امریکہ نے بھارت نے مذہبی آزادی کا پول کھول دیا
24 جون 2019 (22:16) 2019-06-24

واشنگٹن: امریکہ نے مذہبی آزادیوں سے متعلق رپورٹ جاری کردی ہے جس میں کہا گیاہے کہ مودی حکومت اقلیتوں کے تحفظ اور عدم برداشت کے رویوں کو فروغ دینے میں ناکام رہی، مذہبی آزادیوں اور عدم برداشت کے معاملہ پر بھارت کو درجہ دوئم میں رکھا گیا ہے۔

امریکہ نے مذہبی آزادیوں سے متعلق رپورٹ جاری کردی ہے جس میں کہا گیاہے کہ مودی حکومت اقلیتوں کے تحفظ اور عدم برداشت کے رویوں کو فروغ دینے میں ناکام رہی۔ہندو قوم پرست گروپوں نے بھارت میں غیر ہندووں، دلتوں کے خلاف تشدد، دھمکیوں اور ہراسگی سے کام لیا۔حکومتی اور غیر حکومتی دونوں عناصر اس میں ملوث رہے۔تقریبا ایک تہائی ریاستی حکومتوں نے غیر ہندووں کے خلاف مذہبی تبدیلی کے مخالف اور گائے کے ذبیحہ کے قوانین پر عمل کیا۔

رپورٹ میں کہا گیاہے کہ کئی نسلوں سے دودھ، چمڑے اور گوشت کے کاروبار میں ملوث مسلمان اور دلت تاجروں کے خلاف بلوائیوں نے حملے کئے،عیسائیوں کو زبردستی مذہب کی تبدیلی پر مجبور کیا گیا۔ گائے کے تحفظ کے نام پر گزشتہ سال دس سے زائد افراد کو ماردیا گیا۔غیر ہندووں کو گھر واپسی کے نام سے تقریبات میں زبردستی ہندو بھی بنایا گیا،غیرملکی امداد سے چلنے والی این جی اوز کو بھی مذہبی اقلیتوں کے خلاف استعمال کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذہبی آزادیوں کی بدترین صورتحال بھارت کی دس ریاستوں میں بہت زیادہ دیکھنے کو ملی،بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی)کا ہندو انتہا پسند گروپوں کے ساتھ الحاق ہے۔ بی جے پی کے کئی اراکین نے مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی زبان استعمال کی۔رپورٹ میں شامل کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق بھارت میں گزشتہ دو سالوں میں فرقہ ورانہ تشدد میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے،مودی حکومت فرقہ ورانہ تشدد پر قابو پانے میں ناکام رہی۔

 دوسری جانب بھارت نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے ، بھارت کا کہنا ہے کہ یہاں ہر کسی کو اس کے مذہب اور عقائد پر عمل کرنے کی پوری آزادی ہے ، بھارت میں سب امن و آشتی کے سے اکٹھے رہتے ہیں۔


ای پیپر