میں کس کے ہاتھ پر تلاش کروں اپنے لخت جگر کا لہو ؟
24 جون 2020 (18:08) 2020-06-24

لاہور میں بڑھتے ہوئے قتل و غارت گری اور سنگین جرائم کے واقعات انتہائی تشویشناک ، حکومت و قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے لمحہ فکریہ اور اسکی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں ، وارداتوں سے عام شہریوں کے اندر خوف ہراس اور عدم تحفظ کا احساس بھی پیدا ہو رہا ہے ۔ لاہور میں رواں سال کے 5 ماہ میں 148 لوگوں کو جھوٹی انا اور بے مقصد کی ضد کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ، جرائم کو بڑھانے میں پولیس کے شعبے کا بھی کردار لاثانی ہے ، پاکستان میں محکمہ پولیس کی ساکھ ختم ہو چکی ہے کیونکہ جہاں انصاف کا بول بالا نہ ہو جب طاقتور کمزور پر حاوی ہو ۔

جس معاشرے میں محافظ مظلوم کو انصاف دلانے کی بجائے ظالم سے ’’ مال ‘‘ لیکر ظالم کا ساتھ دیں ، جہاں مظلوم محافظ سے خوف کھاتا ہو تو وہاں بدلے کی آگ بھڑکے گی اور خاندانوں کے خاندان قبر کے لحد میں اتر جاتے ہیں ۔

اس بدتر صورتحال کی جہاں حکومت ذمہ دار ہے وہاں والدین بھی اس کے ذمہ دار ہیں جو بچے تو پیدا کر لیتے ہیں لیکن ان کی تربیت نہیں کرتے اور ایسے لوگوں کی اولاد چوری ، ڈکیتی ، منشیات کے استعمال اور بے راہ روی کی طرف چل پڑتی ہے جو پر امن معاشرے کیلئے کسی عذاب سے کم نہیں ہوتے اور قانون کے محافظ ہی ایسے لوگوں کے سرپرست بن جاتے ہیں جس کے باعث آئے روز ظلم کی ایک نئی داستان رقم ہوتی ہے۔

رواں سال کے 5 ماہ کے دوران قتل ہونے والے 148افراد کے لواحقین کو ہمارے شیر جوان پولیس افسروں نے کسی کو انصاف دلایا اور کسی کو آگ کے انگاروں کی مانند مزید اذیت سے دوچار کیا ، ایسا ہی کچھ حال لاہور میں واقعہ تھانہ ساندہ کا ہے ۔

6 اپریل 2020 بروز ہفتہ کی صبح تھانہ ساندہ کلاں کے علاقے میں واقعہ محلہ بینک کالونی میں زندگی کی چہل پہل جاری تھی کہ آنے والی گھڑی سے بے خبر مقتول شہزاد حسین کی والدہ ، بھائی ، بہن ، بچے اور بیوی گھر کے صحن میں ہنسی خوشی بیٹھے تھے کہ اچانک ہمسائے سنی بٹ اور فیضی بٹ نے اپنے ساتھیوں مراد علی شاہ اور نثار وغیرہ کے ہمراہ اپنے گھر کی چھت سے شہزاد حسین کے گھر پر اینٹوں سے حملہ کر دیا جس کے بعد زخمی بچوں ، عورتوں اور مردوں کی چیخ و پکار سے کہرام برپا ہو گیا ، ہر طرف لہو تھا اور ظالموں نے ایک بے بس دکھی ماں کا لخت جگر شہزاد حسین اسے چھین لیا ۔

شہزاد حسین کسی کا بیٹا ، کسی کا بھائی ، کسی کا باپ تھا اور کسی کا خاوند ، ہر طرف خون ہی خون تھا ، چند سیکنڈوں میں کھلے چہرے مرجھا گئے اور دل دہلا دینے والی چیخیں فضا میں گونجتی رہیں ۔ شہزاد حسین کی مسخ شدہ لاش دیکھ کر لواحقین اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے ، قیامت صغریٰ برپا کر دی گئی اور پر امن شریف گھرانے کے بیٹے شہزاد حسین کو سماج دشمن عناصر نے سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت ہمیشہ کیلئے ابدی نیند سلا دیا۔ میرے پاس وہ الفاظ نہیں ہیں جن کے ذریعے اس بدترین واقعہ اور لخت جگر کی جدائی کے درد میں خون کے آنسو روتی ماں کے جذبات و احساسات کا اظہار کروں ، ایک بہت ہی المناک سانحہ گزرا جب ایک ماں کے سامنے اس کا لخت جگر ، کسی بہن کے سامنے اس کا بھائی ، کسی بچے کے سامنے اس کا باپ اور سہاگن کے سامنے اس کے سر کے تاج شہزاد حسین کو چند لمحوں میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ جس کے بعد قانون کے محافظوں نے صرف ایک رسمی کارروائی کر کے بے بس ماں کو تسلی دیدی کہ تمہیں انصاف ملے گا مگر دکھیاری ماں اللہ رکھی اپنے بیٹے کے لہو کا انصاف تلاش کرتے کرتے ’’ نئی بات‘‘ پہنچ گئی ، اصل حقائق جاننے کیلئے ساندہ کلاں کے رہائشی لوگوں سے رابطہ کیا گیا تو معلوم ہوا انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے نوٹوں کے عوض اصل حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور پولیس ملزموں کو پروٹوکول دے کر بچانے کیلئے ہر وہ راستہ اختیار کر رہی ہے جس سے ملزموں کو فائدہ پہنچ سکے ۔

مقتول شہزاد کی والدہ اللہ رکھی نے درد کے آنسو بہاتے ہوئے بتایا کہ میرا بیٹا ملزمان سنی بٹ اور فیضی بٹ کو گلی میں منشیات کے استعمال سے روکتا تھا جس پر دونوں ظالم اور بے رحم ملزمان نے اپنے دل میں رنجش رکھی ۔ 5 اپریل کی رات بھی ملزم فیضی بٹ ، سنی بٹ اور ان کے ساتھیوں کو گلی میں چرس پینے سے منع کیا تھا ، ہمیں کیا معلوم تھا کہ اگلے روز صبح ہوتے ہی ہمارے اوپر قیامت گرا دی جائے گی۔

مقتول شہزاد حسین کے بھائی شہباز احمد ، نذیر احمد ، دلاور اور بہنوئی بشیر حسین نے بتایا کی 6 اپریل کو سنی بٹ اور فیضی بٹ نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر شہزاد کو گالیاں دیں اور اندھا دھند مارنا شروع کر دیا ، جب ہم شور سن کر گھر سے باہر گئے اور دیکھا کہ ظالم سنی بٹ ، فیضی بٹ اور ان کے ساتھیوں نے شہزاد کو قابو کر رکھا تھا اور اندھا دھند مار رہے تھے ، ہمارے چھڑوانے پر ملزم اپنے ساتھیوں کو لیکر اپنے گھر کی چھت پر چلے گئے اور اوپر سے اینٹوں کی برسات کر دی ، جس سے ہماری والدہ ، بڑے بھائی اور چھوٹے چھوٹے بچوں کے سر اور جسم کے مختلف حصوں پر شدید زخم آئے ، ہماری والدہ کے سر پر 6 ٹانکے ، بڑے بھائی کو بھی 10 سے زائد ٹانکے لگے اوربھائی شہزاد حسین کے دماغ کی ہڈی موقع پر ٹوٹ گئی جس کے باعث اس کا حرام مغز گلی میں بکھر گیا اور وہ ہمیشہ کیلئے موت کی آغوش میں سو گیا ۔

مقتول شہزاد ایک بیٹے ریحان اور ایک بیٹی مریم کا باپ تھا جن کی عمر تقریبا 4 سے 5 سال کے درمیان ہیں ، دونوں معصوم بہن بھائی اپنے والد کی جدائی میں غم کی تصویر بنے اپنی والدہ کی گود میں سر رکھے اپنے والد شہزاد کو پکارتے ہوئے اپنی ماں سے پوچھ رہے تھے کہ ماماں پاپا کب آئیں گے ۔

شہزاد حسین کی دکھیاری ماں اللہ رکھی نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد ، وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور آئی پنجاب پولیس سے انصاف کی بھیک مانگتے ہوئے کہا

’’’ میں کس کے ہاتھ پہ تلاش کروں اپنے لخت جگر کا لہو! ۔۔۔۔‘‘‘

غم زدہ آنکھوں میں بیٹے کی تصویر سجائے اللہ رکھی اور اس کے بیٹوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس تھانہ ساندہ ہمیں انصاف دلانے کی بجائے ظالم ملزموں کے ساتھ مل گئی ہے اور ملزموں کو فرار کروا دیا ہے ۔ جس دن شہزاد حسین کو قتل کیا گیا اس دن پولیس 15 پر بروقت اطلاع دینے کے باوجود دیر سے پہنچی۔ بعد میں پولیس نے کہا کہ تھانے آجائو کچھ کرتے ہیں ، جب ہم تھانے گئے تو اس وقت ملزمان اپنے گھر میں ہی موجود تھے لیکن پولیس نے ’’ مال ‘‘ لیکر انکو گرفتار کرنے کی بجائے فرار کروا دیا اور رسمی کارروائی کیلئے ملزم نثار کو گرفتار کر لیا جبکہ ملزم مراد علی شاہ اور ٹیڈی کو ضمانت قبل از گرفتاری کیلئے مدد کی اور اب انچارج انویسٹی گیشن اکرام حسین ہر تاریخ پیشی پر عدالت میں ریکارڈ پیش نہیں کر رہا تا کہ وہ آزادی سے گھوم پھر سکیں ۔

شہباز احمد اور نذیر احمد نے بتایا کہ شہزاد کے قتل کے بعد بھی ملزمان نے اسلحہ کی نمائش کرتے ہوئے ہمیں قتل کرنے کی دھمکیاں دیں جس کی درخواست تھانے دی لیکن پولیس نے کارروائی کی بجائے چپ سادھ رکھی ہے ، جب ہم انچارج انویسٹی گیشن اکرام حسین کو ملزمان کی گھر میں موجودگی کی اطلاع دیتے ہیں تو وہ ملزمان کو گرفتار کرنے کی بجائے ریٹ کرنے کیلئے دس سے بارہ ہزار روپے مانگتا ہے ، اگر بار بار چھاپہ مارنے کا اصرار کریں تو کہتا ہے کہ میں تمھارے کام کیلئے فارغ نہیں ہوں ، ہمیں بتایا جائے کیا وطن عزیز پاکستان میں انصاف خریدا جاتا ہے ، اگر انصاف خریدا جاتا ہے تو ہمارے پاس اتنی رقم نہیں کہ ہم انصاف خرید سکیں ، ہمارے گھر میں تو پہلے ہی غربت نے بھوک و افلاس کے ڈیرے ڈال رکھے ہیں ۔

مقتول شہزاد حسین کی بیوہ عائشہ بی بی نے وزیراعظم عمران خان ، چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد ، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ، وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار ، وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی ہے کہ مجھے اور میرے بچوں کو انصاف فراہم کیا جائے اور میرے خاوند کے قاتلوں کو سر عام سزا دے کر نشان عبرت بنایا جائے ۔ عائشہ بی بی نے کہا کیا ہمیں انصاف اسلئے نہیں مل رہا کہ ہمارا جرم غریب ہونا ہے ، ہم پولیس کو نوٹوں کی بوریاں نہیں دے سکتے ۔

محلے داروں نے بتایا کہ مقتول شہزاد نہایت شریف النفس تھا اور محنت مزدوری کر کے اپنے اہل خانہ کی کفالت کرتا تھا ، ظالموں نے شہزاد کو ناحق مارا ، حکومت متاثرہ خاندان کو انصاف دلائے ۔ انچارج انویسٹی گیشن اکرام حسین سے موقف جاننے کیلئے رابطہ کیا گیا تو وہ کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکے ، انہوں نے کہا ملزم مراد شاہ کا عبوری ضمانت کا کیس چل رہا ہے جبکہ نثار کو جوڈیشل کر دیا گیا ہے ، مدعی کے کہنے پر اتوار کو ملزموں کی رہائش پر ریٹ کی تھی مگر وہاں کوئی موجود نہ تھا ، ملزم سنی بٹ اور فیضی بٹ کی ضمانت قبل از گرفتاری خارج کروا دیں ہیں ، مدعی کا یہ کہنا کہ عدالت میں ریکارڈ پیش نہیں کر رہا تو وہ الزام سمجھ سے باہر ہے ، ملزم مراد شاہ کی ضمانت قبل از گرفتاری کی پیشی پر عدالت نے کہا تھا کہ تفتیش مکمل کر کے ریکارڈ پیش کرو لیکن ابھی دونوں مین کردار سنی بٹ اور فیضی بٹ فرار ہیں ، انکی گرفتاری تک تفتیش مکمل نہیں ہو سکتی ، میری پوری کوشش ہے کہ متاثرہ خاندان کو انصاف ملے ۔ مقتول شہزاد کے بھائیوں نے کہا کہ جب بھاری رشوت لیکر چھاپے سے قبل اطلاع کر دی جائے تو ملزم کیسے پکڑے جا سکتے ہیں ، سب طاقتور کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔

آخر میں حکام بالا سے درخواست ہے کہ جرم کی سب سے بڑی وجہ نا انصافی ہے اگر جرائم پر قابو پانا ہے تو ملک میں خلافت راشدہ قائم کرنا ہو گی ، اگر لوگوں کو انصاف ملنا شروع ہو جائے تو کوئی جرم نہیں ہو گا ، اگر قانون کا خوف ہو گا تو جرائم نہیں ہوں گے ، خدارا کچھ تو شرم کرو، اپنی جھوٹی انا اور بے مقصد کی ضد کو دشمنی میں نہ بدلو ، آخر کب تک مائوں کی گود اجاڑو گے ، کب تک کتنے بچوں کو باپ کی شفقت سے محروم کرو گے ، اور کتنی سہاگنوں کو بیوہ کا خطاب دو گے ، لاشوں کی سیاست کا نہ میت کو فائدہ ہوتا نہ ہی لواحقین کو ۔

٭٭٭


ای پیپر