جنگلی گلابوں کی چھاؤں میں گزرابچپن
24 جون 2018 2018-06-24

 

گزشتہ شب موسم بہت اچھا تھا،ٹھنڈی ہواؤں نے گرمی کی شدت کو کافی کم کر دیاتھا۔اگرچہ ان دنوں الیکشن سرگرمیوں کی وجہ سے سیاسی درجہ حرارت میں اصافہ ہو گیا ہے بلکہ سیاسی وفاداریاں بدلنے کا رحجان بھی بہت بڑھ چکا ہے۔ دعا گو ہوں ، حکومت جس بھی پارٹی کی بنے ،ملک کو کامیابی کی راہ پر لیکر چلے اور سیاسی ہم آہنگی کو فروغ دے۔ عالمی سطح پر پاکستان کے امیج کو بہتر بنائے ،لوٹ مار پر مبنی سیاسی کلچر کا خاتمہ بہت ضروری ہے ۔پاکستان ہر حوالے سے خساروں کو شکار ہے ،جس کی وجہ ہماری حکومتوں اور سیاست دانوں کا کردار ہے۔اس کے علاوہ اہل قلم بھی شعور کی آبیاری میں ناکام ہو رہے ہیں۔خیریہ ایکالگ موضوع ہے جس کا احاطہ آئندہ کسی کالم میں ضرور کروں گی۔ گزشتہ شب موسم خوشگوار ہونے کی وجہ سے گھر بیٹھنے کا موڈ نہیں بنا تو بھتیجے کو ساتھ لیکر واک کرنے نکل پڑی۔ گھر سے فصیح روڈ نزدیک پڑتا تھا اس لیے سوچا یہی راستہ اختیار کرتے ہیں ۔بیس سے 25 منٹ کی واک کر کے واپسی کی راہ لی ۔جس میں جنم بھومی کے پاس سے گزرت ہوئے یادوں کے کئی در آنکھوں کے سامنے کھل گئے۔ میانی قبرستان سے ملحقہ یہ آبادی کبھی لاہور کا پوش علاقہ کہلاتی تھی ۔میانی قبرستان میں تودرختوں کی بہتات ہمیشہ سے ہے جن کی چھاؤں قبروں اور جانوروں کے ساتھ ساتھ اس راہ گزر کو بھی اپنی پناہ میں رکھتی ہے۔ میں نے بچپن سے اس علاقہ میں ہریالی دیکھی مگر اب یہ ہریالی ختم ہوتی جا رہی ہے۔

یہاں گھروں میں صحن لازمی جزو تھے جہاں درخت اور بیلیں لگانے کا رواج عام تھا۔ گھر چھوٹے ہوں یا بڑے گملوں میں پودے رکھنے یا کیاریاں لگانے کا رواج عام تھا۔ شہر کے دوسرے علاقوں کے مقابلے میں اسلامیہ پارک ایک پرسکون علاقہ شمار کیا جاتا تھا،جو اب نہیں رہا۔پرانے مکین آشیانے چھوڑ گئے، نئے خریداروں نے صحن میں بیلوں اور درختوں کی جگہ کمائی کے لیے کمرے کھڑے کر لیے۔ ایسا ہی ہوتا ہے جب نئے شہر آباد نہ ہوں اور پرانوں کو ہی پھیلایا جائے۔ اس صورت میں شہروں کے پرانے مکین یا قربانی دیتے ہیں یا لالچ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہمارے علاقے کے ساتھ بھی یہی ہوا۔

ہمارے پرانے گھر میں بھی سفید جنگلی گلابوں کی بیل تھی، جو تین گھروں کو چھاؤں فراہم کرتی تھی، جس میں ایک ہمارا، دوسرے جنگ کے معروف کالم نگار ماموں سعید اظہر کا اور تیسرے وکیل انکل آفتاب کا۔ہمارے گھر سے گلی کے دوسروں گھروں میں جنگلی سفید پھول تحفے میں جاتے تھے، جو رشتوں اور تعلق کی آبیاری میں کام آتے تھے۔انکل سعید سے اگلا گھر معروف اسکالر پروفیسر ڈاکٹر برہان احمد فاروقی کا تھا، جو روز شام کی چائے ابو کے ساتھ پیتے اور واپسی پر گلابوں کا یہ حسیں تحفہ لیتے جاتے۔ میرے بچپن میں یہ سفید گلاب بہت اہمیت کے حامل تھے، جن کے کانٹے بھی بھلے لگتے تھے۔ بارشوں کے دنوں میں ان گلابوں کا حسن دو آشتہ ہوجاتا تھا۔اکثر رات کی بارش کے بعد جن ہم صبح صحن میں آتے تو میری آنکھیں پوری کی پوری کھل جاتیں، پورا صحن گلاب کے پھولوں سے بھرا ہوا ملتا ، پھولوں کی یہ چاندنی سیدھا میرے دل پر اثر کرتی اور میں خوشی سے جھوم جھوم جاتی۔ میرا اور عفیفہ کا مشترکہ رومانس یہ سفید گلاب تھے،جن کی ٹوکریاں بھر بھر کر ہمارے سکول بھی جاتیں۔گرمیوں کی چھٹیوں میں اسی بیل کی چھاؤں میں بیٹھ کر سکول کا کام کرنا، کیرم بورڈ اور لیڈو کھیلنااہم مشاغل تھے۔ بیل کی ٹھنڈی چھاؤں بہت بھلی لگتی تھی۔ شام میں صحن میں پائپ لگا کر سارے پودوں کو دھونے کے بعد بیل پر بھی پانی ڈالتی۔ مگر بیل پھیلتی جا رہی تھی اور گھر سکڑتے۔ وکیل انکل وہاں سے گئے ،نئی فیملی آئی، پھولوں کی بیل پر اعتراض کیا، وہاں سے بیل کاٹ دی گئی۔ یہی حال انکل سعید والے گھر کا ہوا۔ انہی دنوں ابو نے بھی مکان شفٹ کرنے کا فیصلہ کر لیا کہ بچے بڑے ہو رہے اور مکان چھوٹا پڑ رہا ہے۔یوں ہم دوسرے گھر میں شفٹ ہو گئے میں ان دنوں آٹھویں جماعت میں تھی۔ گھر شفٹ کرنے کے کچھ دنوں بعد میں جب ماموں کی طرف گئی جو اسی گلی میں رہتے تھے،اور واپسی پر میرے پاس صرف آنسو تھے۔ میرے بچپن کی محبت میرے سامنے مرجھائی پڑی تھی۔ مالک مکان نے انیس سال تک تین گھروں کو چھاؤں دینے والی جنگلی گلابوں کی بیل کاٹ دی تھی کہ اسے صحن میں کمرہ بنانا تھا۔کیا انقلاب زمانہ ہے کہ اب گھروں میں درخت نہیں سر اٹھاتے بلکہ جوان اولاد کی خود سری سراٹھاتی ہے ۔

اٹھ چکا ہے پڑاؤ خوابوں کا

ہم ہیں اور سلسلہ سرابوں کا

آگہی ہے صلیب جذبوں کی

زندگی ہے سفر عذابوں کا

فکر یہ ہے سکوں سے رات کٹے

ذکر چلتا ہے انقلابوں کا

شہر اپنا ہرا بھرا اک باغ

چلتے پھرتے ہوئے گلابوں کا

چاندنی کے سبھی چراغوں میں

خون جلتا ہے آفتابوں کا

خواہشوں کا غلام نکلا یاسؔ

شاہزادہ کسی کے خوابوں کا

آج ہم صاف ہوا اور پانی سے محروم ہوتے جا رہے ہیں، جس کی وجہ درختوں اور ہریالی کا کم ہونا ہے۔ ہمارے بچوں کمروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں ،ان کے پاس کوئی چھاؤں نہیں کہ اب گھروں میں درخت نہ سہی بیل لگانے کا بھی رواج نہیں رہا۔ یہ حکمرانوں کی جانب سے ملنے والی مہنگائی کے تحفے ہیں یا لالچ۔ ہمارے گھر اور دل چھوٹے ہوتے جا رہے ہیں۔ یہاں شہرہمارے ہاتھوں صحرا بنتے جا رہے ہیں اور وہاں ریت کے بگولے معصوم بچیوں کو نگل رہے ہیں۔ یہ فیصلہ آپ نے اور میں نے کرنا ہے کہ ہم نے اپنی نسلوں کو ریت کے طوفان دینے ہیں، خشک نہریں اور دریا ان کے حوالے کرنے ہیں، انہیں پانی کی عدم دستیابی پر سسکتی ہوئی موت دینی ہے یا صاف پانی ، محفوظ ماحول اور ہری بھری راہ گزریں۔ الیکشن بھی سر پر ہے ،جو بھی فیصلہ کریں ،سوچ سمجھ کر کریں۔ سارے حالات اور واقعات کو سامنے رکھ کر۔ میرے پاس ان بچیوں کے والدین والا کلیجہ نہیں جس کی تین کلیاں ریت نے خود میں جذب کر لیں۔ میں اپنی نسل کو بچپن میں سفید گلابوں کی یادیں نہ سہی ،اس درجے کا کچھ تو دے سکوں۔ اس لیے کوششوں میں لگی ہوں، اپنے حصے کی شمع جلا رہی ہوں کیونکہ مجھے شکوہ ظلمت شب نہیں کرنا۔

 


ای پیپر