یہ بھی کوئی خبر ہے
24 جون 2018 2018-06-24

 

پرویز مشرف کی پارٹی صدارت سے استعفیٰ کی خبر بھی کوئی خبر ہے ؟

خبر تو نہیں بنتی لیکن پھر بھی دل ناتواں قلم اٹھانے کو مچلا۔ خبر آئی کہ پرویز مشرف نے آل پاکستان مسلم لیگ کی صدارت سے استعفیٰ دیدیا۔ کوئی متعلقہ بندہ سامنے ہو نا تو سوال کرتا کہ بھائی وہ سیاست میں تھے کب؟ لیکن مروجہ طریقہ کار کے مطابق ہر وہ ایونٹ اخبار میں نمایاں طور پر شائع ہوجائے۔ ٹی وی پر بریکنگ نیوز بن جائے۔وہ خبر کہلاتا ہے ۔ سو پرویز مشرف کا صدارت سے استعفیٰ اخبارات میں صفحہ اول پر شائع ہوا۔ ٹی وی چینل پر سارا دن ٹکروں کی شکل میں چلتا رہا۔ لیکن قلم،کیمرہ کے مزدور نے بس سرسری طور پر خبر کو دیکھا اور پھر دیگر معمولات زندگی میں دل لگا لیا۔ وہ تو اچانک فون آیا کہ اینکر غریدہ فاروقی کے پروگرام جی فار غریدہ میں شرکت کرنا ہے ۔ پتہ چلا کہ پروگرام میں مجیب الرحمن شامی بھی ہیں۔ موضوع حالات حاضرہ اور انتخابات کا ماحول۔ یہ ہرگز معلوم نہ تھا کہ پرویز مشرف صاحب کا کوئی نمائندہ بھی موجود ہو گا۔ بہر حال پروگرام شروع ہوا تو پتہ چلا کہ ڈاکٹر امجدجو جمعہ کی سہ پہر تک آل پاکستان مسلم لیگ کے سیکر ٹری جنرل تھے۔ اب اچانک اپنی ننھی منی جماعت کے صدر بن گئے ہیں۔ وہ بھی شو میں شرکت فرمائیں گے۔ ڈاکٹر امجد نہایت اعلیٰ درجہ کے انسان ہیں۔مخلص بھی ہیں۔ دوستوں کے ساتھ کھڑا رہتے ہیں۔ حالات مشکل ہوں یا معتدل وہ پیچھے نہیں ہٹتے یارباش بھی ہیں۔ ویٹر نری ڈاکٹر بھی ہیں اور کامیاب بزنس مین بھی ۔ پرویز مشرف کے دور اقتدار میں سینکڑوں نہیں ہزاروں لوگوں نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔ککھ پتی لکھ پتی بن گئے۔جو کونسلر نہیں بن سکتے تھے وہ ممبر قومی اسمبلی،رکن سینیٹ بن گئے۔ ایسے ایسے لوگوں کو جھنڈے والی کاریں ملیں جنہوں نے جھنڈا صرف تصویروں میں ہی دیکھا تھا۔ مال مفت،دل بے رحم۔جو پرویز مشرف تک پہنچا وہ نہال ہو کر نکلا۔ کوئی ضلع کونسل کا چیئر مین بنا۔ کوئی ٹاؤن ناظم۔ کوئی تحصیل کا مالک۔ ایک سے بڑھ کر ایک نوسر باز۔ بیرون ممالک سے اصلاحا تی ایجنڈے پر ہاتھ بٹانے کیلئے آیا۔ قوم کو چونا لگا یا اور ٹھگی کی کامیاب وار دات کر کے رفو چکر ہوا۔ پرویز مشرف کے عر صہ اقتدار کے آغاز میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا بڑا چرچا تھا۔ بیرونی طاقتوں کو ناجائز قابض سے اپنے مطلب کے بہت سے کا م لینے تھے۔ لہٰذا ان کیلئے خزانوں کے منہ کھول دیے گئے۔ نئے بلدیاتی نظام،پولیس ریفارمز،نوکر شاہی کے نظام میں مطلوبہ تبدیلیوں کا ڈھکو سلا مارکیٹ میں بک رہا تھا۔ لہٰذا این آر بی نام کا ایک ادارہ تخلیق کیا گیا۔ ایک حاضر سروس افسر اعلیٰ اس کے مدارالمہام تھے۔ امریکہ سے ایک فراڈ میں ملوث نوجوان شخص آیااین آر بی کا کنسلٹنٹ بنا۔قومی خزانہ سے تنخواہ لی۔امریکہ میں فراڈ کی کہانی بے نقاب ہوئی تو موقع سے فرار ہو گیا۔ اب نا جانے کہاں ہو ں گا۔ ایک اور صاحب آئے۔پولیس ریفارمز پر ہم پسماندہ لوگوں کی راہنمائی کرنے۔ وہ اصلاحات کسی کا غذی پلندے کی شکل میں کابینہ ڈویڑن کے پرانے ٹرنک میں پڑی ہوں گی۔ بیرون ملک سے اعلیٰ تعلیم یافتہ دانیال عزیز نے این آر بی کو سنبھالا۔2002 کے عام انتخابات آئے تو دانیال عزیز کو بھی مسلم لیگ (ق) جائن کرنے کا حکم ملا۔حکم حاکم تھا۔ انکار کیسے کرتے۔ایک صاحب تھے امریکہ میں اعلیٰ چمڑے سے پولو کے گھوڑوں کی زین بناتے تھے۔ کسی شوقین کے حکم پر آئے۔ حاکم وقت سے فرمائش کی کہ میرے بھتیجے کو وزیر بنا دو۔ بر خوردارپانچ سال وزارت کے مزے لیتے رہے۔ 2008 میں سچ مچ کا الیکشن لڑنا پڑا تو ضمانت ضبط کرا بیٹھے۔چوہدری خاندان کو مصاحب خاص کا منصب ملا۔ معاوضہ کے طور پر مسلم لیگ (ق) نامی جماعت کا تحفہ ملا۔ سرکاری اثر و رسوخ استعمال کر کے مسلم لیگ (ق) کو مرکز اور پنجاب میں حکومت دلوائی گئی۔یوں چوہدری خاندان کی پنجاب کی پگ پہننے کی دیرینہ خواہش پوری ہو گئی۔ ریفر نڈم اور انتخابات میں اچھی پر فار منس دینے والوں کو من پسند عہدے ملے۔شوکت عزیز کو پہلے سینیٹر شپ ملی پھر وزارت خزانہ۔ظفر اللہ جمالی سے دل کھٹا ہوا تو چوہدری شجاعت حسین نے بھی وزات عظمیٰ کا پروٹوکول انجوائے کیا۔وزیر خزانہ شوکت عزیز ملک کا وزیر اعظم بن گیا۔ شیخ رشید نے صنعت و اطلاعات اور ریلوے کی وزارت پائی۔ غرض ایک ہجوم تھا۔ جنہوں نے دونوں ہاتھوں سے مال سمیٹا۔لیکن جو نہی ہواؤں نے رْخ بدلا۔سیاسی دستر خوان کا قبیلہ تتر بتر ہو گیا۔ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز۔ اب اس سارے ملک میں اگر کوئی علی الاعلان سابق صدر پرویز مشرف کے ساتھ ہے تو وہ ڈاکٹر امجد ہے ۔ جو پرویز مشرف کا ترجمان بھی ہے ۔ اس کی کا صدر بھی ۔ شاید 2008ء کے عام انتخابات میں ڈاکٹر امجد چند مہینوں کیلئے نگران وفاقی وزیر بنے تھے۔لیکن وہ آج بھی پرویز مشرف کے ساتھ ہیں۔شاید سیاسی وفا کا تقاضہ بھی یہی ہے ۔ کرنٹ افیئر کے شو میں ڈاکٹر امجد نے عجیب بات کی۔اینکر کا سوال کچھ اور تھا۔ لیکن کمال کا جواب دیا۔ بھولے بھالے ڈاکٹر امجد کہتے ہیں پرویز مشرف نے پاکستان کا آئین ہی تو توڑا ہے ۔ملک کوکوئی نقصان تو نہیں پہنچایا۔آفرین ہے ان کی سادگی پر۔ ان کے نزدیک آئین توڑنا کوئی جرم ہی نہیں۔ جس شخص کے غلط فیصلوں کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی نے جنم لیا۔خود کش حملے ہوئے۔ ججوں کو نظر بند کیا گیا۔مسئلہ کشمیر پر پاکستان بیک فٹ پر گیا۔ سینکڑوں پاکستانیوں کو امریکہ کے حوالے کر دیا گیا۔ ملک کی فضائیں گروی رکھ دی گئیں۔ شوکت عزیز ایسے حکمران مسلط ہوئے۔انہوں نے کوئی نقصان ہی نہیں کیا؟ ۔۔۔پرویز مشرف پاکستان کی سیاست میں نہ پہلے کسی شما ر قطار میں تھا نہ آج ہے ۔ وہ صرف نہتے عوام کو مکے دکھا سکتا تھا۔ اور کچھ نہیں۔سیاست بہت بھاری پتھر ہے ۔اس پتھر کو اٹھا نا مشرف کے بس کی بات نہیں۔

 


ای پیپر