کاغذات منظور، کاغذات مسترد
24 جون 2018 2018-06-24

 

عام انتخابات میں 4 ہفتے باقی، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے 21 ہزار امیدوار، کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال مکمل، جن کے کاغذات منظور ہوئے وہ ابھی سے بینڈ باجوں کے ساتھ ریلیوں کی قیادت کرتے گھروں کو روانہ، جن کے مسترد ہوئے وہ بجھے چراغوں کی طرح دھواں دیتے تھکے چہروں پر سنجیدگی طاری کیے پریس کانفرنسوں میں مصروف، نظر ثانی کی اپیلیں ایپلیٹ کورٹس میں دائرِ اپیلوں کی سماعت، کوئی ان کوئی آؤٹ، اک دل جلے نے کہا ’’سب دکھاوے کی باتیں ہیں بابا‘‘ توں ڈھائے جا توں بنائے جا کا ڈرامہ چلرہا ہے، پانچ پانچ حلقوں سے انتخاب لڑنے کا اعلان، ریٹرننگ افسر نے دو حلقوں میں کاغذات مسترد کردیے تو آنکھیں دکھانے لگے، ایک خط لکھ دیا بہت کافی ہے، اقتدار کی غلام گردشوں تک رسائی کا یقین، کاغذات مسترد کرنے کی جرأت کیسے ہوئی۔ ڈھائے جا والوں سے بنائے جا والے ڈاہڈے، زیادہ طاقتور، اشارہ ابرو پر کائنات کی نبضیں رک جائیں، جسے ڈانٹ دیا وہ راندۂ درگاہ، نیاز مند قدم قدم ساتھ، پلو طاقتوروں کے دامن سے باندھ لیا ہے ،کامیابی قدم چومے گی، روحانی قوت بھی ساتھ ہے، قوت کا سر چشمہ عوام نہیں روحانی ذات ہے، پانچوں حلقوں سے انتخاب لڑنا اور کامیابی کا سہرا ماتھے پر سجانا ہے، یہ نہیں سوچا کہ ایک سے زائد حلقوں میں الیکشن لڑنے سے فی حلقہ 4 کروڑ 41 لاکھ کا نقصان ہوگا، چار نشستوں پر ضمنی انتخاب میں 17 کروڑ کے اخراجات ہوں گے، ہونے دیں، کیا فرق پڑتا ہے ’’خبریں آرہی ہیں زبانی طیور کی‘‘ کہ صاحب کا وزیر اعظم بننا ٹھہر گیا ہے ،کوئی اور مائی کا لال بن ہی نہیں سکتا، بن گیا تو پانچ سال عدالتوں میں دھکے کھائے گا ،سو پیشیاں بھگت کر نڈھال ہوجائے گا، کوئی اور وزیر اعظم بن کے دیکھے، مگر یہ کیا دو حلقوں سے کاغذات مسترد ہونے پر منہ لٹک گیا، چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں، دل جلے نے ہانک لگائی، میاں ابتدائے عشق ہے ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں صحن سیاست میں قدم رکھا ہے جگہ جگہ پھسلن تو ہوگی، جو پھسلے ان سے اچھے روابط رکھے ہوتے تو وہ اونچ نیچ سمجھا دیتے اس وادی میں تو پیچھے کنواں آگے کھائی کے مراحل درپیش ہوں گے مصلحتوں کی بارودی سرنگوں کو پھلانگ کر نکلنا ہوگا، کتنا بچ سکیں گے؟ کچھ اندازہ ہے؟ بلا شبہ شوق دا کوئی مل نہیں، مگر اس شوق کی بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے، تجزیہ کاروں نے تو ابھی سے کہنا شروع کردیا کہ وزیر اعظم بن کر زیادہ پریشان ہوں گے پتا نہیں۔سب کچھ مد نظر رکھنا ہوگا ’’مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے‘‘ سابقون الاولون میں کیسے کیسے ہیرے پتھر بنا دیے گئے کیسے کیسے پتھر لعل و یاقوت بن گئے کسی نے مشورہ دیا کہ الیکشن سے پہلے بیت اللہ کی چھت پر بیٹھے مالک حقیقی کے سامنے سر نیاز خم کر آؤ روحانی قوت نے اکسایا ہوگا۔

یہاں بھی خوش بختی کام آئی، عمرے پر گئے اور آئے، دو تین دن کا قیام، چارٹرڈ طیارے کا خرچہ ایک کروڑ روپے، سارا ثواب انویسٹر لے گیا، صاحب کے پاس صرف دعائیں رہ گئیں، ہوا میں گردش کرنے والی قیاس آرائیاں یوں بھی سچ لگتی ہیں کہ صاحب کو ہر ہر جگہ ہر ہر موقع پر چھوٹ ہی چھوٹ، دوسری جانب عمرے میں ساتھ جانے والے یار عزیز کا نام ای سی ایل یا بلیک لسٹ میں شامل، ایئر پورٹ سے فون پر رابطہ کیا گیا، وزیر داخلہ نے جانے کی اجازت دے دی، بات چلی تو یہ کہہ کر بری الذمہ ہوگئے کہ کسی نے فون نہیں کیا سیکرٹری داخلہ فائل لائے تھے بیان حلفی تھا کہ 6 دن میں واپس آجائیں گے نام سی ای ایل میں نہیں بلیک لسٹ میں تھا اس لیے جانے کی اجازت دے دی، لوگوں نے کہا بلیک لسٹ میں نام اس وقت ڈالا جاتا ہے جب کوئی ملک کے خلاف تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہو؟ ساری موشگافیاں دھری رہ گئیں، ’’جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے‘‘۔لیکن سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری خم ٹھونک کر میدان میں آگئے یہ الگ بات کہ اب وہ دم خم نہیں رہا لیکن انہوں نے ہر حلقے میں سیتاوائٹ اور ٹیرین کا مسئلہ اٹھا دیا اور موقف اختیار کیا کہ اخلاقی جرم پر بھی تو نا اہلی ہوسکتی ہے مگر اعتراضات مسترد ، اتنی مشکل سے ایک بندہ تلاش کیا اسے بھی ضائع کردیں، کہا گیا جس نے اعتراض اٹھایا وہ حلقہ کا ووٹر نہیں تھا اس لیے اس کا اعتراض قابل قبول نہیں، بندہ حلقے کا نہیں پاکستانی تو تھا چار ہفتے بعد انتخابات یقینی ن لیگ غیر یقینی، نواز شریف سے ہر حالت میں جان چھڑانے کا فیصلہ ہوچکا، اس پر بھی شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کی رٹ، مسلسل تکرار، یقین دہانیاں، نگرانوں کے بیانات، ٹاک شوز میں بیٹھنے والے 75 فیصد بزر جمہروں کی رائے کہ پی ٹی آئی آئی ہی آئی، تاہم بعض کی رائے کہ پی ٹی آئی کو حکومت سازی کے لیے مطلوبہ اکثریت نہیں ملے گی۔ ن لیگ، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی، عمران خان کو حکومت بنانے کے لیے یہ مصرع دہرانا ہوگا کہ اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے، آصف زرداری سے مدد طلب کریں گے تب زرداری صاحب اپنا جھرلو پھیریں گے، سینیٹ میں جادوگری دکھائی تھی یہاں بھی پرانے کرتب کام آئیں گے دشمن کا دشمن دوست کا فارمولہ آزمایا جائے گا آصف زرداری اپنی شرائط پر آگے بڑھیں گے اور گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہوتے ہوئے حکومت کو کندھا دینے پر مجبور ہوں گے، شاید لوح محفوظ میں یہی درج ہے مگر پھر وہی خطرہ کہ اگر الیکٹیبلز ناکام ہوگئے پنجاب نہ ٹوٹا تو کیا ہوگا؟ چار ہفتے گزرتے کیا دیر لگتی ہے ان ہی ہفتوں میں انتخابی مہم چلنی ہے سزائیں ہونی ہیں تب جا کر عوام اپنا فیصلہ سنائیں گے۔

 


ای پیپر