file photo

'آرڈیننس میں بھارتی جاسوس کی نہ سزا ختم ہوئی، نہ سہولت دی گئی'
24 جولائی 2020 (13:31) 2020-07-24

اسلام آباد: وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی روشنی میں یہ آرڈیننس لایا گیا۔ اس آرڈیننس میں بھارتی جاسوس کی نہ سزا ختم ہوئی، نہ ہی کوئی سہولت دی گئی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ این آر او وہ ہوتا ہے جو پرویز مشرف نے دیا، جس میں سزائیں ختم ہوئیں۔ آرڈیننس لانے کیلئے اپوزیشن سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن بھی اپنے ادوار میں آرڈیننس لاتی رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس آرڈیننس سے کلبھوشن کی سزا ختم نہیں ہوئی، آرڈیننس جاری کرکے ہم نے بھارت کے ہاتھ کاٹ دیئے ہیں۔ بھارت چاہتا ہے ہم آئی سی جے کا فیصلہ نہ مانیں۔ بھارت چاہتا ہے سیکیورٹی کونسل میں ہمارے خلاف قرارداد پاس کرائے۔ ذمہ دار ریاست کے طور پر آئی سی جے کے فیصلے پر عملدرآمد کرنا ہے۔

فروغ نسیم نے کہا کہ آئی سی جے نے کلبھوشن کی سزا ختم نہیں کی، نہ آرڈیننس سے ایسا ہوگا، اپوزیشن کو کبھی نہیں کہا کہ آپ مودی کے یار ہیں۔ سیاست ضرور کریں ہر طرح سے کریں مگر یہ حساس معاملہ ہے۔ آرڈیننس بننے دینا چاہئے، اس قانون کو منظور ہونے دینا چاہئے۔ ریڈیو پٹیشن کا مطلب یہ نہیں کہ کلبھوشن کی سزا معاف ہوگئی۔


ای پیپر