جدیداورقدیم انسان
24 جون 2018 2018-06-24

 

کبھی انسان جنگلوں میں بساکرتاتھا، جھونپڑوں پر چھپر ڈال کرخودکوراحت دیتاتھا، کبھی تویہ اپناآشیانہ اور مسکن غاروں کوبھی بنایاکرتاتھا، اس انسان کی زندگی جنت نماتھی،ہر طرف محبت ومودت کے پھول کھلتے تھے۔ اگروہ نقشہ کھینچوں تویوں خاکہ ابھرتاہے کہ قدیم انسان پسماندہ بستیوں کاباسی تھا، اجڑے دیار، خستہ مکانات میں اس کابسیراتھا، ٹھنڈے چولھے، کچی دیواریں، تپتی اورٹپکتی چھتیں، بوسیدہ پوشاک، بنجرکھیت، گھنے جنگل اور ویران زمینیں اس انسان کی کل کائنات تھیں۔آسائشوں سے خالی مشقتوں کے قافلوں کا مسافر یہ انسان بیماریوں کے طویل سلسلے دیکھنے والا، سفرکی ان گنت صعوبتیں برداشت کرنے والا، حضرکے آلام سہنے والا، نہ دن کی خبرتھی نہ رات کاپتاچلتاتھا، کس قدرسکون و راحت میں یہ انسان زندگی کی بہاروں سے لطف اندوز ہوتاتھا۔

مٹی کے بنے اس پتلے میں فطرت نے پیارکوٹ کوٹ کربھردیاتھا، اس کی بچپن کی حسین یادیں، وہ اٹھکیلیاں، لڑکپن کی شوخیاں، جوانی کی رعنائیاں، قدرت کی شہنائیاں سب کچھ ہی توانسان کومیسرتھا۔

بہتے چشموں کے ٹھنڈے میٹھے پانی سے خود کو سیراب کرتا، قدرت کی گودمیں بلاخوف وخطرسوتا، چرند پرند، درندوں اورہواؤں تک سے اس کی دوستی تھی، پھل کھاتااورتازہ گوشت کاشکارکرتا، جتنی ضرورت ہوتی اتنا ہی کھاناسمیٹتا، سب قدرت کی خوبیاں اس میں جمع تھیں۔

قدیم انسان کس قدرخوبصورت تھا، نہ کل کی فکرنہ آنے والے وقت کاخوف ، سب کچھ ہی بے فکری کی لہروں میں بہہ جاتاتھا۔

جدید انسان نے محبت کی شمع کوگل کر دیا، مادی فلسفہ کا مار گزیدہ انسان ، یہ شقاوتوں اور بے مہریوں کا مجسمہ بن گیا، اس نے بستیاں اجاڑ دیں، آبادیوں کو ویران کردیا،شہروں کو کھنڈرات میں بدل ڈالا۔خوشیاں اس سے روٹھ گئیں، اس نے تجارت کے بازارقائم کیے، صنعت وحرفت کے کارخانے کھولے، سربفلک عمارتیں کھڑی کیں، خودحکومت و امارت اورشان وشکوہ کے سمان سے خود کوآراستہ کیا، محبت وفیاضی کے چشمے سوکھ گئے، امن وراحت خواب و خیال ہوگئے، وہی انسان کی بستی جوپہلے نیکی ومحبت کی دنیا اور راحت وبرکت کی بہشت تھی، اب افلاس ومصیبت کامقتل اور جرموں اور بدیوں کی دوزخ بن گئی۔ عیش وعشرت کے ایوانوں میں جمال وحسن کی محفلیں جمانے والا یہی انسان ہے، پہلے جانوروں کا شکار کرتا تھا اب یہی انسان انسانوں کاشکاری ہے، اب ہرطرف دردناک صدائیں بلندہوتی ہیں، سناٹوں میں المناک فریادیں گونجتی ہیں ، عصمتوں کی چادر تار تار ہوتی ہے۔

شہرت اوردولت کاخوگریہ انسان بدبختی کی انتہا کو پہنچ چکاہے، اس فانی دنیاکاپجاری یہ انسان ہررشتے کو بھول چکاہے ، مال ودولت ہی اس انسان کی منزل ہے، اپنوں کوبھول کراپناسب کچھ کرلینے والا انسان خودسے بھی بیگانہ ہوگیاہے، مال کی ہوس اس قدر ہے کہ عزت بھی داؤپرلگانے میں کسی ترددکاشکارنہیں ہوتا۔

میں اس انسان کوڈھونڈتاہوں جو رہتا توکچے مکانوں میں تھامگراخلاص و محبت میں اس قدرپکاتھاکہ جس سے بھی ناتاجوڑتاخودٹوٹ جاتامگرناطہ قائم رکھتا۔ میں وہ قدیم انسان ڈھونڈتا ہوں کہ جوانسانوں کے خون کاپیاسانہ ہو، مجھے اس قدیم انسان کی تلاش ہے کہ جس کے گھرمیں تو اندھیرا ہوتا مگرمحبت والفت کی شمع ہر سو روشن کرتا۔ ہاں میری نگاہیں اس قدیم انسان کی متلاشی ہیں جو کبھی انسانوں کامحافظ ہواکرتاتھا، جو رشتوں کو نبھانا خوب جانتاتھا، جواسی قدرکماتاکہ زندگی کی سانسیں چلتی رہیں مگرمیری یہ تلاش بے سود ہو گی ،اس لئے کہ قدیم انسان آج کی فلک بوس عمارتوں میں چن دیاگیاہے، قدیم انسان مادیت کے دھارے میں بہہ گیا ہے اورمیں اپنی تلاش میں ناکام ونامرادہوں ۔کوئی تو ہو جو مجھے پھرسے وہ قدیم انسان دکھادے جوانسانیت کا پاس کرتاہو، کوئی تومجھے دکھادے ۔

 


ای پیپر