چوہدری عبدالرحمن کو مبارکباد
24 جولائی 2020 2020-07-24

پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن ،وطن عزیز کے ایک سو سے زائد چینلزاور ریڈیوز کی تنظیم ہے اور بنیادی طور پر یہ ایسوسی ایشن تمام سٹیک ہولڈرز کے مسائل حل کرنے کے لئے بنائی گئی جن میں میڈیا ہاوسز کے ساتھ ساتھ ایڈورٹائزنگ ایجنسیاں بھی ہیں اور کلائنٹس بھی۔پی بی اے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ یہ تنظیم ریاست کے چوتھے ستون کے طور پر فیصلہ ساز افراد پر مشتمل ہے اور جب ہم ملک میں میڈیا کی آزادی کی بات کرتے ہیں تو یہ ہماری صحافتی تنظیموں کی طرح اہم ترین سٹیک ہولڈر کے طور پر سامنے آتی ہے۔ نئی بات میڈیا نیٹ ورک کے چئیرمین چوہدری عبدالرحمن اس کے بورڈآف ڈائریکٹرز کے نئے رکن منتخب ہوئے ہیں، ان کے ساتھ سٹی نیوز نیٹ ورک کے محسن نقوی اور مہران ٹی وی کے غلام نبی مہرائی بھی۔

پی بی اے کے منتخب ہونے والے تین میں سے دو نئے ڈائریکٹرز کے ساتھ میں ذاتی تعلق کا دعویٰ کر سکتا ہوں اور گواہی دے سکتا ہوں کہ انہوں نے کس طرح ایک سخت مقابلے کے بعد اپنا مقام بنایا۔ پی بی اے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی فہرست پر نظر دوڑائیے، آپ کو بہت سارے نام ایسے ملیں گے جو پدرم سلطان بود کے زمرے میں نہیں آتے، وہ جہاں ہیں وہاںسخت محنت اور جدوجہد سے پہنچے ہیں،یہ وہ نام ہیں جو ہماری حالیہ تاریخ میں بڑے بڑے فیصلوں کی بنیاد بننے والے تھیوری کی عملی نفی کرتے ہیں کہ ہر بڑی دولت کے پیچھے کوئی جرم ہوتا ہے بلکہ یہ وہ نام ہیں جو ایک تازہ ترین عدالتی فیصلے میں ان لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن کے قد چھوٹے نہیں کئے جا سکتے، جنہیں بونا نہیں بنایا جا سکتا اور اگر کوئی ایسی سازش کرے گا تو وہ خود ریاست کے خلاف ہو گی، اس کے مفادات کی نفی ہو گی، آپ ان کے قد اور کردار چھوٹے کر کے کبھی اعلیٰ ترین مقاصد حاصل نہیں کر سکتے چاہے وہ سیاست میں ہو، معیشت میں ہوں یا صحافت میں۔

مجھے اپنے مہربان دوستوں کومبارکباد پیش کرنی ہے اور کہنا ہے کہ ہر نیا اعزاز اور ہر نیا عہدہ ایک نئی ذمے داری بھی ہے اور اس وقت پاکستان کے براڈ کاسٹرز کو چاہے وہ کسی بھی درجے پر ہیں اور کسی بھی حیثیت میں ہیں بہت سارے مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ کچھ کو ان چیلنجز کا خطرہ کم ہے اور کچھ کو زیادہ مگر ایک کاروباری دنیا میں اس وقت بقا کے خطرات سب کے ساتھ ہیں ، نظریات اور پالیسی سے قطع نظر، یہ خطرات کاروباری ہیں،اقتصادی ہیں، مالی نوعیت کے ہیں اورہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کچھ ریاستی پالیسیوں، کچھ نااہلیوںاور کچھ مفادات بہرصورت حاصل کئے جانے کی ضد سے پیدا ہوئے ہیں۔ میں یہاں اپنی پیشہ ور تنظیموں اور مالکان کے درمیان ہمیشہ سے موجود ناخوشگوار رشتے کی بات نہیں کرنا چاہتا، جیسے ایک رشتہ ساس اور بہو کا ہوتا ہے، ایک ہی گھر کے اندر اور ایک ہی چاردیواری میں مگر جب خطرہ گھر کو ہوتا ہے تو پھر اس میں نہ بڑے محفوظ رہتے ہیں اور نہ ہی چھوٹے۔ گھر کے صحن میں راستہ بنے تو بے پردگی سب کی ہوتی ہے، گھر کی چھت گرے تو سب پر گرتی ہے ، اس وقت مسئلہ گھر کا ہے۔ کسی ایک گھر میں آگ لگے تو ہم سب کو مل کر اسے بجھانا ہے کہ صحافت کی اس گلی میں کسی ایک کا مکان تھوڑی ہے۔

پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کے زیادہ تر معاملات اشتہاری ایجنسیوںاور کلائنٹس کے ساتھ ہوتے ہیں مگراس کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کی ضرورت ہے اور بہت سارے معاملات پر حکمت عملی اپنانے اور ریاست کو میڈیا کی آزادی، جس میں پالیسی اور کاروبار کی آزادی سرفہرست ہیں ،پر حملوں سے روکنا ضروری بلکہ بہت ضروری ہے۔ یہی وقت ہے کہ پی بی اے پہلے سے زیادہ متحرک ہو، پیمرا کے کردار اور قوانین پر بھی بحث شروع کی جائے کہ زندہ معاشرے حرکت کرتے ہیں، چلتے پھرتے ہیں، تغیر پذیر ہوتے ہیں۔ یہ امر قابل قبول نہیں ہونا چاہئے کہ سرکاری اثرورسوخ میں دبا ہوا ایک ادارہ جب چاہے جس میڈیا ہاوس کی گردن دبا دے۔ کسی ایک چینل کو حکومتی نشانے پر ٹارگٹ کرے اوراس کی نشریات بند کرنے کا حکم جاری کر دے۔ اس وقت ایک ایک میڈیا ہاوس کی سرمایہ کاری اربوں میں پہنچ چکی ہے۔ ایک ایک چینل سے بلاواسطہ اور بالواسطہ کئی کئی ہزار گھرانوں کا رزق وابستہ ہے اور اس سے بھی بڑھ کے، ریاست کی خوشحالی ہی نہیں بلکہ بقا بھی ایک آزاد میڈیا سے مشروط ہے جو سچ کو سچ کہنے اور جھوٹ کو جھوٹ دکھانے کی اہلیت اور ہمت رکھتا ہو، اس کے اوپر بہت ساری دیدہ اور نادیدہ تلواریں نہ لٹک رہی ہوں۔

میں پختہ یقین رکھتا ہوں کہ ادارے سازو سامان اوردر ویوار سے کہیں زیادہ افراد سے بنتے ہیں۔ جرات مند، بہادر اور وژنری اافراد اداروں کو ناقابل شکست اور تاریخ ساز بنا دیتے ہیں۔میں جب یہ دیکھتا ہوں کہ گذشتہ دو ، اڑھائی برسوں میں کتنے ہی میڈیا ہاوسز بند ہوگئے، ہزاروں کی تعدادمیں ایسے صحافی بے روزگار ہو گئے جن کی عمریں ہی قلم گھسیٹے ختم ہونے کے قریب آ گئیں، یہ سرمایہ کاری کا بھی زوال ہے اور یہی وہ فضا ہے جس میں کسی ریاست کی جی ڈی پی سکڑنے لگتی ہے،اس کا گروتھ ریٹ منفی میں جانے لگتا ہے، مہنگائی جان لیوا ہونے لگتی ہے اوربے روزگاری واقعی خود کشیاں کروانے لگتی ہے۔ عرض کرنا ہے کہ میں چوہدری عبدالرحمان کی جدوجہد سے واقف ہوں، میں جانتا ہوں کہ وہ مصیبتوں اور پریشانیوں سے لڑنا جانتے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ وہ مشکل ترین حالات میں بھی پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا سکتے ہیں۔ وہ اپنی ذاتی سرمایہ کاری کو پاکستانیوں کی آواز بنا سکتے ہیں۔ میں برملا کہہ سکتا ہوں کہ جتنی کانٹینٹ کی آزادی نئی بات میڈیا نیٹ ورک میں ہے اس کی مثال کم ہی ملے گی حالانکہ یہ ادارہ اس کی بڑی قیمت ادا کر رہا ہے تو ایسے میں جب وہ پی بی اے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں ہوں گے تو وہاں بھی یہی آواز بلند کر سکیں گے۔ پی بی اے کا دائرہ کار اور حلقہ اثر بھی بڑھ سکے گا۔ بہت سارے ایسے فیصلے ہوسکیں گے جن کے لئے بڑا دماغ، بڑا دل اور بڑا جگر درکار ہوتا ہے۔ ہماری ڈوبتی ہوئی صحافت بچ سکے گی، یہ سطح سمندر پر تیرنے لگے گی ، سانس لینے لگے گی۔میں نے دیکھا ہے کہ وہ کچھ نیااو ر کچھا چھا کرنا چاہتے ہیں اور بطور ڈائریکٹر پی بی اے نیا اور ا چھا کرنے کی بہت گنجائش موجود ہے کیونکہ ابھی تک میڈیا کی اصل طاقت کو پہچانا ہی نہیں گیا، اس سے بعض حلقوں نے محض ڈنڈے اور محض چھری کا کام لینے کی کوشش کی ہے ۔

میں خواب دیکھتا ہوں کہ ہم سب نے آگے بڑھنا ہے، ہم سب جو مل کر پاکستان بناتے ہیں، ان میں تاجر بھی ہیں اور بیوروکریٹ بھی، صحافی بھی ہیں اور وکیل بھی،سرمایہ کار بھی ہیںاور محنت کش بھی۔ ہم سب کی ترقی اور خوشحالی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ ہم سب ایک ہی گاڑی کے پہئے ہیں، کچھ چھوٹے ہیں اور کچھ بڑے ہیں ۔ یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ گاری کے کچھ پہیے تو بہت آگے نکل جائیں اور کچھ بہت پیچھے رہ جائیں۔ ایسا ہونا حادثہ کہلاتا ہے جب گاڑی خاکم بدہن ٹوٹ جاتی ہے، بکھر جاتی ہے۔ نجانے مجھے کیوں لگتا ہے کہ ہم تیزی سے ایک حادثے کی طرف بڑھ رہے ہیں، ایک ایسا حادثہ جو اس سے پہلے بھی ہوچکا ہے۔ میں پھر کہوں گا کہ چوہدری عبدالرحمن کے پی بی اے کے ڈائریکٹر بننے سے مجھے امید ہوئی ہے، سرنگ کے دوسرے سرے پر روشنی نظر آ ئی ہے کہ میڈیا ریاستوں میں وہی کام کرتا ہے جو دیواروں اور مکانوں میں سیمنٹ۔ہمارا میڈیا مضبوط ہو اور یہ مضبوط میڈیا ریاست کی دیواروں، کھڑکیوں ، چھتوں میں تعلق مضبوط کرے اور ہم سب اس پاکستان کو پا سکیں جو قائداعظم کا پاکستان تھا،جوش جذبے سچ اور امنگ سے بھرا پاکستان۔اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔


ای پیپر