میثاق معیشت سے میثاق سیاست تک
24 جون 2019 2019-06-24

قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ثالثی کی راہ تو نکال لی ، لیکن اب معاملے کو مزید آگے بڑھانا وزیراعظم اور اپوزیشن رہنمائوں کا کام ہے۔وزیراعظم عمران خان سے اسپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر نے ملاقات میںقومی اسمبلی میں موجودہ حکومتی حکمت عملی، اپوزیشن اور حکومتی اراکین کی بجٹ تقاریر پرتبادلہ خیال کیا گیا جبکہ خصوصی پارلیمانی کمیٹیوں کی تشکیل پربھی بات چیت ہوئی۔ اوربجٹ منظور کروانے کے حوالے سے حکمت عملی کے بارے میں وزیراعظم کو بریفنگ دی۔ اسد قیصر نے وزیرا عظم کو سمجھایا کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے کی حکمت عملی حکومت کے حق میں نہیں۔ اس طرح سے اپوزیشن کے حق میں ماحول بن گیا ہے۔ عددی اعتبار خواہ حکومت بجٹ منظور کرا لے، اگر اپوزیشن نے ووٹنگ میں حصہ نہ لیا تو عالمی اور ملکی سطح پر اس بجٹ اور حکومت کی سیاسی ناکامی سمجھی جائے گی۔ جب اپوزیشن اس بجٹ کو آایم ایف کا بجٹ کہہ رہی ہے تو اس کے لئے ووت کرنے نہیں جائے گی ، تو یہ عالمی مالیاتی ادارے کے لئے کوئی اچھا پیغام نہیںہوگا۔ وزیراعظم کو یہ بتایا گیا کہ اپوزیشن کی دو بڑی پارٹیوں کے رہنما شہباز شریف اور آصف زرداری معیشت کی بحالی کے لئے تعاون کے لئے ہاتھ بڑھا رہے ہیں اس کا فائدہ اٹھانا چاہئے۔

سپیکرقومی اسمبلی کی یہ بات کسی طرح سے وزیراعظم کی سمجھ میں آگئی۔ اور انہوں نے اپوزیشن کیساتھ میثاق معیشت طے کرنے کی منظوری دیدی اور فیصلہ کیا گیا کہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کیلئے اعلی سطحی پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے گی، اور امکا ن ہے کہ میثاق معیشت کمیٹی میں سینیٹ و قومی اسمبلی کے تمام سیاسی جماعتوں سے اراکین شامل کئے جائینگے۔ یہ بات واضح رہے کہ میثاق معیشت کمیٹی کے قیام کی تجویز اپوزیشن جماعتوں نے دی تھی تاکہ سیاسی جماعتوں کے اہم رہنما ملکی معیشت میں بہتری کیلئے تجاویز دے سکیں۔

وزیراعظم کی جانب سے اپوزیشن کی پیشکش پر مثبت رد عمل سے تین روز پہلے وزیراعظم قومی ترقیاتی کونسل کی تشکیل کا اعلان کر چکے ہیں ۔ اس کونسل کے آرمی چیف بھی ممبر ہیں۔ یہ بات شدت سے محسوس کی جارہی تھی کہ فیصلہ سازی میں پارلیمنٹ اور منتخب نمائندوں کو کونے میں کھڑا کیا جارہا ہے۔ تمام پالیسیاں مستعار لئے ہوئے ٹیکنوکریٹ بنا رہے ہیں اور ان پر عمل کر رہے ہیں۔ نتیجے میں خود حکمران جماعت کے اراکین اسمبلی بھی بجٹ پر تنقید کر رہے ہیں۔ پورا ماحول غیر سیاسی اور غیر پارلیمانی بن رہا ہے۔ ٹیکس کی وصولی اور ملک کی معاشی پالیسیوں کے بارے میں روز نئے فیصلے سامنے آرہے ہیں۔ ان تمام فیصلوں اور اعلانات کو نہ عوامی اور نہ ہی سیاسی حمایت حاصل ہے۔

جس طرح سے عمران خان نے کرپشن کا بیانیہ مقبول کرالیا تھا اسی طرح اپوزیشن نے مہنگائی اور بجٹ کا معاملہ مقبول کرالیا ہے۔ اب اس کی چھتری کے نیچے حکومت کے خلاف ہر بات کی جاسکتی ہے اور قدم اٹھایا جاسکتا ہے۔ جس کا انداز مسلم لیگ نواز کی ترجمان مریم اورنگزیب کے اس موقف سے لگایا جاسکتا ہے کہ’’ عوام نالائق حکمرانوں کو ٹیکس نہیں دیں گے۔‘‘اگر واقعی یہ بات چل نکلتی ہے تو حکومت کتنے لوگوں کو گرفتار کرے گی؟

مقتدرہ حلقوں کو بھی محسوس ہوا کہ مالی معاملات کی اتنی پیچیدہ صورتحال اور اس کے ساتھ سیاسی بحران کو حل کرنا عمران خان کے بس کی بات نہیں۔ یہ اندازہ آئی ایم ایف کو بھی ہوگیا۔ آصف زرادری نے صورتحال کو بھانپ لیا، اور انہوں نے اسمبلی میں کہا کہ ماضی کے قصے چھوڑیں، آگے کیا کرنا ہے اس پر بات کریں۔ ان سے پہلے شہباز شریف بھی اپنی تقریر میں یہ اشارہ دے چکے تھے۔ اس کے بعد اسپیکر اسد قیصر نے اپنا رول ادا کیا۔ مذاکرات چل رہے ہیں۔ ہر فریق اپنے مطالبات اور شرائط رکھ رہا ہے۔

اپوزیشن نے کہا ہے کہ میثاق ِ معیشت کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان خودپوزیشن سے بات کریں اور میثاق ِ معیشت پرلائحہ عمل بتائیں۔آصف زرداری نے کہا کہ میثاق ِ معیشت پر وزیراعظم اپنا مکمل موقف واضح کریں، ہم اپنی پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں سے بات کرکے جواب دینگے۔پیپلزپارٹی کے سیدخورشید شاہ نے کہا کہ ایک طرف معیشت کی بات اور دوسری جانب این آر او کا الزام لگاتے ہیں۔ بجٹ پر بحث کے دوران مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر اور آصف زرداری نے میثاق ِ معیشت کی بات کی، اسے حکومت نے کمزوری سمجھا، یہ رویہ ہے تو ہمیں بھی ضرورت نہیں، اگر رویہ ٹھیک ہوا تو ملکی مفاد میں میثاق ِ معیشت ہو سکتا ہے، اگر رویہ ٹھیک نہ ہوا تو ایک میز پر بھی نہیں بیٹھ سکیں گے۔ظاہر ہے کہ صرف معیشت پر بات نہیں ہوگی۔یہ سب کچھ مقتدرہ حلقوں کی تائید کے بغیر ممکن نہیں۔ اپوزیشن کے لئے سب سے بڑی فرمائش نواز شریف اور آصف زرداری کے لئے رلیف لینا ہوگا۔

تقریبا ستر سال کی عمر میں دو بوڑھے نواز شریف اور آصف علی زرداری استقامت کے ساتھ کھڑے ہیں۔دونوں پارٹیوں کی نوجوان قیادت زیادہ جذباتی ہو رہی ہے۔ مریم نواز نے یہ پیغام دیا ہے کہ یہ کوئی مصر نہیں جہاں نواز شریف کا حال سابق مصری صدر مرسی جیسا ہو۔وہ آخری حد تک جانے کے لئے تیار ہے۔انہوں نے میثاق معیشت کا مذاق اڑایا۔ وہ سمجھتی ہیں کہ یہ آخری موقعہ ہے کہ نواز شریف کے لئے کوئی رلیف حاصل کیا جائے۔ بلاول بھٹو نے نوابشاہ میں عمران خان سے کہا کہ تم نے میری بہن کو رلایا ہے۔دوسرے روز آصف علی زرداری نے یقین دہانی کرائی اور کہا کہ مریم بی بی ہماری بیٹی ہے۔ جو بھی فیصلہ ہوگا وہ متحدہ اپوزیشن مل کر رکے گی۔ زرداری نے بظاہر تعلقات کو ذاتی بنایا لیکن اس کے پیچھے پیغام یہ ہے کہ پیپلزپارٹی الگ سے کوئی ڈیل نہیں کر رہی۔ تم کو بھی آن بورڈ لیا جائے گا۔ پھر مریم نواز نے وضاحت کی کہ میثاق معیشت پر ان کے بیان کو میڈیا نے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا۔تاہم اس وضاحت کے ساتھ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کا بیان آیا کہ بیانہ صرف نواز شریف کا چلے گا۔

آصف علی زرداری جب کہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کے پاس این ٓر او دینے کا کوئی اختیار نہیں جبکہ مستقبل میں ان کیساتھ بیٹھنے کا کوئی امکان بھی نہیں ہے ہم ن لیگ کے ساتھ بیٹھ گئے ہیں لیکن عمران خان کے ساتھ بیٹھنا مشکل ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ عمران خان سے نہیں بلکہ مقتدرہ حلقوں سے بات کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ سلیکٹیڈ وزیراعظم کی اصطلاح اوربیانیہ کا حصہ ہے ، یعنی مصنوعی طور پر لائے گئے وزیراعظم ہیں، اس کے پیچھے اصل کچھ اور قوتیں ہیں۔ حکومت کویہ بات دس ماہ بعد سمجھ میں آئی کہ اس کی معنی کیا ہیں۔

عمران خان کے لئے بہت ہی حساس صورتحال ہے۔ ان کے پاس بات چیت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ ا وران ساتھ بات چیت کرنے جارہا ہے، جن رہنمائوں کو چور اور لٹیرے کہہ رہا تھا ۔دونوں صورتوں میں ان کی سیاسی حیثیت کم ہو رہی ہے۔


ای پیپر