ملک کو ایسٹ انڈیا کی طرح ٹھیکیداروں کے سپرد نہ کیا جائے : جسٹس ثاقب نثار
24 مارچ 2018 (15:39)

لاہور: چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ملک کو ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح ٹھیکیداروں کے سپرد نہ کیا جائے ،کسی کو بندر بانٹ کی اجازت نہیں دی جائے گی،چھوڑ دیں حکومت اگر آپ سے کام نہیں ہوتا،ہم عوام کے ٹیکس کا پیسہ ضائع نہیں ہونے دیں گے، ریٹائرڈ افسران ہائیکورٹ کے جج سے زائد تنخواہ کس قانون کے تحت لے رہے ہیں؟، ڈاکٹروں کی پرائیویٹ پریکٹس پر پابندی لگا دیتے ہیں، ہم ڈاکٹروں کو پابند بنائیں گے کہ وہ مکمل ڈیوٹی ادا کریں، اسپتالوں کے دورے کرتا رہوں گا کسی کو اعتراض ہے تو ہوتا رہے۔


سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں ریٹائرڈ افسروں کی بھاری مراعات پر بھرتیوں کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی جس دوران چیف جسٹس نے پنجاب کی 50کمپنیز میں افسران کی بھاری تنخواہوں کا ازخود نوٹس لے لیا اور ساتھ ہی چیف سیکریٹری سے مراعات کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔چیف سیکریٹری نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب حکومت نے 50کمپنیز تشکیل دیں، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ نے سب کچھ پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کردیا، چھوڑ دیں حکومت اگر آپ سے کام نہیں ہوتا، ہم عوام کے ٹیکس کا پیسہ ضائع نہیں ہونے دیں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ صوبے کا سب سے بڑا افسر چیف سیکریٹری 2 لاکھ روپے تنخواہ لے رہا ہے، ریٹائرڈ افسران ہائیکورٹ کے جج سے زائد تنخواہ کس قانون کے تحت لے رہے ہیں۔ جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ٹھیکیداری نظام نہیں چلنے دیں گے، ملک کو ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح ٹھیکیداروں کے سپرد نہ کیا جائے ، کسی کو بندر بانٹ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔


جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم ابھی حکم جاری کرتے ہیں اور ڈاکٹروں کی پرائیویٹ پریکٹس پر پابندی لگا دیتے ہیں، پھر ہم ڈاکٹروں کو پابند بنائیں گے کہ وہ مکمل ڈیوٹی ادا کریں۔اس موقع پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ اسپتالوں کے دورے کرتا رہوں گا کسی کو اعتراض ہے تو ہوتا رہے۔


ای پیپر