مزاج کی بے اعتدالی !
24 جون 2019 2019-06-24

اعتدال ایک ایسا طرز عمل ہے جس کے نتیجہ میں ہمیشہ خیر کا پہلو نمایاں رہتا ہے۔برخلاف اس کے بے اعتدالی ہر اعتبار سے فرد ،ملت اور معاشرہ کو بگاڑ کی جانب گامزن کرتی ہے۔ایسا شخص جواعتدال سے تجاوز کرتا ہواور میانہ روی اس کی پہچان نہ ہودنیا میں کوئی بڑا کام انجام نہیں دے سکتا۔برخلاف اس کے ایک معتدل مزاج شخص ہر وہ ہدف حاصل کر سکتا ہے جس کی تمنا وہ اپنے دل میں لیے ہوئے ہے اور جسے وہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ مزاج کی بے اعتدالی دراصل فکر و نظر کے کمزور ہونے اور حقائق کی گہرائی یا گیرائی سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔جس کے سبب انسان اندرون خانہ و بیرون زمانہ اپنے آپ کو اکیلا سمجھنے لگتا ہے،وہ ہر آزمائش کو بطور چیلنج قبول کرنے سے قاصر ہو جاتا ہے،یہاں تک کہ تھک ہار کر ان بڑے مقاصد کو چھوڑ بیٹھتا ہے،جنہیں وہ کبھی حاصل کرنا چاہتا تھا۔دوسری جانب انتہا پسندانہ اسکیمیں جو انتہا پسندانہ طریقوں سے چلائی جاتی ہیں عام انسانوں میں اثر پذیر ی کے اعتبار سے ناکام ثابت ہوتی ہیںلہذاعام انسان ان طریقوں سے کراہیت محسوس کرتا ہے اور جو لوگ اس طریقہ کو اختیار کرتے ہیں ،ابتدا میں تو وہ ضرورت سے زیادہ جوش و جذبہ میں ہر تنقید کو آزمائش سمجھتے ہیں لیکن رفتہ رفتہ ناکامی کے سبب ان میں مایوسی پیدا ہوجاتی ہے اور وہ معاشرہ میں کوئی بڑا کردار ادا کرنے کے لائق نہیں رہتے۔اور اس سب کی بنیادی وجہ فکر و نظریہ اور اعمال و طریقہ کار کایک رخا پن ہے۔اس کیفیت میں مبتلا ہوکر متذکرہ افراد و گروہ کو تصویر کا ایک ہی رخ ابھرا ہوا نظر آتا ہے اور دوسرے رخ کو وہ دیکھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ قرآن وسنت میں بہت سی ایسی آیات واحادیث ہیں جو اسلام کی وسطیت اور اس کے افراط وتفریط سے پاک متوازن ومعتدل ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ ایسی وسطیت جس میں کوئی انحراف وکجی نہیں ہے۔ لہذا بحیثیت مسلمان ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم غلو وتقصیر اور افراط وتفریط سے پاک زندگی بسر کریں۔ نہ اس میں انتہا پسندی ہواور نہ ہی سستی وکاہلی۔

سورۃ لقمٰن میں حضرت لقمٰن اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:"بیٹا، کوئی چیز رائی کے دانہ برابر بھی ہو اور کسی چٹان میں یا آسمانوں یا زمین میں کہیں چھُپی ہوئی ہو، اللہ اُسے نکال لائے گا، وہ باریک بیں اور باخبر ہے۔ بیٹا، نماز قائم کرنے کی کا حکم دے، بدی سے منع کر، اور جو مصیبت بھی پڑے اس پر صبر کر ۔ یہ وہ باتیں ہیں جن کی بڑی تاکید کی گئی ہے ۔ اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر، نہ زمین میں اکڑ کر چل، اللہ کسی خود پسند اور فخر جتانے والے شخص کو پسند نہیں کرتا۔ اپنی چال میں اعتدال اختیار کر، اور اپنی آواز ذرا پست رکھ، سب آوازوں سے زیادہ بُری آواز گدھوں کی آواز ہوتی ہے" (سورۃ لقمٰن:16-19)۔یہ تمام صفات بندہ مومن کے اندر اُسی وقت پیدا ہو سکتی ہیں جبکہ اس کے ہر عمل میں توازن موجود ہو۔قرآن کی ہرآیت اللہ رب العزت کی بطور ہدایت فراہم کردہ آیت ہے،جسے مسلمانوں کو اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔لہذا اِن آیات کے آخر میں "چال میں اعتدال "پیدا کرنے کی نصیحت و ہدایت کی گئی ہے،جسے سمجھنا ضروری ہے۔ بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ"تیز بھی نہ چل اور آہستہ بھی نہ چل، بلکہ میانہ روی اختیار کر"۔لیکن سیاقِ کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں رفتار کی تیزی و سستی زیر بحث نہیں ہے۔ آہستہ چلنا یا تیز چلنا اپنے اندر کوئی اخلاقی حسن و قبح نہیں رکھتا اور نہ اس کے لیے کوئی ضابطہ مقرر کیا جا سکتا ہے۔ آدمی کو جلدی کا کوئی کام ہو تو تیز کیوں نہ چلے؟ اور اگر وہ محض تفریحاً چل رہا ہو تو آخر آہستہ چلنے میں کیا قباحت ہے ؟میانہ رو ی کا اگر کوئی معیار ہو بھی تو ہر حالت میں ہر شخص کے لیے اسے ایک قاعدہ کلّیہ کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ دراصل جو چیز یہاں مقصود ہے وہ تو نفس کی اُس کیفیت کی اصلاح ہے جس کے اثر سے چال میں تبختر اور مسکینی کا ظہور ہوتا ہے۔ بڑائی کا گھمنڈ اندر موجود ہو تو وہ لازماً ایک خاص طرز کی چال میں ڈھل کر ظاہر ہوتا ہے جسے دیکھ کر نہ صر ف یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ آدمی کسی گھمنڈ میں مبتلا ہے بلکہ چال کی شان یہ تک بتا دیتی ہے کہ کس گھمنڈ میں مبتلا ہے۔ دولت،اقتدار،حسن،علم، طاقت اور ایسی ہی دوسری جتنی چیزیں بھی انسان کے اندر تکبُّر پیدا کرتی ہیں ان میں سے ہر ایک کا گھمنڈ اس کی چال کا ایک مخصوص ٹائپ پیدا کر دیتا ہے۔ اِس کے برعکس چال میں مسکینی کا ظہور بھی کسی نہ کسی مذموم نفسی کیفیت کے اثر سے ہوتا ہے۔ کبھی انسان کے نفس کا مخفی تکبُّر ایک نمائشی تواضع اور دکھاوے کی درویشی و خدا رسیدگی کا روپ دھار لیتا ہے اور یہ چیز اس کی چال میں نمایاں نظر آتی ہے۔اور کبھی انسان واقعی دنیا اور اس کے حالات سے شکست کھا کر اور اپنی نگاہ میں آپ حقیر ہو کر مریل چال چلنے لگتا ہے۔حضرت لقمان کی نصیحت کا منشا یہ ہے کہ اپنے نفس کی ان کیفیات کو دور کرو اور ایک سیدھے سادھے معقول اور شریف آدمی کی سی چال چلو جس میں نہ کو ئی اینٹھ اور اکڑ ہو، نہ مریل پن، اور نہ ریا کارانہ زہد و انکسار۔صحابہ کرام ؓ کا ذوق اس معاملہ میں جیسا کچھ تھا اس کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ حضرت عمرؓ نے ایک دفعہ ایک شخص کو سر جھکائے ہوئے چلتے دیکھا تو پکار فرمایا"سر اُٹھا کر چل، اسلام مریض نہیں ہے"۔ ایک اور شخص کو اُنہوں نے مریل چال چلتے دیکھا تو فرمایا "ظالم، ہمارے دین کو کیوں مارے ڈالتا ہے"۔ان دونوں واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ کے نزدیک دینداری کا منشا ہر گز یہ نہیں تھا کہ آدمی بیماروں کی طرح پھونک پھونک کر قدم رکھے اور خواہ مخواہ مسکین بنا چلا جائے۔ کسی مسلمان کو ایسی چال چلتے دیکھ کر انہیں خطرہ ہوتا تھا کہ یہ چال دوسروں کے سامنے اسلام کی غلط نمائندگی کرے گی اور خود مسلمانوں کے اندر افسردگی پیدا کر دے گی۔ ایسا ہی واقعہ حضرت عائشہؓ کو پیش آیا۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک صاحب بہت مضمحل سے بنے ہوئے چل رہے ہیں۔پوچھا انہیں کیا ہو گیا؟ عرض کیا گیا کہ یہ قرّاء میں سے ہیں (یعنی قرآن پڑھنے پڑھانے والے اور تعلیم و عبادت میں مشغول رہنے والے)۔ اس پر حضرت عائشہؓ نے فرمایا "عمر سید القراء تھے، مگر ان کا حال یہ تھا کہ جب چلتے تو زور سے چلتے، جب بولتے تو قوت کے ساتھ بولتے اور جب پیٹتے تو خوب پیٹتے تھے"۔ وہیں اس چال میں ہمارا ہر وہ عمل بھی شامل ہے جسے ہم انجام دیتے ہیں۔زندگی میں انجام دی جانے والی ہر سرگرمی کے لیے اعتدال بہت ضروری ہے۔میانہ روی، طرفین کے بیچ معتدل موقف سے عبارت ہے، جس میں افراط وتفریط نہ ہو، غلو وزیادتی، اور کمی و کوتاہی نہ ہو۔ یہ روحانیت ومادیت، واقعیت ومثالیت اور انفرادیت واجتماعیت کے درمیان ایک درست پیمانہ ہے ۔ جیسا کہ کہاگیا ہے"الوسط فضیلۃ بین رذیلتین"،دو کمتراعمال کے درمیان ایک فضیلت وبرتری اعتدال اور میانہ روی کہلاتا ہے۔


ای پیپر