کس کس چیز کا رو نا رو ئیں
24 جولائی 2020 (13:05) 2020-07-24

چند دن پہلے حکومت ہی نے رپورٹ جاری کی کہ ملک میں چلنے والے ’’صرف پچاس‘‘ بناسپتی گھی کے کارخانے ملک میں مضرِ صحت گھی تیار کررہے ہیں۔ یاد آیا کہ چند دن پہلے ملتان میں جعلی خون کی بوتلیں برآمد ہوئیں۔ ملک میں بکنے والا اسّی فیصد دودھ دودھ نہیں بلکہ مختلف کیمیکلز کا مرکب ہے۔ ہم رشوت کو چائے پانی کہتے ہیں، مردار گدھوں اور کتوں کا گوشت ہوٹلوں اور قصابوں سے پکڑا گیا ہے، سیورج کے پانی سے سبزیاں اگائی جارہی ہیں۔ ڈاکٹرز اب گردے نکال کر بیچ دیتے ہیں۔ ماؤں نے نارمل طریقے سے بچے جننے چھوڑ دیئے ہیں، کیونکہ ڈاکٹرز کے پیٹ نہیں بھرتے۔ 98 لوگ طیارے حادثے میں قتل کردیئے گئے اور ایم ڈی پی آئی اے فرمارہے ہیں کہ امید تھی کہ طیارہ ایک انجن سے لینڈ کرلے گا۔ بلوچستان میں جانور اور انسان ایک ہی گھاٹ سے پانی پیتے ہیں (میلوں سفر کے بعد اگر کوئی گھاٹ مل جائے) اور اسی بلوچستان کے ایک بائیس گریڈ کے افسر کے گھر سے ایک ارب روپے کے قریب کیش برآمد ہوا اور اس افسر کے صرف ڈیفنس کراچی میں اب تک آٹھ بنگلے دریافت ہوچکے ہیں۔ عوام کو علاج کے لیے سرکاری ہسپتالوں سے دو دو سال بعد کا وقت ملتا ہے اور حکمرانِ وقت دنیا کے بہترین ہسپتالوں اور ڈاکٹروں سے علاج کروانے ملک سے باہر جاتے ہیں۔ پیچھے سے یہی عوام ان کی صحت یابی کی دعائیں کرتے ہیں اور ان کے علاج پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ اس ملک میں بھتہ نہ ملنے پر تین سو انسانوں کو زندہ جلا دیا جاتا ہے لیکن لوگ اب بھی اس پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں۔ اس ملک کے سب سے بڑے صوبے کا تیسری مرتبہ کا وزیراعلیٰ انتخابات سے پہلے بڑے بڑے وعدے کرتا ہے اور انتخابت کے بعد اسے جوش خطابت قرار دے دیا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میںجان بچانے والی ادویات بھی جعلی بنتی ہے۔ ٹھیکیدار تعمیرات میں ناقص میٹریل استعمال کرتے ہیں اور زلزلوں سے مرنے والے لوگوں کو اللہ پر ڈال دیا جاتا ہے۔ اس ملک کے سب سے بڑے صوبے کا ساٹھ فیصد بجٹ صرف ایک شہر پر لگا دیا جاتا ہے اور باقی نو کروڑ لوگ اپنے حقوق کے لیے چُوں تک نہیں کرتے بلکہ وہ اپنے علاقے سے ہزار کلومیٹر دور صوبائی دارالحکومت میں کسی سڑک کے بننے پر خوشیاں مناتے ہیں جبکہ ان کے اپنے شہر کھنڈر کا منظر پیش کررہے ہوتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ تین کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں اور آدھی سے زیادہ آبادی کے لیے پوری خوراک بھی نہیں۔ اس ملک میں آئے روز بے گناہ عمر قید سے زیادہ قید کاٹ کر پھانسی چڑھ جاتے ہیں اور ہماری عدالتیں بعد میں فیصلہ کرتی ہیں کہ وہ شخص تو بے گناہ تھا۔ دنیا بھر میں رواج ہے کہ کوئی مجرم عدالت جاتے یا آتے وقت احساس ندامت سے اپنا چہرہ چھپاتے ہیں لیکن ہمارے ملک میں بڑے بڑے مجرم حتیٰ کہ قاتل بھی عدالتوں کے باہر وکٹری کا نشان بناتے نظر آتے ہیں۔ اس ملک میں آپ اپنا جائز سے جائز کام بھی نہیں کرواسکتے، لوگ اپنی محافظ پولیس سے دامن بچا کر دور دور سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو عدالتیں کسی ملک کا وقار ہوتی ہیں اور عوام کا آسرا، ان کے بارے میں مساجد میں دعائیںکی جاتی ہیں کہ اللہ ہمیں کورٹ کچہری سے بچائے۔

مگر ہم کس کس چیز کا رو نا روئیں۔ وبا ء کے ان گھمبیر دنو ں میںحکومت نے ادویات کی قیمتوں میں سات سے دس فیصد اضافہ کی اجازت دے کر عوام کے بوجھ میں بڑا اضافہ کردیا ہے۔ ایسے وقت میں جب کورونا وائرس کی وبا اور لاک ڈائون کی وجہ سے لوگوں کی آمدنی کے وسائل پہلے ہی بڑی حد تک سکڑ چکے ہیں حکومت کی جانب سے ہر ماہ عوام کے لیے ضرورت کی کسی نہ کسی شے کی قیمتوں میں اضافہ باعث استعجاب ہے۔ گزشتہ ماہ کے آخر میں تیل کی قیمتیں غیرمعمولی طور پر بڑھائی گئیں، اب ادویات کی قیمتیں بھی بڑھادی گئی ہیں۔ اس دوران آٹے، دالوں اور دیگر اشیائے ضروریہ کے نرخوں میں جو خودبخود اضافہ ہو چکا ہے۔ حکومت کے کاغذوں میں اس کا کوئی حساب کتاب ہی نہیں۔ یہ سبھی اضافے مل کر عام آدمی کے لیے ناقابل برداشت بوجھ بن چکے ہیں او رآمدنی کے وسائل مسلسل بے یقینی کا شکار ہیں۔ ان حالات میں قیمتوں میں ردّو بدل کا واضح مطلب یہ ہے کہ عام آدمی کی دشواریوں کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا جارہا ہے اور ہر ماہ کسی ایک شے کی قیمت میں اضافے کی منظوری دے کر دیگر اشیا کی قیمتوں میں خودبخود اضافے کی راہ ہموار کردی جاتی ہے۔ تیل، اشیائے خوراک اور ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر نہ پڑیں ایسا ممکن نہیں۔ چنانچہ عام آدمی کے لیے یہ اضافہ صرف ایک دو اشیا کی قیمتوں میں نہیں بلکہ ضرورت کی ہر شے کے نرخوں میں منتقل ہوگا اور غربت کی شرح جو پہلے ہی تشویشناک حدوں کو چھو رہی ہے اس میں مزید اضافہ یقینی ہے۔ قیمتوں میں اضافے کی منظوری کے یہ فیصلے بلا جواز ہیں اور نامناسب وقت پر کیے جارہے ہیں کیونکہ غیر یقینی معاشی حالات میں نرخ بڑھانے کی اجازت کا نتیجہ صرف یہی سامنے آئے گا کہ لوگ جو پہلے ہی بمشکل گزارہ کررہے ہیں زندگی کو ان کے لیے مزید تلخ بنادیا جائے۔ اگر حکومت قیمتوں میں سات سے دس فیصد اضافے کی اجازت دیتی ہے تو انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اس فرق کو برابر کرنے کے لیے وہ تنخواہوں اور اجرتوں میں بھی اتناہی اضافہ کرے۔ مگر اس معاملے میں تو حکومت بالکل خاموش ہے او رخلافِ معمول اس مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافہ نہیں کیا گیا۔ ان حالات میں قیمتیں بڑھانے کا فیصلہ ناقابل فہم ہے اور یہ گزشتہ برس کے دوران ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے بھی زیادہ ہے۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے مطابق گزشتہ برس ادویات کی قیمتوں میں پانچ سے سات فیصد اضافے کی اجازت دی گئی مگر اس بار یہ سات سے دس فیصد ہے۔ چنا نچہ ٹیکسوں کی شرح اور دیگر مدات کو ملا کر یہ اضافہ سات سے دس فیصد تک نہیں رہے گا بلکہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ اس سے کئی گنا زیادہ ہوگا۔ ہماری حکومتیں ریونیو کے وسائل بڑھانے میں کبھی قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکیں۔ گزشتہ برس اس شعبے میں بہتری کے بلنگ بانگ دعوے کے گئے مگر عملی طور پر کوئی بڑی تبدیلی نہ آسکی۔ تاہم اس کارکردگی کے باوجود رواں مالی سال میں ٹیکس ریونیو کا ہدف گزشتہ مالی سال کی وصولیوں سے 27 فیصد زیادہ مقرر کردیا گیا جبکہ کورونا وائرس کی وجہ سے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں پر شدید اثر پڑا ہے۔ کیا ان حالات میں حکومت اشیائے ضروریہ کہ قیمتوں پر ٹیکسوں کی شرح بڑھا کر اپنے اہداف پورے کرے گی؟ کیا عوام جو پہلے ہی مہنگائی اور غربت کے مارے ہوئے ہیں اس قابل ہیں کہ اپنا پیٹ کاٹ کر حکومت کو ٹیکس اہداف پورے کرواسکیں؟ حکومت کو اس صورتِ حال پر منصفانہ غور کرنا چاہیے اور کوئی ایسی صورت پیدا کرنی چاہیے کہ ٹیکسوں کی شرح میں مناسب کمی کرکے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو حد اعتدال میں لے کر آئے اور قیمتوں میں اضافے کی منظوری کے ساتھ ان حقائق کو بھی مدنظر رکھی جو ہماری معیشت اور عوام کو اس وقت درپیش ہیں۔تلخ حقا ئق تو اور بھی بہت ہیں، تا ہم کا لم کی طوا لت کو مدِ نظر رکھتے ہو ئے یہ کہہ کر قلم رکھ رہا ہو ں کہ کس کس چیز کا رو نا روئیں۔


ای پیپر