فرنٹ لائن کے محافظ !!
24 جون 2019 2019-06-24

قربانیوں کی قیمت نہیں لگتی اور جذبے خریدے نہیں جاتے ۔ قوموں پر اچھا برا وقت آتا رہتا ہے لیکن تاریخ سب کو یاد نہیں رکھتی ۔ دس بیس سال زیادہ زندہ رہنے کا لالچ اپنے وقت کی بڑی دستاروں کو بھی تاریخ کے باب سے اٹھا کر گمنامی کی دلدل میں پھینک دیتا ہے جبکہ محض چند برس جینے والے آنے والی نسلوں کے لئے ہیرو کا درجہ پا کر تا قیامت زندہ رہتے ہیں ۔ بہادروں کے یہاں زندگی کا معیار الگ ہوتا ہے ۔ وہ محض پچاس ساٹھ سال کی زندگی پانے کے لئے اپنی غیرت اور حب الوطنی کا سودا نہیں کرتے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تاریخ کا اپنا ایک نظریہ ہے اور مورخ اپنے وقت کے لوگوں کی سوچ کو پیمانہ نہیں مانتا ۔ اپنے دور میں بہت سے لوگوں نے میر جعفر اور میر صادق کو درست سمجھا ہو گا جن کے بروقت فیصلوں نے نہ صرف ان کی جان بچائی بلکہ نئے حاکموں سے اعزازات کا حق دار بھی قرار دیا لیکن سچ یہ ہے کہ مورخ نے جب بھی ان کا نام لکھا تو ساتھ غدار کا لفظ ضرور لکھا جبکہ میدان جنگ میں شہادت پانے والے ٹیپو سلطان کو آج بھی بہادری اور غیرت مندی کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔

یہ لازم نہیں کہ بہادری کے اعلی کارنامے سر انجام دینے والے اعلی عہدوں پر ہی فائز ہوں ، ہمارے یہاں پولیس اہلکاروں نے بہادری کے جو کارنامے سر انجام دیئے ہیں وہ بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں ۔ ہماری ہی گلی محلوں سے نکلنے والے لڑکے پولیس میں بھرتی ہونے کے بعد کسی ناکے پر ڈاکوئوں کی گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں لیکن تلخ سچ یہ ہے کہ معاشرے نے آج تک انہیں وہ مقام نہیں دیا جو زندہ قومیں اپنے شہدا کو دیتی ہیں ۔ یہاں نہ تو پولیس یادگاروں پر شہریوں کی جانب سے پھول رکھے جاتے ہیں ، نہ محکمہ پولیس کے سوا کوئی ان ہیروز کی تاریخ شہادت یاد رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور نہ ہی کوئی شمع جلانے یا فاتحہ پڑھنے آتا ہے ۔ ہر روز لاہور مال روڈ پر موجود یاد گار شہدا کو دیکھ کر خاموشی سے گزرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے ۔ پنجاب بھر میں ایسے کئی بورڈ نصب ہیں جن پر کسی شہید ہیرو کا نام درج ہے لیکن وہاں بال کھولے رونے والی یا تو اس کی ماں بہن ہے یا پھر بیوہ ہوتی ہے ۔ عام شہریوں کو شاید ابھی تک علم ہی نہیں ہو پایا کہ بحثیت شہری ہم نے اپنے شہدا اور ان کے اہل خانہ کو کیسے احترام دینا ہے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ لوگوں کو پولیس سے بہت سی شکایات ہیںلیکن یہ بھی سچ ہے کہ پولیس کو بھی شہریوں سے بہیت سی شکایات ہیں ۔ ٹریفک وارڈنز کا شکوہ ہے کہ کاغذات نہ رکھنے والا ڈرائیور بھی اپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے کسی نہ کسی سے تعلقات کی دھونس جمانے کی کوشش کرتا ہے ۔کڑی دھوپ میںلب سڑک ناکے پر کھڑے ا ہلکاروں کو گلہ ہے کہ ہر روز وہاں سے گزرنے والوں میں سے کسی نے کبھی ان کی جانب مسکرا کردیکھا تک نہیں ۔ عبادت گاہوں کے باہر ڈیوٹی کرنے والے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ کبھی کسی نمازی یا امام مسجد نے اپنی دعا میں یہ نہیں کہا کہ’’ مسجد کے باہر ڈیوٹی دینے والے اہلکار کی مشکلات بھی حل ہوں‘‘ ۔ عید کے روز یہی اہلکار سب کو دوسروں سے گلے ملتے دیکھ کر سوچتے ہیں کہ کیا وہ مسلمان نہیں کہ نظر انداز کئے گئے ۔ محرم میں جتنا خطرہ کسی بھی عقیدت مند و ہوتا ہے اس سے زیادہ خطرہ چیکنگ پر موجود سکیورٹی اہلکاروں کو ہوتا ہے۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہر محکمہ میں کالی بھیڑیں ہوتی ہیں لیکن ہم چند افراد کی وجہ سے ایماندار اور محنتی لوگوں کی ساکھ پر انگلی نہیں اٹھا سکتے ۔ کرائم آبزرور کے طور پر میں سمجھتا ہوں کہ صوبے بھر میں دہشت گردی ، لاقانونیت اور جرائم پیشہ افراد کے سامنے پہلی حفاظتی لائن پنجاب پولیس کی ہی ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہر مشکل وقت میں اپنی جانیں قربان کر کے بھی ان لوگوں کی زندگیوں کی حفاظت کی ہے جو انہی پر انگلیاں اٹھاتے ہیں ۔ پنجاب پولیس کے اہلکار یہ دعوی کرتے ہیں کہ اس صوبہ کے عوام کی حفاظت کے لئے جتنی قربانیاں انہوں نے دی ہیں اتنی کسی نے نہیں دیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر باقی صوبوں کے پولیس افسران و اہلکاروں کی شہادتیں بھی شامل کر لی جائیں تو یہ تعداد کہیں زیادہ ہو جاتی ہے۔پنجاب پولیس کے اہلکاروں کا شکوہ ہے کہ ان کی قربانیاں نظر انداز کر دی جاتی ہیں حالانکہ وہ کسی بھی مرحلے پر پیچھے نہیں ہٹے۔ یہ بات اس حد تک تو درست ہے کہ پاک فوج نے فاٹا اور سرحدی علاقوں میں ایک بڑی جنگ لڑی ہے لیکن جو جنگ شہروں اور دیہاتوں میں لڑی گئی اس میں پنجاب پولیس کے اہلکار ہی پہلا دفاعی لائن ثابت ہوئے ہیں ۔

میں سمجھتا ہوں کہ آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان نے گزشتہ دور میں لا اینڈ آرڈر الائونس کی منظوری کروا کر اہم کارنامہ سر انجام دیا تھا اور اب بھی وہ جس طرح حکومت کو پولیس فورس کی تنخواہوں میں اضافے کے لئے قائل کر رہے ہیں یہ قابل تعریف کام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب میں نے مختلف دستاویزات اور ریکارڈز کا جائزہ لیا تو یہ انکشاف ہوا کہ پنجاب پولیس کے اہلکاروں کی یہ بات کافی حد تک درست ہے کہ انتہائی کم وسائل اور تنخواہوں کے باوجود یہی اہلکار صوبہ کی فرنٹ لائن ہیں ۔ ریکارڈ کے مطابق 1970 سے لے کر اب تک پنجاب پولیس کے 1493 سے زائد یعنی تقریباً پندرہ سو افسران و اہلکار عوام کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں ۔ یہاں ایک اہم بات یہ بھی سامنے آئی کہ پنجاب میں دو ایسے اہم موڑ آئے جب صوبے میں خوف کی فضا قائم ہوتی نظر آئی ۔ پہلے نوے کی دہائی میں فرقہ ورانہ قتل و غارت کو عروج ملا۔ اس فرقہ واریت کے خاتمے کے لئے بھی پنجاب پولیس نے فرنٹ لائن کا کردار ادا کیا اور محض 1997 یعنی ایک سال میں پنجاب پولیس کے 83 افسران و اہلکار شہید ہوئے اس سے ایک سال قبل بھی57 پولیس ملازمین نے جام شہادت نوش کیا تھا جبکہ ایک سال بعد یعنی 1998 میں بھی 63 افسران و اہلکاروں نے اپنی جانیں رب کے حضور پیش کیں ۔ ان تین سالوںمیں پنجاب پولیس کے افسران و اہلکاروں کا خون پانی کی طرح بہایا گیا لیکن اس کے نتیجے میں پنجاب فرقہ واریت کی اس خوفناک لہر سے باہرع نکل آیا ۔ پنجاب میں دوسرا خطرناک موڑ اس وقت آیا جب ملک میں طالبانائزیشن کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ اس وقت بھی اسی پنجاب پولیس کے افسران و اہلکاروں نے عوام کی جان و مال کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے رب سے اپنی جانوں کا سودا کیا تھا ۔ پنجاب سے فرقہ واریت کے خاتمے کے لئے جس سال سب سے زیادہ قربانیاں دی گئیں وہ 1997 تھا ۔ اس سال 83 پولیس افسران و اہلکار شہید ہوئے ۔ اسی طرح پنجاب میں طالبانائزیشن کے عروج میں عوام کی حفاظت کرتے ہوئے 2008 میں بھی پنجاب پولیس کے 83 افسران و اہلکار شہید ہوئے لیکن طالبانائزیشن کے خاتمے کے لئے یہ پنجاب پولیس کی ایک سال میں سب سے زیادہ قربانیاں نہیں ہیں کیونکہ اس کے ایک سال بعد یعنی 2009 میں 96 پولیس افسران و اہلکار شہید ہوئے تھے ۔ طالبانائزیشن کا مقابلہ کرتے ہوئے معمول سے زیادہ شہادتوں کا یہ سلسلہ2007 میں 72 پولیس افسران و اہلکار شہادت سے شروع ہوا یہ فیز 2013 تک58 جوانوں کی شہادتوں کے ساتھ جاری رہا ۔ مجموعی طور پر2006 سے2013 تک پنجاب پولیس کے پانچ سو سے زائد افسران و اہلکار شہید ہوئے ۔ یہ اعداد و شمار کسی بھی ذی ہوش کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں ۔ ہم پولیس پر مختلف الزامات لگاتے ہیں لیکن اب ہمیں یہ بھی سوچنا ہو گا کہ کیا ہم اس قدر اخلاقی جرات رکھتے ہیں کہ اس قدر شہادتوں پر پنجاب پولیس کو خراج تحسین بھی پیش کر سکیں؟


ای پیپر