’’لہور‘‘ کا تاریخی پس منظر،کبھی باغوںاور علم کا شہر تھا
24 جون 2020 (17:56) 2020-06-24

محمد احسن عارف

لاہور کا شمار پاکستان کے قدیم شہروں میں ہوتا ہے۔ اسے تہذیبی، تمدنی اور ثقافتی لحاظ سے ہمیشہ مرکزی حیثیت حاصل رہی۔ اس کی طویل تاریخ ماضی کے سحر میں گم ہے۔ لاہور کی ابتدائی تاریخ بارے صرف روایات اور قیاس ملتے ہیں، لاہور کے بارے میں سب سے پہلے چین کے باشندے سوزو زینگ نے لکھا جو ہندوستان جاتے ہوئے لاہور سے 630 عیسوی میں گزرا۔

لاہور کی ابتدائی تاریخ بارے کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ قدیم ہندو ’’پرانوں‘‘ میں لاہور کا نام ’’لوہ پور‘‘ یعنی ’’لوہ کا شہر‘‘ ملتا ہے۔ راجپوت دستاویزات میں اسے ’’لوہ کوٹ‘‘ یعنی ’’لوہ کا قلعہ‘‘ سے پکارا گیا ہے۔

عام طور پر کہا جاتا ہے کہ راجہ رام چندرجی کے دو بیٹے تھے ایک کا نام قصوہ تھا، جس نے قصور کی بنیاد رکھی اور دوسرے کا نام ’’لوہ‘‘ تھا جس نے لاہور بسایا۔ نویں صدی عیسوی کے مشہور سیاح ’’الا دریسی‘‘ نے اسے ’’لہاور‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے۔ یہ قدیم حوالہ جات اس بات کے غماز میں کہ اوائل تاریخ سے ہی یہ شہرت اہمیت کا حامل تھا۔

’’فتح البلادن‘‘ میں درج سندھ 664 عیسوی کے واقعات میں لاہور کا ذکر ملتا ہے جس سے اس کا اہم ہونا ثابت ہوتا ہے۔ ساتویں صدی عیسوی کے آخر میں لاہور ایک راجپوت چوہان بادشاہ کا پایہ تخت تھا۔ ایک جگہ لکھا ہے کہ 682ء میں کرمان اور پشاور کے مسلم پٹھان قبائل راجہ پر حملہ آور ہوئے۔ پانچ ماہ تک لڑائی جاری رہی اور بالآخر سالٹ رینج کے گکھڑ راجپوتوں کے تعاون سے وہ راجہ سے اس کے کچھ علاقے چھیننے میں کامیاب ہو گئے۔

نویں صدی عیسوی میں لاہور کے ہندو راجپوت چتوڑ کے دفاع کے لیے مقامی فوجوں کی مدد کو پہنچے۔ دسویں صدی عیسوی میں خراسان کا صوبہ دار سبکتگین پر حملہ آور ہوا۔ لاہور کا راجہ جے پال جس کی سلطنت سرہند سے لمگھان تک اور کشمیر سے ملتان تک وسیع تھی، مقابلے کے لیے آیا، ایک بھٹی راجہ کے مشورہ پر راجہ جے پال نے پٹھانوں کے ساتھ اتحاد کرلیا اور اس طرح وہ حملہ آور فوج کو شکست دینے میں کامیاب ہو گیا۔

غزنی کے تخت پر قابض ہونے کے بعد سبکتگین ایک دفعہ پھر حملہ آور ہوا۔ لمگھان کے قریب گھمسان کارن پڑا اور راجہ جے پال مغلوب ہو کر امن کا طالب ہوا۔ طے یہ پایا کہ راجہ جے پال تاوان جنگ کی ادائیگی کرے گا۔ سلطان نے اس مقصد کے لیے ہرکارے راجہ کے ہمراہ لاہور روانہ کیے۔

لاہور پہنچ کر راجہ نے معاہدے سے انحراف کیا اور سبکتگین کے ہرکاروں کو شہید کردیا۔ اس اطلاع پر سلطان غیض وغضب میں دوبارہ لاہور پر حملہ آور ہوا۔ ایک دفعہ پھر میدان کارزار گرم ہوا اور پھر جے پال کو شکست ہوئی اور دریائے سندھ سے پرے کا علاقہ اس کے ہاتھ سے نکل گیا۔ دوسری مرتبہ مسلسل شکست پر دلبرداشتہ ہو کر راجہ جے پال نے لاہور کے باہر خودسوزی کرلی۔ معلوم ہوتا ہے کہ سلطان کا مقصد صرف راجہ کو سبق سکھانا تھا کیونکہ اس نے مفتوحہ علاقوں کو اپنی سلطنت میں شامل نہیں کیا تھا۔

1008عیسوی میں جب سبکتگین کا بیٹا محمود ہندوستان پر حملہ آور ہوا تو جے پال کا بیٹا آنندپال ایک لشکر جرار لے کر پشاور کے قریب مقابلہ کے لیے آیا، محمود کی فوج نے آتش گیر مادے کی گولہ باری کی جس سے آنندپال کے لشکر میں بھگدڑ مچ گئی اور ان کی ہمت ٹوٹ گئی۔ نتیجتاً کچھ فوج بھاگ نکلی اور باقی کام آئی۔ اس شکست کے باوجود لاہور بدستور محفوظ رہا۔

جے پال کے بعد اس کا بیٹا آنندپال تخت نشین ہوا اور لاہور پر اس خاندان کی عملداری 1022ء تک برقرار رہی حتیٰ کہ محمود اچانک کشمیر سے ہوتا ہوا لاہور حملہ آور ہوا۔ جے پال اور اس کا خاندان اجمیر میں پناہ گزین ہوا۔ اس شکست کے بعد لاہور غزنوی سلطنت کا حصہ بنا اور پھر کبھی بھی کسی ہندو سلطنت کا حصہ نہیں رہا۔ محمود غزنوی کے پوتے مودود کے عہد حکومت میں راجپوتوں نے شہر کو واپس لینے کے لیے چڑھائی کی مگر چھ ماہ کے محاصرے کے بعد ناکام واپس لوٹ گئے۔ لاہور پر قبضہ کرنے کے بعد محمود غزنوی نے اپنے پسندیدہ غلام ملک ایاز کو لاہور کا گورنر مقرر کیا جس نے شہر کے گرد دیوار قائم کرنے کے ساتھ ساتھ قلعہ لاہور کی بھی بنیاد رکھی۔ ملک ایاز کا مزار آج بھی بیرون ٹیکسالی دروازہ لاہور کے پہلے مسلمان حکمران کے مزار کے طور پر جانا جاتا ہے۔

غزنوی حکمرانوں کے ابتدائی آٹھ حکمرانوں کے دور میں لاہور کا انتظام صوبہ داروں کے ذریعہ چلایا جاتا تھا تاہم مسعود ثانی کے دور میں دارالحکومت عارضی طور پر لاہور منتقل کردیا گیا۔ اس کے بعد غزنوی خاندان کے بارہویں تاجدار خرد کے دور میں لاہور ایک دفعہ پھر پایہ تخت بنا دیا گیا اور اس کی یہ حیثیت 1186ء میں غزنوی خاندان کے زوال تک برقرار رہی۔ غزنوی خاندان کے زوال کے بعد غوری خاندان اور خاندان غلاماں کے دور میں لاہور سلطنت کے خلاف سازشوں کا مرکز رہا۔ درحقیقت لاہور ہمیشہ پٹھانوں کے مقابلے میں مغل حکمرانوں کی حمایت کرتا رہا۔ 1241ء میں چنگیز خان کی فوجوں نے سلطنت غیاث الدین بلبلن کے بیٹے شہزادہ محمد کی فوج کو راوی کے کنارے شکست دی اور امیرخسرو کو گرفتار کرلیا۔ اس فتح کے بعد چنگیز خان کی فوج نے لاہور کو تاراج کردیا۔

خلجی اور تغلق شاہوں کے ادوار میں لاہور کو کوئی قابل ذکر اہمیت حاصل نہ تھی۔ ایک دفعہ گکھڑ راجپوتوں نے اسے لوٹا۔ 1397ء میں امیرتیمور برصغیر پر حملہ آور ہوا اور اس کے لشکر کی ایک ٹکڑی نے لاہور کو فتح کرلیا تاہم اپنے پیش رو کے برعکس امیر تیمور نے لاہور کو تاراج کرنے سے اجتناب کیا اور ایک افغان سردار خضر خان کو لاہور کا صوبہ دار مقرر کردیا۔ اس کے بعد سے لاہور کی حکومت کبھی حکمران خاندان اور کبھی گکھڑ راجپوتوں کے ہاتھ رہی۔ یہاں تک کہ 1436ء میں بہلول خان لودھی نے لاہور کو فتح کرلیا اور اسے اپنی سلطنت میں شامل کرلیا۔ بہلول خان لودھی کے پوتے ابراہیم لودھی کے دورِحکومت میں لاہور کے افغان صوبہ دار دولت خان لودھی نے علم بغاوت بلند کیا اور اپنی مدد کے لیے مغل شہزادے بابر کو پکارا۔

بابر پہلے سے ہی ہندوستان پر حملہ کرنے کے بارے میں سوچ رہا تھا اور دولت خان لودھی کی دعوت نے اس پر مہمیز کا کام کیا۔ لاہور کے قریب بابر اور ابراہیم لودھی کی افواج میں پہلا ٹاکرا ہوا جس میں بابر فتح یاب ہوا تاہم صرف چار روز کے بعد اس نے دہلی کی طرف پیش قدمی شروع کر دی۔ ابھی بابر سرہند کے قریب ہی پہنچا تھا کہ اسے دولت خان لودھی کی سازش کی اطلاع ملی جس پر وہ اپنا ارادہ منسوخ کر کے لاہور کی جانب بڑھا اور مفتوحہ علاقوں کو اپنے وفادار سرداروں کے زیرانتظام کر کے کابل واپس چلا گیا۔ اگلے برس لاہور میں سازشوں کا بازار گرم ہونے کی اطلاعات ملنے پر بابر دوبارہ عازم لاہور ہوا۔ مخالف افواج راوی کے قریب مقابلے کے لیے سامنے آئیں مگر مقابلہ شروع ہونے سے پہلے ہی بھاگ نکلیں۔ لاہور میں داخل ہوئے بغیر بابر دہلی کی طرف بڑھا اور پانی پت کی لڑائی میں فیصلہ کُن فتح حاصل کر کے دہلی کے تخت پر قابض ہوا۔ اس طرح ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کی ابتداء لاہور کے صوبہ دار کی بابر کو دعوت سے ہوئی۔

محکمہ آثار قدیمہ کے 1959ء میں قلعہ لاہور میں جدید خطوط پر کھدائی کے بعد سے ملنے والے آثار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی آمد سے پہلے اس قلعے کی کوئی خاص اہمیت نہ تھی لیکن عہد غزنوی 976ء سے لے کر ابراہیم لودھی 1526ء تک آنے والی حکومتوں میں لاہور کو نمایاں مقام حاصل رہا۔ اس سلسلے میں سلطان محمود غزنوی نے 1021ء کو لاہور فتح کرنے کے بعد ایک نیا قلعہ تعمیر کروایا۔ برصغیر کے پہلے مسلم سلطان قطب الدین ایبک کی تاجپوشی قلعہ لاہور میں ہوئی اور اسی شہر میں ہی وہ چوگان کھیلتا ہوا جاں بحق ہو گیا۔ اس طرح جب تغلق سلطنت زوال کے دہانے پر پہنچی تو شیخا کھوکھر لاہور پر قابض ہو گیا مگر 1421ء میں سیدمبارک شاہ نے شیخا کھوکھر کے بیٹے حسرت کھوکھر کو شکست دے کر لاہور پر قبضہ کرلیا۔ اگرچہ اولین مغل بادشاہ ظہیرالدین محمد بابر کے ہاتھوں لاہور شہر کو خاصا نقصان اُٹھانا پڑا مگر بعد کے مغل شہنشاہوں نے لاہور کی کافی پذیرائی کی۔

شیرشاہ سوری نے ہمایوں کو شکست دینے کے بعد ہیبت خان نیازی کو حاکم لاہور مقرر کیا جس نے قلعہ لاہور میں رہائش اختیار کی لیکن زیادہ دیر قیام نہ کرسکا اور دوبارہ ہمایوں عنان حکومت پر قابض ہو گیا۔ ہمایوں کی اچانک موت پر اس کے بیٹے جلال الدین اکبر کی تاجپوشی کلانور میں ہوئی تو اس وقت اکبر کی عمر 12سال تھی۔ وہ 1557ء، 1571ء اور 1586ء کو لاہور آیا اور باقاعدہ طور پر پختہ اینٹوں کے ساتھ قلعہ تعمیر کرنے کی ہدایت کی اور لاہور کو دارالسلطنت بنایا۔ اکبر کی وفات کے بعد اس کا بیٹا نورالدین جہانگیر عنان حکومت سنبھالنے کے بعد 1606ء میں لاہور آیا اور ایک سال تک قلعہ میں قیام کیا اور یہاں قیام کے دوران بہت سی عمارات تعمیر کروانے کا حکم دیا۔ جہانگیر کے بعد اس کے بیٹے شاہجہاں نے اپنی حکومت کے پہلے سال ہی میں شاہی قلعہ لاہور میں خوبصورت عمارات تعمیر کروانے کا حکم جاری کیا۔

مقبرہ علی مردان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ لاہور شہر میں اتنا بلند اور قدیم کوئی اور مقبرہ نہیں ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ کے افسران اور عملے کی انتھک خدمات کی بدولت نواب علی مردان خان کا یہ یہ مقبرہ ریلوے ورکشاپس کے اندر قائم ہے جسے دیکھ کر مغلیہ دور کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔

٭٭٭

صوبہ دار وزیرخان کے زیرانتظام تمام نئی عمارات کی تعمیر مکمل ہوئی اور 1638ء میں شاہجہان قلعہ میں کچھ عرصے کے لیے قیام پذیر ہوا۔ شاہ جہاں کے بعد اس کا بیٹا اورنگزیب عالمگیر خان حکومت کا مالک بنا اور 1658ء کو لاہور تشریف لایا، قلعہ کا جائزہ لیا اور ضروری احکامات جاری کیے۔ بادشاہی مسجد اور عالمگیری دروازہ انہی احکامات کی عکاسی کرتے ہیں۔ اورنگزیب عالمگیر کی وفات کے بعد دن کے جان نشینوں میں باہمی چپقلش اور محاذآرائی شروع ہو گئی جس کی وجہ سے مختلف فٹنسوں نے سر اُٹھایا اور مغل خاندان کا کوئی بھی حکمران دوبارہ لاہور نہ آسکا تو مختلف علاقوں میں مختلف حکمران بن گئے جس کے بعد پنجاب پر سکھ قابض ہو گئے۔ سکھوں میں راجہ رنجیت سنگھ 1799ء میں لاہور پر قابض ہوا اور ایک بہت بڑا جشن قلعہ لاہور کے نام سے منعقد کروایا، پھر اسی جگہ پر رہائش پذیر ہو گیا۔ 1839ء میں رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد اس کا بیٹا کھڑک سنگھ ایک سال حکومت کرنے کے بعد مرگیا۔ اس کے جانشین بھی سیاسی چپقلش اور انتشار کا شکار ہو گئے۔ پھر آپس میں لڑائی جھگڑے شروع کر دیئے جس کی وجہ سے قلعہ کی کئی عمارتوں کو کافی نقصان پہنچا۔ سب سے آخر میں دلیپ سنگھ نے حکومت سنبھالنے کی کوشش کی مگر دوسری طرف رانی جنداں رنجیت سنگھ کی بیوی اور کچھ سکھوں نے مل کر انگریزوں کے خلاف جنگ چھیڑ دی جس کے نتیجہ میں انگریز فوج قلعہ پر قابض ہو گئی اور 1849ء کو راجہ دلیپ سنگھ کو معزول کر کے سکھ حکومت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کردیا گیا جس کے مکمل طور پر لاہور انگریزوں کے کنٹرول میں چلا گیا۔

1849ء سے 1927ء تک شاہی قلعہ انگریز کا مسکن رہا۔ انہوں نے اپنی مرضی کے مطابق اس میں کافی تبدیلیاں کیں اور مختلف عمارتوں کو گرا کر فوجیوں کی آسانیوں کے لیے گرجاگھر، شراب خانے، دفاتر اور کئی اسلحہ خانے بنائے جس سے تاریخی ورثہ کو کافی نقصان پہنچا، بالآخر 1927ء میں محکمہ آثار قدیمہ نے اس قلعہ کو اپنی تحویل میں لے لیا اور اس کو اصل حالت کے مطابق بنانے کی کوشش کی جو آج آپ کے سامنے ہے۔

نواب علی مردان ۔۔۔ لاہور میں سب سے بلند اور قدیم مقبرہ

مغلیہ دور میں علی مردان نے 18سال سے زائد عرصے میں بڑی بڑی یادگاریں بنوائیں جن پر بے حد وحساب روپے صرف ہوئے،نواب علی مردان خان امیر گنج علی خان ایران کے صفوی حکمران کے ماتحت صوبہ قندھار کا گورنر تھا مگر اس نے صفوں شہنشاہ شاہ صنفی کے جبر سے تنگ آکر 1437ء میں صوبہ قندھار مغل شہنشاہ شاہ جہاں کے حوالے کردیا اور خود بھی اس کے دربار میں پناہ لے لی۔ 1439ء میں شاہ جہاں نے اس کو صوبہ کشمیر کا گورنر مقرر کردیا اور بعد میں صوبہ لاہور بھی اس کی نگرانی میں دیدیا۔ علی مردان خان کو رفاہ عامہ کے کاموں خصوصاً باغات اور نہروں کے ضمن میں غیرمعمولی مہارت حاصل تھی۔ علی مردان نے مغل بادشاہ شاہ جہاں کے عہد میں ہزاروں یادگاری عمارتیں اور باغات بنوائے۔ عمارت کے کام میں اپنا ثا نی نہیں رکھتا تھا۔ زہد وریاضت میں بھی کمال درجے پر تھا۔ مغل بادشاہ شاہ جہاں علی مردان کا منعقد تھا اور اکثر خود ہی علی مردان کی خدمت حاضری دیتا اور اپنی اولاد کی بہترین حکمرانی کے لیے دعا کرواتا۔علی مردان نے ماہر تعمیرات کے ناطے باغ نو نولکھا لاہور، شالامارباغ لاہور اور یہ عالی شان تین منزلہ مقبرہ جس میں اس کی تدفین ہوئی۔ عالی شان تعمیرات بنوانے کے علاوہ دہلی کی نہر کھدوا کر قلعہ دہلی اور نہرہنسلی مادھوپور (جس کو شاہ نہر بھی کیا جاتا ہے) کھدوا کر شالامارباغ کو سیراب کروایا۔ بڑی نہر فیروزپور جو دہلی سے ہانسی حصار کو جاتی ہے بھی علی مردان نے دوبارہ درست کروائی تھی۔ مغلیہ دور میں علی مردان نے 18سال سے زائد عرصے میں بڑی بڑی یادگاریں بنوائیں جن پر بے حد وحساب روئے صرف ہوئے۔

علی مردان کی تعمیرکردہ عمارت، تبصرے، باغات، نہریں خوبی وخوش اسلوبی اور استحکام وسنگینی دیکھ کر آج کے جدید دور کے ماہرین بھی حیران رہ جاتے ہیں۔علی مردان اعلیٰ ذوق اور خوش لباسی، میرعمارات وصاحب کشف کی وجہ سے مشہور ہوا اور 1654ء میں کشمیر جاتے ہوئے (مشرقی پنجاب) کے ماچھی واڑہ کے مقام پر وفات پاگیا اور اسے اس کی والدہ کے پہلو میں اسی مقبرے کے تہہ خانے کے اندر دفن کردیا گیا۔ اس کی والدہ کی قبر کے ساتھ تیسری قبر بارے کچھ معلوم نہیں کہ وہ کس کی قبر ہے۔

کبھی یہ مقبرہ ایک وسیع باغ کے وسط میں واقع تھا مگر اس باغ کے آثار بدقسمتی سے ختم ہوچکے ہیں۔ اس مقبرے کے شمال سمت دو عدد ڈیورھی پائے نہایت عمدہ مقطع کانسی کار تھیں جن میں سے ایک موجود ہے۔ دوسری کو سکھوں نے ختم کردیا تھا جو ایک داخلی دروازہ اس وقت موجود ہے۔ اس پر کاشی کاری کے نفیس اور خوبصورت نمونے اس بات کا مظہر ہیں کہ ماضی میں یہ مقبرہ کاشی کاری کے خوبصورت کام سے مزین رہا ہو گا۔ مقبرے کا ڈھانچہ ہشت پہلو ہے اور پختہ اینٹوں سے بنا ہوا ہے اس پر ایک بلند گنبد تعمیر کیا گیا ہے اور اس گنبد کے تمام ہشت پہلو زاویوں پر چھوٹی برجیاں بھی تعمیر کی گئی ہیں۔ سکھ دور میں سکھوں نے اس مقبرے کے گنبد کی تینوں منزلوں سے سنگ سرخ اور سنگ ابری کی بڑی بڑی سیلیں اکھاڑی تھیں۔

مقبرہ علی مردان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ لاہور شہر میں اتنا بلند اور قدیم کوئی اور مقبرہ نہیں ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ کے افسران اور عملے کی انتھک خدمات کی بدولت نواب علی مردان خان کا یہ یہ مقبرہ ریلوے ورکشاپس کے اندر قائم ہے جسے دیکھ کر مغلیہ دور کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔

٭٭٭


ای پیپر