نازک نہیں پیچیدہ
24 مارچ 2018 2018-03-24

اب یہ کہنا بھی تکلیف دہ لگتا ہے کہ ملک ایک نازک دور سے گزر رہا ہے کیونکہ پچھلی 4 دہائیوں سے ہر دور میں یہی نازک دور سن رہے ہیں۔ مگر یہ نازک ہو کر بھی بہت مظبوط لگتا ہے۔ اللہ کرے مظبوط ہی رہے۔ چنانچہ اصطلاح کو تھوڑا تبدیل کردیتے ہیں یوں کہنا بہتر ہوگا کہ ملک پیچیدہ صورتحال سے گزر رہا ہے کیونکہ جہاں سوچ پہنچ نہیں پاتی اس عمل کو ہم باآسانی پیچیدہ کہ دیتے ہیں۔ حالانکہ صورتحال کبھی بھی اتنی پیچیدہ نہیں ہوتی صرف مل بیٹھنے کی ضرورت ہے۔
انتظامی اعتبار سے دیکھا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ امور مملکت ساکت ہو کر رہ گئے ہیں۔ مثال کے طور پر اعلیٰ عدلیہ میں مختلف کیسز جن کے متوقع فیصلے کے لیے گنتی بھی الٹا چلنا شروع ہوگئی ہے، سینیٹ میں ہونے والی 'تقاریر' ہیں کہ گھر کا ادب تو دور کی بات شرم حیا بھی جاتی نظرآرہی ہے۔ گھوڑے بیچنے اور اصطبل خریدنے کے الزامات تو ہیں مگر الیکشن کمیشن کے سامنے ثبوت دینے کو کوئی تیار نہیں۔ بیرونی خطرات میں تو صرف ازلی دشمن بھارت کی بات کریں تو لائن آف کنٹرول پر اس کی جانب سے مسلسل خلاف ورزیاں ہورہی ہیں، جانی نقصان بھی رپورٹ ہورہا ہے اور ہم دشمن کی توپیں خاموش کرانے کے 'دعوے' بھی کررہے ہیں یا وزارتِ خارجہ ایک بھارتی سفیر کو بلا کر روز ایک لو لیٹر معاف کیجیے گا احتجاجی مراسلہ ضرور تھمادیتی ہے۔
بھارتی سفیر بھی لگتا ہے بہت حقیر ہے مفت کے سینڈوچ اور پٹیزکھانے ہی وزارتِ خارجہ کی بلڈنگ میں آجاتا ہے اور ہمارے سفارتخانے کا عملہ ماشائ اللہ سے دس دنوں میں آٹھ بار دلی کی سڑکوں پر فوٹو شوٹ بنانے میں مصروف ہے اور ہم ہیں کہ یہاں بھی صرف احتجاج کررہے ہیں ان الفاظ کے ساتھ کہ مودی سرکار اپنی اوچھی حرکتوں سے باز نہیں آرہی۔ وہ کیوں باز آئیں گے جناب کیوں کہ ہم وائے اور ت±ف کی آوازیں بلند کررہے ہیں۔ اور وہاں بھارت ہے جس کے امریکہ کے ساتھ تعلقات اسٹریٹیجک اتحاد کی صورت اختیار کرچکے ہیں اور ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ میں بھی وہ اپنا اثرو رسوخ بڑھا رہا ہے۔سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ ہمارے ہمسائے کے تعلقات بہت گہرے ہوچکے ہیں۔ سعودی عرب نے تو بھارت کو اپنی فضائی حدود سے اسرائیل جانے کی اجازت بھی دے دی ہے اور ہم ہیں کہ امام کعبہ کی میزبانی کرکے ہی خوش نظرآرہے ہیں۔ ایک جانب پاک ایران بھائی خوب خوب کے نعروں کے بعد ایران کے ساتھ بھارت کے تعلقات غیر معمولی طور پر حد سے آگے بڑھ چکے ہیں۔ چاہ بہاربندرگاہ کا آپریشنل کنٹرول بھارت کے پاس آچکا ہے۔ یوں کہیے کہ بھارت کے لیے افغانستان اور وسطی ایشیا تک تجارت کا روٹ میسر ہے۔ یہ وہ خاکہ ہے جو پاکستان کے اردگرد کھینچا جارہا ہے لیکن ہمارے پالیسی ساز اس طرف توجہ دینے سے غافل کیوں نظر آرہے ہیں۔ صرف چین ہی ہماری خارجہ اوراقتصادی پالیسی کا مرکز کیوں ہے؟۔ امریکا کے اتحادی بھی ہم نہیں رہے اورکوئی ہمسایہ حقِ ہمسائیگی کے لیے تیار بھی نہیں ہے۔
سیاست امکانات کی سائنس بھی ہے۔ سنا تھا کہ دنیا کا ہر بڑا معرکہ یافیصلہ بالاآخر گفتگو کی میز پر ہی حل ہوتا ہے۔ وقت تقاضا کررہا ہے کہ اس'پیچیدہ ' صورتحال پر صفیں درست کرلیں۔ مطلب ہے کہ سیاستدان، عدلیہ اورسیکورٹی ادارے ایک جگہ پر بیٹھیں اور LARGER THAN LIFE پالیسی بنا کرقوم کے صبر اور تذبذب کو منطقی انجام تک پہنچا دیں اور فیصلہ کرکے اٹھیںکہ ملک کو کس پیرائے پر لے کر چلنا ہے۔
گرینڈ جرگے کا انعقاد کریں کیوں کہ گھر کے باہر کی فکر تو ہم تب کریں گے جب گھر میں مکمل اتفاق اور ہم آہنگی ہو۔ اختیارات کی جنگ میں رکھا کچھ نہیں ہے۔ ہمیں 'بدقسمت جمہوریت' تقسیم در تقسیم کررہی ہے۔ اخلاقیات میںبھی افکار میں بھی کردار میں بھی۔
یقین جانیں ہم اپنے ہاتھ سے ہی اپنے ملک کو الزامات، دھمکی آمیز بیانات،بلند آہنگ نعرے بازی، بد زبانی، بڑھکیں اور پگڑیاں اچھالنے سے پیچھے لے کر جارہے ہیں۔ ویسے بھی پانچ ماہ رہ گئے عام انتخابات کے انعقاد میں۔سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کی بجائے قومی ترقی اور خوشحالی کے لیے قابل عمل منشور کی تشکیل دیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ جوتے، انڈے اورسیاہی سے دنیا بھر میں ہماری رسوائی ہی ہوگی، اور تو اور 5 سال بعد تمام دینی جماعتیں متحدہ مجلس عمل کی شکل میں ایک پلیٹ فارم پر دوبارہ سے اکٹھی ہوگئی ہیں۔ اس دعوے کے ساتھ کے 2018 کے الیکشن کے بعد حکومت متحدہ مجلس عمل ہی بنائے گی۔ پھر ہونا تو یہ چاہیے وہ سیاسی جماعتیں جن کے درمیان مذہبی عقائد کے حوالے سے کوئی ٹکراو¿ نہیں عوام کو اعتماد میں لیتے ہوئے سَر جوڑ کر بیٹھیں۔
ووٹ کو عزت دو کا نعرہ دنیا میں ہمارا بنانا ری پبلک کا امیج دے رہا ہے--- یعنی دنیا کو باور کرایا جارہا ہے کہ ہمارے ملک میں جمہوریت تو ہے لیکن ووٹ کی عزت نہیں ہے،،،خدارا اپنے الفاظ کے چناو¿ پر دھیان دیں۔عدالتی احتساب چل رہا ہے سو چلتا رہے گا۔ کیا حرج ہے، صلح ج±و سیاستدان آگے بڑھیں اور سیاسی ماحول کی کشیدگی کو کم کریں۔ نواز شریف کو شہبازشریف اور چودھری نثار کے مشوروں کی ضرورت ہے۔ اسی طرح زرداری صاحب رضاربانی، قمر زمان کائرہ کو تھوڑا سن لیں۔ خان صاحب شاہ محمود قریشی، شفقت محمود اور دیگر منجھے ہوئے سیاستدان کے ماتھے کی لکیریں پہچان لیں توہمارے ملک پر تھوڑا رحم ہوجائے گا۔ تیسری طاقت، پرسرار ہاتھ، کندھوں والے اور نہ جانے کیا کیا۔ یہ تمام اصطلاحات آپ جمہوری سیاستدانوں کی کمزوریوںکی وجہ سے ہی سامنے آئی ہیں۔ عوام کو 70 سال کے حساب کتاب میں نہ الجھائیں بس ہم پر رحم فرمائیں۔ اسٹیبلشمنٹ اپنے آپ کو تمام الزامات سے صاف کرچکی، ججز کا ماننا ہے کہ ان کا کوئی سیایسی ایجنڈا نہیں تو پھر ہم سب مل کر بیٹھتے کیوں نہیں اور مسائل کے جامع حل تک نہ اٹھنے کا اعلان کیوں نہیں کرتے۔
ہم خریدے اس لیے جاتے ہیں کہ کیوں کہ ہم بکنے کے لیے تیار ہیں۔ لڑایاجارہا ہے کیوں کہ ہم لڑنے کے لیے تیار رہیں۔ تو طے یہ ہوا ملک نازک صورتحال سے نہیں پیچیدہ صورتحال سے گزر رہا ہے اور سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے۔


ای پیپر