سازشوں کے انبار میں 70سالہ پاکستان اوربنتی ٹوٹتی حکومتیں
24 جون 2020 (18:04) 2020-06-24

رضا مغل

نورالآمین

7 دسمبر 1971 کو عام انتخابات کے بعد پاکستان مسلم لیگ کے رہنما نورالآمین کو اس وقت کے صدر یحییٰ خان نے ملک کا آٹھواں وزیراعظم نامزد کیا تاہم وہ صرف 13 دن تک ہی اس عہدے پر براجمان رہے اور 20 دسمبر 1971 کو عہدے کو خیرباد کہہ دیا جبکہ وہ اس سے قبل 1970 سے 1972 تک پاک بھارت جنگ کے دوران ملک کے نائب صدر کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے چکے تھے،نورالآمین کے بعد 20 دسمبر 1971 سے 14 اگست 1973 تک وزیراعظم کی نسشت خالی رہی نور الامین پاکستان مسلم لیگ مشرقی پاکستان کے رہنما تھے۔بنگلہ دیش بننے کے بعد نور الامین مغربی پاکستان ہی میں رہے اور 1974ء میں وفات پائی۔

ذوالفقار علی بھٹو

سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو لاڑکانہ سندھ میں پیدا ہوئے، ان کے والد سر شاہ نواز بھٹو مشیر اعلیٰ حکومت بمبئی اور جوناگڑھ کی مسلم ریاست میں دیوان تھے، پاکستان میں آپ کو قائدِعوام یعنی عوام کا رہبر اور بابائے آئینِ پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔ آپ پاکستان کی تاریخ کے مقبول ترین وزیر اعظم تھے ۔ذو الفقار علی بھٹو نے 1950 میں برکلے یونیورسٹی کیلیفورنیا سے سیاسیات میں گریجویشن کی۔ 1952ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے اصول قانون میں ماسٹر کی ڈگری لی۔ اسی سال مڈل ٹمپل لندن سے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا۔ پہلے ایشیائی تھے جنھیں انگلستان کی ایک یونیورسٹی میں بین الاقوامی قانون کا استاد مقرر کیا گیا۔ کچھ عرصہ مسلم لا کالج کراچی میں دستوری قانون کے لیکچرر رہے۔ 1953ء میں سندھ ہائی کورٹ میں وکالت شروع کی۔ ذو الفقار علی بھٹو1958ء تا 1960ء صدر ایوب خان کی کابینہ میں وزیر تجارت، 1960ء تا 1962ء وزیر اقلیتی امور، قومی تعمیر نو اور اطلاعات، 1962ء تا 1965ء وزیر صنعت و قدرتی وسائل اور امور کشمیر جون 1963ء تا جون 1966ء وزیر خارجہ رہے، دسمبر 1967ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ 1970ء کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی نے مغربی پاکستان میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ دسمبر 1971ء میں جنرل یحیٰی خان نے پاکستان کی حکومت مسٹر بھٹو کو سونپ دی،وہ دسمبر 1971ء تا 13 اگست 1973 صدر مملکت کے عہدے پر فائز رہے۔ 14 اگست 1973ء کو نئے آئین کے تحت وزیراعظم کا حلف اٹھایا،1977ء کے عام انتخابات میں دھاندلیوں کے سبب ملک میں خانہ جنگی کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔ 5 جولائی 1977ء کو جنرل محمد ضیا الحق نے مارشل لا نافذ کر دیا۔ ستمبر 1977ء میں مسٹر بھٹو نواب محمد احمد خاں کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیے گئے۔ 18 مارچ 1978ء کو ہائی کورٹ نے انھیں سزائے موت کا حکم سنایا۔ 6 فروری 1979ء کو سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کر دی، 4 اپریل کو انھیں راولپنڈی جیل میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔

بے نظیر بھٹو

1988ء میں ضیاء الحق طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہو گئے تو ملک کے اندر سیاسی تبدیلی کا دروازہ کھلا، سینیٹ کے چیئرمین غلام اسحاق کو قائم مقام صدر بنا دیا گیا جس نے نوے دن کے اندر انتخابات کروانے کا اعلان کیا، 16 نومبر، 1988ء میں ملک میں عام انتخابات ہوئے جس میں قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں پیپلز پارٹی نے حاصل کیں اور بے نظیر بھٹو نے دو دسمبر1988ء میں 35 سال کی عمر میں ملک اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیرِاعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔ اگست، 1990ء میں بیس ماہ کے بعد صدر اسحاق خان نے بے نظیر کی حکومت کو بے پناہ بدعنوانی اور کرپشن کی وجہ سے برطرف کر دیا،2 اکتوبر، 1990ء کو ملک میں نئے انتخابات ہوئے جس میں مسلم لیگ نواز اور بے نظیر حکومت کی مخالف جماعتوں نے اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے الائنس بنایا جس کے انتخابات میں اکثریت حاصل کی۔ ان انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف وزیر اعظم بن گئے جبکہ بے نظیر قائدِ حزبِ اختلاف بن گئیں۔ 1993ء میں اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے نواز شریف کی حکومت کو بھی بد عنوانی کے الزام میں برطرف کر دیا جس کے بعد اکتوبر، 1993ء میں عام انتخابات ہوئے جس میں پیپلز پارٹی اور اس کے حلیف جماعتیں معمولی اکثریت سے کامیاب ہوئیں اور بے نظیر ایک مرتبہ پھر وزیرِاعظم بن گئیں، پیپلز پارٹی کے اپنے ہی صدر فاروق احمد خان لغاری نے 1996ء میں بے امنی اور بد عنوانی، کرپشن اور ماورائے عدالت قتل کے اقدامات کے باعث بے نظیر کی حکومت کو برطرف کر دیا،بے نظیر اپنے پہلے دور میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو امریکا کے کہنے پر رول بیک کرنے کے لیے تیار ہوگئیں تھیں لیکن آرمی کے دباؤ کی وجہ سے نہ کر سکیں ،بینظیر نے فوجی آمر پرویز مشرف کی طرف سے 3 نومبر 2007ء کو ہنگامی حالات کے نفاذ اور منصف اعظم افتخار محمد چودھری کو ہٹانے کی درپردہ حمایت کی ،27 دسمبر 2007ء کو جب بے نظیر لیاقت باغ میں عوامی جلسے سے خطاب کرنے کے بعد اپنی گاڑی میں بیٹھ کر اسلام آباد آ رہی تھیں کہ لیاقت باغ میں دھماکے میں بینظیر بھٹو جاں بحق ہو گئیں۔

نواز شریف

نواز شریف 25 دسمبر 1949ء کو لاہور میں پیدا ہوئے اور پاکستان کی دوسری بڑی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ بنے، نواز شریف تین بار 1990ء تا 1993ء، 1997ء تا 1999ء اور آخری بار ء2013 تا 2017ء وزیر اعظم پاکستان پر رہے۔ اس سے پہلے 1985 تا 1990 وزیر اعلیٰ پنجاب رہے،نواز شریف ایک درمیانی امیر گھرانے شریف خاندان میں پیدا ہوئے۔ اتفاق گروپ اور شریف گروپ کے بانی میاں محمد شریف ان کے والد اور تین بار وزیر اعلیٰ پنجاب رہنے والے شہباز شریف ان کے بھائی ہیں۔ نواز شریف نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے تجارت کی تعلیم اور 1970ء کی دہائی کے آخر میں سیاست میں داخل ہونے سے پہلے پنجاب یونیورسٹی لا کالج سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ 1981ء میں محمد ضیاء الحق کی فوجی حکومت کے دوران میں پنجاب کے وزیر خزانہ بنے۔ پھروزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے، 6 نومبر 1990ء کو نواز شریف نے اس وقت بطور منتخِب وزیرِاعظم کا حلف اُٹھایا جب ان کی انتخابی جماعت،اسلامی جمہوری اتحاد نے اکتوبر 1990ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی، تاہم وہ اپنی پانچ سال کی مدت پوری نہ کر سکے اور 12 اکتوبر 1999ء میں نواز شریف نے اس وقت کے فوج کے سربراہ پرویز مشرف کو ہٹا کر نئے فوجی سربراہ کے کی تعیناتی کی کوشش کی،جس پر فوج نے ان کی حکومت کو ختم کر دی،2013 ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن نے واضح اکثریت حاصل کی۔ اس بنا پر وہ تیسری بار وزیر اعظم پاکستان کے عہدے پر فائز ہوئے۔

ظفر اللہ جمالی

میر ظفر اللہ خان جمالی یکم جنوری 1944ء کو بلوچستان کے ضلع نصیرآباد کے گاؤں روجھان جمالی میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم روجھان جمالی میں ہی حاصل کی۔ بعد ازاں سینٹ لارنس کالج گھوڑا گلی مری، ایچیسن کالج لاہور اور 1965ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے تاریخ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، ظفر اللہ جمالی صوبہ بلوچستان کی طرف سے اب تک پاکستان کے واحد وزیر اعظم ہیں،ظفر اللہ جمالی انگریزی، اردو، سندھی، بلوچی، پنجابی اور پشتو زبان پر عبور رکھتے ہیں،جمالی کی پہچان ایک سنجیدہ اور منجھے ہوئے سیاست دان کی رہی ہے، وہ روایات کے پابند ہیں جن میں دوستی اور تعلقات نبھانا اور دوسروں کو ساتھ لے کر چلنا شامل ہے،جمالی خاندان قیام پاکستان سے ہی ملکی سیاست میں سرگرم رہا ہے۔ ظفر اللہ جمالی کے تایا جعفر خان جمالی قائداعظم کے قریبی ساتھی تھے۔ جب محترمہ فاطمہ جناح ایوب خان کے خلاف اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں ان کے علاقے میں آئیں تو ظفراللہ جمالی محافظ کے طور پر ان کے ساتھ تھے،انتخابات 2002اکتوبر کے نتیجے میں ان کو پارلیمنٹ نے 21 نومبر 2002 میں وزیر اعظم منتخب کیا،وہ 26 جون 2004ء کو وزیر اعظم کے عہدہ سے مستعفی ہو گئے

شجاعت حسین

چودھری شجاعت حسین 1946میں گجرات میں پیدا ہوئے ، ان کا شمار چند اہم ترین سیاست دانوں میں ہوتا ہے، پاکستان کے وزیر داخلہ اور نگران وزیر اعظم رہ چکے ہیں اور اس وقت مسلم لیگ ق کے صدر ہیں،چودھری شجاعت حسین کا تعلق گجرات کے جاٹ خاندان سے ہے جو تقریباً پچیس سال قومی سیاست میں سرگرم ہیں،جمالی صاحب کے استعفی کے بعد چودھری شجاعت حسین کو2 مہینے کے وزیر اعظم بنا دیا گیا، اپنے دور اقتدار میں انہوں نے بہت سے سیاسی کام کیے ۔

شوکت عزیز

شوکت عزیز پاکستان کے سابق وزیر اعظم، وزیر خزانہ، سیاست دان اور ماہر مالیات ہیں۔ ان کے والد کا نام عزیز احمد ہے جو پاکستان کے سابق وزیر اور معزز بیوروکریٹ تھے۔ 1999 ء میں یہ وزیر خزانہ تھے جبکہ 6 جون 2004ء میں جب سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی نے استعفٰی دیا تو 28 اگست 2004 میں وزارتِ عظمٰی کا قلمدان ان کے حصے آیا۔

یوسف رضا گیلانی

مخدوم یوسف رضا گیلانی 9 جون 1952 کو ملتان کے ایک ایسے بااثر جاگیردار پیرگھرانے میں پیدا ہوئے جو پچھلی کئی نسلوں سے سیاست میں مضبوطی سے قدم جمائے ہوئے ہے، وہ پاکستان کے 24 ویں وزیر اعظم ہیں 2012ء تک مسلسل چار سال وزارت عظمیٰ پر فائز رہنے کے بعد وہ تاریخ میں پاکستان کا سب سے لمبی مدت کیلئے وزیر اعظم رہنے کا اعزاز حاصل کیا، 19 جون 2012ء کو توہین عدالت کے مقدمہ میں سزا کی وجہ سے پارلیمان رکنیت اور وزیر اعظم کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔

راجہ پرویز اشرف

راجا پرویز اشرف نے 22 جون 2012 کو قلمدان وزارت عظمیٰ سنبھالا،اس سے قبل صدر آصف علی زرداری کی کابینہ میں مارچ 2008 سے فروری 2011 تک وفاقی وزیر آب و بجلی بھی رہ چکے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی

شاہد خاقان عباسی 27 دسمبر 1958 کوپیدا ہوئے، 2013ء تا 2017ء تک وزیر پٹرولیم رہے جب کہ اس سے پہلے گیلانی وزارت میں 2008ء میں وزیر تجارت رہے، یکم اگست 2017ء سے لے کر 31 مئی 2018 تک وزیر اعظم رہے، ان کا تعلق پاکستان مسلم لیگ سے ہے۔

عمران خان

عمران احمد خان نیازی پاکستان کے بائیسویں وزیر اعظم ہیں ، اس سے پہلے وہ 2002ء تا 2007ء اور2013ء تا2018ء تک پاکستان قومی اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے ہیں،17 اگست 2018ء کو عمران خان 176 سیٹیں حاصل کر کے وزیر اعظم پاکستان بن گئے ۔

٭٭٭

ذوالفقار علی بھٹو کوپاکستان میں قائدِعوام یعنی عوام کا رہبر اور بابائے آئینِ پاکستان بھی کہا جاتا ہے، آپ پاکستان کی تاریخ کے مقبول ترین وزیراعظم تھے


ای پیپر