انتخابی نشان ٹرک کی بتی ۔۔۔
24 جون 2020 (22:23) 2020-06-24

اسلام آباد:قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ2020-21پر عام بحث مسلسل8ویں روز جاری رہی۔اپوزیشن ارکان نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہپی ٹی آئی اپنا انتخابی نشان بلے کی بجائے ٹرک کی بتی رکھ لے ،بجٹ میں مزدور، کسان، استاد،ہیلتھ ورکرز کیلئے کچھ نہیں رکھا گیا ،حکومت نعرے بازی، مذاق، انا پرستی کے علاوہ کچھ نہیں کر رہی،حکومت کی ناکام پالیسوں کے ذمے دار لانے والے اور بیٹھنے والے عمران خان ہیں ،دو ججز کے خلاف ریفرنس بھیجنے کے حوالے سے کمیشن بننا چاہیے،موجودہ حکومت کے جانے کا وقت آگیا ،بجٹ غیر حقیقی ہے،آئی ایم ایف کے پلے بک کے مطابق بجٹ دیا گیا،وزراء خود ہی حکومت کی کارکردگی کا پول کھول رہے ہیں، ٹی وی پر آکر حکومتی پول کھولنے والے وزرا کو داد دیتے ہیں۔

بدھ کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا ،جس میں بجٹ پر عام بحث جاری رہی ۔بجٹ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے مسلم لیگ(ن)کے مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ ایوان میں کسی کی تضحیک نہیں ہونی چاہیے ،ایوان کے تقدس کے لیے سپیکر کا بھرپور ساتھ دیں گے ،میری تحریک استحقاق آپکے پاس موجود ہے ،عمر ایوب نے میرے استحقاق کو مجروح کیا ،اْنکی ویڈیو بھی منگوا لیں ،جس پر سپیکر نے کہا کہ میرے پاس دو ویڈیو آئی ہیں ایک حکومت اور ایک اپوزیشن کی ہے ،میں ہر حال میں ایکشن لوں گا ،فاٹا کا آئینی طور پر انضمام میری پارٹی اور نوازش شریف نے کی تھی ،فاٹا کے لوگوں نے امن کے لیے خون کا نذرانہ دیا ،فاٹا کے لیے جو فنڈز رکھے وہ استعمال نہیں کیے گئے ،فاٹا کے انضمام کے بعد تکمیل پاکستان ہوچکا ،سات سال گزر گئے لیکن بحالی کا کام مکمل نہیں ہوسکا ،اس مرتبہ بجٹ کی تقریر پر وزیر موصوف کے چہرے پر مایوسی نظر آئی،مہنگائی کے تناسب سے سرکاری ملازمین کی تنخواؤں میں30 فیصد اضافہ بنتا ہے ،بجٹ کے بعد حکومت کی اپنی اور اتحادی صفوں میں تشویش ہے ،حکومت کی ناکام پالیسوں کے ذمے دار لانے والے اور بیٹھنے والے عمران خان ہیں ،بجٹ کی بحث سمیٹنے سے قبل اسد عمر کی تقریر کو دوہرایا جائے ،ہم کشمیر کا مقدمہ ہار چکے ہیں ،میرے حلقے میں صرف بائیس لوگوں کو احساس پروگرام کے تحت امداد ملی ،اس پروگرام کے حوالے سے بیسیوں تجاویز دی ہیں ،احساس پروگرام کے اعداد و شمار کے حوالے سے کمیشن بنایا جائے .

مدینہ کی ریاست کا دعویٰ کرنے والوں کے قول و فعل میں تضاد نہیں ہونا چاہیے ،مدینہ کی ریاست میں سود کے بغیر بجٹ پیش کیا جانا تھا ،مدینہ ریاست میں انتقام نہیں ہوتا ،مسلم لیگ ن کی قیادت کو سیاست نہیں کرنے دی جارہی ،ریاست کی طاقت سے روکا جا رہا ہے،دو ججز کے خلاف ریفرنس بھیجنے کے حوالے سے کمیشن بننا چاہیے ،اس بحران سے نواز شریف نکال سکتا ہے۔بابر اعوان نے کہا کہ احساس پروگرام پاکستان کا شفاف ترین پروگرام ہے ،اس حوالے سے ثانیہ نشتر کسی بھی کمیٹی میں بریفنگ دے سکتی ہیں ،سی پیک کے معاملے پر مودی کو اعتراض ہوسکتا ہے لیکن پاکستان کی کسی اسمبلی کو اعتراض نہیں کرسکتی ،ہم سارے کاروبار کھولنا چاہتے ہیں ،مری ،گلیات میں سیاحت کھولنے کو تیار ہیں ایس او پی پر بات کی جا سکتی ہے،نواز شریف پاکستان واپس آکر سیاست کرنا چاہتے ہیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ،نواز شریف اور اْنکے بچوں کی ٹکٹ ہم بک کروا کر دینے کو تیار ہیں۔

تحریک انصاف کی ساجدہ بیگم نے کہا کہ 2013 میں سب سے زیادہ خیبر پختونخواہ اسمبلی نے قانون سازی کی ,خیبر پختونخواہ کیساتھ ہمیشہ زیادتی ہوئی ,ہم نے ایسا انفراسٹکچر بنایا جس سے عوام کو ریلیف ملا۔پیپلز پارٹی کے محمد بخش خان مہرنے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار سنبھالنے سے قبل عوام سے بڑے بڑے وعدے کیے،ٹیکس ریونیو میں اضافہ اور بیرون ملک سے 200 ارب ڈالر واپس لانے کے وعدوں کو آج تک پورا نہیں کیا گیا،موجودہ حکومت نے اپنے دور میں اداروں میں کیا گورننس لے کر آئی ہے،ان سے ریلوے، اسٹیل ملز اور دیگر ادارے ان سے نہیں چل رہے،ان لوگوں نے صوبوں میں مساوی حکومت بنا رکھی ہے،وفاق کی جانب سے صوبوں کے کام میں مداخلت آئین کی خلاف ورزی ہے، صوبہ سندھ پاکستان کا خالق ہے مگر اس کے حقوق اسے نہیں دئیے جارہے،دنیا میں پیٹرول سستا ہو رہا مگر یہاں سستا کیا ہوا لوگوں کو دستیاب تک نہیں ہے،موجودہ حکومت کے جانے کا وقت آگیا ہے۔

تحریک انصاف کے ریاض فتیانہ نے کہا کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگا ،حکومت نے مشکل حالات میں اچھا بجٹ پیش کیا ہے،کورونا کی وجہ سے میڈیکل سے متعلقہ سامان کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ،ٹڈی دل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسکو کھانے سے کورونا ختم ہوسکتا ہے ،حکومت ٹڈی دل کے حوالیسے سے تحقیق کروا لے اگر یہ حقیقت ہے تو قوم ٹڈی دل کا خود ہی تیا پانچا کردے گی ۔جیمز اقبال نے کہا کہ پاکستان میں ہر پیدا ہونیوال بچہ ٹیکس ادا کرتا ہے ،افسوس ایلیٹ کی حکومت نے ایلیٹ کو نوازا،حکومت کی جانب سے عوام کے لیے مثبت قدم اْٹھتا نظر نہیں آتا۔ایم کیو ایم کی کشور زہرا نے کہا کہ کورونا کے سبب پوری دنیا میں تباہی پھیل رہی ہے،چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی جیسے شریف انسان کو گبھر کہہ کر مخاطب کرتے ہیں ،ایسی کارروائی کو حذف کرنا چاہیے ،مخاصمت کے ماحول کو ختم کرکے مفاہمت کے ماحول کو تقویت دینا ہوگی،موجودہ صورتحال میں ہمیں کچلنے کی بجائے کالعدم تنظیموں بارے سوچیں ،ہمارے بارے میں بھی بہت کچھ کہا جا رہا ہے،کسی ایک فرد کی وجہ سے پوری قوم کو ذمہ دار نہیں سمجھنا چاہیے ،اگر کوئی فرد یا گروہ ملک کی سلامتی کے خلاف اقدام کرے گا تو ہم سب سے آگے کھڑے ہوکر سزا دلوائیں گے،حکومت کو اپنے اہداف پورے کرنے کے لیے اپوزیشن کو سننا پڑے گا ،آج ہمیں ستر سال بعد بھی تسلیم نہیں کیا جا رہا ،ہم غدار ہوتے تو بھاگ چکے ہوتے ،ہم کہتے ہیں تحقیق کیجیے اگر کوئی خلاف ملک کام کرتا ہے تو سزا کے لیے ہم سب سے آگے ہونگے۔مسلم لیگ (ن) کے محمد عمران شاہ نے کہا کہ اشرف جلالی کی جانب سے خاتون جنت کے خلاف توہین پر انکے خلاف کاروائی ہونی چاہیے ،اس معاملے پر علی محمد خان اور نور الحق قادری صاحب سامنے آئیں اس معاملے پر ایکشن لیں ،میری ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے کہ سپیکر صاحب اس پر ایکشن لیں۔چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی نے کہا کہ اللہ کہتا ہے جب میری مخلوق کو تنگ کروگے تو میں تمہیں انجانے خوف میں مبتلا کردوں گا،کورونا وائرس نظر نہیں آتا مگر اس نے دنیا کو خوف میں مبتلا کردیا ہے،دنیا پر ایسی آزمائش ہے جس کے بارے میں کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا،شدید معاشی مسائل کے باوجود حکومت نے کوئی ٹیکس نہیں لگایا، احساس پروگرام کے ماڈل کے تحت یو این ایچ سی آر پاکستان میں ایک لاکھ بیس ہزار مہاجرین کی کفالت کی،تین جوہری طاقتیں اس خطے میں موجود ہیں،آج پوری دنیا میں پاکستان کشمیر کے معاملے پر دنیا کو آگاھی دے رہا ہے،پاکستان نہ ایٹمی طاقت اور نہ کشمیر پر سودے بازی کرسکتا ہے،بھارت نے اسی لاکھ ابادی کو کشمیر میں جکڑا ہوا ہے،لداخ میں ہندوستان کو منہ کی کھانی پڑی ہے۔پیپلز پارٹی کی مہرین رزاق بھٹو نے کہا کہ وفاق کو صوبوں کے ساتھ مل کر چلنا چاہیے،ایک وزیر نے کو انکشاف کیا اس سے تو حکومت کے پیروں سے زمین نکل جانی چاہیے،ہمیں معلوم ہے کہ وفاق سندھ سے کیوں ہسپتال واپس لینا چاہتا ہے،سی پیک کی بنیاد آصف زرداری نے رکھی ،کاش کشمیر کا مقدمہ جیسے ایوان میں پیش کیا گیا ویسے بین الااقوامی سطح ہر بھی پیش کیا جائے،ن لیگ کے پانچ سالہ دور میں دس ہزار ارب کے قرضے کا اضافہ ہوا ،19 مہینوں میں گیارہ ہزار ارب کا اضافہ ہوا ,ملک کا آدھا حصہ غربت کی لکیر سے نیچے جا چکا ,غربت سے نکلنے کے لیے مربوط معاشی پالیسی بنانا ہو گی ،اور مربوط معاشی پلان اْس وقت بن سکے گا جب چاروں اکائیوں کی بات ہوگی۔پی ٹی آئی کے کیپٹن (ر) جمیل احمد نے کہا کہ سندھ میں56 ہزار گھوسٹ ٹیچرز ہیں ،تنخوائیں بڑھائی ہیں تو بتائیں وہ تنخوائیں کہا جاتی ہیں ،امراض قلب کے سربراہ کی تنخواہ ساٹھ لاکھ جو کہ ایک رکن اسمبلی کے بھائی ہیں ،ہمارے لیڈر قوم کو تاریخ دیکھانے کے لیے ارطغرل ڈرامے دیکھنے کی تلقین کرتا ہے،لیکن انکا لیڈر تو سینما میں کارٹون دیکھنے جاتا ہے،ہمارا چیئرمین اپنی تاریخ دیکھنے کی بات کرے تو مذاق اڑایا جاتا ہے ۔پیپلزپارٹی کی نفیسہ شاہ نے کہا کہ پلوامہ کے موقع پر اپوزیشن نے عمران خان کہا کہ آپ جنگ ڈکلیئر کریں،لیکن وزیر اعظم نے کہا کہ میں کیا کروں،ٹڈی دل کا حملہ ایک سال پہلے ہوا، ایک پچاس سال پرانا جہاز بھیج دیا،پاکستان میں یہ طے نہیں ہوسکا کہ لاک ڈاؤن کرنا چاہیے یا سمارٹ لاک ڈاؤن،عطاء الرحمن کہہ رہے ہیں کہ شرح اموات بہت زیادہ ہیں،اس وقت سندھ کے ہر گھر سے کورونا مریض نکل رہے ہیں،پلازمہ پر لوگوں نے ٹھیکیداری شروع کردی ہے،پیش کیا گیا بجٹ غیر حقیقی ہے،ائی ایم ایف کے پلے بک کے مطابق بجٹ دیا گیا،کورونا جنگ کی طرح ہے اور جنگ کے اصول اختیار کرنے ہونگے،جنگ کا میدان حکومت نے کورونا کے بجائے اپوزیشن کو بنایا ہے،حکومت نے پارلیمنٹ کو اس وقت لاک ڈاؤن کیا جب قوم کو اس کی ضرورت تھی،وزیراعظم لاڑکانہ گئے اور ہرن کے روسٹ کھائے،وزیراعظم ہسپتالوں میں نہیں جاتے جہاں جنگ لڑی جارہی ہے،امریکہ میں روزانہ شام کو چھ بجے ڈاکٹرز اور طبے عملے کے لیئے عوام تالیاں بجاتے ہیں،جو لوگ کورونا سے متاثر ہیں یا ان سے لڑ رہے ہیں ان کو ٹی وی پر لائیں،ایک وزیر ٹی وی پر بیٹھ کر کہتی ہیں کہ کورونا کے انیس پوائنٹس ہیں،اسد عمر کہتے ہیں کہ کورونا کے بارے گوروں کی بات نہیں سنیں گے،خورشید شاہ کو بابائے پارلیمنٹ ڈکلیئر کیا جائے،یہ توقع نہ کریں کہ دنیا کا کوئی ملک آپ کو اس بحران سے نکال سکے گا،اس ملک کو بچانا ہے تو ریاست کو عوام کے ساتھ تعلق بنانا ہوگا ۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے رکن اسرار ترین نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی حکومت کے ساتھ تھی اور رہے گی ،جہاں حکومت ٹھیک کرے گی حمائت کریں گے ،جہاں حکومت غلطی کرے گی نشاندہی کریں گے۔بلوچستان کے حوالے سے ہماری سفارشات بجٹ میں شامل نہیں کی گئیں۔پیپلز پارٹی کے سید مرتضی محمود نے کہا کہ عوام کو امید تھی پی ٹی آئی حکومت وہ سب کرے گی جو ن لیگ اور پی پی پی نہیں کرسکی لیکن سخت مایوسی ہوئی،ملک مشکل ترین دور سے گزر رھا ہے، ایک طرف کورونا اور دوسری طرف ٹڈی دل کا سامنا ہے،حکومتی پالیسی بری طرح ناکام ہوئی ہے، ٹڈی دل سے پاکستان کو چھ سو ارب روپے کا نقصان ہوگا،ملک کی صنعتوں پر کارٹیل اور مافیاز کا قبضہ ہے،انڈسٹری کو نیب کے حوالے کرنے سے اس کو بچایا نہیں جاسکے گا،ملک میں احتساب صرف سیاسی انتقام کے لئے استعمال ہورھا ہے،ایک صوبہ محاذ بناکر وعدہ کیا گیا نوے روز میں جنوبی پنجاب صوبہ بن جائے گا، آج تک نہیں بن سکا، حکومت میں بیٹھے صوبہ محاذ کے قائدین وعدے سے بھاگ گئے، قوم معاف نہیں کرے گی۔مسلم لیگ(ن)کی مہناز اکبر عزیز نے کہا کہ طلبا کو انٹرنیٹ پیکجز نہیں دئے گئے لیکن آن لائن تعلیم کی بات کی گئی،اسلام آباد میں کورونا کے گیارہ ہزار مریض ہیں جن میں سے اڑھائی ہزار کی عمر ایک سے سولہ سال ہے،ملک میں کورونا سے پہلے بے روزگاری پچاس لاکھ تھی سال رواں کے آخر میں ایک کروڑ بیس لاکھ ہوجائے گی،لوکل باڈیز کو بحال کریں اور ٹائیگر فورس کے نام سے متوازی فورس ختم کریں،حکومت نعرے بازی، مذاق، انا پرستی کے علاوہ کچھ نہیں کر رہی۔تحریک انصاف کے رانا قاسم نون نے کہا کہ کورونا، فلڈز اور ٹڈی دل جیسے مسائل کا ملک کو سامنا ہے،اگر زراعت کا شعبہ بیٹھ گیا تو ملک ترقی نہیں کرسکے گا،بدقسمتی سے کالاشاہ کاکو سے لے کر فیصل آباد تک ریسرچ کی عمارتیں تو بنادیں لیکن ریسرچ کے لئے پیسہ نہیں رکھا،پاکستان میں زرعی چیمبرز آف کامرس کی ضرورت ہے،کاشتکاروں کو آسان شرائط پر قرضے فراھم کئے جائیں،سپیکر کی طرف سے بنائی گئی زرعی کمیٹی کی سفارشات بجٹ میں شامل نہیں کی گئیں،ملک میں کاٹن کی امدادی قیمت شامل نہیں کی گئی۔پیپلز پارٹی کے رکن سکندرعلی رہوپوٹو نے کہا کہ میرے حلقے سہون میں چھ آئیل اینڈ گیس کمپنیاں ہیں لیکن مقامی لوگوں کو ملازمتیں نہیں دی جارہیں۔مسلم لیگ(ن)کی طاہرہ اورنگزیب نے کہا کہ موجودہ حکومت نے نہ مزدور، نہ کسان، نہ استاد کسی کے لئے کچھ نہیں رکھا،وزراء خود ہی حکومت کی کارکردگی کا پول کھول رہے ہیں، ٹی وی پر آکر حکومتی پول کھولنے والے وزرا کو داد دیتے ہیں،کہاں گئیں ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر،؟ ان کے لئے عرض ہے، بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا، جو چیرا تو ایک قطرہ خون نکلا،پی ٹی آئی اپنا انتخابی نشان بلے کی بجائے ٹرک کی بتی رکھ لے،پوری قوم کو ‘‘ نہر والے پل تے بلاکے ناجانے خان کتھے رہ گیا۔تحریک انصاف کی نزھت پٹھان نے کہا کہ کورونا کی وبا سے صحتیاب ہوکر آئی ہوں،بہت تکلیف دہ بیماری ہے کورونا اس سے بچنا ہوگا،موت کو قریب سے دیکھ کر آئی ہوں،ملک میں کورونا کی ادویات، انجیکشن اور ماسک بہت مہنگے مل رہے ہیں،ھم نہ تبدیل ہوئے ہیں نہ ہونا چاہتیہیں،ھم ایک دوسرے کی کردارکشی اور گالیاں دینے کے علاوہ کچھ نہیں کرتے،ان حالات میں عمران خان نے بہت کچھ کیا ہے۔جے یو آئی کے زاہد اکرم درانی نے کہا کہ یہ بجٹ نہ کسانوں کیلئے نہ صنعتکاروں کیلئے،چھوٹے کاروبار کرنے والوں کے لئے پیکیج کا اعلان کیا جائے ،دیہاڑی داروں اور بیرون ملک پاکستانیوں کے لئے پیکیج دیا جائے ،ضلع بنوں کے عوام کا جعلی مینڈیٹ عمران خان کو دیا گیا ،ضمنی الیکشن نے ثابت کیا مجھے 33ہزار ووٹ زیادہ ملے ،بنوں ایئرپورٹ پر کام روک دیا گیا ہے۔تحریک انصاف کے عبدالشکور شاد نے کہا کہ سندھ کے ٹڈی دلوں نے ملک برباد کردیا ،ان لوگوں کے بیرون ملک بڑے محلات ہیں ،ہماری حکومت ہے مگر لیاری میں خطرناک لوڈشیڈنگ ہورہی ہے ،لیاری سے بجلی چوری کی لائینیں گزرتی ہیں ،اگر بجلی چوری نہیں روک سکتے اور لوڈشیڈنگ ختم نہیں کرسکتے عمر ایوب خان استعفی دیں ،جس دن کراچی تحریک انصاف کے چودہ ایم این ایز اکٹھے ہوگئے کراچی بند کردیں گے ،عوام کی طاقت سڑکوں پر آئی تو کوئی روک نہیں سکے گا ،لیاری قتل و غارت کا شکار رہا ،کے الیکٹرک عام لوگوں کے بلز معاف کریں،نیب کو کمزور نہیں طاقتور کرو ۔مسلم لیگ (ن) کے ندیم عباس نے کہا کہ ہمارے بجلی کے کئی نامکمل منصوبے موجودہ حکومت نے وقت پر مکمل نہیں کئے،نواز شریف کے شروع کئے گئے منصوبے اس لئے مکمل نہیں کیونکہ نواز شریف کے نام کی تختی لگی ہے،نوازشریف نے ملکی ترقی کے لئے عملی اقدامات کئے،اس تزئین گلستاں میں مسلم لیگ ن کا خون بھی شامل ہے،ھم نے ملک میں ہسپتال بنائے، کئی میڈیکل انسٹیٹیوٹ بنائے،جے ایف سترہ تھنڈر نواز شریف کا منصوبہ تھا،زراعت کو کلی طور پر نظرانداز کردیا گیا ہے، کاشتکار کے لئے کچھ بھی نہیں رکھا گیا۔مسلم لیگ(ن)کے احمد رضا مانیکا نے کہا کہ ریاست مدینہ کے خدوخال دیکھیں تو عوام کے جان و مال کا تحفظ، ان کے حقوق کا تحفظ، انصاف کی فراھمی بہت اھم ہے،ملک کا کوئی محکمہ کرپشن سے پاک نہیں، نہ کہیں انصاف ہے،جن خفیہ ہاتھوں نے پی ٹی آئی کو اقتدار دلایا سب کو معلوم ہے،جہاں اپوزیشن کے اراکین جیتے ہیں وہاں غیرمنتخب افراد کے ذریعہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایات دی جاتی ہیں،ملک میں جی ڈی پی منفی میں چلی گئی ہے، حکومت نے 17سو ارب کے نجی قرضے لئے،ملک میں مہنگائی کا طوفان ہے، حکومت کا قیمتوں پر کوئی کنٹرول نہیں،کورونا سے جو لوگ بڑی تعداد میں بیروزگار ہوئے، ان کے لئے اقدامات کئے جائیں،ٹڈی دل بہت بڑا مسئلہ ہے جس کاہمیں سامنا ہے،ملک میں معاشی سرگرمیاں بالکل نہیں ہیں۔وفاقی بجٹ2020-21پر (آج)جمعرات کو عام بحث مکمل کرلی جائیگی ،مشیر خزانہ حفیظ شیخ بجٹ پر عام بحث سمیٹیں گے جبکہ بجٹ کی منظوری کے دوران ہفتہ اور اتوار کو بھی اجلاس جاری رہے گا اور اتوار کو بجٹ کی حتمی منظوری لی جائے گا۔


ای پیپر