قائداعظمؒ اور 23مارچ!
24 مارچ 2018

نامور صحافی شریف فاروق(مرحوم) حضرت قائد اعظمؒ کے حوالے سے یوم پاکستان کی یادیں تازہ کرتے ہوئے اپنی کتاب ”برصغیر کا مردِ حریت“ میں فرماتے ہیں !
”عین اُس وقت جب قائداعظمؒ اسلامیہ کالج کے میدان میں مسلم لیگ کا سبز ہلالی پرچم فضا میں بلندکررہے تھے، مسجد مبارک کے ساتھ عبداللہ بٹ مرحوم کے مکان پر کانگریس کے لہراتے ہوئے ترنگے کو اُن کے بھائی ذکریا بٹ نے اس زور سے فولادی راڈ مارا فضا میں کانگریسی جھنڈے کے بانس کا ڈنڈا ایسے ٹوٹا جیسے تلوار گردن سے کٹتی ہے۔ ٹھیک اُسی وقت قائداعظم اپنے دست ِ مبارک سے فضا میں سبز ہلالی پرچم بلند کررہے تھے۔ ہزاروں پُرجوش طلبہ نے جب کانگریسی پرچم کو گرتے اور سبز ہلالی پرچم کو بلند ہوتے ہوئے دیکھا فضا فلک شگاف نعروں سے گونج اُٹھی ....میں نے قائداعظمؒ کی پہلی جھلک لاہور ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر 1پر دیکھی۔ قیام پاکستان سے پہلے اس ریلوے اسٹیشن کا شمار برصغیر کے نہایت خوبصورت پُر رونق اور پُرکشش ریلوے اسٹیشنوں میں ہوتا تھا۔ پلیٹ فارموں پر رش ہونے کے باوجود صفائی کا یہ عالم تھاکہ ایک تنکا بھی کہیں گرا ہوا دکھائی نہیں دیتا تھا۔ ہرطرف رنگ برنگی مخلوق چہل پہل کرتی دکھائی دیتی۔ اِس دوران مسلمان خواتین میں تو پردے کا بڑا اہتمام ہوتا تھا لیکن ہندو دیویوں اور مغربی لباس میں ملبوس انگریز خواتین کی چہل پہل اچھا خاصا رنگ وبو کا سماں باندھ دیتی۔ کلکتہ سے پشاور اور پشاور سے راس کماری تک کلکتہ میل اور فرنٹیئرمیل کی آمدورفت بڑی مسحورکن ہوتی تھی، پلیٹ فارموں پر ٹرینوں کی آمدورفت کے وقت عجیب نظارہ ہوتا تھا۔ باوردی قلی یا توٹرین کی آمد کا صف بستہ انتظار کررہے ہوتے تھے یا سامان اُٹھا کر مسافروں کو ڈبوں میں سوار کررہے ہوتے تھے، برطانوی حکمرانوں نے وائسرے ، گورنروں، فوجی افسروں اور برصغیر کے سیاسی لیڈروں واہم شخصیات کے لیے پلیٹ فارم نمبر 1مخصوص کررکھا تھا۔ میں نے یہیں پر قائداعظمؒ کی پہلی جھلک دیکھی، قائداعظمؒ کا لاہور اور تحریک پاکستان سے گہرا تعلق تھا۔ راقم کا گھر اسٹیشن کے قریب فیض باغ میں تھا۔ اِس لیے ہم بچوں کے لیے اسٹیشن ایک تفریح گاہ بھی ہوا کرتی تھی، یہ وہ دورتھا جب 23مارچ کو آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس منعقد ہوناطے پاچکا تھا، پورے برصغیر میں اس کی دھوم مچی ہوئی تھی۔ اِس دھوم مچانے میں ہندواخبارات کا کردار بڑا اہم تھا۔ ان اخبارات نے اِس اجلاس کو ایک ہوابنا کر پیش کررکھا تھا۔ پاکستان کے بارے میں طرح طرح کے شوشے چھوڑے جارہے تھے۔ اجلاس سے پہلے 19مارچ کو لاہور میں 313خاکسار جانبازوں کا خونی تصادم انگریز اور ہندوستانی پولیس افسروں اور جوانوں سے ہوگیا۔ بہادر خاکساروں نے اپنے بیلچوں سے بے شمار انگریز پولیس افسروں کو موت کے گھاٹ اتاردیا۔ اُن کی جوابی کارروائی سے بیسیوں خاکسار بھی شہید ہوگئے۔ شاہی مسجد کے عقب میں واقع ٹبی بازار خاکساروں کے خون سے لالہ زار بن گیا۔ لاہور کی فضا انتہائی کشیدہ ہوگئی۔ شاید ہی کوئی مسلم گھرانہ ایسا ہو جو ماتم کدہ نہ بن گیا ہو، کشیدگی انتہاپر تھی۔ ان حالات میں اکیس مارچ کو قائداعظم ؒ دہلی سے لاہور تشریف لائے، وہ پروگرام کے مطابق ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر 1پر اُترے۔ اُن کے استقبال کے لیے اخبارات میں خبریں شائع ہورہی تھیں۔ لاہور کی دیواروں پر پوسٹر ز چسپاں تھے۔ قائداعظم ؒ جونہی پلیٹ فارم سے باہر نکلے فضا قائداعظمؒ زندہ باد کے نعروں سے گونج اُٹھی۔ ہم نے قائداعظمؒ کے جلوس کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ وہ ایک کھلی کار میں سوار شلوار قمیض میں ملبوس تھے۔ اچکن بھی پہنی ہوئی تھی۔ سرپر کیپ ،ہونٹوں پر مسکراہٹ، پتلا دبلا جسم اور چہرے کے نقوش تیز تلوار کی طرح تھے۔ چاروں اطراف ہزاروں مسلمان قائداعظم ؒ زندہ آباد کے نعرے بلند کررہے تھے اور قائداعظم ہاتھ ہلا ہلا کر ان کے نعروں کے جواب دے رہے تھے۔ یہ منظر بہت ہی دلکش تھا۔ کیونکہ اس روح پرور منظر میں محبت، عقیدت اور خلوص ہی خلوص تھا۔ لوگ دیوانہ وار ریلوے سٹیشن پر اُمڈ پڑے تھے۔ لاہور کے بعض بزدل مسلم لیگی مشیروں نے قائداعظمؒکی آمد سے پہلے ہی اُن سے درخواستوں کا سلسلہ شروع کردیا کہ لاہور کی موجودہ فضا کے پیش نظر 23مارچ کے اجلاس کوملتوی کردیا جائے لیکن قائداعظمؒ صاحب عزم واستقلال ، بات کے پکے تھے۔ ایک بار جو فیصلہ کرلیتے اُسے واپس لینے کا کوئی تصور بھی اُن کے ہاں موجود نہیں تھا۔ اِس لیے انہوں نے ایسے تمام مشوروں کو ماننے سے انکار کردیا، لاہور پہنچتے ہی وہ زخمی خاکساروں کی عیادت کے لیے سیدھا ہسپتال پہنچے ۔ وہاں پہنچ کر ایک بیان جاری کیا جس میں خاکساروں پر فائرنگ کی مذمت کی۔ وزیراعلیٰ سرسکندر خود ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کیا مگر قائداعظمؒاِس واقعے پر بڑے غم وغصے میں تھے، ....23مارچ کی صبح منٹو پارک جسے بعد میں ”اقبال پارک“ کا نام دیا گیا برصغیر کے طول وعرض سے آئے ہوئے رضاکاروں اور وفود سے بھرا ہوا تھا۔ دورویہ قطاریں بن چکی تھیں۔ درمیان میں قائداعظم کے گزرنے کا راستہ بناہوا تھا۔ وہ بڑے پُروقار انداز میں گزررہے تھے۔ اُن کے ہونٹوں پر مسکراہٹ اور آنکھوں سے اطمینان اور اعتماد جھلک رہا تھا۔ لاہور سے قائداعظم ؒ کو ویسے بھی عشق تھا۔ یہاں کے جذباتی رہنماﺅں کی وارفتگی اور زندہ دلان لاہور کی عقیدت کا سمندر ٹھاٹھیں ماررہا تھا ۔ جاں نثارطلباءکے جلومیں مسلم لیگ کا سبز ہلالی پرچم لہرانے کے لیے قائداعظمؒسٹیج پر تشریف لائے ۔ جونہی قائداعظمؒنے رسی کھینچ کر سبز ہلالی پرچم کو ہلایا پوری فضا تالیوں اور نعروں سے گونچ اٹھی ۔ نوجوانوں کے حوصلے بلند تر ہوگئے۔ یہ ایسا منظر تھا جو یہ ولولہ تازہ کررہا تھا کہ پاکستان ناگزیر ہے اور مسلم لیگ کی کامیابی اور سرفرازی حکم ربی ہے۔ پرچم کشائی سے فارغ ہوکر قائداعظم مائیک پر تشریف لائے۔ وہ ابھی مائیک پر پہنچے ہی تھے کہ علامہ مشرقی مرحوم تین چار خاکساروں کے ساتھ سٹیج کی طرف لپکے اور قائداعظم ؒسے مطالبہ شروع کردیا پہلے اُنہیں تقریر کرنے دی جائے۔ ساری دنیا حیران رہ گئی کہ یہ کیا ماجرہ ہے؟ قائداعظمؒ نے بڑی متانت سے فرمایا ”آپ جلسہ کے منتظمین سے اجازت لے کر تقریر کرلیں مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا“۔ مگر علامہ صاحب کہاں ماننے والے تھے۔ وہ اُلجھنے لگے جس سے فضا مکدرہوگئی اور نوجوانوں میں اشتعال پھیلنے لگا۔ انہوں نے اس مداخلت بے جا پر علامہ صاحب کو گھیرے میں لے لیا اور اُن پر گھونسوں اور لاتوں کی بارش کرتے ہوئے اسلامیہ کالج کے حبیبیہ ہال کی جانب لے گئے۔ طلباءنے اس موقع پر بڑے ہوش کا ثبوت دیا ورنہ اس روز علامہ صاحب کا زندہ بچ کر جانا ناممکن تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مسلمانوں پر پاکستان کے لیے دیوانگی کا عالم طاری تھا۔ وہ جلسوں اور جلوسوں میں ایک ہی نعرہ بڑے زوروشور سے بلند کرتے تھے ”پاکستان کا مطلب کیا ، لاالہ الااللہ اِس کے علاوہ وہ یہ ترانہ بھی ترنگ میں کہتے“ ملت کا پاسبان ہے محمدعلی جناح.... انتہائی خوبصورت مناظر دیکھنے کو ملتے۔ مسلمانوں کے بچے اور بچیاں درختوں کی شاخوں پر جھوم رہے ہوتے ایک ٹولی پہ نعرہ بلند کررہی ہوتی پاکستان کا مطلب کیا ۔ دوسری ٹولی بولتی لاالہ الااللہ ۔ پھر ایک ٹولی کہتی قائداعظم ؒ ۔ اور دوسری ٹولی بڑے جوش جذبے سے زندہ باد کہتی!


ای پیپر