اگلی حکومت کون بنائے گا؟
24 جون 2018 2018-06-24

 

25 جولائی کے عام انتخابات میں اب محض 33 دن باقی بچے ہیں۔ مگر اب تک صرف تحریک انصاف نے قومی اسمبلی کے 178 ٹکٹ جاری کئے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی نے اب تک سندھ ، بلوچستان اور کے پی کے سے قومی اورصوبائی اسمبلی کے امیدواروں کا اعلان کیا ہے۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) نے اب تک صرف سندھ اور کے پی کے سے اپنے امیدواروں کا اعلان کیا ہے۔ تمام بڑی پارٹیاں تقریباً ایک سال سے انتخابی مہم چلائے ہوئے ہیں۔ جلسے ، جلوس، احتجاج اور ریلیوں کے ذریعے ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں مگر انتخابات سے ایک ماہ پہلے تک اپنے حتمی امیدواروں کا تعین نہیں کر سکی ہیں۔ پی ٹی آئی نے سب سے پہلے ٹکٹوں کا اعلان کیا اور اسے اس وقت سے کارکنوں کے احتجاج کا سامنا ہے جن امیدواروں کو تحریک انصاف نے انتخابی ٹکٹ جاری نہیں کیا وہ بھی اس فیصلے سے خوش نہیں ہیں اور اپنے مستقبل کا لائحہ عمل بتا رہے ہیں۔

تمام ہی بڑی جماعتیں ٹکٹوں کے حوالے سے انتشار اور اختلافات کا شکار نظر آتی ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ بڑی سیاسی جماعتیں اب نظریات ، اصولوں ، پروگرام اور منشور جیسے تکلنات سے آزاد ہو چکی ہیں۔ سیاسی جماعتوں میں اندرونی جمہوریت کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ پارٹی قیادت تمام تر اختیارات کی مالک ہے۔ اسی طرح سیاسی جماعتوں کے اندر ادارے بھی یا تو کمزور ہیں یا پھر سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ سیاسی قیادت جماعتوں پر اپنی آہنی گرفت اور مکمل کنٹرول برقرار رکھنے کے لئے نہ تو اندرونی جمہوریت کو پنپنے دیتی ہے اور نہ ہی جماعتوں کے اندر اداروں کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ سرمایہ، ذاتی اثرورسوخ ، ووٹ ٹینک اور پارٹی قیادت سے غیر مشروط وفاداری ہی ان جماعتوں کا معیار اوراصول ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر تمام جماعتیں انتشار کا شکار ہیں۔اب ہم آتے ہیں اپنے آج کے موضوع کی طرف کہ اگلی حکومت کون سی جماعت بنائے گی۔ ابھی تک کوئی بھی سیاسی جماعت اس پوزیشن میں نہیں آئی اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت کی ایسی ہوا چلی ہے کہ وہ اکیلے حکومت بنانے کی پویزشن میں آ جائے ۔ اگر آج عام انتخابات منعقد ہوں تو کوئی بھی جماعت اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور متعلق پارلیمنٹ کے وجود میں آنے کے غالب امکانات ہیں۔

تحریک انصاف مسلسل یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ وہ کلین سویپ کرے گی اور سادہ اکثریت حاصل کر لے گی یا پھر چھوٹی جماعتوں اور آزاد ارکان کے ساتھ مل کر حکومت بنا گے گی۔ مگر زمینی حقائق ابھی تک ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کر رہے۔ تحریک انصاف کو اب تک صوبہ خیبرپختونخوا کی 22 نشستوں پر برتری حاصل ہے۔ سندھ میں تحریک انصاف 61 میں سے محض 3 نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ بلوچستان کی 16 میں سے محض ایک آدھ نشست ہی ان کے حصے میں آئے گی۔ اسی طرح جنوبی پنجاب کی 30 نشستوں پر تحریک انصاف کو برتری حاصل ہے جبکہ سنٹرل پنجاب کی 95 نشستوں میں سے محض 25 ایسی ہیں جن کے بارے میں پورے اعتماد کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ ان پر تحریک انصاف کامیاب ہو جائے گی۔ اس طرح اب تک تحریک انصاف کو مجموعی طور پر 81 نشستوں پر برتری حاصل ہے جبکہ فاٹا اور اسلام آباد کی نشستوں کو شامل کر کے یہ تعداد 84 تک جا سکتی ہے۔ خواتین اور اقلیتوں کی نشستوں کو شامل کرنے کے بعد بھی تحریک انصاف کو تقریباً60 مزید نشستوں کی ضرورت ہو گی تا کہ وہ سادہ اکثریت سے حکومت تشکیل دے سکے اگر بلوچستان عوامی پارٹی ، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس ، ایم کیو ایم پاکستان ، فاٹا کے آزاد ارکان اور پنجاب کے ممکنہ تمام آزاد امیدواروں کو بھی شامل کر لیا جائے۔ تو بھی تحریک انصاف حکومت بنانے کی پوزیشن نہیں آئے گی۔ پیپلز پارٹی کے بغیر مرکزی میں حکومت سازی کے لئے تحریک انصاف کو 100 کے قریب نشستیں درکار ہیں۔ تحریک انصاف اس وقت اپنی عوامی قوت اور حمایت پر بھروسہ کرنے اور اپنی طاقت سے انتخابات کو جیتنے کی بجائے اس بات پر انحصار کر رہی ہے کہ مسلم لیگ (ن) مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر کمزور ہو تا کہ تحریک انصاف کو مزید نشستیں مل سکیں۔ تحریک انصاف کا خیال ہے کہ انتخابات سے پہلے نواز شریف کو احتساب عدالت سے سزا ہونے کی صورت میں مسلم لیگ (ن) کی پوزیشن مزید خراب ہو جائے گی اور اس کا راستہ صاف ہو جائے گا۔ اگر تحریک انصاف کو 85 سے زائد نشستیں نہ ملیں تو حکومت سازی کے لئے اسے پیپلز پارٹی کے ساتھ بات چیت کرنی پڑے گی۔

اس وقت مسلم لیگ (ن) کا تمام تر دارو مدار سنٹرل پنجاب کے ووٹروں پر ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو اس کالم کے لکھے جانے تک سنٹرل پنجاب کی 70 نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کو برتری حاصل ہے۔ جنوبی پنجاب کی 46 میں سے 7 نشستوں پر بھی اسے برتری حاصل ہے۔ بلوچستان اور سندھ سے مسلم لیگ (ن) کو اس وقت تک کوئی نشست ملنے کا امکان نہیں ہے جبکہ کے پی کے سے مسلم لیگ (ن) کو 3 سے 4 نشستیں ملنے کا امکان ہے جبکہ فاٹا اور اسلام آباد سے بھی اسے ایک ایک نشست ملنے کا امکان ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر اس وقت تک 83 نشستیں ممکنہ طور پر مسلم لیگ (ن) کے حصے میں آسکتی ہیں۔ ان نشستوں میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے اور کمی بھی ہو سکتی ہے ۔ مسلم لیگ (ن) کی کارکردگی پر نواز شریف کے احتساب عدالت کے فیصلے کا بھی اثر پڑے گا۔ مسلم لیگ (ن) کی خواہش تو یہی ہو گی کہ نواز شریف کے مقدمے کا فیصلہ انتخابات کے بعد ہو۔ اس وقت یہ کہنا مشکل ہے کہ سزا ہونے کی صورت میں ووٹروں کا ردعمل کیا ہو گا۔ اس کا مسلم لیگ (ن) کو فائدہ بھی ہو سکتا ہے اور نقصان بھی۔

اگر مسلم لیگ (ن) سب سے زیادہ نشستیں حاصل کر کے پارلیمنٹ کی سب سے بڑی جماعت بن بھی جاتی ہے (جس کے اکانات بہت کم ہیں) تو اسے حکومت سازی کے لئے مطلوبہ حمایت نہیں مل سکے گی۔ اسے پیپلز پارٹی کا تعاون اور مدد درکار ہو گی جبکہ پیپلز پارٹی کے لئے اس قسم کی مخلوط حکومت کا حصہ بننا آسان نہیں ہو گا۔ اس وقت مسلم لیگ (ن) کے حکومت بنانے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اسے مرکز میں حزب مخالف کا کردار ادا کرنا ہو گا جبکہ پنجاب مپیں ابھی تک مسلم لیگ (ن) کے صوبائی حکومت بنانے کے امکانات ختم نہیں ہوئے۔ قومی اسمبلی کے حلقوں کی نسبت صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں مسلم لیگ (ن) کی زیادہ نشستیں جیتنے کا امکان موجود ہے۔

ابھی تک مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف دونوں کی ہوا نہیں چل رہی۔ تحریک انصاف 2013ء کی نسبت زیادہ مضبوط جماعت ہے اس کے ووٹ بینک میں اضافہ ہوا ہے۔ طاقتور امیدوار حلقے کے بعد اب یہ زیادہ حلقوں میں مقابلہ کرنے کے قابل ہو گئی ہے اس کے امیدوار پہلے سے زیادہ ووٹ حاصل کریں گے مگر اب تک وہ ہوا نہیں چلی جیسی کہ 2013ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے حق میں ملی تھی۔ ابھی ایک ماہ باقی ہے ہو سکتا ہے کہ وہ ہوا چل پڑے اور تحریک انصاف کو برتری مل جائے مگر اب تک اس کے امکانات کم ہیں زیادہ امکان یہی ہے کہ دونوں جماعتوں میں اسی صورتحال میں 25 جولائی کے ووٹ ڈالنے کے دن میں داخل ہوں گی۔

تمام تر واویلے کے باوجود ابھی تک مقتدر قوتوں کی طرف سے براہ راست مداخلت اور نتائج کو بدلنے کی کوششوں کے واضح ثبوت یا اشارے موجود نہیں ہیں۔ البتہ یہ تاثر عمومی طور پر موجود ہے کہ مقتدر قوتیں یہ نہیں چاہتیں کہ مسلم لیگ (ن) کی مرکز میں حکومت بنے مگر مرکزی پنجاب میں ابھی تک مداخلت کے واضح اشارے موجود نہیں ہیں۔ اگر سندھ اور خیبرپختونخوا میں مسلم لیگ (ن) زیادہ اچھی حالت میں موجود نہیں ہے تو اس کی وجہ مقتدر قوتین نہیں ہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) کی ناقص سیاسی اور تنظیمی حکمت عملی ہے۔ اس وقت جس قسم کا بیانیہ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے سامنے آ رہا ہے اس کی سب سے زیادہ مقبولیت کراچی میں ہو سکتی تھی مگر قیادت کی طرف سے کراچی میں قدم جمانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی اس طرح بلوچستان میں مداخلت اور مسلم لیگ (ن) کو کمزور کرنے کا بھی بہت چرچا ہے مگر گزشتہ انتخابات میں بلوچستان سے (ن) لیگ کو محض قومی اسمبلی کی ایک نشست حاصل ہوئی تھی جبکہ 4 آزاد ارکان نے شمولیت اختیار کی تھی۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے پنجاب کے علاوہ کسی بھی صوبے میں سنجیدگی سے جماعت کو منظم نہیں کیا یہی وجہ ہے کہ جب پنجاب میں اسے مقابلے کا سامنا ہوتا ہے اور مضبوط مقابل سامنے آتا ہے تو یہ خود کو دباؤ میں محسوس کرتی ہے۔ موجودہ صورتحال دوسروں سے زیادہ یہ خود کی غلط اور ناقص پالیسیوں کی وجہ سے دوچار ہے۔

پیپلز پارٹی اس وقت سندھ کی 61 میں سے 42 نشستیں جیتنے کی واضح پوزیشن میں ہے اگر کراچی میں پارٹی بہتر کارکردگی دکھانے میں کامیاب ہو گئی تو دو سے تین نشستوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اگر ٹکٹوں کی تقسیم کو لے کر ابھرنے والے اختلافات اور انتشار پر قابو نہ پایا گیا تو دو سے تین نشستیں کم ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح بلوچستان سے پارٹی کو ایک نشست ملنے کا امکان ہے جبکہ پنجاب کی141 میں سے 5 نشستوں پر اس کی کامیابی کے امکانات موجود ہیں ۔ کے پی کے میں دو سے تین نشستیں، فاٹا سے ایک نشست ملنے کا امکان موجود ہے۔ اس وقت پیپلز پارٹی52 سے 55 نشستیں جیتنے کی پوزیشن میں ہے۔ سندھ میں اسے دوبارہ صوبائی حکومت بنانے میں زیادہ دشواری کا سامنا نہیں ہو گا البتہ پہلے سے نشستیں کم ہو سکتی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں پارٹی قیادت کو اس بات کا افسوس ضرور ہو گا کہ اس نے جنوبی پنجاب پر پوری سنجیدگی سے توجہ کیوں نہیں دی کیونکہ تحریک انصاف کے ابھار کے بعد اور طاقتور امیدواروں کے ملنے کے باعث تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان ووٹ تقسیم ہونے سے پیپلز پارٹی کو فائدہ مل سکتا تھا مگر پارٹی نے یہ موقع ضائع کر دیا۔ اگر پیپلز پارٹی نے پنجاب پر فوکس کیا ہوتا اور یہ 20 سے 25 نشستیں حاصل کرنے کی پوزیشن ہوتی تو اس کی نشستوں کی تعداد 70 کے قریب ہوتی اور یہ حقیقی معنوں میں کنگ میکر بن کر ابھرتی ۔ موجودہ صورت حال میں اس کے پاس تحریک انصاف یا مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنانے کا موقع موجود ہو گا۔

اس وقت غالب امکان یہی ہے کہ معلق پارلیمنٹ کے وجود میں آنے کی صورت میں تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی مل کر مخلوط حکومت بنا سکتی ہیں۔ تحریک انصاف کے لئے پیپلز پارٹی کی مدد اور حمایت کے بغیر حکومت بنانا ناممکن حد تک مشکل ہو گا۔ توقع کی جانی چاہئے کہ انتخابات صاف شفاف اور آزادانہ ہوں اور کس کو اس پر انگلی اٹھانے کا موقع نہ ملے۔

غالب ارکان یہی ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت میں مخلوط حکومت بنے گی۔ پنجاب میں مسلم لیگ (ن)، سندھ میں پیپلز پارٹی، بلوچستان میں بھان متی کا کنبہ مخلوط بنائے گا جبکہ کے پی کے میں تحریک انصاف کی مخلوط حکومت بننے کے امکانات زیادہ ہیں۔ صورت حال15 جولائی تک مکمل طور پر واضح ہو جائے اور حتمی اندازے قائم کرنا ممکن ہو جائے گا۔


ای پیپر