دل کی پیوند کاری میں پاکستانی ڈاکٹر کی اہم کامیابی
24 مارچ 2018

میڈیکل سائنس کی دنیا میں ڈاکٹر کرسچن برنارڈ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ ڈاکٹر برنارڈ نے تین دسمبر1967کو جنوبی افریقہ میں انسانی دل کی تبدیلی کا پہلا کا میاب آپریشن کیا یہ طب کی دنیا میں انتہائی حیرت انگیز پیش رفت تھی۔ اس سے پہلے ڈاکٹر برنارڈ نے اپنے امریکہ میں قیام کے دوران سٹینفورڈ یونیورسٹی کے عالمی شہرت یافتہ ڈاکٹر نارمن شموے کی رہنمائی میں جانوروں میں دل کی تبدیلی پر کامیاب تحقیق کر چکے تھے۔ ڈاکٹر برنارڈ جنوبی افریقہ واپس آنے کے بعد وہ کیپ ٹاؤن کے گرْوٹ شور ہسپتال میں دل کی جراحی کے شعبہ میں بطور چیف سرجن خدمات انجام دینے لگے۔،اب وہ ایک ایسا شخص تلاش کر رہے تھے جس کا دل بطور عطیہ قبول کیا جا سکے۔ ڈنیس ڈارول نامی ایک خاتون جن کی ایک حادثے میں سر پر چوٹ لگنے کے باعث دماغی موت واقع چکی تھی ان کا دل لویئس واشکینسکی کو لگایا گیا۔دنیا میں دل کی پیوندکاری کا یہ پہلا آپریشن کامیاب تھا۔ آپریشن کے بعد مزید اٹھارہ دن زندہ رہنے کے دوران جناب واشکینسکی نے اپنی بیوی اور رپورٹرز سے بات چیت بھی کی ۔جنوری 1968میں ڈاکٹر برنارڈ نے دوسرا آپریشن فیلیپ بلیبرگ کا کیا جو آپریشن کے بعد ڈیڑھ سال زندہ رہے اور ہسپتال سے گھر بھی منتقل ہوئے۔1968کے اختتام تک دل کی تبدیلی کے تقریباً ایک سو آپریشن کئے گے مگر اگلے دو سالوں میں یہ تعداد انتہائی کم رہی ، 1970 میں صرف اٹھارہ آپریشن ہوئے ۔ اس کی بنیادی وجہ انسانی جسم کے قدرتی دفاعی نظام کا اجنبی دل کو مسترد کر دینا تھا۔ تقریباً ایک دہائی تک مختلف جگہوں پر ایمونو سپریشن(جسم کا دفاعی نظام) پر تحقیق جاری رہی۔ کامیاب ایمونو سپریسو دواؤں کی دریافت کے بعد ایک دفعہ پھر دنیا میں دل کی پیوندکاری شروع ہوئی۔ اس پیشرفت کے باوجود آج کے جدید دور میں دل کی پیوندکاری کا مرحلہ آسان نہیں ہے اور یہ طریقہ علاج بہت مہنگا بھی ہے۔ آج بھی دل کی تبدیلی کے لیے طریقے اور تحقیق کے لیے امریکا اور یورپ کے ہسپتالوں پر اعتماد کیا جاتا ہے۔


ان دنوں امریکہ میں ایک سال میں تبدیلی دل کے تین ہزار آپریشن کئے جاتے ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ملک میں جہاں 5.7 ملین لوگوں کو دل کا عارضہ لاحق ہے وہاںتبدیلی دل کے تین ہزار آپریشن ہونا نہایت کم تعداد ہے پچھلے کچھ عرصے میں ایسی مشینی پمپ ایجاد کئے گئے جو ناکارہ دل کو لگائے جاتے مگر یہ مشینی طریقہ علاج نہ صرف مہنگا تھا بلکہ مریضوں کیلیے چنداں مشکلات میں اضافہ بھی کررہا تھا جس میں خون کا بہہ جانا، فالج اور انفیکشن شامل ہے۔ اس لئے ڈاکٹرز دل کی پیوندکاری کو ہی ترجیح دیتے۔ امریکا اور یورپ میں اگر کسی مریض کادل آخری سطح پر ہو تو اس کے لیے کسی ایسے شخص کی تلاش ہوتی ہے جس کی دماغی موت واقع ہو چکی ہو اور اس نے اپنا دل عطیہ کرنے کا عندیہ دیا ہو۔ ایسے کچھ لوگ یا تو باقاعدہ وصیت کر جاتے ہیں اور کچھ اپنے شناختی کارڈ پر لکھوا لیتے ہیں۔ بہر حال ایسے شخص کے لواحقین کی خواہش کا احترام اور اجازت کا انتظار ایک لازمی امر ہوتا ہے۔ امریکا میں اب باقاعدہ ایسے ادرے موجود ہیں جو ایسے لوگوں اورمریضوں کا ریکارڈ رکھتے ہیں جنہوں نے اپنے اعضاءعطیہ کئے ہوں۔ تمام معاملات ہو جانے کے بعد دل لینے اور دل دینے والاکا انتخاب کیا جاتا ہے۔ دماغی طورپر وفات پا جانے والے شخص کا دل نکال کر چار سے چھ گھنٹوں میں دل مطلوبہ مریض تک پہنچانا ہوتا ہے۔ اس نازک مرحلے میں دو ٹیمیں کام کرتی ہیں۔ ایک ٹیم کی ذمہ داری دل ڈونر میں سے نکال کر اسے دوسرے ہسپتال میں پہنچانا جبکہ دوسری ٹیم کی ذمہ داری اسدل کو ریسیپیئنٹ میں لگانے کی ہوتی ہے۔ ان دونوں مراحل میں ۲–۳ درجن لوگ، کئی ڈیپارٹمنٹ، دو ہسپتال، ایمبولینس، ہیلی کاپٹر اور ہوائی جہاز شامل ہوتے ہیں۔ اب اصل مسلہ یہ پیش آ رہا تھا کہ تبدیلی دل کی تعداد میںاضافہ نہیں ہو پا رہا تھا،اس معاملے پر مسلسل تحقیق جاری تھی،اس تحقیق پر کامیابی ایک پاکستانی ڈاکٹر اور سائنسدان کوملی ،امریکی حکومت نے ڈاکٹر فیصل چیمہ کی تحقیق پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں چار ملین ڈالر کی فنڈنگ فراہم کی ۔

ڈاکٹر فیصل چیمہ کا تعلق حافظ آباد سے ہے ، سینیئر کیمبرج کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور سے پری میڈیکل کیا اور پھر آغا خان یونیورسٹی کراچی سے میڈیکل کا امتحان پاس کرنے کے بعد مزید تعلیم کے لیے امریکہ چلے آئے۔انھوں نے لویولا یونیورسٹی میں دل کی تحقیق پر کام کا آغاز کر دیا اور بعد ازاں دل کی سرجری پر مزید تحقیق میں پوسٹ ڈاکٹرل فیلوشپ کے لیئے کولمبیا یونیورسٹی نیویارک چلے گئے۔ یہاں پر ان کا مقصد دل کی سرجری پر مختلف موضوعات پر تحقیق تھا جن میں دل کی تبدیلی پر کام شامل رہا۔اس کے علاوہ ڈاکٹر چیمہ جانز ہاپکنز یونیورسٹی، یونیورسٹی آف میریلینڈ اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے کے ساتھ بھی منسلک رہے۔ آجکل ڈاکٹر چیمہ بیلر کالج آف میڈیسن اورٹیکسس ہارٹ انسٹیٹیوٹ ہوسٹن کے فیکلٹی ممبر اور دل اور پھیپھڑوں کے شعبہ پیوندکاری کی تحقیق کے بطور ڈائریکٹر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر چیمہ کے 110 تحقیقی مقالے بین لاقوامی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی تحقیق کے حوالے کم و بیش ساڑھے چار ہزار سائنسی مقالوں میں دیئے جا چکے ہیں۔ ڈاکٹر چیمہ میڈیکل سائنس کے سینکڑوں طلبہ کو رہنمائی اور مدد دے چکے ہیں۔ ڈاکٹر چیمہ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ کولمبیا یونیورسٹی جیسے آئی وی لیگ ادارے میں الیکٹ ہو کر سینیٹر کہ طور پر تمام محققین کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں۔ ڈاکٹر چیمہ پاکستان کے متعدد میڈیکل اداروں کے ساتھ تعاون کر چکے ہیں جن میں آغا خان یونیورسٹی، پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیولوجی، سینٹر آف ایکسیلنس ان مالیکیولر بیالوجی،آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیولوجی،نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز اور شفا میڈیکل کالج شامل ہیں۔ ڈاکٹر چیمہ نے اپنے کیریر کو سرجری کے شعبے کی تحقیق کے لیے مختص کر رکھا ہے۔ انہوں نے انسانی دل کی تبدیلی میں انتہائی اہم پیش رفت کی ہے۔امریکا میں جو تین ہزار دل تبدیلی کے لیے جاتے ہیں وہ اعضا ء ایسے لوگوں سے بطور عطیہ لیے جاتے ہیں جن کی دماغی موت تو ہوچکی ہو لیکن باقی جسم وینٹی لیٹر پر لگا ہو یعنی دل کی دھڑکن جاری ہو۔ لیکن اب ڈاکٹر فیصل چیمہ کی تحقیق کے جس منصوبے قابل عمل تسلیم کیا گیا ہے اس کا بنیادی مقصد مرنے والے افراد کے دل کو قابل استعمال بنائے جائے گا جن کے دل کی دھڑکن بند ہو چکی ہو گی۔اسطرح سے امید ہے کے دل کی پیوندکاری کے آپریشنز کی تعداد میں خاطرخواہ اضافہ ہو گا اور اللہ کے فضل سے کئی قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے گا۔ ڈاکٹر چیمہ کوامریکہ میں ریسرچ کے مقاصد کے لیے دی جانے والی چار ملین ڈالر کی خطیر رقم دل کی تبدیلی پر ریسرچ میں خرچ کی جائے گی۔ یہ ایک انتہائی اہم کام اور ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر جیفری مورگن سرجری کے پروفیسر اور ڈائریکڑ ریسرچ اینڈ انوویشنز ڈاکٹر فیصل حبیب چیمہ نے اس ذمہ داری کو قبول کیا ہے۔اس مقصد کے حصول کے لیے آسٹریلیا اور یورپ میں موجود چند ڈاکٹر اور سائنسدان بھی ڈاکٹر چیمہ کے ساتھ شامل ہو جائیں گے۔ یہ انتہائی اہم ریسرچ دل کی تبدیلی میں نہ صرف بڑی کامیابی ہو گی بلکہ پوری دنیا کے ہزاروں مریضوں کے لیے زندگی کی نوید ہو گی جو قابل قبول دل کے انتظار میں بے بسی کی حالت میں اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔

 

ڈاکٹر چیمہ پاکستان میں دل اور پھیپڑوں کی پیوندکاری کو حقیقت کا روپ دینا چاہتے ہیں اس میں ایسے مریضوں کا علاج کو ممکن بنانا بھی شامل ہیں جن کا دل ناکارہ ہو چکا ہو۔ ڈاکٹر چیمہ کی خواہش ہے کہ پاکستان میں عطیہ کئے گئے انسانی اعضاء اور اْن اعضاء کو ضرورت مند مریضوں تک پہنچانے کے لیے باقاعدہ ایک نیشنل رجسٹری کا قیام ممکن بنایا جائے اور اس سلسلے میں انہوں نے ‘‘پاک دل ’’ کے پلیٹ فارم پر اپنی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے۔ حکومت پاکستان کو ڈاکٹر فیصل چیمہ کی خدمات کا بھرپور فائدہ اْٹھانا چائیے اور یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ ڈاکٹر چیمہ خود بھی اپنی دھرتی ماں کے لیے کچھ کر گزرنے کی خواہش بھی رکھتے ہیں۔ اللہ انہیں نیک مقاصد میں کامیابی سے ہمکنار کرے تا کہ مریضوں کو جدید سہولیات اپنے ملکِ پاکستان میں ہی بہم پہنچائی جا سکیں۔ ( میں ذاتی طور پر ڈاکٹر فیصل چیمہ کا مشکور ہوں جنہوں نے اس تحقیق میں میری ہر ممکن مدد کی )

 


ای پیپر