ایک اور پنڈورا بکس کھل گیا
24 جون 2019 2019-06-24

مریم نواز ایک لمبے عرصے کے بعد متحرک کیا ہوئیں ایک زور دار اور تہلکہ مچانے والی پریس کا نفرنس کر ڈالی جس کے لیے جس کے لیے ا نہوں نے اسلام آباد کا انتخاب کیا اور پورے ستر منٹ تک کانفرنس میں تابڑ توڑ حملے کیے۔ کھل کر مسلم لیگ کا بیانیہ پیش کیا۔ میثاق جموریت پر اپنا موقف پیش کیا۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں عمران خا ں کے بارے میں نالائق اعظم نے ا لفاظ استعمال کئے قرضوں کے آڈٹ کرنے والے کمیشن کو مسترد کیا۔اس کمیشن کو تو نواز شریف کے بیانیہ کے حامی احسن اقبال پہلے ہی جے آئی ٹی قرار دے چکے تھے۔ مریم کی اس پریس کانفرنس کو پرائم ٹائم میں سب چینل نے مرچ مسالے لگا کر اپنے اپنے انداز سے اینگلز سے پیش کیا۔اب اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ اب مریم نواز اب نواز شریف کے بھرپور بیانیہ کے ساتھ سیاست کریں گی وہ ملک بھر میں مسلم لیک کے کارکنوں کو متحرک کرنے کے لیے اپنی ماہ مرحومہ کلثوم نواز کی طرح ملک کے کونے کونے جانے کا عزم کر چکی ہیں وہ کارکنوں کو جگانے کا ارادہ رکھتیں ہیں وہ مزاحمتی سیاست کے ساتھ میدان میں آئیں گی اور ان پریس کانفرنس کوحکومت کے ترجمانوں نے اپنے چچا اور قائد حرب اختلاف شہباز شریف کی سیاست پر حملہ قرار دیا یہ بھی کہا گیا کہ ایک جماعت میں دو بیانئے چل رہے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ شہباز شریف کے صدر بنتے ہی پارٹی غیر متحرک ہوتی چلی گئی۔نواز شریف اور مریم کو سب علم ہے کہ انہیں اس آزمائش میں کیوں ڈالا گیا ہے خدائی مخلوق کا ایک زمانے میں بڑا چر چا تھا۔۔ مریم نواز کے متحرک ہونے سے سب سے زیادہ پریشان تو حکومت ہے۔ مریم کی ماں اس وقت دنیا سے رخصت ہو گئی جب وہ مقدمات کا سامنا کر رہی تھی۔ اب تو وہ جیل کے تماشے بھی دیکھ چکی ہیں۔ اب جیل جانے کا خوف ان سے اتر چکا ہے۔ حکومت نے پھوٹ کا جو تاثر دیا ہے اس کا جواب بھی مریم نے اتوار کے روز دے دیا ہے۔مریم نے ایک بار پھر کہا کہ ’’ ان کے خیال میں میثاق معیشت ،مذاق معیشت ہے‘‘ ۔ جس طرح میڈیا پر حکومت نے قبضہ جما رکھا ہے اس کے بارے میں مریم نے وضاحت دی ہے کہ ’’ان کے بیان کو جس طرح پیش کیا ہے اس سے ان کے اور ان کے چچا شہباز شریف کی دل آزاری ہوئی ہے‘‘ انہوں نے ایک با رپھر کہاکہ ’’جو شخص جعلی طریقے سے ا قتدار میں آیااس کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت نہیں اور میثاق نہیں کرنا چاہیے۔ہمیں اس جرم میں حصہ دار نہیں بننا چا ہیے جو مینڈٹ چرا کر آتا ہے ہمیں اس کو میثاق کی آفر نہیں کرنی چاہیے۔آپ اس کو تو آپ عبرت کا نشان بناتے ہیں۔اس وضاحت میں مریم نے واضح کر دیا کہ آخری فیصلہ نواز شریف کا ہے۔آصف زرداری نواز شریف کے خیالات سے متفق ہیں اور وہ پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر مریم اور بلاول کو کافی اونچائی پر دیکھ رہے ہیں۔مریم کے تازہ بیان پر رد عمل میں انہوں نے بھی وہی کہا ہے کہ میثاق معیشت کا فیصلہ اے پی سی میں ہوگا۔مریم بھی تسلیم کریں گی۔ سچ بات یہی ہے ملک کی معیشت ڈوب رہی ہے موجودہ حکومت نے اتنے عرصے میں سب سے زیادہ قرضے لے چکی ہے ان پر بھی تو سود ادا کرنا پڑے گا۔اس کے باوجود سارا بوجھ غریبوں کو شفٹ ہورہا ہے۔ افراط زر سے بھی معاملات درست نہیں ہو رہے۔برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا اقتصادی بحران کے ساتھ سیاسی بحران بھی سر اٹھا رہا ہے۔ مگر حکومت کو جیسے کسی کی پروا نہیں۔ مریم نواز کے خیالات کے بعد نیب نے شہباز شریف پر آمدن سے زیادہ اثاثوں بنا نے کا الزام لگا کر شہباز شریف کو 5 جولائی کو طلب کر لیا ہے۔ 5جولائی تو ایسا المناک دن تھا جب ضیا الحق کے ساتھیوں کے بوٹوں سے جمہوریت کا چہرہ داغ دار ہوا تھا۔اب مسلم لیگ کی مرکزی اور دوسرے نمبر پر قیادت کو گرفتار کرنے کا منصوبہ تھا۔ خورشید شاہ نے کس کے کہنے پر موجودہ چئرمین نیب کا نام پیش کیا تھا یہ ایک گہری سازش ہوئی تھی جس کو خورشید شاہ اوراس وقت کے وزیر اعظم خاقان عباسی نہیں سمجھ سکے تھے۔ ایسا ہوتا بھی ہے۔پروڈکشن آڈر پر آئے ایم این اے خواجہ سعد رفیق جب باہر بھی تھے وہ کپتان کو ایک مہرہ کہتے تھے جو باتیں وہ تبدیلی سرکار کو سمجھاتے تھے۔ حکومت کی پھیلتی نااہلی سے سلسلہ اسی طرف جاتا نظر آ چکا ہے۔ مسلم لیگ سمجھتی ہے کہ احتساب کے نام پر انتقام ہو رہا ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے احتساب کے نام پر کارروائیاں ملک کو پیچھے لے جاتی ہیں۔ کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بڑے عرصے کے بعد ایک طاقتور اپوزیشن دے گی اور کپتان کی دھمکیوں اور ایک پیج پر دعوے کے باوجود اب ان کے لیے حکومت کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔آصف زرداری کی کچھ لوگوں کوضرورت پڑ رہی ہے وہ نواز شریف کی طرح جیل جانے کے باوجود سیا ست کو مرکز رہیں گے۔ چئرمین سینٹ کو عدم اعتماد سے ہٹانے کا فیصلہ بھی آل پارٹیز کانفرنس میں ہونا ہے اس وقت اپوزیشن کے پاس دو تہائی اکثریت ہے اور آسانی سے صادق سنجرانی کو اس عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔پہلے تو مدد کے لیے وزیر اعظم کے پاس گئے وہاں سے آشیر باد کے باوجود دل کو تسلی نہیں ہوئی اتوار کو چئر مین سینٹ آصف واری سے پارلیمنٹ پہنچے اور عدم اعتماد سے بچانے کی التجا کرڈالی۔

دوسری جانب اتوار کو بھی بجٹ اجلاس ہوا۔اس طویل اجلاس میں ایسے ایسے ارکان کو بھی بجٹ پر پہلی مرتبہ بولنے کا موقع ملا جو اس اسمبلی میں کوشش کے باوجود ان کو تقریر کا موقع نہیں ملا ان ارکان کی اکثریت وزیر اعظم عمران خان کے قصیدے پڑھتے رہے اور ترقیاتی بجٹ کی درخواست پر اپنی تقریر کو ختم کرتے رہے۔ویسے تو حکومتی بینچ بھی بولتے رہے مگر احسن اقبال کی تقریر ایسی تھی جس سے حکومتی ارکان دفاع پر مجبور ہو گئے۔احسن اقبال نے اپنی تقریر میں پوچھا

حکومت بتائے ایک سال میں 5ہزار ارب روپیہ قرض لے کر کہاں لگایا۔بھینسیں اور گاڑیاں بیچ کر ہماری پگڑیاں اچھالی گئیں تو ملک کی گلی محلے میں آپ کی پگڑیاں اچھالیں گے۔ کپتان نے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلا لیا۔ تاکہ صف بندی کی جا سکے۔ اب بجٹ پر بحث سمیٹنے کا سوال ہے۔

حکومت اپنا پہلا بجٹ ایسے ماحول میں پاس کر انے جا رہی ہے ۔ جب سیاسی جماعتوں کے علاوہ سرکاری ملازم،کسان،تاجر اور عام آدمی چیخ و پکار کر رہا ہے۔اپوزیشن جماعتیں 26جون کو مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں آل پارٹیز کانفرنس کرنے جا رہی ہیں۔اب خطرناک اور لاک ڈاؤن کا دور شروع ہونے والا ہے۔ پارلیمنٹ نے اندر ڈپٹی سپیکر نے ایک رولنگ سے نیا پنڈورا بکس کھول دیا کہ اب ان کے محبوب وزیر اعظم کے بارے میں کوئی سلیکٹ کا لفظ استعمال نہ کرے یہ رولنگ وزیر توانائی عمرایوب نے تحریک استحقاق پیش کی ۔ان کا استحقاق مجروع ہوتا ہے جب ان کے وزیر اعظم کو سیلکڈ کہا جاتا ہے۔

آج کے بعد کوئی وزیر اعظم کے بارے میں سلیکٹ کے الفاظ استعمال نہ کرے اس رولنگ کے جواب میں اپوزیشن کے عمران خان کے بارے میں سلیکٹ وزیراعظم کا شور مچایا۔ پارلیمنٹ میں بیٹھا ہر ممبر منتخب ہو کر آیا ہے۔ابھی کل کی بات ہے۔ جب اسی پارلیمنٹ اور منتخب پارلیمنٹ پر حملہ کیا گیا نوجوانوں کو گمراہ کیا گیا ۔ عمران خاں کی طلسماتی شخصیت نے نوجوان مردوں اور خواتین کی آرزوئوں کو شعلہ صفت بنا دیا اُن کے اندر یہ جھوٹا احساس بھر دیا تھا کہ انتخابات میں اُن کا مینڈیٹ چرا لیا گیا ہے، وزیر داخلہ ن چوہدری نثار ننے فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چالیس نشستوں کا ریکارڈ کھول دینے کی پیشکش کرکے عمران خان کے حوصلے بڑھائے کہ لگے رھو۔ پیپلز کی تجویز پر پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا مشترکہ اجلاس منعقد کیا۔ اور اس سازش کو ناکام بنایا جو پارلیمنٹ کو مسمار کرنے آئے تھے۔ لشکری جو دھاوا بولنے آئے تھے ڈپٹی سپیکر اب ان لشکریوں کے ڈپٹی سپیکر ہیں۔ دھاندلی تو ہوتی آئی ہے مگر نواز شریف پر لگنے والے الزام کا فیصلہ ایک کمیشن نے کیا۔اس کمیشن نے کپتان کے الزام کو مسترد کر دیا۔ اور اپنی رپورٹ میں بتایا کپتان کوئی الزام ثابت نہ کر سکے۔ڈپٹی سپیکر کے علم میں ہے کہ کپتان کی حکومت پر فارم 45 میں ہیرا پھیری کا الزام ہے۔ نقارہ بج چکا ہے بپھری اپوزیشن بڑا فیصلہ کرنے جارہی ہے۔اب بھی وقت ہے قومی حکومت قائم کی جائے ۔ضد تو چلنے والی نہیں ہے۔


ای پیپر