دیا جلائے رکھناہے
24 مارچ 2018



کہتے ہیں کہ زندہ قومیں ہمیشہ اپنے تہوار یاد رکھتی ہیں اور اسے پورے دل کی خوشی سے مناتی ہیں۔ اس کے علاوہ قوموں کی زندگیوں میں بعض ایسے دن بھی آتے ہیں جنہیں وہ پورے قومی ولولے اور جوش و خروش سے مناتی ہیں۔ عہد نامہ کی تجدید کے ایسے ایام پاکستان کی قومی تاریخ کا بھی حصہ ہیں، جن میں ایک 23 مارچ کا دن بھی شامل ہے ۔ وہ دن ایک عہد کا دن ہے، اس دن ایک ہجوم قوم کی صورت میں آگے بڑھی اور سات سال کی قلیل مدت میں اپنے لہوسے آزادی کے دئیے روشن کئے۔
میں کافی دیر سے سوچ رہی تھی ،آج کے حوالے سے کچھ تحریر کروں۔ مگر دماغ تھا کہ میرا ساتھ ہی نہیں رہا تھا کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا لکھوں۔ٹی وی آن کیا تو وہاں کسی وژن کی ترویج کی بجائے صرف اور صرف فوجی پریڈ نظر آئی ۔میں اس پر نہیں لکھنا چاہ رہی، کیونکہ پاکستان کا قیام کسی فوج کشی کا حاصل نہیں تھا بلکہ یہ سیاسی بصیرت کی لڑائی تھی جسے قائد اعظم اور ان کے رفقائے کار نے بڑی جواں مردی سے لڑا تھا۔ میں یہ بات پورے ایمان سے کہتی ہوں کہ پاکستان کی بقاء اویک مربوط سیاسی اور جمہوری نظام میں ہے جس کے تحت تمام آئینی ادارے ،آئینی حدود و قیود میں اپنے فرائض ادا کریں ۔ اقتدار کی رسا کشی اس ملک کو گذشتہ ستر برسوں سے نا قابل معافی نقصان پہنچا چکی ہے۔
خیر موضوع کی تلاش میں نیٹ گردی شروع کردی ،کہیں سے کوئی نقطہ مل جائے، جسکو بنیاد بنا کر کچھ لکھوں یا پھر کسی کا آئیڈیا چراؤں اور اس میں سماجی اتار چرھاؤ کے پیچیدہ مسالحہ جات کا تڑکا لگا کرآپ کے سامنے پیش کردوں ۔یا پھر کوئی اچھی سی تحریر مل جائے تو اسی طرح حوالے کے ساتھ آپ کے سامنے پیش کردوں۔
اسی تلاش میں پہلے قومی اخبارات کے اداریے پڑھیں، کالموں پر نظر ڈالی۔ سوشل میڈیا پر آنے والی تحاریر کا جائزہ لیا۔ کچھ مرضی کا نہیں ملا، تجدید عہد کے سوا۔ ساتھ میں یہ بھی محسوس ہوا، اکثریت کو تو یہ بھی نہیں پتہ کہ تجدید کس عہد کا کرنا ہے۔ اگلاسفر کرنے کے لیے گوگل کی گاڑی پر سوار ہوئی ۔ کئی سٹاپ آئے مگر مطلوبہ منزل ابھی بھی دور تھی۔ پھر پاک ٹی ہاؤس کے سٹاپ پر ’’ قرار داد استحکام پاکستان ‘‘ کے نام سے ایک تحریر سامنے آئی۔ اسی صفحہ پر میری نظر ایک لائن پر پڑی ’’آج پاکستان کو بچانے اور چلانے کیلئے ایک قرارداد استحکام پاکستان کی ضرورت ہے‘‘۔
اس لائن کو پڑھتے ہی میرے دماغ کے کچھ خلیوں نے اپنا زویہ بدلا اورمیں 23 مارچ کے حقیقی فلسفے میں الجھ گئی۔پہلے تو ایک بات سمجھ لیں کہ یہ ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ کا دور نہیں ہے جہاں آپ نے انگریزوں سے اپنے مطالبات منظور کروانے ہیں بلکہ آج آپ نے اپنوں سے اپنوں کیلئے ہی کچھ کروانا ہے۔پاکستان کی مقتدر قوتیں پوری دیانت داری کے ساتھ آج اگر یہ اعلان کر دیں کہ پاکستان کو ایک جمہوری ، آئینی ریاست کی طرح چلانا ہے، تو اس کا نتیجہ سات سال بعد نہیں نکلے گا، بلکہ سات سیکنڈ میں آپ کے سامنے ہوگا۔یہ شاید آپ کو میری کوئی فنٹسی لگے مگر سچ یہی ہے کہ آج جو بنیادی عوامل پاکستان کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہے ہیں انہیں سامنے رکھ کر ہی اسکے استحکام کی کچھ تدبیر ممکن ہو سکتی ہے، ورنہ نہیں۔قرارداد کہتی ہے کہ
سب پاکستانیوں کو برابر کا شہری سمجھا جائے۔
پاکستان میں جو حقوق مسلمانوں کو حاصل ہیں وہی غیر مسلموں کو بھی حاصل ہوں۔ریاست کو یہ حق نہ ہو کہ وہ کسی کے مذہب کا تعین کرے، بلکہ ہر شخص کوء بھی عقیدہ یا مذہب اختیار کرنے میں آزاد ہو۔۔۔کسی کیخلاف نفرت انگیز کلام پر سخت سزا دی جائے اور کسی کو سرعام کافر کہنے کی اجازت نہ ہو۔۔۔دنیا کے باقی ممالک کی طرح نظام تعلیم کو یکساں بنایا جائے۔۔۔جہاد کے نام پر قانون ہاتھ میں لیکر قتال کی اجازت نہ دی جائے اور ایسے لوگوں کو قرار واقعی سزا دی جائے جو معاشرے میں قتال کے کلچر کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔۔۔مسجدوں کی رجسٹریشن کا نظام ہو اور حکومت کے پاس مسجدوں اور امام مسجد کے مکمل کوائف ہوں۔۔۔مسجد کے امام کیلئے ایک ظابطہ اخلاق تیار کیا جائے تاکہ اسے دوسروں کی نسبت نفرت انگیز بیانوں سے روکا جا سکے۔۔۔ان سب سیاستدانوں اور مذہبی رہنماؤں کو بلا تفریق گرفتا کیا جائے جو کسی بھی قسم کی قانون کی خلاف ورزی کریں۔۔۔جو دانشور سوشل میڈیا پر مقدس مذہبی علامات اور اہل مذہب کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہیں انہیں بھی لگام دی جائے۔۔۔ریاست تمام ایسے قوانین ختم کرنے کا اعلان کرے جو ناانصافی پر مبنی ہوں۔
یہ اور اس طرح کی اور بہت سی باتیں اکثر تبادلہ خیال میں سامنے بھی آتی رہتی ہیں۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جہاں ان میں سے ہر بات نہایت معقول اور آسانی سے سمجھ میں آنے والی ہے وہیں اس پر عمل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سب کچھ ہوگا کیسے؟ آج تک تو ہو نہ سکا، اور پھر جو اسکا رد عمل ہوگا وہ کون بھگتے گا؟میرے خیال میں ہراچھی تجویز کی بنیاد بہتری کی امید اور حسن ظن ہی پر ہوتی ہے اور اگراگر کوئی مخلص قیادت اچھی نیت سے کچھ کرنا چاہے تو یہ سب ممکن ہے۔ جس کے لیے سات سال نہیں صرف سات سیکنڈ کا وقت درکار ہو گا۔
جیسے کہ ریاست ابھی اعلان کرے کہ سرخ بتی پر سب ٹریفک رکے گی اور ٹریفک رک جائے؟اگر سرخ بتی پر ریاست کے حکم سے ٹریفک رک سکتی ہے تو مندرجہ بالا سب چیزیں بھی اسی طرح ممکن ہیں۔اسے ہی ریاست کی بالا دستی کہاجاتاہے۔جو آئین کا دیا جلائے رکھنے سے ہی حاصل ہو گی۔یہ دیا ایک فلسفہ ہے ، جمہوریت کا،آئینی بالا دستی کا، اسے جلتے ہی رہنا ہو گا
موج بڑھے یا آندھی آئے، دیا جلائے رکھنا ہے
گھر کی خاطر سو دکھ جھیلیں، گھر تو آخر اپنا ہے
بال بکھیرے اُتری برکھا، رُوپ لٹاتا چاند
کیا پل بھر کو اٹھی آندھی، تارے پڑ گئے ماند
رات کٹھن یا دن ہو بوجھل، ہنستے گاتے چلنا ہے
گھر کی خاطر سو دکھ جھیلیں گھر تو آخر اپنا ہے
لہروں لہروں اترا سورج، بستی بستی رُوپ
جاگ اٹھے تیرے موتی مونگے، ناچ رہی کیا دھوپ
ناؤ بڑھا، پتوار اٹھا کے سات سمندر مچنا ہے
گھر کی خاطر سو دکھ جھیلیں گھر تو آخر اپنا ہے


ای پیپر