غیر ملکی میڈیا مظلوم کشمیریوں کی آواز بنے گا
24 جولائی 2020 (13:04) 2020-07-24

گزشتہ دو ماہ سے بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھا جارہا ہے اور آئے روز آزاد کشمیر میں ایل او سی کے مختلف سیکٹرز پر بلااشتعال فائرنگ کی جاتی ہے۔ رواں سال بھارت کی جانب سے 1697 مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی جا چکی ہے جس میں درجنوں افراد شہید اور بیسیوں زخمی ہوئے۔ دشمن کی گولہ باری سے جہاں جانی نقصان ہورہا ہے وہاں مکانات اور دکانیں بھی تباہ بھی ہو چکی ہیں اوربہت سی عمارات کو جزوی نقصان پہنچا ہے جبکہ اس کے علاوہ 87 مویشیوں کی ہلاکت بھی ہوئی ہے۔2015 سے اب تک بھارت 11 ہزار 815 بار سیزفائرکی خلاف ورزیاں کرچکاہے۔

5 اگست کو بھارتی غیر قانونی اقدام اور بھارتی مظالم کا سال پورا ہو رہا ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں محصور کشمیریوں پر کئے جانے والے مظالم سے توجہ ہٹانے کیلئے ایل او سی پر روزانہ فائرنگ کر کے آزاد کشمیر کے عوام کو شہید اور زخمی کر رہا ہے۔ پاکستان نے غیر ملکی میڈیا کو ایل او سی کا دورہ کرنے کی دعوت دی ۔ جس پر بین الاقوامی میڈیا اور یو این مشن کی پاکستان آمد اور ان کو ایل او سی اور مقامی آبادی تک مکمل رسائی دی جا رہی ہے۔

میڈیا کو پونچھ سیکٹر پر بھارتی علاقہ دکھایا گیا جہاں سے اشتعال انگیزی کی جارہی ہے۔ بھارتی فوج شہری آبادی کو بھاری ہتھیاروں، مارٹر اور کلسٹر سے نشانہ بناتی ہے۔ میڈیا کو بھارت کی طرف سے سرحد کی نگرانی کے نظام کو بھی دکھایا گیا۔ غیرملکی میڈیا نے ایل اوسی پر آمنے سامنے موجود فوجی چوکیاں بھی دیکھیں۔ غیرملکی صحافیوں نے ایل او سی پر 3،4کلومیٹر دوراینٹی انفلٹریشن گرڈ بھی دیکھے۔ گرڈزپربارودی سرنگیں، زیرزمین سینسر، آبزرویشن سسٹم اورریڈارموجودہیں۔

بریفنگ کے دوران غیر ملکی صحافیوں کو بتایا گیا کہ بھارتی جنتا پارٹی کے برسراقتدار آنے کے بعد ایل اوسی پراشتعال انگیزیاں بڑھی ہیں۔ اشتعال انگیزی کے جواب میں پاک فوج صرف بھارتی چوکیوں کونشانہ بناتی ہے۔ پاک فوج کی جانب سے شہری آبادی پرفائرنگ سے اجتناب برتا جاتاہے۔

دورے کے بعدمقبوضہ کشمیرکی حالیہ صورتحال اور بھارتی سیزفائر معاہدے کی خلاف ورزی پر انٹرنیشنل میڈیا بھی بول پڑا۔غیرملکی صحافی بلال ایستال کا کہنا تھا کہ آج چری کوٹ سیکٹر کادورہ کیا۔ لوگوں سے ملاقات کی، یہاں رہنے والے لوگ بھارتی فوج کی فائرنگ سے متاثر تھے۔ ایل اوسی پررہنے والے لوگوں کے تاثرات کوسمجھا۔ ایک چھوٹے سے لڑکے کا انٹرویو کیا جوزخمی تھا۔ زخمی بچے کے کاندھے میں گولی لگی تھی۔مجھے بہت دکھ ہوا۔ ہمیں لوگوں سے بات چیت کے دوران مکمل آزادی حاصل تھی۔ہم ان لوگوں کی آواز دنیا تک پہنچائیں گے۔الجزیرہ ٹی وی کے صحافی احمد برکات نے کہا کہ یہ دورہ ہمارے لیے بہت مفید اور معلوماتی تھا۔ ہم ان لوگوں کا دکھ محسوس کرتے ہیں۔ یو این مبصرین ایسے معاملات کے حل کیلئے کرداراداکریں۔ غیر ملکی صحافی کوئی آر یو کا کہنا ہے کہ میں نے چیری کوٹ میں رہنے والے لوگوں کو دیکھا، جو ہندوستانی فائر سے متاثر تھے۔ اس بار میں ایل او سی کی صورتحال کے بارے میں زیادہ واضح ہوں اور اس صورتحال میں رہنے والے لوگوں کے تاثرات کو سمجھی۔

دوسری طرف بھارت نے یو این سیکریٹری جنرل انتونیو گوترس کی اپیل کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ یو این سیکرٹری جنرل نے کرونا کے پیش نظر عالمی سطح پر جنگ بندی کی اپیل کی تھی لیکن اس کے برعکس بھارتی فوج شہری آبادی پر اشتعال انگیزیاں جاری رکھے ہوئے ہے، بھارت کی جانب سے غیر ملکی میڈیا کو ایل او سی پار دوسری بار بھی اجازت نہیں دی گئی تاہم پاکستان نے مکمل رسائی دے دی۔یو این مشن بھارتی اجازت نہ ہونے کے سبب ایل او سی کے پار کام نہیں کر سکتا۔

تین سال قبل بھارت نے فرانسیسی صحافی پال کومیٹی کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت کی ویڈیو بنانے پر 10 دسمبر 2017 کو سری نگر سے گرفتار کیا گیا ان کا قصور میرواعظ عمر فاروق سے ملنا اور بھارتی فوج پر پتھراؤ کی فلم بنانا تھا۔کومیٹی بھارتی قابض فورسز کی پیلٹ گنز کے شکار افراد سے بھی ملے تھے۔ بھارت نے بعد ازاں فرانسیسی صحافی پال کومیٹی کو ملک بدر کر دیا تھا۔ پال کومیٹی نے پاکستان سے بھی لائن آف کنٹرول تک آزادانہ رسائی مانگی جس پر پاکستان نے ایل او سی، قبائلی اضلاع اور واہگہ سرحد تک انھیں آزادانہ رسائی دی۔کومیٹی نے ‘کشمیر دنیا کے چھت پر جنگ’ کے عنوان سے ایک دستاویزی فلم کا اجرا کیا تھا جس میں انھوں نے بھارتی قابض فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کے قتل کا پردہ فاش کیا۔ فلم میں پیلٹ گنز کے زخمیوں، ایکسرے، بینائی کھونے والوں کی تصاویر استعمال کی گئی تھیں۔ بچوں پر پیلٹ گنز کا استعمال، معذوری، پھیپھڑوں، گردے، جگر میں سیسہ دکھایا گیا۔ بھارتی فوجی جیپ کے آگے باندھے جانے والے کشمیری نوجوان کو بھی دکھایا گیا۔ دستاویزی فلم میں ایسا معاشرہ دکھایا گیا جو مسلسل زیر نگرانی ہے۔اس طرح بین الاقوامی فورمز اور میڈیا ان کشمیریوں کیلئے پلیٹ فارم ہیں جن کے پاس پلیٹ فارم نہیں ہے۔ان سے آزادانہ گفتگو کر کے حالات کا درست اندازہ ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے مبصرین ایسے معاملات کو دیکھنے اور جائزہ لینے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔

گزشتہ روز لائن آف کنٹرول پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی اور دو خواتین کے زخمی ہونے پر پاکستان نے اسلام آباد میں تعینات سینئر بھارتی سفارت کار کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج رکارڈ کرایا تھا۔ بھارت شہری آبادی کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کے مطابق بھارتی اشتعال انگیزی سے 16 شہری شہید اور 133 زخمی ہوئے۔ بھارت 2003 جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرے۔


ای پیپر