مثبت اشارے
24 جولائی 2019 2019-07-24

اشارے تو مثبت ہیں۔ لیکن آخری تجزیے میں صرف اشارے ۔ ٹھوس پیش رفت فی الحال کوئی نہیں۔ ٹھوس پیش رفت کیلئے وزیر اعظم پاکستان کے دورہ امریکہ کے اختتام کا انتظار کرنا ہوگا۔ اور اس کے بعد فالو اپ دوروں کا۔ کسی بھی دورے کی کامیابی کا تجزیہ اس بات سے نہیں کیا جاسکتا کہ مہمان کو کس لیول کا پروٹوکول ملا۔ یہ جذباتی باتیں ہیں۔ سربراہان حکومت کوئی چھوٹے بچے نہیں ہوتے کہ تام جھام، پروٹوکول، سیکورٹی گاڑیوں کے بجتے ہوے ہوٹر اور نعرہ بازی سے متاثر ہوجائیں۔ ملکوں اور قوموں کی تقدیر کے فیصلے، سفاک، سنگلاخ زمینی حقائق کو جانچ پرکھ کر ہوتے ہیں۔ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور ہے۔ اس کے ساتھ چلنا ہی پڑتا ہے۔ اس کی دشمنی یا معاندانہ رویہ خسارے کا باعث ہی بنتا ہے۔ اپوزیشن میں رہتے ہوے کنٹینر پر چڑھ کر امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کر کے واہ واہ کرانا بہت آسان ہے۔ امریکی صدر کے ٹویٹ پر جوابی رد عمل دینا بھی کوئی مشکل کام نہیں۔ لیکن اقتدار کے تقاضے کچھ اور ہوتے ہیں۔ جن عرب شہزادوں کو بطور اپوزیشن لیڈر عیاش گرد انا جاتا ہے۔ پھر ان کو اپنے ہاتھوں سے تلور کے شکار کے پرمٹ جاری کر کے گھر کے پتے پر ارسال کرنے پڑتے ہیں۔ جن سربراہوں کے خلاف کنٹینر پر چڑھ کر ان کے لتے لئے جاتے ہیں۔ ان کو بطور مہمان بلا کر ان کی گاڑی چلانا پڑتی ہے۔ دوسروں کو مودی کا یار کہہ کر تضحیک تو کرنا آسان ہے۔ لیکن پھر ایک وقت ایسا آتا ہے اسی مودی سے ٹیلی فون پر بات کرنے کیلئے ترلے کرنے پڑتے ہیں۔ لیکن گوہر مراد ہاتھ نہیں آتا۔امریکی صدر کے ٹویٹ کا جواب دے کر دبنگ ہونے کا سرٹیفکیٹ تو حاصل ہوجاتا ہے لیکن پھر دورہ امریکہ کیلئے سعودی ولی عہد کی سفارش سے امریکی صدر کے داماد اعظم کو وسیلہ استعمال کرنا پڑتا ہے۔ لہٰذا اب یہ مباحثہ اہم نہیں کہ پروٹوکول کیسا ملا۔ جس سفارتی لیول کا یہ دورہ تھا اس درجہ کاپروٹوکول مل گیا۔ قصہ ختم۔ تاریخ میں یہ دورہ کس درجہ کا تھا۔ اس کا فیصلہ اس بات پر نہیں ہوگا کہ واشنگٹن کے ایرینا ون میں بیس ہزار افراد تھے یا نہیں۔ امریکہ ایسے مشینی معاشرے میں جہاں زندگی کی سانسوں سے زیادہ ڈالر کی قیمت شمار ہوتی ہے۔ وہاں سو افراد بھی ٹائم نکال کر اکٹھے ہوجائیں تو غنیمت ہے۔ اس جلسے کیلئے تو بڑی محنت ہوئی۔ مشیران کرام کا طائفہ کئی ہفتوں سے پڑاؤ ڈالے بیٹھا تھا۔ ٹرانسپورٹ، میوزک کنسرٹ، تازہ حلوہ پوری سمیت تمام لوازمات مکمل تھے۔ بڑا جلسہ تھا لہٰذا فدائین پی ٹی آئی انجوائے کریں۔ اس جلسہ کا فائدہ کیا تھا۔ اس سے حاصل کیا ہوا۔ اس پر تبصرہ مثبت رپورٹنگ کے زمرے میں نہیں آتا۔ بائیس کروڑ عوام کے وزیر اعظم کا دورہ امریکہ اس لئے ہر گز یاد نہیں رکھا جائے گا کہ کپتان نے شلوار قمیض کے ساتھ پشاوری چپل بمعہ جرابیں پہن رکھی تھیں۔ اگرچہ پاکستان کا قومی لباس شیروانی ہے۔ ماضی کے تمام وزارئے اعظم اپنے قومی لباس میں ہی امریکہ جاتے اور خطاب کرتے رہے ہیں۔ اصل فیصلہ اس بات پر ہونا ہے کہ کیا کھویا کیا پایا۔ اور جو کچھ پایا ہے اس کی قیمت کیا ہوگی۔ سپر پاور کا سربراہ ہماری قوم کی تعریف کرے۔ اس سے اچھی اور کیا بات ہوگی۔ ہمارے وزیر اعظم کو موسٹ پاپولر کا لقب دیا جائے۔ خوشی کی بات ہے۔ ہماری قربانیوں کا اعتراف کیا جائے اور کیا چاہیے۔ یہ کہا جائے کہ ہم خطے کے اہم کھلاڑی ہیں۔ یہ بھی اطمینان بخش بات ہے۔ امریکہ صدر سلگتے جلتے کشمیر کے حل کیلئے ثالثی کی پیش کش کرے۔ بہت بڑی ڈویلپمیٹ ہے۔ امریکہ افغانستان سے افواج کے انخلا کیلئے ہمارا مرہون منت ہو۔ کمال کی بات ہے۔ لیکن یہ سب کچھ پہلی دفعہ تو نہیں ہوا۔ امریکیوں کی الفت اور بے اعتنائی کے سارے روپ بہروپ کے درشن ہم کرچکے۔امریکی ورغلانے، گھیرا ڈالنے، ٹریپ کرنے کے ماہر ہیں۔ ایسے موقع پر ان کی بدن بولی دیکھنے والی ہوتی ہے۔ والہانہ پن دیدنی ہوتا ہے۔ اور جب بازو مروڑنے پر آئیں تو پھر ان سا سفاک کوئی نہیں۔ وہ لیاقت علی خان پر بھی نثار ہوئے۔ فیلڈ مارشل کے سواگت کیلئے تو حسینہ عالم جیکی بھی وارفتگان میں شامل تھے۔ ضیاالحق کو رجھانے کیلئے ارکان کانگریس قطار آندر قطار کھڑے رہتے۔ پرویز مشرف تو ان کا فرنٹ لائن اتحادی تھا۔ بش جونیئر وائٹ ہاؤس میں کوٹ اتار کر پرویز مشرف کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر فوٹو سیشن کرواتا رہا۔ لہٰذا ٹرمپ کی بے تکلفی نئی نہیں۔ امداد بحالی کا جھانسہ بھی نیا نہیں۔ ابھی اور بھی ترغیباٹ آئیں گی۔ امریکی صدر کو اگلے صدارتی الیکشن کیلئے نامزدگی اور وکٹری چاہئے۔ یہ فتح یوکرائن میں ممکن ہے نہ شمالی کوریا میں۔شام میں کوئی امکان ہے نہ یمن میں۔ یہ فتح صرف افغانستان میں ممکن ہے۔ اس فتح کی کنجی پاکستان کے پاس ہے۔ لیکن کیا ایک مرتبہ پھر ہمیں اس دلدل میں اترنا چاہئے۔ کیا یہ وہی افغانستان نہیں جس کی دلدل میں اترنے کی قیمت ہم آج تک ادا کر رہے ہیں۔ کیا ایسا طریقہ ممکن ہے کہ اس مرتبہ ہم اس قضیہ میں اس طریقہ سے اتریں کہ اپنا دامن خون کے چھینٹوں سے بچا کر نکلیں۔ کوشش کرنی چاہیے کہ ایسا ہی ہو۔

ان سطور کی اشاعت تک دورہ اختتام پذیر ہوچکا ہوگا اور جناب وزیراعظم واپسی کے سفر کیلئے محو پرواز ہوں گے۔ اب تک کہ اشارے مثبت ہیں لیکن فی الحال صرف اشارے ۔ اس دوران حساب کتاب، جمع تفریق کرلی جائے کہ کامیاب دورے کی قیمت کیا ہو گی۔


ای پیپر