بس ہوسٹس قتل کیس: چیف جسٹس نوٹس لیں
24 جون 2018 2018-06-24

 

فیصل آباد کے ایک بس ٹرمینل پر بس ہوسٹس مہوش ارشد کا قتل 9 جون کو ہوا۔ جس ٹرانسپورٹ مافیا کے احاطے میں یہ لرزہ خیز واردات ہوئی وہ اتنے طاقتور ہیں کہ ایک ہفتے تک کسی بھی چینل یا پرنٹ میڈیا یا گروپ کی جرأت نہیں ہوئی کہ اس واقعہ کی خبردی جاتی اس دوران سوشل میڈیا پر اس واقعہ کی فوٹیج وائرل ہو گئی اور عوام نے اس پر شدید رد عمل کا اظہار کیا اور اس اخلاقی اور عوامی دباؤ میں آکر ہمارا قومی میڈیا حرکت میں آ گیا۔ کیونکہ اسی دوران نگران وزیر اعلیٰ پنجاب نے بھی واقعہ کا نوٹس لے لیا تھا اس وقت جبکہ یہ خبر پورے ملک میں جنگل کی آگ بنی ہوئی ہے ابھی تک کسی میڈیا گروپ نے یہ نہیں بتایا کہ اس ٹرانسپورٹ کمپنی کا نام کیا ہے جو اپنی ایک خاتون ملازمہ کو دوران ڈیوٹی اس کی جان بچانے میں ناکام رہی۔

انڈیا میں کسی عورت پر ظلم ہوتا ہے تو وہاں کی ناری شکتی (women power ) پورے انڈیا میں احتجاج اور توڑ پھوڑ کے ذریعے اپنی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ کشمیر میں 8 سالہ آصفہ کے قتل پر بلا امتیاز مذہب وہاں کی حقوق خواتین کی تنظیموں نے اپنی حکومت کو مجبور کر دیا کہ وہ انڈین آرمی کے ان ریاستی قاتلوں کو گرفتار کریں جنہوں نے آصفہ پر ظلم کے پہاڑ توڑے تھے۔ مگر فیصل آباد کے اس واقعہ میں کوئی تنظیم کوئی گروپ کوئی جماعت کسی نے بھی اپنے ضمیر پر ہلکا سا بوجھ بھی محسوس نہیں کیا کہ اس واقعہ کی مذمت کی جا سکے۔ کوئی کمشنر کوئی ڈی سی کوئی سرکاری اہلکار متاثرہ خاندان کے گھر نہیں گیا۔ الیکشن کا موسم ہے لیکن پھر بھی کسی سیاسی پارٹی کسی مقامی وزیر کسی عابد شیر علی یا رانا ثنا ء اللہ کو توفیق نہیں ہوئی کہ وہ غریبوں کے ووٹ حاصل کرنے کی خاطر ہی تعزیت کے لیے چلے جاتے جب قومی و اجتماعی بے حسی اور بے حمیتی اس حالت کو پہنچ جائے تو اس وقت سے ڈرنا چاہیے۔جب ایسے معاشرے پر عذاب الٰہی کسی نہ کسی شکل میں نازل ہو۔ بس کمپنی قانونی طور پر ذمہ دار ہے کہ وہ اپنے ملازمین کے لیے ایسی place of work اور ماحول یقینی بنائیں جہاں ان کی خواتین ملازمین کو ہراساں نہ کیا جا سکے اور ملازمت زندگی کے تحفظ کی ضمانت ہو۔ اس کمپنی پر ملزم کی اعانت جرم اپنے فرائض میں غفلت شدید زخمی ملازم کو بر وقت ہسپتال نہ پہنچانے جیسے فوجداری دفعات کے علاوہ دوران ڈیوٹی اچانک موت پر بھاری معاوضہ ادا کرنے کی دیوانی دفعات کے تحت بھی مضبوط مقدمات بنتے ہیں لیکن عملاً ایسا کچھ نہیں ہو گا ۔ کیونکہ متاثرہ فیملی اتنی کمزور ہے کہ ان کے پاس تو بیٹی کی تدفین و تکفین کا خرچہ نہیں تھا۔ چہ جائیکہ وہ کوئی مہنگا وکیل کر کے اپنے لیے حقوق اور انصاف حاصل کریں یا ملزم کو سزا دلوا سکیں ۔ بس کمپنی مالکان کو تو کسی نے ایک دفعہ بھی تھانے نہیں بلایا۔ اگر ایسی نوبت آ بھی جاتی تو 100 روپے کے ایک اشٹام پر ایس ایچ او نے صلح نامہ لکھوانا تھا جس میں مدعی نے بس مالک کو بری الزمہ قرار دے کر متاثرین کو ایک دو لاکھ روپے دلوا دینے تھے۔ اللہ اللہ خیر صلا۔جہاں تک بس کمپنی کے سکیورٹی گارڈ ملزم عمر دراز کے قتل کرنے کا تعلق ہے یہ مصدقہ خبر ہے کہ مقتولہ نے اس سے شادی سے انکار کیا تھا جس پر اس نے اسے قتل کر دیا۔ مقتولہ اپنے کنبے کی واحد کفیل تھی جو محنت مزدوری کر کے اپنے گھر والوں کے لیے گزر اوقات کا وسیلہ تھی۔ یہ ہماری معاشرتی عدم برداشت اور معاشرے میں پائے جانے والی انتہاء پسند ی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس سال کے شروع میں کوہاٹ کی میڈیکل کالج کی تیسرے سالہ کی طالبہ اسماء کو بھی شادی سے انکار پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا اور قاتل ملک سے فرار ہو گیا تھا ۔ گزشتہ سال اس طرح کا ایک واقعہ مری میں ایک لیڈی سکول ٹیچر کے ساتھ ہوا جسے پھر ہسپتال اسلام آباد لایا گیا۔ تو اس کا جسم 85 فیصد جل چکا تھا۔ جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئی ۔ یہ سارے واقعات جہاں عدم برداشت کی عکاسی کرتے ہیں۔ وہاں ان کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ لاقانونیت انتہاء کو پہنچ چکی ہے۔ اور مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے طبقے قانون کی بے بسی اور نرمی کا فائدہ اٹھا کر قانون کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اگر قاتل کو یقین ہو کہ وہ 100 فیصد اگر کوئی اور ملک ہوتا جہاں rule of law کی حکمرانی ہوتی تو مقتولہ مہوش والے واقعہ کے بعد حکومت کی طرف سے سب سے پہلے بسوں میں ہوسٹس کی ملازمت پر فوری طور پر پابندی لگا دی جاتی یہ محض ٹرانسپورٹ مافیا کااپنے نا جائز منافع کو اور زیادہ بڑھانے کا ایک گھٹیا مارکیٹنگ ہتھکنڈا ہے جس کے پیچھے یا تاثر دینا مقصود ہے کہ مسافروں کو ثابت کیا جا سکے کے تمہارے بس میں سفر کا معیار پی آئی اے یا گلف ایئر کے برابر ہے۔ ان غریب لڑکیوں کا کوئی ایمپلائمنٹ کنٹریکٹ نہیں ہوتا ان کو سفری ٹرپ کے حساب سے معمولی سے پیسے دیے جاتے ہیں اور سکیورٹی گارڈ سے لے کر اعلیٰ ترین سطح تک ان کا ہر طریقے سے استحصال کیا جاتا ہے۔ اور یہ لڑکیاں اتنی بے بس غربت زدہ اور مجبور ہوتی ہیں کہ مزاحمت نہیں کرتیں دوسری طرف مسافروں کی طرف سے بھی ان کی سر سے پاؤں تک جو scanning اور سکروٹنی ہوتی ہے۔ اس کا اندازہ لگانا یا لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔

بس ہوسٹس والے معاملے کو ایک طرف رکھیں جتنی چور بازاری اور منافع خوری ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ہے شاید کسی اور جگہ نہیں ہے۔ حکومت نے ان پر روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی بنا رکھی ہے۔ جو اپنی ماہانہ بخشش لے کر ان کو مسافروں کو نوچنے کا لائسنس جاری کرتے ہیں۔ حالیہ عید پر اس مافیا نے 500 روپے کرائے کی جگہ 1000 سے 1200 تک وصول کیے ہیں۔ مگر یہ کسی قانون کی گرفت میں نہیں آتے۔ بڑے بڑے ٹرانسپورٹرز کی ہسٹری اٹھا کر دیکھ لیں ہمارے ملک میں اگر سسلی اور اٹلی کی طرز کے گاڈ فادر پائے جاتے ہیں تو سب سے زیادہ آپ کو ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ملیں گے۔ پاکستان میں انٹرسٹی کرایوں کی فی کلو میٹر شرح دنیا کی بلند ترین سطح پر پائی جاتی ہے۔ اور یہ سب کچھ روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RTA ) کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے۔ پٹرول کی قیمتیں 2 سے 4 روپے بڑھتی ہیں تو یہ 50 روپے کرایہ بڑھا دیتے ہیں۔ اس کا حساب کریں تو ہر اضافے کے بعد ان کا منافع پہلے سے زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ لوگ تو اندر سے دعائیں مانگتے ہیں کہ پٹرول کی قیمت بڑھے تاکہ یہ مزید کرایون میں اضافہ کریں۔ پاکستان میں جن حکومتوں نے ملک میں موٹر وے کا جال پھیلانے کا کریڈٹ کلیم کیا ہے انہوں نے بھی کبھی اس مافیا کو لگام ڈالنے کی کوشش نہیں کی کہ موٹر وے پر سفر کرنا عوام کے لیے کتنا مہنگا کر دیا گیا ہے۔ ایک سادہ ترین فارمولا یہ ہے کہ ایک شہر سے دوسرے شہر موٹروے کے ذریعے کرائے کی شرح ایک روپیہ فی کلو میٹر ہو تو اس لحاظ سے یہ ایک مناسب ترین کرایہ ہے جس میں بس کمپنی کو بھی جائز منافع ملتا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو لاہور سے اسلام آباد کا کرایہ 500 سے 600 روپے ہونا چاہیے۔ مگر یہ اس وقت 1500 سے 2000 ہے۔ آگے آپ خود اندازہ لگالیں۔

یہ تو بہت مشہور بس روٹ ہیں کچھ روٹس ایسے ہیں جہاں بس کمپنیوں نے اپنی اتنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے کہ وہان پر شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان سے اپیل ہے کہ انہون نے مفاد عامہ کے تحت جہاں موبائل فون کمپنیوں اور پٹرول کی قیمتوں پر اذخود نوٹس لیا ہے وہاں ٹرانسپورٹ مافیا کو کٹہرے میں لے کہ آئیں۔ یہ بہترین موقع ہے کہ مہوش ارشد کے ظالمانہ قتل کے ضمنی حالات بھی دیکھیں کہ کس طرح ان کمپنیوں نے ریاست کے اندر ریاست کا ایک متوازی نظام قائم کر رکھا ہے۔ اور اربوں روپے کے سالانہ منافع کے باوجود حکومت کو کوئی قابل ذکر ٹیکس نہیں دیا جا رہا۔ بس ہوسٹس جیسی خطرناک نوکری کو ریگولیٹ کروائیں ان کے ایمپلائمنٹ کنٹریکٹ رجسٹر کروائے جائیں۔ تاکہ خواتین کا تحفظ ہو یا پھر اس کو ختم کر دیں اور سب سے اہم اور سب سے آخری بات یہ ہے کہ مہوش ارشد کے لواحقین کو انصاف دیا جائے اور حکومت اور بس کمپنی دونوں کی جانب سے زر تلافی کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔


ای پیپر