جوانوں کو پیر وں کا استاد کر
24 جون 2019 2019-06-24

علامہ اقبال کا معروف شعر ہے

خرد کو غلامی سے آزاد کر

جوانوں کو پےروں کا استاد کر

ساقی نامہ کا ےہ دعائےہ شعر ےقےنا ان کے عہد کی تصوےر کشی کرتا ہے کےوں کہ اسی نظم مےں انہوں نے ےہ بھی کہا کہ " پرانی سےاست گری خوار ہے" ۔ علامہ نے اپنی دور بےں آنکھوں سے ےہ بھی دےکھ لےا تھا کہ ہمالہ کے چشمے ابلنے لگے ہےں اور گہری نےند کے نشے مےں مست رہنے والے چےنی انگڑائی لے کر بےدار ہونے لگے ہےں۔ گوےا آج کے چےن کا نقشہ علامہ اقبال نے برسوں پہلے اپنی بصےرت کی آنکھ سے دےکھ لےا تھا۔شاعر مشرق کی شاعری مےں نوجوانوں کو انقلاب، تبدےلی اور جدوجہد کی علامت قرار دےا گےا ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے تحرےک پاکستان مےں نوجوانوں ہی کو توجہ کا مرکز بناےا اور اےک خواب کو روشن تعبےر کی شکل دی۔ بلاشبہ جوانوں کا فعال ہونا اور درست سمت مےں مثبت تبدےلی کے لئے اپنا متحرک کردار ادا کرنا، کسی نعمت سے کم نہےں۔ ہم اگر اپنے نوجوانوں کی صلاحےتوں سے کام نہےں لے سکے تو اسے اےک قومی زےاں ہی کہنا چاہےے۔

جوانوں کو پےروںکا استاد ، کرنے کا خےال آج کل ہماری قومی سےاست مےں خاصا گرم ہے۔ پچھلے دنوں محترمہ بے نظےر بھٹو کے بےٹے بلاول بھٹو زرداری اور مےاں نواز شرےف کی بےٹی مرےم نواز شرےف کی ملاقات نے نوجوان قےادت کے امکانات مےں اضافہ کر دےا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری تو اپنی جماعت (پاکستان پےپلز پارٹی)کے چےئرمےن ہےں اور بطور سربراہ تمام اختےارات کے مالک ہےں۔ مرےم کا معاملہ مگر مختلف ہے۔ وہ پارٹی کے سولہ نائب صدور مےں سے اےک ہےں۔ ان کے اوپر شاہد خاقان عباسی بطور سےنئر نائب صدر موجود ہےں اور پارٹی (مسلم لےگ نواز)کی صدارت ان کے چچا، مےاں شہباز شرےف کے ہاتھ مےں ہے۔ گوےا پارٹی کے دستور کے تحت مرےم کوئی اختےار نہےں رکھتےں۔

لےکن ہماری رواےات اور قومی مزاج کے پےش نظر، رسمی عہدے ، کم از کم عوام کی نظر مےں زےادہ اہمےت نہےں رکھتے۔ جس طرح بلاول کی اصل طاقت اور عوامی مقبولےت کا سبب اس کا چےئرمےن ہونا نہےں، بے نظےر کا بےٹا اور ذولفقار علی بھٹو کا نواسا ہونا ہے۔ اسی طرح نائب صدر ہونا مرےم نواز کے لئے کچھ معنی نہےں رکھتا۔۔اسکی طاقت اور مقبولےت کی وجہ نواز شرےف کی بےٹی ہونا ہے۔ وراثت کی سےاست کا ذکر پھر کبھی سہی، آج صرف اسی قدر کہ سےاسی مےراث ذرا مختلف چےز ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دو بےٹے تھے۔ مرتضیٰ بھٹو تو بے حد متحرک اور سےاست مےں خاصے سرگرم بھی تھے۔ خود بےگم نصرت بھٹو ان کی پشت پر تھےں لےکن چراغ صرف بے نظےر بھٹو کا جلا۔ لوگوں نے بی بی کے چہرے مےں ذولفقار علی بھٹو کا چہرہ دےکھا۔۔ان کی آواز مےں بھٹو کی آواز سنی اور بھٹو کی سےاسی مےراث بےنظےر کی جھولی مےں ڈال دی۔ کچھ ےہی حال مرےم نواز کا بھی ہے۔ مےاں نواز شرےف کے قرےبی حلقے جانتے ہےں کہ مےاں صاحب اپنی بےٹی کو سےاست مےں لانے سے ہمےشہ گرےزاں رہے۔ ےہی وجہ ہے کہ اپنی معزولی کے بعد جی ٹی روڈ کے راستے لاہور آتے ہوئے انہوں نے مرےم کو شرےک سفر نہ کےا۔ دوستوں کے مشورے اور اصرار کے باوجود حلقہ اےن اے 120 لاہور کے لئے ٹکٹ مرےم کے بجائے اپنی اہلےہ بےگم کلثوم نواز کو دے دےا۔ لےکن قدرت کے کچھ اپنے فےصلے بھی ہوتے ہےں۔مرےم کو بہ امر مجبوری اپنی والدہ کی انتخابی مہم چلانا پڑی۔ لوگوں نے پہلی بار نواز شرےف کی بےٹی کا سےاسی چہرہ دےکھا۔ پھر حالات و واقعات اپنی کہانی لکھتے چلے گئے۔ ےہاں تک کہ مرےم اپنے والد کے ساتھ اڈےالہ جےل پہنچ گئی۔اس دن سےاسی مبصرےن نے کہا تھا کہ منصوبہ سازوں نے نادانی مےں شرےف خاندان کی مےراث کا تاج مرےم کے سر پر رکھ دےا ہے۔ آج وہ اےک نئے لےڈر کے طور پر اپنی جگہ بنا رہی ہے۔ اس کے دونوں بھائی اور اےک بہن دور دور تک دکھائی نہےں دےتے۔ آج پاکستان کے لوگ اس کے چہرے مےں نواز شرےف کا چہرہ دےکھتے اور اسکی آواز مےں نواز شرےف کی آواز سنتے ہےں۔ عہدے سے قطع نظر ، وہ اس وقت مسلم لےگ (ن) مےں بڑے قد کاٹھ کی لےڈر بن چکی ہے۔

اب سوال ےہ ہے کہ دو بڑی روائتی جماعتوں کی ےہ نئی نوجوان قےادت، کےا پاکستان کے مسائل سمجھتی ہے؟ کےا انہےں اندازہ ہے کہ پاکستان مےں جمہورےت کےوں مستحکم نہےں ہو سکی؟ کےا انہےں معلوم ہے کہ تقرےبا 34 سال ہمارے ہاں فوجی آمرےت رہی؟ کےا انہےں خبر ہے کہ سقوط ڈھاکہ کے حقےقی اسباب کےا تھے؟ اور سب سے بڑھ کر ےہ کہ کےا اقتدار کے کھےل مےں اےک دوسرے کو دغا دے کر اسٹبلشمنٹ سے ساز باز کرنے کے نتائج کو وہ سمجھتے ہےں؟

دونوں سے امےدےںوابستہ کرنے والوں کا خےال ہے کہ وہ حالات تبدےل کرنے کی صلاحےت رکھتے ہےں۔ اسکی بڑی وجہ ےہ ہے کہ وہ نوجوان شدےد ماےوسی کا شکار ہےں جنہوں نے عمران خان سے بڑی امےدےں وابستہ کی تھےں۔ ابھی اےک سال بھی نہےں گزرا اور وہ کھلے عام اپنے غم وغصہ کا اظہار کرنے لگے ہےں۔ اےک کروڑ نوکرےاں تو اب خواب و خےال ہو چکےں۔ روزگار کے مواقع مزےد سکڑ گئے ہےں۔ بتاےا جاتا ہے کہ بےس لاکھ افراد پچھلے دس ماہ مےں روزگار گنوا بےٹھے ہےں۔ صنعتی اور کاروباری سرگرمےاں ماند پڑنے سے بے روزگاری مزےد بڑھ رہی ہے۔ خےبر پختونخواہ مےں صرف اس لئے سرکاری ملازمےن کی رےٹائرمنٹ کی عمر 60 سے بڑھا کر63 سال کی جا رہی ہے کہ آئندہ تےن سال تک حکومت پنشنوںاور دےگر واجبات کی ادائےگی سے بچی رہے۔ لےکن اس بچت کے دوسرے معنی ہےں کہ آئندہ تےن سال کے لئے نوجوانوں کے بر سر روزگار آنے کے دروازے بند کر ہو جائےں گے۔ تعلےم کے بجٹ مےں زبردست کٹوتی کا براہ راست منفی اثر بھی نوجوانوں پر ہی پڑ رہا ہے۔

ان حالات مےں اےک سےاسی خلا تےزی سے پےدا ہو رہا ہے۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لئے کوئی سےاسی جماعت ےا شخصےت مےدان مےں نہےں ۔ بوجوہ آصف زرداری اور نواز شرےف جےلوں مےں ہےں۔ دونوں کی عمر اور صحت بھی سر گرم سےاست کی سکت نہےں رکھتی۔ لےکن ےہ بات مخالفےن بھی تسلےم کرتے ہےں کہ مسلم لےگ(ن) اب بھی اےک بڑا ووٹ بنک رکھتی ہے اور پےپلز پارٹی کا کھونٹا آج بھی سندھ مےں بڑا مضبوط ہے۔ دونو ں جماعتوں کی سےنئر قےادت کو پس منظر مےں دھکےل کر بھی اور الزامات کی بارش کے باوجود، ان کے ووٹ بنک کو کمزور نہےں کےا جا سکا اور اب تحرےک انصاف سے ماےوس عوام اےک بار پھر پرانے ٹھکانوںکی طرف لوٹ رہے ہےں۔

مرےم اور بلاول کا کام آسان نہےں۔ انہےں ےہ باور کرانا ہو گا کہ وہ واقعی نئی سےاست کا پےغام لے کر آئے ہےں۔ پرانی، فرسودہ اور بےمار سےاست کو دفن کر کے باہمی تعاون اور اشتراک عمل کی سےاست جو ذاتی اور جماعتی مفاد سے بالاتر رہتے ہوئے، اصولوں پر ےقےن رکھتی ہو۔بظاہر مرےم اور بلاول کے بےانےہ مےں کافی مماثلت پائی جاتی ہے۔ وہ آئےن کی بالا دستی، جمہورےت کی مضبوطی اور اداروں کے اپنی حدود کے اندر رہنے کی بات کرتے ہےں۔ ےہ وہ بےانےہ ہے جس کی سزا بےنظےر بھٹو بھگت چکےں۔اسی بےانئے کی سزا نواز شرےف کاٹ رہے ہےں۔ لہٰذا مرےم اور بلاول کا راستہ بھی آسان نہ ہو گا۔ دےکھنا ہو گا کہ وہ نوجوانی کے جذبات کی گرمی اور سےاسی حکمت و دانائی کو کس طرح ساتھ لے کر چلتے ہےں۔

مےاں نواز شرےف، شہباز شرےف، آصف زرداری، عمران خان اور صف اول کے تقرےبا سبھی سےاستدان، ساٹھ سال اور بعض تو ستر برس سے بھی آگے نکل گئے ہےں۔ فضا اےک نوجوان، لےکن بہادر اور ہوش مند قےادت کے لئے ساز گار ہو رہی ہے۔ اگر مرےم اور بلاول اپنے مشن کے تقاضوں کو سمجھ کر ، اپنا سفر جاری رکھےںتو وہ واقعی "پےروں کے استاد " بن سکےں گے۔ لےکن ہماری تارےخ پر نظر ڈالی جائے تو ےہ سفر کافی صبر آزما اور کٹھن ہے۔


ای پیپر