ کے فیصلے سے اختلاف ہوسکتا ہے۔تضحیک کی اجازت نہیں۔نواز شریف اور میں نے پارٹی کی ایک ایک اینٹ رکھی تھی۔ اعلیٰ عدالتوں پر تنقید کی پالیسی سے اختلاف ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کو نشانہ بنانا نواز شریف اور پارٹی کے حق میں نہیں۔ میں نے پارٹی کے اندر اختلاف کیا۔ اختلاف رائے جمہوریت کا حصہ ہے۔
ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ قوم، حکومت، پارلیمنٹ اور دیگر اداروں نے یکمشت ہوکر پیغام دیا کہ ہم سے عزت سے بات کرو اور عزت لو۔ ہم مزید پاکستان کی جگ ہنسائی قبول نہیں کریں گے۔یہ وہ پیغام تھا جس سے پاک امریکا تعلقات میں ٹھہراؤ آیا۔ اب حکومت کا فرض ہے اس اتحاد و اتفاق پر قائم رکھے۔ پارلیمنٹ اور تمام ادارے ساتھ دیں۔ آپ اتحاد کا مظاہرہ کریں گے تو یقین ہے ملک کے خلاف عزائم اپنی موت خود مر جائیں گے۔
چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ میرا پہلے دن سے موقف ہے کہ سپریم کورٹ سے تصادم کی پالیسی نہیں اختیار کرنی چاہیے ۔ سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کو عدالتی فیصلے پر تحفظات ہیں تو قانونی راستہ اپنائیں۔ ان کے کان پکا دیئے گئے ہیں کہ آپ جیل جائیں گے تو ہمدردی کا تاثر ملے گا لیکن میرا خیال ہے نواز شریف جیل گئے تو پارٹی کو نقصان ہو گا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہونا چاہیے ۔ عدالتِ عالیہ کا غلط فیصلہ ہے تو اس کے ذمہ دار ہم ہیں۔ ہم خود کیس کو سپریم کورٹ لائے۔ واحد شخص ہوں جس نے اختلاف کیا کہ کیس کو سپریم کورٹ نہیں لے کر جانا چاہیے ۔ نواز شریف نے چند لوگوں کے جھرمٹ میں فیصلہ کیا کہ کیس سپریم کورٹ میں لے کر جانا چاہیے ۔
سابق وز یراعظم مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے تین دہایوں کے دیرینہ ساتھی چوہدری نثار کو بیانیہ کی مخالفت اور اداروں سے ٹکراؤ کی پا لیسی نہ اپنانے کے تناظر میں راستہ جدا کر لیا۔ نواز شریف کی خصوسی ہدایت پر سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کوپارٹی کے مرکزی مجلس عاملہ کے اجلا س میں دعوت بھی نہیں دی گئی جبکہ شہباز شریف، ایاز صادق اور خواجہ سعد رفیق نے نواز شریف کو منانے کی بھرپور کوشش کی مگر وہ نہیں مانے۔ یہ تینوں رہنما رات گئے تک نواز شریف کو منانے کی کوشش کرتے رہے ۔ تاہم نواز شریف نے کہا جس موقف کی عوام نے حمایت کی اس سے اختلاف کرنیوالے کیلئے پارٹی میں کوئی جگہ نہیں۔ عوام نے میرے بیانیہ کی بھرپور حمایت کی جبکہ چوہدری نثار نے سرعام مخالفت کی۔ اسلئے ایسا نہیں ہو سکتا مخالفت بھی کی جائے اور اس کو اجلاس میں شرکت کی دعوت بھی دی جائے۔
جب سیاسی رہنما اپنے ایسے مسائل بھی اعلیٰ عدلیہ لے کر پہنچتے ہیں جو پارلیمنٹ میں حل ہونے چاہئیں تو ایسے میں عدلیہ پر الزام عائد کرنا انتہائی غیر مناسب ہے۔ پاناما گیٹ کیس بھی اس کی ہی ایک مثال ہے۔ پارلیمنٹ کو اپنی کوتاہیاں ختم کرنے پر دھیان مرکوز کرنا چاہیے ۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی منتخب رہنما نے سویلین اداروں کو اتنی ٹھیس نہیں پہنچائی ہوگی جتنی نواز شریف نے اپنے تین ادوار میں پہنچائی ہے۔ وہ یہ بات بھی قبول کرنے کو تیار نظر نہیں آتے کہ صرف انہیں ہی عہدے سے فارغ کیا گیا ہے، جبکہ ان کی پارٹی اب بھی اقتدار میں ہے اور نئے وزیر اعظم کے ماتحت کام کر رہی ہے۔
یہ تو صاف دکھائی دے رہا ہے کہ پارلیمنٹ اپنے پانچ سال مکمل کرے گی۔ آئین پارلیمنٹ کی مدت تو متعین کرتا ہے لیکن وزیر اعظم کی نہیں۔ یہ بھی واضح نظر آ رہا ہے کہ وہ صرف ذاتی سیاسی بقا کی خاطر جمہوریت اور سویلین بالادستی کی بات کر رہے ہیں۔


ای پیپر