ٹیکس چوری: ایک مہلک وباء
24 جون 2018 2018-06-24

یہ ایک حقیقت ہے کہ ٹیکس چوری کی وباء کے عام ہونے کی وجہ سے پاکستان کی داخلی معیشت کمزوری کا شکار رہی ہے۔ بنابریں عالمی سطح پر برملا یہ کہا جاتا رہا ہے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں شہری امیر ہیں اور حکومت غریب۔ مہذب مملکتوں اور معاشروں میں فرض شناس اور محب وطن شہری ٹیکس کی ادائیگی کو ایک قومی فریضہ جانتے ہیں۔ وہاں ٹیکس چوری کیلئے ٹیکس وصول کرنیوالے محکموں اور اداروں سے ساز باز کر کے نئے نئے گُر نہیں سیکھے جاتے۔ ہر شہری اپنے حصے کا ٹیکس دیانتداری سے ادا کرتا ہے، ٹیکس چوری کو ایک قومی جرم جانا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ٹیکس ادا کرنے کا کلچر فروغ نہیں پا سکا۔ اس کلچر کے فروغ نہ پا سکنے کی اصل ذمہ داری مقتدر طبقات پر عائد ہوتی ہے۔ اگر ماضی کے حکمرانوں کے ٹیکس کی ادائیگی کے حوالے سے گوشوارے نکالے جائیں تو یہ حقیقت بے نقاب ہو کر سامنے آئے گی کہ ملک کے اعلیٰ ترین مناصب پر فائز سیاسی حکمران ٹیکس ادا نہ کرنے کیلئے کن کن ہیرا پھیریوں سے کام لیتے رہے۔ مہذب معاشروں اور مملکتوں میں جو شخص جتنے بڑے حکومتی منصب پر فائز ہوتا ہے، وہ ٹیکس کی ادائیگی میں اتنی ہی زیادہ فعالیت، سرگرمی اور تندہی کا مظاہرہ کرتا ہے جبکہ ہمارے ہاں روایات اس کے برعکس ہیں۔ ہمارے ہاں عالم یہ ہے کہ بارسوخ ارباب حکومت ٹیکس چوری کو ایک مدت تک اپنا سٹیٹس سمبل بنائے رہے۔ اربوں اور کھربوں کی جائیداد کے مالک سیاستدان چند ہزار ٹیکس کی مد میں ادا کرنے کے بعد یہ سمجھتے ہیں کہ جیسے انہوں نے دیوالیہ قومی خزانے پر ایک بہت بڑا احسان دھردیا ہے۔ اس کی باقاعدہ تشہیر کی جاتی ہے۔ خوشامد کے عادی قلم کاروں سے اس پر قصیدے لکھوائے جاتے رہے ہیں۔ اگر کوئی متمول اورٹیکس ادا کرنے کے قابل شہری ٹیکس ادا کرتا ہے تو یقیناً وہ کسی پر کوئی احسان نہیں دھرتا۔ وہ محض ایک فرض ادا کرتا ہے۔ فرض کی ادائیگی پر اترانے کی بجائے سجدۂ تشکر بجا لانا چاہئے کہ قدرت نے کسی شہری کو اس قابل بنایا۔ وطن عزیز کے بڑے شہروں میں اگر عالی شان کوٹھیوں، بنگلوں، فارمز ، ولاز اور محل نمامکانات کی گنتی کی جائے تویقیناًان کی تعداد کسی طور نصف کروڑ سے کم نہ ہوگی۔ اس کے باوجود جب ٹیکس ادا کرنے کے قابل شہریوں کا شمار کیا جاتا ہے توان کی تعداد بمشکل 20 لاکھ کے قریب نظر آتی ہے۔ یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے کہ کروڑوں کی مالیتی چا ردیواریوں میں رہنے والے بھی برائے نام ٹیکس ادا کرتے ہیں۔سی بی آر کو بھی اپنا طریق کار بدلنا ہوگا۔ اصلاحات کے عمل کو جدیدخطوط پر استوار کرنے کیلئے انقلابی اقدامات کرنا ہونگے۔ محض نئی کمیٹیوں کا قیام مسئلہ کا ٹھوس حل نہیں۔ٹھنڈے اورگرم آرام دہ کمروں میں بیٹھ کر پلاننگ کرنے کی بجائے اس کے اہلکاروں کو وطن عزیز کے گلی کوچوں میں نکلنا ہوگا۔ زمینی حقائق کو کھلی آنکھوں سے دیکھنا ہوگا ۔ اگر وہ ایسا کر گزریں تو ٹیکس دہندگان کی تعداد میں قابل ذکر اضافہ ہو سکتا ہے۔ پیپر ورک کے ساتھ ساتھ فیلڈ ورک بھی ہونا چاہئے ۔یہ بھی ایک کڑوا سچ ہے کہ سی بی آر اور اس کے ماتحت ٹیکس کی وصولی پر مامور اداروں اور ان کے اہلکاروں کی کرم فرمائی کے باعث ٹیکس ادا کرنے والوں کا دائرہ پھیل نہیں سکا۔ شہروں کی ہر پوش آبادی میں سی بی آر سے متعلقہ محکموں کے اہلکاروں اور افسروں کی بالواسطہ اور براہ راست جائیدادوں کی تیزی سے بڑھتی تعداد اس امرپر دال ہے کہ پاکستان میں ٹیکس دہندگان کی تعداد کیوں کم ہے۔ یہاں مگر مچھوں کو چھوڑ دیا جاتا اور چھوٹی مچھلیوں پر آہنی جال پھینک دیئے جاتے ہیں۔ سی بی آر کو بین الاقوامی پرنٹ میڈیا میں شائع ہونیوالی ان اطلاعات کا بھی سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہئے، جن میں وطن عزیز کے ان شہریوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو مغربی ممالک اور امریکی ریاستوں میں بھاری بھرکم بینک کھاتوں کے مالک ہیں۔ یوں تو پاکستان کو دنیا کا غریب ترین ملک قرار دیاجاتا ہے لیکن مقام حیرت ہے کہ اس غریب ترین ملک کے سینکڑوں افراد بیرون ملک’’ ملین ڈالرز کلب‘‘اور ’’بلین ڈالرز کلب‘‘ کے رکن ہیں۔ اس کے علاوہ شاہراہوں پر فراٹے بھرتی قیمتی گاڑیوں کا حقیقی شمار کر لیا جائے تو شہریوں سے وصول ہونیوالے ٹیکس کے حجم میںیقینی اضافہ ہوسکتا ہے۔ ملکی داخلی معیشت کے استحکام کیلئے ٹیکس دہندگان کی تعداد کم از کم 30لاکھ تک ہونا چاہئے۔

وطن عزیز میں یوٹیلٹی بلز میں نرخوں میں اضافے کی قدرے ذمہ داری ٹیکس نادہندگان پر بھی عائد ہوتی ہے۔ یعنی ٹیکس دینے کے قابل متمول اور ثروت مند شہری متعلقہ حکام سے ساز باز کر کے ٹیکس چوری کے کلچر کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔ اگر یہ لو گ دیانتداری اور حب الوطنی کو بروئے کار لاتے ہوئے ٹیکس کی ادائیگی میں ہیر پھیر نہ کریں تو اس کا منطقی نتیجہ یوٹیلٹی بلوں پر عائد مختلف قسم کے سرچارجز سے نجات کی شکل میں سامنے آ سکتا ہے۔ گورنر اسٹیٹ بنک نے ایک موقع پر درست کہا تھا کہ جب ٹیکس دہندگان کی تعدا د میں اضافہ ہو گا تو اس سے جہاں ایک طرف ٹیکس ریٹس میں کمی واقع ہو گی وہاں دوسری طرف یوٹیلٹی بلوں پر عائد مختلف قسم کے سرچارجز سے بھی عام شہری کی جان چھوٹ جائے گی۔ بذریعہ یوٹیلٹی بلز مختلف ٹیکس سرچارجز کے عنوان سے وصولنا اس امر کی دلیل ہے کہ ہماری حکومتیں اور ان کے ٹیکس وصول کرنے کے ذمہ دار ادارے براہ راست اپنے فرائض ادا کرنے کی اہلیت و استعداد نہیں رکھتے۔واپڈا کے سابق چیئرمین نے بھی اس امر کی نشاندھی کی تھی کہ اگر حکومت بجلی کے بلوں میں سے سرچارجز منہا کر دے تو عوام کو سستی بجلی فراہم کی جا سکتی ہے۔ اگر سرچارجز کے نام پر عام آدمی اور عام شہری ہی کی شریانوں سے وزارت خزانہ کے بزرجمہران نے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ لینے کی شائیلاکی روش کو اپنا شعار بنائے رکھا تو زیریں متوسط اور متوسط طبقات کا معیار زندگی روز بروز پست سے پست تر ہوتا چلا جائے گا۔ بین الاقوامی نشریاتی ادارے وطن عزیز کے حوالے سے اس قسم کے تبصرے کرتے نظر آئے کہ ’’پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں حکومت غریب ہے اور شہری امیر ہیں‘‘ یہ الگ بات کہ یہ تبصرے بھی قدرے مغالطہ انگیز اور مبالغہ خیز ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وطن عزیز کے شہریوں کی 95فیصد تعداد بمشکل دو وقت کی روٹی حاصل کرنے میں کامیاب ہو پاتی ہے جبکہ 5فیصد مقتدر اور حکمران طبقات کی ناجائزدولت ہر سرحد کو پھلانگ چکی ہے۔ ان میں سے بیسیوں ایسے ہیں جو بیرونِ ممالک ملین ڈالرز کلب اور بلین ڈالرز کلب کے ’’خفیہ اراکین‘‘ ہیں۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کاروبار مملکت چلانے کے لئے ٹیکس دینے کے قابل شہریوں کا دیانت داری سے ٹیکس ادا کرنالازم ہوتا ہے۔ جن معاشروں اور مملکتوں میں ٹیکس چوری کا کلچر فروغ پاتا ہے، ان کی داخلی معیشت کبھی مضبوط ، توانا اور مستحکم نہیں ہوا کرتی۔

 


ای پیپر