الیکشن کی سائنس
24 جون 2018 2018-06-24

 

پاکستان تحریکِ ’’انصاف‘‘ کے چیئرمین عمران خان صاحب نے بنی گالہ میں قائم اپنے نظریاتی ہیڈ کوارٹر یعنی بنگلے کے گرد اپنی ہی پارٹی کے کارکنان کے دھرنے سے بالآخر آخری خطاب کرتے ہوئے یہ مژدہ ء جاں فزا سنایا کہ انہیں یہ الیکشن ہر حالت میں جیتنا ہے اس لیے ٹکٹس انہیں دیے گئے ہیں جو الیکشن کی سائنس جانتے ہیں یعنی الیکشن جیتنے کی سائنس سے واقف ہیں۔ سیاست کے ایک عام طالب علم کے لیے الیکشن کی سیاست یعنی گڈرسنگھی بالکل ایک انوکھی اصطلاح ہے۔آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ الیکشن کی سائنس کیا ہے اور الیکشن کیسے جیتا جاتا ہے۔ الیکشن کے کارِ زار سے دو مختلف دستے گزرتے ہیں یعنی ایک حکومتی دستہ اور دوسرا وہ دستہ جو انتخابات کے بعد اپنی حکومت بنانے کا خواہاں ہوتا ہے۔ حکومتی جماعتیں اپنے دورِ اقتدار میں عوام کی ’’ خدمت ‘‘ کے ساتھ ساتھ ان طبقوں کی بھی ’’خدمت‘ ‘ میں سرکرداں رہتی ہیں جو آنے والے انتخابات میں ووٹرز کو ان کی جھولی میں پھینک سکیں ۔اس سلسلے میں بلدیاتی نمائندوں اور چھاؤنیوں میں کینٹ بورڈز کے اراکین انتہائی اہم نوعیت کی پرزے تصور کیے جاتے ہیں ۔ اہم عہدوں پر اراکین کو یہ خاص طور پر یہ کام سونپا جاتا ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقے کے تگڑے تاجروں ، وکیلوں ، مذہبی پیشواؤں ، پروفیسروں ، اور پیروں سے رابطے میں رہیں کہ یہی وہ لوگ ہیں جو سیاست کے معاشی بوجھ کو نہ صرف سہار سکتے ہیں بلکہ عوامی رابطے کا بہترین ذریعہ بھی بنتے ہیں ۔حکومتی جماعتیں سماجی اور معاشی طور پر ایسے تگڑے لوگوں کو نچلی سطح پر چھوٹے موٹے عہدے پیش کرتی ہیں جیسے کہ زکوٰتہ کمیٹی ، امن کمیٹی ، اور پرائس کنٹرول کمیٹی وغیرہ کی رکنیت و چیئرمین شپ۔مقامی صوبائی اور قومی اسمبلی کے اراکین ان چھوٹے عہدیداران سے رابطے میں رہتے ہیں اور گاہے بگاہے مختلف فنکشنز میں ان کو بلاکر یہ احساس دلاتے رہتے ہیں کہ وہ بھی ایک بڑے سمندر کا حصہ ہیں۔چھوٹے عہدیداران اپنے مقامی گلی محلے ، مساجد اور مختلف قسم کی سیاسی اور مذہبی اجتماعات میں بطور مہمانِ خصوصی یا مہمانِ اعزاز کے بلائے جانے لگتے ہیں اور مقامی تھانے کے ایس ایچ او سے بھی دعا و سلام ہوجاتی ہے لہٰذا ان میں سے کچھ اسی پر راضی ہوجاتے ہیں اور کچھ جو معاشی طور پر زیادہ بہتر ہوتے ہیں وہ ذرا بڑے خواب دیکھنا شروع کردیتے ہیں ۔یہ چھوٹے عہدیداران صوبائی اور قومی اسمبلی کے اراکین کے لیے پریشر والوو کا بھی کام دیتے ہیں یعنی نچلی سطح پر مختلف برادریوں کی ناراضی وغیرہ یا کسی بھی قسم کی سیاسی مزاحمت وغیرہ کو یہی برداشت کرتے ہیں اور اس کو حل بھی کرتے ہیں ۔اگر کوئی گلی یا محلہ مقامی صوبائی رکن سے نالاں ہے تو یہی لوگ چھوٹی موٹی کارنرمیٹنگ یا چائے وغیرہ کا اہتمام کرتے ہیں اور باہمی ناراضیاں دور کرتے ہیں ۔ گلی محلے کے چھوٹے عہدیداران چونکہ اپنی وفاداریاں سیاسی جماعت کے ساتھ عملی طور پر دکھانا چاہتے ہیں لہٰذا وہ اپنی اپنی برادری میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہیں اور خاندان والوں کو قائل کرتے ہیں کہ فلاں جماعت کے رکن کی فتح ان کے خاندان کے لیے کتنی فائدہ مند ہوگی۔ مقامی سطح پر جو مسائل ہوتے ہیں ، جیسے کہ گلی کا ٹوٹا ہوا ہونا ، محلے میں سرکاری پانی کا نہ آنا یا کم آنا ، سڑک یا گلی میں سٹریٹ بلب کا نہ ہونا ، کوڑا کرکٹ پھینکنے کا مناسب انتظام نہ ہونا وغیرہ ، ان کا براہِ راست تعلق بلدیاتی اراکین یا کنٹونمنٹ بورڈ کے اراکین سے ہوتا ہے لہٰذا عوام کے ان مسائل کے حل کا کریڈٹ بالآخر صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی کے رکن کو مل جاتا ہے ہے جس کے لیے یہ سب لوگ کام کررہے ہوتے ہیں ۔بڑی سیاسی جماعتیں ان چھوٹے عہدیداروں کی اہمیت اور صلاحیت سے بخوبی واقف ہوتی ہیں لہٰذا ان کو ناراض کرنے کی غلطی کبھی نہیں کرتیں۔ ان تما م عہدیداروں کو ایک لڑی میں پرونے کا کام کچھ نہایت اہم پرزے سر انجام دیتے ہیں جوکسی ادارے کا چھوٹا موٹا کلرک یا ٹائپسٹ بھی ہوسکتے ہیں ۔ ان لوگوں کے سیاسی رہنماؤں سے براہِ راست تعلقات ہوتے ہیں کسی حلقے میں جو کام کروانا ہو یا کوئی رابطہ کرنا ہو وفاداری تبدیل کروانی ہو تو سیاسی جماعتیں انہی کے ذریعے دانہ پھینکتی ہیں ۔بنیادی طور پر یہ پیغام رسانی کا کام سر انجام دیتے ہیں کس جگہ کارنر میٹنگ کروانی ہے ، کس بندے کو ایم پی اے یا ایم این اے سے ملوانا ہے ، یہ امور یہی لوگ سر انجام دیتے ہیں ۔ان ’’خدمات‘‘ کے نتیجے میں ان کے خاندان کے تھوڑے بہت پڑھے لکھے بچوں کو کسی سرکاری ادارے میں سرکاری نوکری دلوا دی جاتی ہے۔یہ ایک ایسا سیاسی دائرہ ہے جس سے آگاہی آپ کو اس دائرے کا حصہ بن کر یا اس کے اندر رہ کر ہی ہو سکتی ہے ۔ بظاہر ایک نظام کام کررہا ہوتا ہے لیکن اندرخانے چند پُرزے سرعت سے اپنی ’’خدمات‘‘ سر انجام دے رہے ہوتے ہیں اور ریاست کی ’’ ترقی‘‘ میں اپنا حصہ ڈال رہے ہوتے ہیں ۔ دوسری طرف شکست خوردہ جماعتیں اس کوشش میں ہوتی ہیں کہ مذکورہ بالا سیاسی پرزوں کو کیسے توڑا جائے اور کیسے ان کی وفاداریاں تبدیل کی جائیں ۔ لہٰذاان کا بھی ایک متوازی نیٹ ورک کام کررہا ہوتا ہے تاکہ مستقبل کے لیے فتح کو یقینی بنایا جاسکے۔ عمران خان صاحب کو دو دہائیوں بعد بالآخر یہ بات سمجھ آہی گئی کہ ’’ نظریہ ‘‘ یا ’’بیانیہ‘‘ کوئی چیز نہیں ہوتے ، فتح ہی سب کچھ ہوتی ہے الیکشن کی سائنس کو جاننا بھی کتنا اہم ہے الیکٹیبلز کا حصول ہی اس بات کی ضمانت ہے کہ آپ حکومت بنا پائیں گے کہ نہیں ۔ لیکن عمران خان صاحب کو اس بات کا علم نہیں کہ ان تمام سیاسی مہروں یا پرزوں کے زور پر حاصل کی جانے والی فتح آپ کو کرپشن کے ایک ایسے سمند ر کا حصہ بنا دے گی جس کے خلاف آپ نے اپنی پارٹی تشکیل دی ہے ۔ الیکشن کا سائنس دان بننے کے لیے آپ کو نچلی سطح تک چھوٹے چھوٹے عہدیداروں کو خوش رکھنا ہوگا ، کئی ایک جگہ پر میرٹ کا قتلِ عام کرنا ہو گا۔ اپنے بیانیے کو گروی رکھنا ہوگا ، نظریے کو اپنے ہی قدموں تلے روندنا ہوگا ۔ایسے اراکین جو آپ کے نظریے سے متصادم ہیں ان کو سینے سے لگانا ہوگا اور عمران خان صاحب یہ کام کرنا شروع ہوچکے ہیں جس کی بنا پر ان کے نظریاتی کارکن بجا طور پرنالاں ہیں ۔ یہ بات تحریک انصاف کو تسلیم کرلینی چاہیے کہ تبدیلی کے بیانیے کی موت ہوچکی ہے اور اب وہ ایک اسٹیٹس کو کی ہی عام روایتی پارٹی ہے۔جس کا خواب تبدیلی نہیں محض عمران خان کو وزیرِ اعظم کی شیروانی پہنانا ہے ۔ اور بس!

 

 


ای پیپر