ترکی ترقی کا راستہ ہے
24 جون 2019 2019-06-24

راقم دو ہفتے ملک سے باہر تھا لہٰذا کالم نہ ہو سکا کیونکہ اسکے ہونے اور نظم یا غزل کے ہونے میں یکساں تخلیقی کاوش درکار ہوتی ہے ۔زندگی میں پہلی بار ترکی دیکھنے کا اتفاق ہوا اور ترکی ہمیشہ کے لئے دل میں گھر کر گیا۔حسن ،تہذیب ،علم اور فنون لطیفہ کے خمیر میں بازنطینیوں اور عثمانیوں کا ماضی جا بجا استنبول کے پرعزم لوگوں کی آنکھوں میں درخشاں مستقبل کے خواب بنتا نظر آیا۔ٹرکش ائیر ویز منازل کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی ائیرلائن ہے اور اس کا خوبصورت عملہ دنیا کے ہر رنگ اور نسل کے لوگوں کو مسکرا کر جادو کے قالین کی ایسے سیر کرواتا ہے کہ آپ آدھے مدہوش ہی ترکی پہنچتے ہیں۔میرا قالین یورپین ائیر بس 330 تھا جس نے ساڑھے پانچ گھنٹے میں لاہور سے استنبول کا سوا چار ہزار کلومیٹر کا فاصلہ گیارہ ہزار میٹر کی بلندی پر بادلوں کی آغوش میں براستہ افغانستان،بحیرہ± کیسپین، آذربائیجان اور بحیرہ± اسود سمیٹا اور حال ہی میں کھلنے والے شاندار نیو استنبول ائیرپورٹ نے بانہیں پھیلا کر استقبال کیا اور یہ سچ ہے کہ اس ائیرپورٹ کے آگے نیویارک کا جان ایف کینیڈی ائیرپورٹ قالین میں ٹاٹ کا پیوند لگتا ہے ۔دوران پرواز بند گوبھی اور پنیر کا بیکڈ آمیزہ دیگر لذت کام و دہن کے ساتھ خاص طور پر دل میں گھر کر گیا۔ائیرپورٹ پہ اتر کر کسٹمز سے فارغ ہونے کے بعد ترک ٹیلی کام کی دو سو لیرا کی سم خریدی جس سے پندرہ جی بی تیزرفتار انٹرنیٹ میرا ہمرکاب بن گیا۔استنبول میٹرو کارڈ خریدا اور بس میں بیٹھ کر سلطان احمد کے علاقے میں پندرہ لیرا کے عوض پہنچا جہاں ٹرکش ائیرلائنز کی جانب سے ایک رات مفت قیام کی سہولت دی گئی تھی۔سارا راستہ پاکستان کی جی ٹی روڈ یاد آتی رہی اور یہ خیال بھی کہ اگر ترکی کے سول انجینئرز پاکستانی ٹھیکیداروں کے ہتھے چڑھے ہوتے تو موٹر وے کی دعائیں نواز شریف کی جھولی میں نہ گرتیں۔ہوٹل میں سامان رکھنے کے بعد تھوڑا آرام کیا اور پھر علاقے کی سیاحت کو نکل کھڑا ہوا۔بھوک لگی تو یاد آیا کہ گوبھی اور پنیر سیال کی سطوت میں کب کے ہضم ہو چکے ہیں۔ٹرکش بریڈ کے ساتھ چکن تکہ ٹماٹر اور پنیر کے قتلوں کیساتھ تناول کیا تو جی خوش ہو گیا۔کھانا کھانے کے بعد نیند آنے لگی تھی لہٰذا واپس ہوٹل جا کر سو گیا۔شام کو اٹھا اور پھر مٹر گشت پہ نکل کھڑا ہوا۔ارادہ باسفورس نائٹ کروز سے محظوظ ہونے کا تھا جو زندگی کا پرلطف تجربہ ثابت ہوا۔موسیقی ،رقص،عالمی برادری کی نمائندگی اور انواع و اقسام کے اقل و شرب نے سمندر کی لہروں پر لمحات کو امر کر دیا۔یہ وہ سمندر تھا جس میں صدیوں تک اقتدار کے لئے سپاہیوں کا سرخ لہو گرتا رہا اور یہ آج بھی نیلا تھا۔اس خوابناک رات کے اختتام پر ہوٹل پہنچا اور گھوڑے وغیرہ بیچ کر سو گیا۔صبح ہوٹل سے ناشتہ کیا اور آیا صوفیہ کے نزدیک نیوپورٹ ہوٹل میں دو دنوں کے لئے منتقل ہو گیا۔اس مراجعت کے بعد آیا صوفیہ کے دیدار کا قصد کیا۔راستے میں رابرٹ ارون کی کتاب دی لسٹ آف نوئنگ خریدی جسکی ایک عرصے سے تلاش تھی۔چھٹی صدی عیسوی میں بازنطینیوں کے ہاتھوں بننے والے آیا صوفیہ نامی کلیسا کے درودیوار کے سحر نے فسوں کی مانند مجھے جکڑ لیا۔اس کلیسا میں ایسٹرن رومن ایمپائر کے شہنشاہ کی تاجپوشی ہوتی تو رعایا بادشاہ کو خدا کا اوتار سمجھتی۔آیا صوفیہ کے بعد سامنے نیلی مسجد کا چکر لگایا جو اپنی ہئیت میں دو میناروں کے اضافے سے آیا صوفیہ جیسی ہی ہے ۔مسجد میں مردوخواتین دونوں نماز ادا کر رہے تھے اور سیاح بھی گھوم رہے تھے۔مسجد سے نکل کر عثمانی خلفاءکے ٹوپاکاپی محل کی یاترا کی جس میں گھڑیوں ،ہتھیاروں اور برتنوں کی کلیکشن درودیوار کی صناعی کے علاوہ خاصے کی چیز تھی۔اس محل کے دروازے سے نکلا تو استنبول آرکیالوجیکل میوزیم نے۔جکڑ لیا۔اس میوزیم کی عمارات میں آٹھ ہزار سال کی تاریخ مجسموں اور فن پاروں میں مجسم دکھائی دی۔تاریخی ورثے کو محفوظ کر کے اگلی نسلوں تک منتقل کرنا شاید وہ فن ہے جس سے پاکستانی ہنوز نابلد ہیں۔اب تک میرے پیر چل چل کر دکھنے لگے تھے مگر آنکھوں کی پیاس تھی کہ بجھتی نہیں تھی۔پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے لہٰذا اورنج جوس کے ساتھ شوارما کھایا اور ہوٹل جا کر سو گیا۔شام کو اٹھا تو پھر دھوپ استنبول کی ہوا میں اٹھلا کر گھوم رہی تھی۔یہاں سورج ان دنوں رات نو بجے غروب ہوتا ہے اور ایک ہم ہیں جنھوں نے ڈے لائٹ سیونگ سے استفادہ نہ کرنے کی قسم کھائی ہوئی ہے ۔تکسیم سکوائر پہنچا اور تصویروں اور ویڈیوز کی یادیں جمع کرنے میں محو ہو گیا۔کچھ شامی پناہ گزین بھیک مانگتے اور کچھ نوجوان شامی لڑکیاں جینز پہن کر چائے فروخت کر رہی تھیں مگر مجال ہے کہ انھیں کسی قسم کا کوئی ڈر خوف ہو۔ریاست پر اعتماد ہی ریاست کی جیت ہوتی ہے ۔بازار سیاحوں سے بھرے پڑے تھے اور تجارت استنبول کو مزید مضبوط بنا رہی تھی۔شام رات میں اور رات رات گئے میں کب ڈھلی پتہ ہی نہیں چلا۔اگلی صبح ناشتے کی میز پہ ویتنام کی ایک ریٹائرڈ سکول ٹیچر سے ملاقات ہوئی جو اپنی جہاں گردی کے باعث نہایت تیقن سے گفتگو کرتی تھیں۔باتوں باتوں میں کہنے لگیں کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ آخری زار روس کی ذاتی لائبریری بالشویک رہنماو±ں نے امریکی کانگریس کو فروخت کر دی تھی۔میری آنکھوں میں حیرت دیکھ وہ خوشی سے نہال ہو گئیں۔ناشتے کے بعد استنبول کی خوبصورت ٹرام میں بیٹھ کر سمندر کے کنارے پہنچا اور فیری کا ٹکٹ لے کر پرنسپ جزائر کی جانب اتھاہ نیلے سمندر کی لہروں پہ روانہ ہوا۔راستے میں عثمانیوں کا عین سمندر کے اندر تعمیر کردہ لائٹ ہاو±س نظر آیا تو ایک مرتبہ پھر جناح ہسپتال لاہور کی ٹپکتی دیواریں یاد آ گئیں۔پرنسپ کے جزائر بے انتہا خوبصورت ہیں۔یورپ ،بھارت،روس اسرائیل،،بنگلہ دیش اور پوری دنیا سے سیاح یہاں کا رخ کرتے ہیں اور ترکوں کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔جزیرہ گھومتے ہوئے ایک شخص پہ نظر پڑی جو جھینگے فروخت کر رہا تھا۔دو لیرا کے عوض اس نے ہمارے فروٹر کے سائز کا لیموں نچوڑ کر دیا تو مزا آ گیا۔سمندر کی ٹھنڈی ہوا اور سورج کی روشنی مل کر اس نشے کو دوآتشہ کر رہے تھے جسکی تلاش میں لوگ نیویارک سے لاس اینجلس جاتے ہیں۔چار گھنٹے تک جزیرے پہ گھومنے کے بعد واپس قسطنطنیہ پہنچا تو اس کا نام پھر استنبول ہو چکا تھا۔سامنے نیون سائن پہ 1923 جگمگاتا نظر آیا تو تاریخ کا پہیہ گھماتے ہوئے واپس 2019 میں لے آیا۔یہ رات میری استنبول میں آخری رات تھی لہذا میں ٹھنڈا کین لے کر آیا صوفیہ کے آگے بیٹھ گیا تو یہ سطریں سرزد ہوئیں:

اے آیا صوفیہ تو نے

بازنطینیوں کو اپنے سامنے خس و خاشاک ہوتے دیکھا

تو نے عثمانیوں کا اقتدار اپنے سینے پہ برداشت کیا

کلیسا اور ہلال کی کشمکش میں

تیری اینٹیں بھٹی سے نکلنے کے بعد بوڑھی ہو گئی ہیں

تو نے سورج کے پجاریوں کو عیسیٰ سے ڈرتے دیکھا

تو نے کھجور کے بیوپاریوں کو چاند پہ مرتے دیکھا

تیرے پیچھے سمندری ہوا آج بھی

اسی رفتار سے چلتی ہے

جس رفتار سے گھڑسوار اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے

ترے درودیوار ان محلاتی سازشوں کے امین ہیں

جن کا آج مصرف گبن کی کتاب کی ضخامت ہے

ترے بدن کا روپ ان غلاموں کے پسینے کی امانت ہے

جو سرخ شراب میں روٹی ڈبو کر چبایا کرتے تھے

جو اہل لویہ کے منتر دہرایا کرتے تھے

تو نے عثمانیوں کا سورج مصطفیٰ کو تھما کر سمجھا

کہ اب سیکولرازم امن کے نغمے گائے گا

مگر اب شام کے مہاجر

تری دیواروں سے لگ کر مانگتے ہیں

جب انسانوں کو اپنا سراب مل جائیگا

تب تک تو آرام کر ان سیاحوں کی آنکھوں میں دیکھ کر

جو تجھے دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتے ہیں

جیسے روپے کے پجاری دھرم کی منڈی کرتے ہیں

پھر کے آیا تو تجھے پھر ملنے آو±ں گا

نہیں تو تری دید کی یاد میں گزر جاو±نگا

اگلے دن عثمانیوں کے دور کا ہیلتھ میوزیم بازنطینیوں کے دور کا بیسیلیکا سسٹرن،عثمانیوں کے شاہی حمام،فراعین مصر کی پتھر کی یادگاریں اور ٹرکش میوزیم آف اسلامک آرٹ دیکھے تو اس شہر کے تاریخی ورثے کے تنوع پہ رشک آیا۔واپس ائیرپورٹ جاتے ہوئے دل اداس تھا۔اخبار پہ نگاہ ڈالی تو پتہ چلا کہ سترہ جرنیلوں کو آئین پامال کرنے کی پاداش میں عمر قید سنائی گئی ہے ۔تب جان لیا کہ ترکی ہی دراصل ترقی کا راستہ ہے ۔


ای پیپر