چیف صاحب کا خطاب، مؤرخ کی فائنڈنگ باقی
24 جون 2019 2019-06-24

چند دن پہلے چیف جسٹس آف پاکستان نے خطاب فرمایا جس میں انہوں نے بتایا فوجداری ماڈل کورٹس نے 48 دنوں میں 5800 مقدمات کے فیصلے کیے اور اب سول ، فیملی، خواتین بچوں، کرایہ اور مجسٹریٹ کی ماڈل عدالتیں بنا رہے ہیں۔ مزید فرمایا کہ اب مقدمات کا التواء جھوٹی گواہی کو کسی صورت بھی برداشت نہیں کیا جائے گا وہ دن دور نہیں جب ایک بھی فوجداری اپیل زیر التواء نہیں ہو گی اور خواہش و ضرورت کا اظہار کیا کہ مجھے ماڈل کورٹس کے لیے چیتے چاہئیں جیسا کہ پچھلے دنوں وراثتی جائیداد کی منتقلی جیسے مقدمات میں عدالت عظمیٰ کی تجویز تھی کہ نادرا کے ذریعے ریکارڈ کے مطابق منتقل کرنے کے لیے قانون سازی کی جائے جو اتنے بڑے انقلاب کی نقیب ہو گی کہ آنے والی نسلیں صحیح معنوں میں آزادی اور اسلامی قانون کے مطابق انصاف سے مستفید ہوں گی۔ اگر ایسا ہو تو بڑی جاگیرداریاں اور سیاست و اقتدار پر اجارہ داریاں چند سالوں میں ٹوٹ پھوٹ اور عبرت کا نشان بن جائیں کیونکہ بیٹیوں کو جہیز تو وہ دیتے ہیں جائیداد میں حصہ نہیں دیتے۔ چیف صاحب کے فیصلے پڑھیں ان کی کسی بھی فورم پر گفتگو غور کریں تو چیف صاحب صرف قانون دان ہی نہیں ہیں۔ اس سے کہیں زیادہ ان کی گفتار، الفاظ ، چناؤ، الفاظ کی جڑاؤ بندی، معاملات کے بیان میں تسلسل اور حالات کی ترتیب ، تاریخی حوالہ جات اور زمینی حقائق پر جب بات کریں تو ایک ادب دوست، ادیب بلکہ میں تو کہوں گا کہ ایک عظیم لکھاری کا پتہ دیتے ہیں۔ کارکردگی اور عداد و شمار کے ساتھ بتا کر یہ دعویٰ کیا کہ عدلیہ کے سوا اچھی خبر نہیں معاشرے کی تو بنیاد ہی انصاف کی فراہمی پر رکھی گئی تھی عمرانی علوم کی تاریخ، الہامی کتب کے اسباق اور تاریخ انسانی کا مشاہدہ کر لیں معاشی، سماجی، معاشرتی راستہ اگر انصاف کو نہیں جاتا تو وہ تباہی کا راستہ قرار پاتا ہے جب گلی میں خوانچہ فروش زمینی حقائق سے واقف اور متاثر ہو، جب کسی بھی محکمے پرائیویٹ یا سرکاری شعبے کے چپڑاسی سے لے کر اور چیف تک واقف اور متاثر ہوں تو ایک تاریخ ساز، تاریخ دان قانون دان اور ادب دوست ہیومن سائنٹسٹ کی خوبیاں رکھنے والے دیانت دار قاضی القضاۃ بے خبر کیسے رہ سکتے ہیں اور اگر باخبر ہیں تو پھر خاموش بھی کیسے رہ سکتے ہیں یقینا خاموشی کوفیوں کی پہچان ہے۔ ایک فورم جہاندیدہ وطن پرست مظلوم نواز چیف جسٹس نے چند فقروں میں ملکی صورت حال کا تذکرہ فرمایا کہ بڑے بڑے دانشور ، چیف صاحب کے چند فقروں کے سامنے محض مسائل فروش اور ہجو بیان کرنے والے اور جعلی دکھائی دیئے۔ چیف صاحب فرماتے ہیں پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر اور قائد ایوان کو بولنے نہیں دیا جاتا معیشت کا سنتے ہیں وہ ICU میں ہے، چینلز پر مایوسی ہے۔ چیف صاحب کا خطاب ماڈل کورٹ کے جوڈیشل آفیسران سے تھا جس میں سستا اور فوری انصاف مہیا کرنے کے حوالے سے بریفنگ تھی چیف صاحب نے ایوان اور معیشت کی حالت پر صرف ایک آدھ لفظ میں بات کی تو مجھے یوں لگا جیسے کسی عدالتی فیصلے کو پڑھیں تو اس میں بعض اوقات تفصیلات اور بعض اوقات مختصراً حالات مقدمہ بیان کر کے کہ صرف چھوٹے سے آخری پیرے میں Finding رہ جاتی ہے۔ اب حالات Finding کب دیتے ہیں پتا نہیں آخری چند لائنوں کا پیرہ جسے Finding بولتے ہیں جو چیف صاحب نے خالی چھوڑ دیا بھی ضرور آئے گا۔ مگر وہ فائنڈنگ پیرہ مؤرخ لکھے گا ۔جب دل کا ایک سٹنٹ 4 لاکھ روپے سے اوپر میں پڑتا ہو، پرائیویٹ ہسپتال کا بل بقول سابقہ چیف جسٹس کے لوگ گاڑی بیچ کر دیں تو ان حالات میں 5 لاکھ کی پڑتال کا کیا تُک ہے۔ سیزئیرین آپریشن سے بچہ پیدا ہو تو چار لاکھ کا بل ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اب پہلے کوئی زندگی بچائے یا حساب دے کہ فوری طور پر اس کو 4، 5 لاکھ روپے کدھر سے آئے سیاق و سباق سے ہٹ کر کبھی کوئی قانون کامیاب نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی روایت قانون کا درجہ لیتی ہے۔ یہ پہلا دور دیکھا ہے جنہوں نے لوٹا اُن سے اُن کو ایمنسٹی اور جو 5 لاکھ ہے وہ حساب دے۔

میرے خیال سے اپوزیشن احتساب اور گرفتاری پر اتنی پریشان نہیں لیکن جب ان کا دھیان جائے کہ بریگیڈیئر رہٹائرڈ اعجاز شاہ وزیر داخلہ ہیں۔ شیخ رشید جو بدو بائی کے کوٹھے کو لال حویلی میں بدلنے والے شیخ سعدی بنے بیٹھے ہیں۔ فردوس عاشق اعوان موجودہ کاکٹیل حکومت کی ترجمان ہیں۔ لیکن ریلیف لینے کے لیے سابقہ دور کے محکمہ جات میں مروجہ طریق کار ہی ہیں البتہ ریلیف کے ریٹ آسمانوں کو چھو رہے ہیں کیونکہ ملک میں حکومتی گلشن کے کاروبار کے علاوہ اس وقت کوئی کاروبار نہیں چل رہا ہے۔ایسے میں چیئرمین FBR نے بیان نہیں میزائل داغ دیا کہ زمین سستی ہو رہی ہے لہٰذا انوسٹر گھر سے کیا نکلتا بیڈ سے ہی نہیں اٹھا۔ موجودہ حکومتی اتحاد کی حالت ایسے ہے جیسے صور پھونک دیا گیا ہے حکومتی پالیسی نے مربوط کیا ہونا ہے وزراء کے بیانات میں کوئی مماثلت نہیں ۔ موجودہ حکومت پر عوام کا عدم اعتماد اور فقدان کا یہ عالم ہے کہ کسی بات پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ اینکروں کو مکے پڑ رہے عمران خان مثالیں ان ممالک کی دیا کرتے تھے جن میں غلطی سے ہاتھ لگ جانے سے بھی sorry کے بغیر کوئی آگے نہیں بڑھتا مگر یہاں مکوں گالیوں الزامات کا سفر جاری ہے۔ دعووں کی حد تک ’’ریاست مدینہ‘‘ایک ایسا منظر ہے جیسے کوئی میلہ لگا تھا ایسا میلہ کہ ماں بچہ نہیں سنبھال پا رہی۔ کبھی ٹیکس کی حد 12 لاکھ پانچ لاکھ کے چیک پر پوچھ گچھ ۔ ارے بھائی! یہ وہ ملک ہے جس میں اقتدار میں ہوں تو لوگ اربوں روپے کے گفٹ دے دیتے ہیں جس بیچارے کو 5 لاکھ چیک اگر کسی خدا ترس نے دیا یا رنگ روغن، ترکھان، لوہار ، مستری ، ٹھیکیدار کو آجر نے یک مشت دے دیا جس سے درجنوں مزدور روٹی کھاتے ہیں۔ پارلیمانی نظام میں وزیراعظم بڑا احسان کرتا ہے کہ اپوزیشن لیڈر جو انہوں نے چاہا بنا دیا گیا ۔ بندہ پوچھے کہ اپوزیشن لیڈر مراد سعید ہونا تھا اے پی سی چیئرمین ترین نے ہونا تھا اور ملزم کو مجرم کہتے ہیں ماشاء اللہ وہ وزیراعظم جو اپوزیشن میں عدالتی اشتہاری تھے اور سپریم کورٹ آف پاکستان میں وزیراعظم کے خلاف رٹ پٹیشن کر کے ریلیف لے آئے اور وزیراعظم گھر پہنچ گئے اب وہ خود وزیراعظم بن کر اپنی منشاء کو ہی قانون سمجھے گا۔ کبھی کسی اور طرف مگر غور فرمائیے کہ سابقہ حکومتوں کا بیڑہ غرق کرنے والے سر خیل سب کے سب حکومتی بنچوں میں ہیں اور میوزک میں شامل ہونے والے شامل واجے ہی نہیں بلکہ وہ طوطی ہیں جو دھن کی شروعات بھی کرتی ہے اوار بہت بولتی ہے جناب چیف صاحب کی تقریر نے حالات مقدمہ کو درست طور پر بیان کر دیا اب مؤرخ کو Finding دینا باقی ہے۔ کیونکہ حکومت ابھی تک بلاول بھٹو کو وزیراعظم کے سلیکٹڈ کے لفظ سے باہر نہیں نکال پائی۔


ای پیپر