دورہ اور اس کے نتائج
24 جولائی 2019 2019-07-24

وزیراعظم عمران خان کا دورہ ٔ امریکہ اختتام کو پہنچا… کیا طے پایا کیا نہیں اس کے بارے میں خیر سگالی کے بیانات اور خوبصورت تقریروں کے علاوہ حتمی طور پر دونوں اطراف سے ابھی تک کچھ سامنے نہیں آیا… جناب وزیراعظم اور ان کے میزبان صدر امریکہ نے جو مشترکہ پریس کانفرنس کی وہ ملاقات کے آغاز پر تھی… پھر باہمی اور مذاکرات کی سطح پر گفتگو ہوئی … ہمارے آرمی چیف نے بھی شرکت کی … خیال تھا کہ مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا یا صدر ڈونلڈ ٹرمپ حسب عادت ٹویٹ کی وساطت سے بیان داغ دیں گے… انتظار رہا کوئی فیصلہ ہوا یا معاملہ طے پایا قطعی طو رپر کوئی بات سامنے نہیں آئی… ماسوائے صدر امریکہ کے اس خوشگوار بیان کے وہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان مصالحت کرانا چاہتے ہیں اور یہ کہ دو اڑھائی ہفتے پہلے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی ان سے پوچھا تھا کہ کیا وہ یہ کام کرنے کے لیے تیار ہیں؟ اس بیان کے سامنے آتے ہی فطری طور پر پاکستان میں خوشی اوراطمینان کی لہر دوڑ گئی اور بھارت میں طوفان کھڑا ہو گیا… ہلچل سی مچ گئی… بھارتی حکومت کے ترجمان کی جانب سے تردید کر دی گئی لیکن مودی صاحب بذات خود خاموش ہیں جس سے گمان کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کے ساتھ یقینا ایسی بات کی ہو گی… تنازع کشمیر بھارت کی بکل میں چور کی مانند ہے… ہزار پردہ ڈالنے کی کوشش کی جائے لیکن اس کا یہ عیب چھپ نہیں سکتا… اس کی جمہوریت کے چہرے پر داغ ہے اور سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے منحرف ہونے کی وجہ سے اس کے دامن کو داغدار کیے ہوئے ہے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ صاحب کا اصل مسئلہ افغانستان کے حوالے سے اپنی شرائط منوانا ہے جن کے لیے پاکستان خاصی حد تک زیادہ مددگار ثابت ہو سکتا ہے… انہوں نے سوچا اگر 19 سالہ جنگ کے نتیجے میں طالبان کے ہاتھوں امریکہ کو ملنے والی شکست پر باعزت طریقے سے پردہ ڈالا جا سکتا ہے تو اس تعاون کے نتیجے میں پاکستان کو اتنا اجر تو ملنا چاہیے کہ 70 سالہ پرانے تنازع کے حوالے سے ہلکی سی تھپکی دے دی جائے… بہر صورت ڈونلڈ ٹرمپ جیسے امریکی صدر کے منہ سے ان الفاظ کا نکل جانا ہی غنیمت کا درجہ رکھتا ہے… بھارت جو سمجھتا تھا اس نے پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات کی بارش کر کے اتنے بڑے تنازعے کو پس پشت ڈال دیا ہے، اس کی اہمیت نہیں رہی مگر اس کی توقعات کے برعکس عمران ٹرمپ ملاقات کی وجہ سے یہ عالمی نگاہوں میں اجاگر تو ہوا ہے، اس مثبت پہلو کے علاوہ جو اصل مسئلہ در پیش تھا کہ افغانستان کے معاملے پر امریکہ نے کیا مطالبات ہماری قیادت کے سامنے رکھے اور وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مشترکہ طور پر کیا جواب دیا … کونسی بات قبول کی گئی … کس کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا… سردست کچھ معلوم نہیں ہو سکا… بظاہر اس ضمن میں امریکہ کے دو مطالبات ہیں ، ایک یہ طالبان کابل کی اشرف غنی انتظامیہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر آمادہ ہو جائیں اس کے ساتھ شراکت اقتدار کے کسی فارمولے پر اتفاق کر لیں اور دوسرا یہ کہ وہ واحد سپر طاقت کی تھوڑی سی سپاہ کو وہاں متعین رکھنے پر آمادگی کا اظہار کردیں … اگر پاکستان طالبان سے ان دونوں مطالبات پر صاد کرا لیتا ہے تو سمجھیے ٹرمپ صاحب کے وارے نیارے ہو گئے … ان کے لیے آئندہ برس کا صدارتی انتخاب جیتنا آسان ہو جائے گا… لیکن کیا واقعی ایسا ہو پا ئے گا… عمران خان نے صرف اتنا کہا ہے کہ ان کی حکومت طالبان کو اشرف غنی انتظامیہ سے مذاکرات پر راضی کرنے کی کوشش کرے گی… جہاں تک امریکی فوجوں کے انخلا کا مسئلہ ہے وہ کتنی واپس چلی جائیں گی ، کتنی (اگرچہ تھوڑی سی) وہاں موجود رہیں گی، کیا اس کے بارے میں بھی امریکہ کو کوئی یقین دہانی کرائی گئی ہے… کچھ بتایا نہیں گیا۔

شاید یہ معاملہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کے دورہ ٔ پینٹا گون کے دوران ، امریکی فوجی سربراہوں کے ساتھ زیر بحث آیا ہو ، امکان ہے امریکیوں نے اس باب میں اصل توقعات سے ہماری فوجی سربراہ سے وابستہ کر رکھی ہوں… پینٹاگون اور ہمارے جی ایچ کیو کے درمیان کم از کم پچھلے 60 سالہ تعلقات کی روشنی میں یہ چنداں تعجب کی بات بھی نہ ہو گی شاید اسی وجہ سے جنرل باجوہ پینٹاگون کی عمارت میں داخل ہوئے تو انہیں وائٹ ہاؤس میں عمران خان کی آمد کے برعکس 21توپوں کی سلامتی دی گئی… دونوں ملکوں کے ترانے بجائے گئے جبکہ ہمارے وزیراعظم بہادر کو تو امریکہ کے قصر صدارت میں عمومی گارڈ آف آنر بھی نہ پیش کیا گیا… صدر ٹرمپ نے موصوف کو خوش آمدید کہتے وقت وقت رسمی مصافحہ کیا… البتہ کشمیر پر مصالحت کی بات کر کے پاکستانیوں کا دل باغ باغ کر دیا… باقی جو کچھ ہوا وہ ہمارے خان بہادر کے لیے جیسا کہ بعض تصاویر مظہر ہیں تفریحی مقام کے دورے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا چنانچہ اصل معاملات کے ضمن میں اگر کوئی پیش رفت ہوئی ہے تو وہ پینٹاگون میں ہوئی ہو گی… وہاں پر اعتماد کے دیرینہ رشتے بڑے زور شور کے ساتھ دوبارہ بحال ہوتے نظر آ رہے ہیں… ان کی خاطر دورے کے آغاز سے پہلے باقاعدہ تیاری بھی کرلی گئی…امریکہ نے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا اور پاکستان نے حافظ سعید اور ان کے کچھ ساتھیوں کو پابند سلاسل کر دیا… صدر ٹرمپ نے اس پر خوشی خوشی بیان بھی داغ دیا کہ گرفتاری ہمارے دباؤ کی رہین منت ہے… پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے بھی باہر نکلنا ہے… اس کی خاطر حافظ سعید اور مولانا مسعود اظہر و غیرہم کی نذر بندیوں کے علاوہ دوسرے اقدامات کیے جا رہے ہیں تا کہ خطرہ ٹل جائے جو ظاہر ہے امریکی آشیر باد کے بغیر ممکن نہیں… اور امریکیوں کے گلے میں چونکہ افغانستان چھچھوندر بن کے اٹکا ہوا ہے، اس عارضے کو دور کرنے کے لیے ان کی نظروں میں پاکستان حکیم خاذق کا حکم رکھتا ہے لیکن کیا طالبان واقعی امریکہ کی دونوں بنیادی شرائط مان لیں گے اور پاکستان کی سفارشات کو بھی من و عن قبول کر لیں گے… یہ بہت اہم سوال ہے… اور اسی کے جواب پر عمران جمع قمر جاوید باجوہ کے دورہ ٔ امریکہ کی حتمی کامیابی کا دارو مدار ہو گا… اس وقت وائٹ ہاؤس میں ری پبلیکن پارٹی کا صدر براجمان ہے… امریکہ کی فوج اپنے منتخب صدر کے پوری طرح ماتحت ہوتی ہے… یعنی اس ملک میں اس سوال نے کبھی سر نہیں اٹھایا کہ سول حکومت اور عسکری قیادت ایک صفحے پر ہیں یا نہیں… وہاں شاید ایسا سوال کرنا بھی ہر کامیاب جمہوری ملک کی مانند امریکی قوم کے اجتماعی سیاسی شعور اور وہاں کے آئینی جمہوری نظام کی توہین سمجھا جائے کیونکہ صحیح معنوں میں جمہوری نظام کے تحت فوج کو منتخب حکومت کے ساتھ ایک صفحے پر نہیں مگر لازماً سول حکمرانوں کی طے کردہ پالیسیوں کے اتباع میں چلنا ہوتا ہے… مشورہ کیا جاتا ہے لیکن حتمی پالیسی وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے ایوانوں میں طے ہوتی ہے… اس کے بعد کوئی عسکری بھائی چوں چرا نہیں کر سکتا… تاہم اتنا ضرور ہے کہ ری پبلیکن صدر ہو ، کانگریس کے اندر بھی اس جماعت کو تفوق حاصل ہو تو امریکہ کی فوجی سمیت پوری کی پوری صنعتی و کاروباری اسٹیبلشمنٹ گھی شکر ہو جاتے ہیں پھر انہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ تیسری دنیا میں ان کے کسی دوست یا اتحادی ملک کے اندر صحیح معنوں میں جمہوریت ہے یا پرلے درجے کی آمریت اور شہنشاہیت… جیسا کہ پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ واشنگٹن کی ری پبلیکن حکومت نے ہمیشہ ہماری فوجی قیادت کے ساتھ معاملات بروئے کار لانے کو ترجیح دی ہے… طویل عرصے کے مارشل لاء گوارا کیے ہیں اور نئے تجربے کے طور پر جمہوریت کے پردے پیچھے حاضر سروس جرنیل کار فرمائی کے جوہر دکھا رہے ہوں تو کیا کہنے…اب بھی حالیہ دورے میں اصل دیکھنے کی بات یہ ہے کہ پینٹاگون میں ہونے والی آرمی چیف کی ملاقاتوں میں افغانستان کے حوالے سے کیا مفاہمت طے پائی ہے اور طالبان کس حد تک آمادگی کا اظہار کریں گے… دوسرے الفاظ میں دورے کے حقیقی نتائج سامنے آنے پر ابھی کچھ وقت لگے گا اور انہی پر اس کی حتمی کامیابی یا ناکامی کا انحصار ہو گا…

پاکستان میں البتہ تابع فرمان ذرائع ابلاغ کے ذریعے نہایت فنکاری کے ساتھ واشنگٹن میں عمران خان کے جلسۂ عام کو دورے کی سب سے بڑی کامیابی کے مظہر کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے … اس جلسے میں بلا شبہ شمالی امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی بڑی تعداد وطن مولود سے آئے ہوئے وزیراعظم کی تقریر کو سننے کے لیے جمع ہو گئی تھی… موصوف کا خطاب بھی ان کی روایتی سیاسی تقریروں کی مانند اپوزیشن مخالف سیاسی جوش اور طعنہ آمیز جملوں سے بھرپور تھا… بقول شخصے وہاں بھی کنٹینر پر سوار رہے… مخالف سیاستدانوں کی دھجیاں اُڑا کر رکھ دیں… اس بات کو بھول گئے کہ وہ وزیراعظم کی حیثیت سے دیار غیر میں پوری قوم کی نمائندگی کرنے اور اپنی حکومت کے بجائے ملک کے مفادات کے تحفظ کی خاطر آئے ہیں…مگر سات سمندر پار جا کر بھی نواز شریف، مریم نواز اور آصف علی زرداری نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا… اس سطح پر اترآئے کہ ببانگ دہل اعلان کیا کہ واپس جا کر جیلوں میں بند نواز شریف اور زرداری کی اے سی اور ٹیلی ویژن کی سہولتیں بھی چھین لیں گے جبکہ اے سی کی سہولت ڈاکٹروں کی ہدایت پر دی گئی ہے… اپنے سیاسی قیدیوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک تو انگریز حکومت نے کبھی نہ کیا تھا … وہ بھی زمانے کے رواج کے مطابق آل انڈیا مسلم لیگ ، کانگریس اور دوسری جماعتوں کے رہنماؤں کو جیلوں کے اندر اے کلاس سہولتیں دیتی تھی اور وائسرائے یا کوئی ایک گورنر کبھی برطانیہ جا کر انگریزوں کے جلسہ عام میں یہ نہیں کہتا تھا کہ واپس جا کر ان سے سب انسانی سطح پر دی جانے والی مراعات چھین کر نشانہ عبرت بنا دوں گا… امریکی دارالحکومت میں جلسۂ عام منعقد کر کے خان بہادر نے یہ تو ثابت کر دیا کہ وہ بیرون ملک پاکستانیوں کے اندر مقبول ہیں… یہ بات پہلے بھی سب کو معلوم تھی مگر اس میں تعجب کاپہلو یہ ہے کہ برسراقتدار آتے ہی عمران خان کو بیرونی دنیا میں آباد اپنے چاہنے والوں سے توقعات تھیں وہ انہیں ارض وطن کا وزیراعظم بنتے دیکھ کر ہی ڈالروں کی بارش کر دیں گے ، اربوں کے حساب سے سرمایہ کاری لے آئیں گے… غیر ملکی کرنسی سے خزانہ بھرنے اور زرمبادلہ کا خسارہ دور کرنے کے لیے کسی دوسری حکومت یا امیر ملک کا دروازہ کھٹکانا نہیں پڑے گا مگر یہاں ہوا یہ کہ ہمارے نئے نویلے وزیراعظم کو سعودی عرب کے یکے بعد دیگرے تین چکر لگانے پڑے… پہلے میں ناکامی ہوئی… دوسری دفعہ آرمی چیف نے کندھے پر ہاتھ رکھا تب وہاں سے کوئی تین ارب ڈالر ہماری جھولی میں ڈال دیئے گئے… اسی قسم کا معاملہ چین کے ساتھ در پیش ہوا اور سعودیوں + آرمی چیف کی سفارش پر امارات والوں نے بھی کچھ اشک شوئی کی مگر ان پاکستانیوں نے جن کی امریکہ کے اندر ایک کثیر تعداد نے موچی دروازہ کا جلسہ منعقد کر کے خان صاحب کے حق میں جھنڈے لہرا دیے…سرمایہ کاری کے نام پر ایک ڈالر نہ بھیجا… یہاں تک کہ ان کے پسندیدہ وزیراعظم نے ڈیم کے لیے چندے کی اپیل کی اس پر بھی کوئی مثبت ردعمل نہ آیا البتہ ان کے واشنگٹن جانے پر میلہ خوب رچایا … ایک دو تصاویر بتاں لے کر اڑتے پھرتے ہیں دیکھو خواتین کے لیے ہمارے وزیراعظم کی شخصیت کتنی متاثر کن ہیں… جلسہ گاہ میں آنے والے آسودہ حال پاکستانی نژاد امریکی ہیں … پیچھے جو وطن کے اندر ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے اور مہنگائی کے ستائے ہوئے بیروزگاری کا شکار فرزندان زمین نے اپنی حالت زار سے تنگ آ کر مظاہرے کیے… فیصل آباد میں اسی شام مریم نواز کی قیادت میں بہت بڑی ریلی نکالی گئی جو تعداد کے لحاظ سے واشنگٹن کے اجتماع سے کہیں زیادہ تھی… اس کا ریاستی طاقت کو استعمال میں لا کر میڈیا پر بلیک آؤٹ کیا گیا… اخبارات میں چھوٹی سی ایک کالمی خبر چھاپنے کی اجازت مرحمت ہوئی اور جبکہ ابھی تک عمرانی جلسے کا خوب ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے ، فیصل آباد کی ریلی کی مریم نواز سمیت قیادت کرنے والوں اور منتظمین کے خلاف مقدمات کیے جا رہے ہیں… پکڑ دھکڑ آج چوتھے روز تک بھی جاری ہے… یہ امر ہمارے حکمرانوں کی سیاست کاری کے کس حد تک کھوکھلے پن کی نشاندہی کرتا ہے اس کے بارے میں زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں…


ای پیپر