کیا حزب اختلاف سڑکوں پر نکل سکیں گے؟
24 جون 2019 2019-06-24

موسم گر م ہے۔ ملک میں بجلی کی لو شیڈنگ بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔بنیادی وجہ یہی بتائی جارہی ہے کہ رواں برس سورج نے آگ اگلنا ابھی شروع نہیں کیا ہے۔وجوہات جو بھی ہوں،لیکن موسم کے بر عکس ملک کا سیاسی درجہ حرات نقطہ جوش سے بھی زیادہ ہو گیا ہے۔رمضان المبارک میں پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول زرداری نے حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں کو افطاری پر مدعو کیا تھا۔ حزب اختلاف کی تمام سیاسی جماعتوں نے اس افطاری میں شرکت کی تھی ،لیکن سب کی نگاہیں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر ،سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز پر تھیں۔اس محفل میں حزب اختلاف نے متفقہ طور پر مو لانا فضل الرحمان کو ذمہ داری سونپ دی تھی کہ عید الفطر کے بعد اگلی محفل سجھانے کی ذمہ داری آپ کی ہے۔مو لانا فضل الرحمان کی کل جماعتی کانفرنس سے قبل مریم نواز نے بلاول زرداری کو ظہرانے پر مدعو کر کے افطاری کا حساب برابر کردیا ہے۔اس ملاقات میں بھی دونوں رہنما وں نے اتفاق کیا ہے کہ بڑا فیصلہ اس بیٹھک میں کیا جائے گا، جو مولانافضل الرحمان بلا ئیں گے۔مولانا فضل الرحمان نے حزب اختلا ف کی کل جماعتی کانفرس سے قبل اعلان کردیا ہے کہ اسلام آباد کا لاک ڈاون ہو گا،مطلب دارالحکومت میں کسی کو داخل یا کسی کو یہاں سے نکلنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ مو لانا فضل الرحمان کے بقول اسلام آباد کی یہ بندش اسی وقت تک جاری رہے گاجب تک وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔معلوم نہیں کہ حزب اختلاف کی دیگر جماعتیں اس سخت گیر موقف پر مو لانا فضل الرحمان کا ساتھ دیں گی یا نہیں؟ کل جماعتی کانفرنس کے بعد حالات واضح ہو جائیں گے۔لیکن اس سوال کا جواب ابھی باقی ہے کہ اگر حزب اختلاف متفقہ طور پر مولانا فضل الرحمان کے اس مطالبے کو مسترد کرتی ہے تو کیا وہ اکیلے اس منصوبے پر عمل کرسکیں گے؟ مجھے یقین ہے کہ مو لانا فضل الرحمان کل جماعتی کانفرنس کے فیصلوں پر ذاتی رائے کو قربان کرنے پر ترجیح دیں گے،لیکن ایک بات بالکل واضح ہے کہ وہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو چند لمحوں کے لئے بھی برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔مگر ان کی مجبوری یہ ہے کہ حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی ان کا ساتھ دینے کے لئے تیار نہیں۔

جو لائی 2018 ء میں عام انتخابات کے بعد جب حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کی کل جماعتی کانفر نس ہو ئی تھی اس میں مو لانا فضل الرحمان نے اسمبلیوں کا حلف نہ اٹھا نے کا مشورہ دیا تھا،مگر ان کے اس موقف کو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے مسترد کیا تھا، یہی وجہ تھی کہ اس کے بعد انھوں نے اکیلے حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کی جو ابھی تک جاری ہے۔لیکن ان کے اس تحریک کو زیادہ مشہوری نہیں ملی ۔میڈیا میں اس مہم کا بائیکاٹ رہا ۔ حزب اختلاف نے بھی ان کے جلسوں میں شرکت نہیں کی۔متحدہ مجلس عمل میں شامل بڑی جماعت ،جماعت اسلامی اس دوران نہ صرف اتحاد سے علحدہ ہو ئی بلکہ اس احتجاجی تحریک سے بھی دور رہی۔جماعت اسلامی نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے کہ وہ کسی اورکی تحریک میں شامل نہیں ہو گی بلکہ خود موجودہ حکمران کے خلاف تحریک چلائے گی۔اس فیصلے پر عمل کر تے ہوئے جماعت اسلامی نے بجٹ کے خلاف عوامی تحریک کا آغاز کر دیا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ مو لانا فضل الرحمان کی دعوت پر کل جماعتی کانفرنس میں شرکت کے بعد جماعت اسلامی اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہو ئے حزب اختلاف کے ساتھ شامل ہو جاتی ہے یا الگ تحریک کے فیصلے پر قائم رہتی ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ جماعت اسلامی دونوں کشتیوں کا سوار بنے۔الگ تحریک بھی چلائے اور حزب اختلاف کے ساتھ بھی رہے۔

حزب اختلاف کے کل جماعتی کانفرنس کے فیصلوں میں سب سے بڑا کر دار مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کا ہوگا۔میاں نواز شریف زندان میں ہیں۔آصف زرداری بھی زیر حراست ہیں۔پیپلز پارٹی کسی ایسی تحریک کا حصہ بننے پر تیار نہیں کہ جس سے موجودہ حکومت کو کوئی نقصان پہنچ جائے۔مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف کا بیانیہ بھی یہی ہے کہ عمران خان کو چلنے دیا جائے۔پورے حزب اختلاف میں مولانا فضل الرحمان اور مریم نواز کا بیانیہ ایک ہے۔ دونوں اس پر متفق ہیں کہ عمران خان کی حکومت کو فوری طور پر ختم ہو نا چاہئے۔مگر میرا خیال ہے کہ باقی حزب اختلاف اس بیانیے کے مخالف ہیں۔قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے حکومت کے ساتھ میثاق معیشت کا وعدہ کیا ہے۔امکان یہی ہے کہ حکومت اور حزب اختلاف کی دونوں بڑی جما عتوں کے درمیان معاملات درست ہو جائیں گے۔اس لئے اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ کل جماعتی کانفرنس میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی حکومت کے ساتھ سخت گیر رویہ اختیار کرنے سے گریز کریں گے۔شنید یہی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے بڑے حکومت کے بڑوں کے ساتھ صلاح ومشورے کررہی ہے۔ ان ملاقاتوں میں ون پوائنٹ ایجنڈے پر بات ہوتی ہے کہ میاں نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت دی جائے۔شریف خاندان کے دیگر افراد پر مقدمات کو سرد خانے میں ڈال دئیے جائیں۔ابھی تک ان کو’’ نا‘‘ میں جواب نہیں دیا گیا ہے۔ اس لئے جب تک وہ ناامید نہیں ہو تے اسی وقت تک مسلم لیگ (ن) حکومت کے خلاف بڑا اور حتمی فیصلہ نہیں کر سکتی۔یہی صورت حال پیپلز پارٹی کابھی ہے۔ان کے بھی حکومت کے بڑوں کے ساتھ مسلسل رابطے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی کو شش ہے کہ آصف علی زرداری کو کسی بہانے ملک سے باہر جانے کی سبیل مل جائے۔پیپلز پارٹی بھی ابھی تک امید سے ہے۔اس لئے وہ بھی کل جماعتی کانفرنس میں سخت موقف کی بجائے درمیانی راستہ اختیار کریں گے۔رہی بات مو لانا فضل الرحمان کی تو ان کے پاس اتنی پارلیمانی قوت نہیں کہ وہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے بغیر کوئی بڑا فیصلہ کر سکیں گے ،اس لئے کہ ان کے اقتدار کا زینہ یہی دونوں جماعتیں ہیں۔مریم نواز اگر چہ اس وقت جارح کا کردار ادا کر رہی ہے ،لیکن ان کا بنیادی مقصد بھی نواز شریف کی رہا ئی ہے ۔ اس لئے ان کے ساتھ بھی حزب اختلاف کے فیصلوں کو ماننے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں۔ لگ ایسے رہا ہے کہ موسم سرما کی شروعات تک حزب اختلاف کی سرگرمیاں بڑے محلات یا پانچ ستارہ ہوٹلوں تک محدود رہی گی۔ سڑکوں پر احتجاج کا مرحلہ موسم سرما کے آتے ہی شروع ہوگا۔لیکن یہ بھی اس صورت میں اگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی حکومت کے بڑوں کے ساتھ مفاہمت سے ناامید ہو جاتی ہے۔اگر مفاہمت ہو جاتی ہے یا امید بہار ابھی باقی ہو تو پھر احتجاج صرف ایوانوں کے اندر ہی ہو تا رہے گا۔ایک دوسرے کے خلاف دھواں دار تقریریں ہو نگی ۔ کبھی کبھار ایک آدھ جلسہ بھی کیا جائے گا،لیکن سڑکوں پر عوام کو آنے کی تکلیف نہیں دی جائے گی۔جب تک پیوستہ رہ شجر سے امید بہار کی رمق باقی ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی حزب اختلاف کو سڑکوں پر نکلنے کی اجازت نہیں دے گی۔


ای پیپر