یہ شعر کس کا ہے ؟
24 جون 2020 (17:53) 2020-06-24

سلمان شہزاد

یہ بات دیکھنے میں آ رہی ہے کہ عمران خان کے برسر اقتدار آنے سے پہلے میڈیا خصوصاً سوشل میڈیا جتنا زیادہ اس کا حامی اور مدد گار تھا، اب اس کا اتنا ہی زیادہ مخالف ہو چکا ہے، اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اب عمران کی کسی معمولی غلطی یا کوتاہی کو بھی نہیں بخشنے والا، عمران خان لاکھ معافیاں مانگے، معذرت کر لے مگر اب اس کی خلاصی نہیں ہونے والی۔ ابھی کچھ روز پہلے کی بات ہے کہ سوشل میڈیا پر شور مچا ہوا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے کسی گم نام یا کم نام شاعر کی نظم علامہ اقبال سے منسوب کر دی ہے۔ اگرچہ وزیر اعظم نے اپنی اگلی ہی ٹویٹ میں اس غلطی کے لیے معذرت بھی کرلی تھی، مگر سوشل میڈیا پر سرگرم دوست انھیں معاف کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتے۔وہ کہتے ہیں کہ وزیر اعظم اس سے پہلے رابندر ناتھ ٹیگور کا ایک قول خلیل جبران کو عطا کر چکے ہیں اور یہ کہ انھیں علمی و ادبی گفتگو کرنے سے پہلے خاصا مطالعہ کرنا چاہیے۔

لیکن اِن صارفین کو کون سمجھائے کہ اب گوگل اور وکی پیڈیا کی بدولت اس طبع کی غلط بخشیوں کی روش تو بڑی عام ہو چکی ہے۔جگن ناتھ آزاد کی تصویر حفیظ جالندھری کے نام سے لگانا تو ایک ایسی غلطی بن چکی ہے جس میں ٹی وی چینلز، ٹیکسٹ بک بورڈز اور مختلف سرکاری اور غیر سرکاری ادارے برابر کے شریک ہیں۔نیشنل بک فاؤنڈیشن زیڈ اے بخاری کی کتاب پر پطرس بخاری کی، اکادمی ادبیات پاکستان آلِ رضا کی کتاب پر وحیدالحسن ہاشمی کی اور لوک ورثہ اپنی ایک کتاب میں ماسٹر عنایت حسین کی جگہ عنایت حسین بھٹی کی تصویر چھاپ دیتا ہے اور کوئی معذرت نہیں کرتا۔آپ کو یاد ہوگا کہ چار، ساڑھے چار سال پہلے جمیل الدین عالی کا انتقال ہوا تو کم و بیش ہر اخبار اور میڈیا ہاؤس نے مسرور انور کا ملی نغمہ 'سوہنی دھرتی' عالی جی سے منسوب کر دیا تھا۔ وجہ صرف یہ تھی کہ عالی جی نے 'جیوے جیوے پاکستان' سے 'اتنے بڑے جیون ساگر میں تو نے پاکستان دیا' تک اتنے خوبصورت ملی نغمے لکھے تھے کہ ہر اچھا نغمہ انہی کا لکھا ہوا لگنے لگا تھا۔

ہر عقاب والا شعر اقبال کا نہیں ہوتا!

شعروں کے غلط انتساب کا یہ مسئلہ بہت پرانا ہے۔ مثلاً ایک مشہور شعر:

تندی بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

اسے آج بھی علامہ اقبال کا شعر سمجھا جاتا ہے، حالانکہ اب بہت سی کتابوں اور رسالوں میں چھپے مضامین میں اس شعر کے اصل خالق کی نشاندہی ہو چکی ہے۔ یہ شعر شکر گڑھ کے صادق حسین شاہ کاظمی ایڈووکیٹ کا ہے۔ یہ ان کے مجموعہ کلام 'برگ سبز' میں بھی شامل ہے اور اسلام آباد کے ایچ ایٹ قبرستان میں ان کے مزار پر بھی درج ہے۔

اقبال سے تو اور بھی ایسے کئی شعر منسوب ہوئے جو اقبال کے شعر نہیں تھے، مثلاً:

اسلام کے دامن میں بس اس کے سوا کیا ہے

اک ضرب یَدّ اللہی اک سجدہ شبیری

اور

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

ان میں سے پہلا شعر وقار انبالوی کا ہے اور دوسرا شعر ظفر علی خان کا ہے، جو دراصل ایک قرانی آیت کا منظوم ترجمہ ہے۔

اقبال سے ذرا پیچھے چلیں، بلکہ میر تقی میر سے گفتگو کا آغاز کریں تو یہ شعر بھی میر کا نہیں، حالانکہ اس شعر کو میر سے منسوب کرنے کے لیے لوگوں نے اس میں میر کا تخلص بھی ڈال دیا ہے:

وہ آئے بزم میں اتنا تو میر نے دیکھا

پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی

اس شعر کو پہلے مہاراج بہادر برق کا شعر بتایا گیا مگر اب تازہ تحقیق سے ثابت ہوا کہ یہ شعر فکر یزدانی کا ہے اور اصل شعر یوں ہے:

وہ آئے بزم میں اتنا تو فکر نے دیکھا

پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی

ایسا ہی سلسلہ بہادر شاہ ظفر سے منسوب ایک غزل اور ایک شعر کا ہے۔ کون ہے جس نے بہادر شاہ ظفر کی یہ مشہور غزل نہیں سنی جس کا مطلع ہے:

نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں، نہ کسی کے دل کا قرار ہوں

جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشت غبار ہوں

مگر کیا کیا جائے کہ ناقدین اور محققین اس غزل کو مضطر خیر آبادی کی غزل بتاتے ہیں اور حال ہی میں مضطر خیر آبادی کے پوتے جاوید اختر نے مضطر کی جو کلیات شائع کروائی ہے اس میں بھی یہ غزل موجود ہے۔ بہادر شاہ ظفر سے وابستہ ایک اور شعر تھا:

عمر دراز مانگ کر لائے تھے چار دن

دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

مگر یہ شعر ذرا سی تبدیلی کے ساتھ سیماب اکبر آبادی کی غزل میں موجود پایا گیا جو ان کو مجموعے 'کلیم عجم' میں شامل ہے۔ سیماب اکبر آبادی کا اصل شعر کچھ یوں ہے:

عمر دراز مانگ کے لائی تھی چار دن

دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

اردو کے ایک مشہور شاعر ریاض خیر آبادی نے شراب کے موضوع پر اتنے خوبصورت شعر کہے کہ اس موضوع پر کہا گیا ہر اچھا شعر انہی سے منسوب ہو گیا۔ انھیں اشعار میں یہ شعر بھی شامل تھا:

صد سالہ دورِ چرخ تھا ساغر کا ایک دور

نکلے جو مے کدے سے تو دنیا بدل گئی

لوگوں نے یہ شعر ریاض خیر آبادی کے مجموعے میں بھی شامل کر دیا مگر حسرت موہانی نے بتایا کہ یہ شعر ریاض خیر آبادی کا نہیں بلکہ گستاخ رام پوری کا ہے۔

حسرت موہانی نے یہ غزل گستاخ رام پوری سے خود ایک مشاعرے میں سنی تھی۔

ہم نام شعرا کے مسائل

بعض مرتبہ یہ بھی ہوتا ہے کہ شاعروں کی ہم نامی کی وجہ سے بھی ایک شاعر کی غزل یا شعر اس کے ہم تخلص شاعر کی غزل یا شعر سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہی معاملہ کاکوری ڈکیتی کیس میں مشہور ہونے والی اس مشہور غزل کا ہوا جس کا مطلع تھا:

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

یہ غزل ایک عرصہ تک کاکوری ڈکیتی کیس میں سزائے موت پانے والے مجاہد آزادی رام پرشاد بسمل کی سمجھی جاتی رہی مگر جب یہ غزل ایک فلم میں شامل ہوئی تو محققین نے ثابت کر دیا کہ یہ رام پرشاد بسمل کی نہیں بلکہ ان کے ہم تخلص محمد حسین بسمل عظیم آبادی کی ہے اور ان کے مجموعہ کلام 'حکایت ہستی' میں بھی شامل ہے۔

یاس بیگانہ چنگیزی کا ایک شعر تھا:

ہر شام ہوئی صبح کو ایک صبح فراموش

دنیا یہی دنیا ہے تو کیا یاد رہے گی

اس شعر کے دوسرے مصرعے پر جوش نے مصرع لگا کر اسے اپنے ایک فلمی گیت کا مکھڑا بنا دیا۔

نگری میری کب تک یونہی برباد رہے گی

دنیا یہی دنیا ہے تو کیا یاد رہے گی

جوش کا یہ گیت فلم 'من کی جیت' میں شامل ہوا۔ یگانہ نے جوش کی اس حرکت پر بڑا احتجاج کیا مگر یہ احتجاج صد بصحرا ثابت ہوا۔

یہ تو معاملہ غزل کا تھا۔ مگر بہت سے اشعار اور مصرعے ایسے ہیں جو میر انیس سے منسوب کر دیے گئے ہیں مگر وہ کسی اور شاعر کے اشعار اور مصرعے ہیں۔ ایسا ہی ایک بہت مشہور مصرع ہے کہ:

کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے

یہ انیس کا نہیں بلکہ مرزا سلامت علی رہبر کے ایک مشہور مرثیے کا سرنامہ آغاز ہے۔ سو دوستو! اگر وزیر اعظم نے سید اسد معروف نامی ایک غیر معروف شاعر کی نظم اقبال سے منسوب کر دی تو قیامت برپا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اب تو اسد معروف اس نظم کی بدولت واقعی معروف ہوگئے ہیں۔ لوگوں نے تو اقبال کے علاوہ احمد فراز اور جون ایلیا سے بھی ایسے ایسے اشعار منسوب کر دیے ہیں کہ وہ اگر زندہ ہوتے تو خود سے منسوب ان اشعار کو پڑھ کر دوبارہ مر جاتے۔

اسی طرح دیکھا جائے تو اردو زبان کیساتھ بھی ہو رہا ہے، غلط فقرے، غلط الفاظ اور غلط تلفظ درست سمجھے جاتے ہیں، اور شاید نہیں بلکہ یقینی وجہ یہ ہے کہ اردو زبان کو پاکستان کی قومی زبان ہونے کے باوجود ملک میں وہ مقام حاصل نہ ہوسکا جو ہونا چاہیے تھا لیکن اس کے برعکس زبانِ غیر ہونے کے باوجود انگریزی ملک میں راج کررہی ہے۔چلیں یہاں تک تو پھر بھی قابلِ برداشت ہے۔ لیکن قابلِ افسوس بات یہ ہے کہ پاکستان میں روز بروز ترقی کرنے والا الیکٹرونک میڈیا اردو زبان کی مزید زبوں حالی کا سبب بن رہا ہے۔ زبان کے قواعد و ضوابط کے اعتبار سے اردو کا غلط استعمال الیکٹرونک میڈیا پر عام ہے جو یقینا اہلِ زبان اور صاحبانِ علم کے لیے انتہائی تشویش کا باعث ہے کیونکہ غلط یا غیر معیاری زبان کا فروغ پہلے ہی سے ملک میں عدم توجہ کا شکار اردو کی مزید بربادی کا باعث بن رہا ہے، حالانکہ یہی تفریحی اور خبروں کے چینل اردو زبان کے فروغ میں ایک اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔غلط اردو کا استعمال ٹی وی ڈراموں، اشتہارات، سیاسی و معاشرتی مباحثوں، خبروں، اور صبح نشر ہونے والے مارننگ شو وغیرہ میں عام ہوچکا ہے جس کے نتیجے میں ایک انتہائی غیر معیاری اور غلط زبان وجود میں آرہی ہے۔ٹی وی چینلوں پر سیاسی اور سماجی مسائل پر بے باک اور بے لاگ تبصرہ کرنے والے اور خبریں پڑھنے والے خواتین و حضرات کی اردو سے شرمناک حد تک ناواقفیت بھی زبان و لسان کی اس زبوں حالی کی اہم وجوہ میں سے ایک ہے، لیکن اس اعتبار سے سرکاری ٹی وی نے اپنے معیار کو تا حال بلند کر رکھا ہے۔

سرکاری ٹی وی پر باقاعدہ اردو شناس افراد کو ملازم رکھا جاتا رہا ہے، تاکہ زبان کا صحیح استعمال ہوسکے۔ میزبانوں کے انتخاب میں سرکاری ٹی وی کا معیار بالخصوص ماضی میں اتنا بلند ہوا کرتا تھا کہ قریش پور،عبیداللہ بیگ، ضیاء محی الدین، طارق عزیز، مستنصر حسین تارڑ، انور مقصود، لئیق احمد، اور فراست رضوی جیسے شاعروں، ادیبوں، دانشوروں اور صاحبانِ مطالعہ افراد کی خدمات حاصل کی جاتی تھیں۔لیکن دورِ حاضر میں نجی چینلوں پر معاملہ یکسر مختلف نظر آتا ہے۔ یہاں زبان انتہائی مظلوم نظر آتی ہے۔ تذکیر و تانیث، تلفظ اور بنیادی قواعد کی غلطیاں عام ہوچکی ہیں۔

٭٭٭


ای پیپر