کرونا وائرس اور میرے صحافی دوست
24 جون 2020 (17:47) 2020-06-24

فواد احمد

کرونا وا ئرس سے صحت یابی کے بعد میرے ساتھ اب فون پر کرونا کے متعدد مریض رابطے میں ہیں۔زیادہ میرے ذاتی جاننے والے اور بہت سے ایسے بھی ہیں جو فیس بک کے ذریعے منسلک ہوئے۔ کرونا سے متاثرہ افراد کی مدد اور مرض سے لڑنے کی حوصلہ افزائی کے دوران لوگوں کے ذاتی حالات اور مرض کی سنگینی کے مختلف زاویے دیکھنے کا موقع ملا۔تمام تجربات لوگوں سے شئیر کرنا اس لیے ضروری محسوس ہوتا ہے تاکہ غلط فہمی کو درست معلومات میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا سکے اورلوگوں کو حوصلہ بھی مل سکے کہ صرف موت کا ہی رقص نہیں بلکہ زندگی کی روشنی موت کے اندھیروں سے زیادہ طاقت ور ہے۔۔ بیمار صحت یاب بھی ہو رہے ہیں اور ایسے بھی مریض ہیں جنہیںسخت بیماری کا اندیشہ تھا لیکن وہ اللہ کے حکم سے بغیر علامات کے کرونا زدہ انسان ہیں۔۔۔مجھے امید ہے کہ کرونا متاثرین کی کہانی آپ کو ناصرف سخت خوف سے نجات دلائے گی بلکہ ممکنہ علامات کے حوالے سے آگاہی بڑھانے کا سبب بھی بنیگی۔

تمام کرونا متاثرین کے کرونا سے پہلے کے طبی حالات بھی آپ کے لیے علامات کا موازنہ آسان بنانے کے لیے لکھ رہا ہوں مزید یہ کہ ایک نئی تحقیق کے مطابق مخصوص بلڈ گروپ کے حامل افراد کا کرونا سے زیادہ متاثر ہونے کا اندیشہ ہے اس لیے بلڈ گروپ بھی ساتھ لکھنے کی کوشش ہے۔

پہلے تذکرہ ہو جایئے ان افراد کا جو صحت یاب ہو چکے :-

فضل محمود، عمر 56 سال، کرونا سے قبل کوئی خاص مرض نہیں تھا لیکن وزن زیادہ ہے۔نیو نیوز کی اسائنمنٹ ڈیسک کے انچارج ہیں۔بلڈ گروپ بی پازیٹو ہے۔فضل صاحب نے جب کرونا کی رپورٹ مثبت ہونے کا تذکرہ کیا اس وقت میں خود بھی کرونا کا شکار تھا۔ مایوسی اور غنودگی سارا دن سونے پر مجبور کرتی تھی۔فضل صاحب کی اطلاع کسی دھماکے سے کم نہیں تھی۔کیونکہ انکی عمر اس بارڈر لائن کے قریب تھی جو کرونا وائرس کے لیے زیادہ آسان شکار ہیں۔لیکن سب سے اچھی اور اہم بات یہ ہے کہ فضل صاحب بغیر کسی علامت کے صحت یاب ہوگئے اور اب آفس میں پہلے سے زیادہ توانائیوں کے ساتھ فرائض کی ادائیگی کررہے ہیں۔فضل صاحب کے اہل خانہ بھی کرونا سے بغیر علامت ہی صحت یاب ہو چکے ہیں۔

راجہ کامران۔نیو نیوز کے سینئر رپورٹر ہیں،ہیپاٹائٹس سے متاثر رہ چکے ہیں۔بلڈ گروپ بی پازیٹو ہے۔انکی اور میری بیماری کا عرصہ تقریبا ایک ہی تھا۔ کورونا سے پہلے انہیں کوئی مزید بیماری نہیں تھی لیکن وزن کی کچھ زیادہہے۔راجہ کامران نے صرف ایک علامت کا تذکرہ کیا کہ انکا پیٹ شدید خراب ہے ، کرونا کے ٹیسٹ سے پہلے انکو صرف شک تھا کہ پیٹ کے مسائل انکو اکثر درپیش رہتے ہیں۔مشورہ ہوا اور انہوں نے جناح اسپتال سے اپنا ٹیسٹ کرا لیا۔جومثبت آیا، لیکناب راجہ صاحب اور انکے بچے صحت یاب ہو چکے ہیں۔

جی این این ٹی وی کے رپورٹر نیاز علی خان۔خوبصورت اور کرونا سے قبل ہر قسم کی بیماری سے آزاد صحت مند نوجوان۔ صحت سے متعلق خبریں نیاز بھائی کی پہچان ہیں۔نیاز بھائی اچھے خاصے صحت مند اور اسمارٹ نوجوان ہیں۔ کرونا سے بیماری کے بعد ڈی ہائڈریشن نے اس قدر متاثر کیا کہ اسپتال میں داخل ہو گئے۔کہتے ہیں کہ جناح اسپتال کے کرونا وارڈ میں سہولیات اچھی تھیں لیکن اسپتال اپنے ساتھ مختلف درد ناک کہانیاں ضرور رکھتا ہے جو ڈپریشن کا سبب بنتی ہیں۔نیاز علی نے بتایا کہ جناح اسپتال کے کرونا آئیسولیشن وارڈ میں وہ سب سے کم عمر تھے۔اللہ نے ہمت اور طاقت دی اور آج اپنے صحافتی فرائض دوبارہ انجام دے رہے ہیں۔

نیو نیوز کے ای این جی انچارج جواد حسین۔وزن کافی زیادہ ہے اور بلڈ پریشر کا معمولی مسئلہ درپیش تھا۔میں چونکہ خود کرونا کے سبب اسپتال سے غیر حاضر تھا اس لیے جواد کی بیماری کا ایک ہفتے بعد معلوم ہوا۔ فون پر آواز ایسی تھی کہ جیسے بات کرنا مشکل ہو۔بتایا کہ ڈاکٹر نے سینے کا انفکشن بتایا ہے۔بس بیمار ہوں۔خیر جواد نے کرونا کا ٹیسٹ کرایا جو میری حسب توقع مثبت آیا۔اب حوصلے کا تحمل کا وقت شروع ہو گیا تھا۔آج جواد حسین الحمدللہ خیریت سے ہیں اور صحتیاب ہیں۔

ڈاکٹر عمر سلطان۔انکے والد اور بھائی۔ڈاکٹر عمر سلطان جو میری کرونا سے بیماری کے دوران خندہ پیشانی سے تمام سوالات اور سوالات سے بڑھ کر ہر چیز کی تفصیلی وجوہات جاننے کی عادت کو برداشت کرتے رہے تھے اب خود کرونا سے بیمار ہیں۔ان کے والد اب اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں،اللہ مغفرت فرمائے اور وبائکے باعث انتقال پر شہادت کی بشارت کے مطابق درجات بلند فرمائے۔اللہ ڈاکٹر عمر سلطان ا ور انکے گھر والوں کو بھی مشکل سے نجات دلائے۔

نصر اللہ ملک۔بلڈ گروپ او پازیٹو۔نیو نیوز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور پروگرام اینکر۔جگر ، کرونا سے پہلے بھی متاثر تھا لیکن اس کاصحت پر کوئی واضح اثر ظاہر نہیں تھا۔عمر پچاس سال سے اوپر۔ملک صاحب میرے استاد اور باس ہیں۔جناب ان لوگوں میں سے تھے جو کرونا اور اسکے بعد لاک ڈاؤن کو نا صرف غریب کی موت بلکہ نیو ورلڈ آرڈر اور عالمی طاقتوں کا ایجنڈا سمجھتے تھے۔اس ضمن میں حوالے بھی بہت تھے اور دلیل کی کمی بھی نہیں تھی۔ کرونا پر عدم یقین کی وجہ سے احتیاط بھی بس نہ ہونے کے برابر تھی۔جمعہ کاہی دن تھا۔فون پر بتانے لگے کہ غیر معمولی تھکاوٹ کا سامنا ہے لیکن پروگرام کرنے اسٹوڈیو جانا مجبوری ہے۔ میں نے تقریبا ضد ہی کی کہ انفراریڈ تھرما میٹر کے بجائے شیشے کے تھرمامیٹر سے بخار چیک کریں۔شدت سے انکار کرتے رہے اور آخر مان گئے۔اس دوران اپنے دفتر کے کمرے سے فون کیا کہ اب طبعیت ایک دم شدید ڈاؤن ہو رہی ہے۔کمزوی کا احساس غالب ہے اور اے سی بھی پسینہ خشک کرنے سے قاصر ہے۔ اس دوران شیشے والا تھرمامیٹر بھی آ گیا۔بخار چیک کیا جو سو ڈگری تھا۔ہاتھ پاؤں جیسے جل رہے ہوں۔ میری بات کہاں مانتے۔یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے سربراہ ڈاکٹر جاوید اکرام کو فون کیا جو کچھ ہی دیر میں لائیو وتھ نصر اللہ ملک کے مہمان بھی تھے۔ڈاکٹر صاحب کے مشورے سے ملک صاحب فوری گھر چلے گئے اور کمرہ علیحدہ کر لیا۔لیکن شاید دیر ہو چکی تھی کیونکہ دو روز بعد ملک صاحب کی اہلیہ اور صاحبزادے نے بھی علامات کی شکایت کیں اور ٹیسٹ حسب توقع مثبت آیا۔لیکن اب نصراللہ ملک صاحب وائرس سے تقریبا آزاد لیکن آفٹر شاکس سے مقابلہ کر رہے ہیں۔اللہ نصر اللہ ملک صاحب اور انکی فیملی کو جلد صحت عطا فرمائے۔ آمین۔

نیو نیوز کے ڈائریکٹر نیوز محمد عثمان اور ڈائریکٹر آپریشن خواجہ وحید اختر۔دونوں کا بلڈ گروپ او پازیٹو ہے۔وزن کی زیادتی کا شکار ہیں۔دونوں ہی بلڈ پریشر کا شکار ہیں جبکہ عثمان صاحب کو شوگر بھی ہے۔نصر اللہ ملک صاحب میں کرونا کی تشخیص کے بعد کیفیت یہ تھی کے ان سے ملنے جلنے والے پریشان تھے۔مذکورہ دونوں حضرات بھی تشویش کا شکار ضرور تھے لیکن ٹیسٹ سے گھبرا رہے تھے۔دونو ں کے بقول وہ بالکل ٹھیک ہیںاور پھر ٹیسٹ کرایا گیا جو مثبت آیا۔ اَب یہ دونوں دوست تندرست ہو کر ڈیوٹی جوائن کر چکے ہیں۔ اللہ سب کو محفوظ رکھے۔

رضوان جرال اور محمودخالق۔ایک صاحب پروگرامنگ اور اور دوسرے ڈائریکٹر ٹیکنیکل ہیں۔ رضوان تو کرونا کے آغاز کے ساتھ ہی انتہائی خوفزدہ تھا۔انتہائی احتیاط بھی کی لیکن نصر اللہ ملک صاحب کے ساتھ گھومنا اور محفلیں لگانا ترک نہیں کیا۔نتیجہ یہ کہ موصوف کا کرونا مثبت ہے لیکن علامات نہیں ہیں۔دوسری جانب محمود معدے کے مختلف مسائل سے پہلے ہی نبرد آزما تھا۔مزید نہ صرف پیٹ خراب ہے بلکہ بخار بھی ہے۔سینے پر دباؤ کی شکایت ہے لیکن ٹوٹکوں سے سکون مل ہی جاتا ہے۔بلڈ گروپ اے پازیٹو ہے اور فی الحال کرونا کے نچلے درجے کا شکار ہے۔اللہ جلد صحت دے۔ آمین

سب سے اچھی خبر یہ بھی ہے کہ میرے دوستوں فرحان عبدالمنان کے 77 سالہ والد، حامد الرحمن کے نوے سالہ والد اور قاضی محمد یاسر کی پینسٹھ سالہ والدہ الحمدللہ کرونا سے جنگ میں کامیاب قرار پائے ہیں۔ اللہ ہمارے بزرگوں کا سایہ سلامت رکھے۔آمین

رات اب طویل ہو چلی ہے۔داستان اب سمیٹنا ہوگی۔ کرونا سے متاثرہ بہت سے سرکاری افسران کے علاو سمندر پار پاکستانی دوست بھی شامل ہیں۔زیادہ سوال اسی بارے ہیں کہ کیسے کرونا آئیسولیشن کو گذارنا ہے۔ٹوٹکے اور ادویات کیا ہو سکتی ہیں۔زیادہ تر لوگ شاید اپنے ڈاکٹر کی ہدایت سے مطمئن نہیں ہو پاتے یا پھر اکثر کوڈاکٹر میسر بھی نہیں آتے۔ٹیسٹ کب کرایا جائے کا بھی کوئی ایسا تسلی بخش جواب میرے پاس نہیں ہے۔بس یہی تجویز ہے کہ اگر کرونا کے کسی کنفرم کیس کے ساتھ بہت قریبی رابطہ رہا ہے یا علامات ظاہر ہو رہی ہیں تو ٹیسٹ کر ا لیں۔ٹیسٹ آپ کے لیے نہیں بلکہ آپ سے متعلق لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ہوتا ہے۔بس یہی تجویز سمجھ میں آتی ہے کہ کھڑکی کے قریب کسی جگہ کو، کسی کونے کو اپنا مسکن بنائیں، صفائی کا خیال رکھیں ، برتن الگ کر لیں اور جتنا ہو سکے دیگر افراد سے دور رہنے کی کوشش کریں۔ اللہ سب کی مشکلات آسان فرمائے۔ آمین۔احتیاط ضروری ہے۔

کرونا اب فسانہ نہیں حقیقت بن چکاہے۔ہر گھر کی دہلیز پر عجب خوف کا ڈیرا ہے۔اب یہ اٹلی یا اسپین کی نہیں میرے پڑوس کی کہانی ہے۔ کرونا کے وجود سے یکسر انکاری لوگ بھی اب رائے بدل رہے ہیں۔پہلے ڈھونڈنے سے ملنے والے مریض اب ڈھونڈے بغیر ہی ہمارے درمیان موجود ہیں۔میں خود بھی اٹھائیس روز تک کرونا کی قید میں جکڑا رہا۔بے یقینی کی کیفیت نے یقین کو بار بار توڑنے کی کوشش کی۔لیکن شاید قدرت اور پیاروں کی دعاؤں نے سرخرو کیا۔میں اب عام زندگی گذارنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ کرونا سے صحت یابی کے بعد اپنے تجربات بانٹنے کا کام صرف اس لیے شروع کیا کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ یہ بھی صدقہ جاریہ ہے۔ اگر لکھنے اور بولنے کی صلاحیت مجھے عطا کی گئی ہے تو مزید لوگوں کو پریشانی اور غیر یقینی سے کسی حد تک محفوظ رکھنے کی کوشش کرنا میرا اولین فرض ہے۔

چلتے چلتے۔

کرونا سے صحت یاب ہونے کے بعد لوگوں کے بہت سے سوالات نے گھیر لیا۔ بہت سے جوابات مجھے بھی معلوم نہیں تھے۔اس لیے صحت یابی کے بعد اپنے پہلے ٹی وی پروگرام میں جو گھر سے ہی کیا۔ مہمان ڈاکٹر ثاقب انصاری تھے جنہوں نے پاکستان میں کرونا کے سب سے پہلے مریض یحییٰ جعفری سے پلازمہ عطیہ لے کر محفوظ بنایا تھا۔ معلومات اور سہولت کے لیے کچھ باتیں اختتام سے پہلے عرض کیے دیتا ہوں۔

سوال تھا کہ کیا پاکستان میں پیسو امیونایزیشن کا منصوبہ ناکام ہو چکا ہے کیونکہ اس وقت تک حیدر آباد کے سات مریضوں کو پلازمہ لگایا گیا لیکن صرف دو جانبر ہو سکے اسی طرح جناح اسپتال کراچی میں پلازمہ تھراپی کے زیادہ تر مریض انتقال کر گئے۔ ڈاکٹر ثاقب کا کہنا تھا کہ مسئلہ پلازمہ تھراپی کی ناکامی کا نہیں بلکہ اس طریقہ علاج کے لیے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ ماہر ڈاکٹرز کی ایک ٹیم پلازمہ لگاتے ہوئے مریض کے ہمراہ موجود رہے۔مریض کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال پر ٹریٹمنٹ کا فیصلہ کرے اور صحت یابی تک مریض کے ساتھ رہے لیکن ہمارے نظام صحت کا المیہ ہے کہ ڈاکٹرز کی کمی ہے اور ایسا ممکن نہیں ہو پاتا اس لیے مریض کی پلازمہ کے بعد صحتیابی کے امکانات کو ہمارا بوسیدہ نظام صحت ناکام بنا دیتا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں ڈاکٹر ثاقب انصاری کا ماننا تھا کہ پاکستان میں کرونا کا وار دیگر ممالک کے مقابلے میں کمزور ہے۔اسکی وجہ ڈاکٹر صاحب کے نزدیک ہمارے عوام کی دیگر ممالک کے مقابلے میں بہتر قوت مدافعت کے ساتھ ساتھ وائرس لوڈ کی کمی بھی ہے جو وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اسکی ہیت کی تبدیلی کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے۔

آخری اور سب سے اہم بات۔خدا نخواستہ آپ یا آپ کا کوئی پیارا اگر کرونا کا شکار ہو جائے تو اسکا سوشل بائیکاٹ کرنیکے بجائے اس کا خوب خیال رکھیں، اس کی دلجوئی کی جائے، حوصلے کو بلند کرنے کی کوشش کی جائے کیونکہ آپ کا صرف اتنا کام اسے مزید کسی ذہنی دباؤ سے بچا یاجائے جو جلد صحتیابی کے لیے ضروری ہے۔

٭٭٭


ای پیپر