اپوزیشن کا اضطراب
24 جولائی 2020 (13:05) 2020-07-24

مسلم لیگ (ن) کے وفد اور بلاول زرداری کی ملاقات کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت کے ہمراہ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکریٹری جنرل احسن اقبال پریس کانفرنس میں حکومت کے خلاف بہت سارے الزامات کے بعد فرما رہے تھے کہ نا اہل حکومت سے نجات عوامی امنگوں کی ترجمانی ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر پیپلز پارٹی کی حکومت کا دور یاد آ گیا جب شہباز شریف اور ان کے دوسرے رفقائے کار اسی طرح میڈیا ٹاکس میں پیپلز پارٹی کی حکومت پر اس سے کہیں زیادہ سنگین الزامات لگایا کرتے تھے۔مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کا یہ مفاداتی اتحاد و تعاون ماضی میں بھی میثاقِ جمہوریت کے نام سے دیکھا گیا تھا جب 18 فروری 2007ء کے انتخابات کے بعد دونوں جماعتوں نے متحد ہو کر حکومت بنائی لیکن یہ اتحاد زیادہ دیر چلا نہیں اور ان دو بڑی جماعتوں کے درمیان اختلافات کا سورج طلوع ہو گیا اور اقتدار کی سیاست نے اصولی اتحاد کو بے اصول بنا کر رکھ دیا۔ اس وقت کا اصولی اتحاد پرویز مشرف کے جرنیلی وجود کا مرہونِ منت تھا اور آ ج یہ تازہ اتحاد کی پیش قدمی اپنے مقدمات سے بچنے کے لئے ہے۔ یوں لگتا ہے کہ یہ اصولی اتحاد ایک بار پھر اپنے لیڈروں کے مخصوص مفادت کے حصول کے بعد سیاسی وعدوں کی مانند بکھر جائے گا۔

اس وقت سیاسی محاذ آرائی سے جو معاشی، سماجی اور سیاسی مسائل پیدا ہو رہے ہیں ان کے اثرات ملک و قوم کے لئے کسی طرح مناسب نہیں۔ اس صورتحال میں مزید سنگینی آنے سے قبل ہی تمام طبقوں اور مکاتبِ فکر کو اپنی توانائیاں ملک کی بقاء، سلامتی اورا ستحکام کے تقاضوں پر مرکوز کرنی چاہئیں۔ عام لوگوں کے بہت سارے مسائل حل طلب ہیں اور ان میںا فسوسناک حد تک اضافہ بھی نظر آ رہا ہے۔ مجرد بحثوں اور محاذ آرائی پر مبنی بیانات کے بجائے اگر ہم سب مل کر اپنی توانائیاں غربت میں تخفیف، تعلیم کے پھیلاؤ، علاج معالجے کی سہولتوں میں اضافے، بجلی کی بلاتعطل فراہمی، پینے کے صاف پانی کی دستیابی اور انفرا اسٹرکچر بہتر بنانے کی کوششوں پر مرکوز کریں تو عام لوگوں کی مشکلات میں بڑی حد تک کمی آ سکتی ہے۔ عام آدمی کی حالت بہتر بنا کر ہی اس کی اس سوچ میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے کہ مختلف سیاسی حلقوں اور دوسرے گروہوں کی

محاذ آ رائی وسائلِ دولت میں زیادہ سے زیادہ حصہ اپنے اپنے لئے بٹورنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ مگر ہماری قیادت، لیڈروں، اشرافیہ اور فعال طبقات سے لے کر ایک عام آدمی تک کسی کے پاس ترجیحی لسٹ موجود نہیں۔ ہم لوگ عرصہ دراز سے نان ایشوز میں الجھے رہتے ہیں۔ جو بھی حکمران آتا ہے وہ اپنا سارازور نان ایشوز پر لگا دیتا ہے ایسی باتیں جن کی عملی طور پر کوئی اہمیت نہیں، مگر ان کی تشہیر کر کے سیاسی فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

ایسی حالت میں جب ملک شدید معاشی بحران اور سنگین مسائل پر قابو پانے کی مشکل تگ و دو میں ہے، مہنگائی عروج پر ہے، بنیادی ضروریات کی تقریباً تمام اشیاء عام آدمی کی رسائی سے باہر ہیں، غیر ملکی قرضوں کا بوجھ بہت زیادہ ہے، ملکی سلامتی کو درپیش خطرات میں کمی نہیں آئی اور ان تمام مشکلات سے نکلنے کی تدابیر کے خاطر خواہ نتائج ابھی نظر نہیں آ رہے ہیں۔ اندرونِ ملک الزامات کی سیاست زوروں پر ہے اور حکومت و ا پوزیشن سنجیدہ ملکی مسائل کو حل کرنے کے لئے سر جوڑ کر بیٹھنے کے بجائے لفظی گولہ باری میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں۔ پاکستانی سیاستدان لفاظی پر بہت زیادہ یقین رکھتے ہیں۔ جب وہ پریس کانفرنس میں بات کر رہے ہوتے ہیں تو انہیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہوتا ہے اس وقت وہ بڑی بڑی باتیں کر جاتے ہیں اور ماضی کی تمام باتیں بھول جاتے ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اپنے تند و تیز بیانات میں تدبر اور احتیاط کے تقاضوں اور ملک کے وسیع مفادات کو بھی نظر اندازکر دیا جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ہمارے ہاں سیاست سمیت عوامی زندگی کے کسی شعبے میں قد بڑھانے کے لئے تند و تیز الفاظ اور جارحانہ لب و لہجے کو ایک تیر بہدف نسخہ سمجھا جانے لگا ہے۔

یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ انتخابات ہونے کے کچھ عرصہ کے بعد ہی مائنس ہونے کا شور و غلغلہ پڑ جاتا ہے۔ یہ کیا منطق ہے؟ پانچ سال کے لئے اسمبلیاں منتخب ہوتی ہیں جیسے بھی انہیں اپنی ٹرم پوری کرنی چاہئے۔ یہ جو لوگ اتحاد بنا رہے ہیں یہ پہلے بھی تو اقتدار میں رہے ہیں انہوں نے پہلے کیا کر لیا جو اب کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت بھی وہ ایک دوسرے کے خلاف اسی زبان میں باتیں کرتے تھے۔ موجودہ دور کی طرح ہی ایک دوسرے کے خلاف مقدمات بناتے تھے، سب پر کرپشن کے سنگین الزامات ہیں۔ کبھی مسلم لیگ (ن) کہتی ہے کہ دو تین ماہ کے لئے نیا وزیرِ اعظم لایا جائے یعنی عمران خان کو مائنس کر دیا جائے۔ نیا وزیرِ اعظم اصلاحات لائے اور تمام جماعتوں کی مشاورت سے نئے انتخابات کا اعلان کرے۔ سیاست کرنے کا سب کو حق ہے مگر اصولوں اور ایشوز کی بنیاد پر ہونی چاہئے۔ ایک دوسرے پر الزامات کی سیاست سے قومی تقاضے مجروح ہوتے ہیں۔ ملک کا، جمہوریت کا اور خود سیاست کا نقصان ہوتا ہے۔ برسرِ اقتدار پارٹی نے حکومت میں آنے سے قبل عوام سے بہت سے وعدے کئے تھے۔ انہیں بروئے کار لانے کے لئے پارلیمنٹ میں قانون سازی نہیں ہو پا رہی۔ پچھلے دو سال کے عرصہ میں عوام کے مفاد میں کوئی قانون سازی نہیں ہوئی۔ حکومت آرڈیننسوں سے چلائی جا رہی ہے۔ اپوزیشن کا طرزِ عمل پارلیمانی تقاضوں کے مطابق سنجیدہ نہیں۔ اس طرح ملک کا نقصان ہو رہا ہے اب ہماری سیاسی جماعتوں کو سیکھ لینا چاہئے کہ عوامی مفادات کے منصوبوں میں انہیں مخالفت نہیں کرنی چاہئے بلکہ حکومت کا قانون سازی میں ساتھ دیناچاہئے۔ اپنے خلاف کرپشن کے مقدمات کو ایک طرف رکھ کر جہاں حکومت کی غلطیوں پر تنقید کریں وہاں قومی مفاد میں اس کا ساتھ بھی دیں۔ قومی مفاد کا اس وقت شدید تقاضا ہے کہ حکومت قوم سے اپنے وعدے پورے کرنے کے لئے اپوزیشن کی مشاورت سے قانون سازی کرے اور اس کی ا چھی تجاویز قبول کرے، اسے ساتھ لے کر چلے، یہی رویہ قوم، ملک اور جمہوریت کے لئے فائدہ مند ہے۔

عوام نے آپ کو منتخب کرکے امورِ مملکت چلانے کے لئے اسمبلیوں میں بھیجا ہے سو حکومتی ایوانوں میں عوام کے مسائل پر آپس میں مل کر ان کو حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے۔ قوموں پر جب کوئی مشکل گھڑی آتی ہے تو ملک کی سیاسی قیادت تمام تر سیاسی اور نظریاتی اختلافات بھلا کر یگانگت کا عملی مظاہرہ کرتی ہے۔ پاکستان کی سیاست کے مزاج میں مثبت تبدیلی اسی وقت رونما ہو گی جب ذاتی، گروہی اور جماعتی مفادات کے بجائے ملکی اور قومی مسائل سیاسی جد و جہد کی بنیاد بنیں گے۔ حالات کے تناظر میں ہے تو یہ خوش گمانی ہی مگر مایوسی کے عالم میں خام امید بھی اس تنکے کی حیثیت رکھتی ہے جو کسی ڈوبتے کے لئے سہارا بن جاتا ہے ۔


ای پیپر