مولانا مودودیؒ کا ختم نبوت ؐ کے خلاف سازشوں کے سدباب کا لائحہ عمل
24 جولائی 2019 2019-07-24

7ستمبر1974 ء کو قومی اسمبلی نے مسلم اور غیر مسلم کی تعریف کے لئے آئین میں ترمیم کر کے مسئلہ قادیانیت پاکستان میں ہمیشہ کے لئے حل کر دیا۔ مسلم اور غیر مسلم کی تحریر بھی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ مرحوم کی تحریر سے ہی اخذ کی گئی اس طرح اللہ تعالیٰ نے مولانا مودودیؒ کو بڑا منفرد مقام عطا کیا ،یہ ان کی بالغ نظری، ہنود ویہود کی سازشوں اور عالمی استعماری ہتھکنڈوں پر گہری نظر کا ہی نتیجہ تھا۔

اس زمانے میںاکوڑہ خٹک دارالعلوم حقانیہ کے سربراہ مولانا سمیع الحق شہید نے قادیانی مسئلے کے حوالہ سے مولانا مودودیؒ کو خط لکھ کرچند سوال دریافت کئے تو مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے 6نومبر1974ء کو جواب تحریر کیا۔ موجودہ حالات میں قادیانیت جس طرح عالمی استعمارکی مدد سے منہ زوری کاارتکاب کر رہی ہے اورہماری حکومتیں اپنی کمزوریوں اور بدتدبیریوں نیز مذہب بیزار سیکولر اور لبرل پالیسیوں کے سبب سے اس کی سرپرست بنی ہوئی ہیں ۔اسی کا نتیجہ ہے کہ قادیانیت آج اپنی سازشوں کے ساتھ کھل کھیل رہی ہے۔ ان سازشوں کے تدارک کے لئے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا یہ خط بذات خود مکمل ،ہمہ گیر شافی تحریر ہے ۔

]لاہور[

۶/نومبر۱۹۷۴ء

محترمی و مکرمی ، السلام علیکم !

آپ کا عنایت نامہ ملا،جس میں آپ نے قادیانی مسئلے سے متعلق چند سوالات دریافت کیے ہیں ۔آپ کا پہلا سوال یہ ہے کہ قادیانی مسئلے کے حل پر آپ کے احساسات کیا ہیں ۔ظاہر ہے کہ اس مسئلے کے حل سے آپ کی مراد قومی اسمبلی کا فیصلہ ہے ۔بلا شبہ اسمبلی اور حکومت کا یہ فیصلہ نہایت مستحسن اور ساری دنیا کے مسلمانوں کے لیے مسرت انگیز ہے اور اس پر ہم جتنی بھی خوشی منائیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں ،بالکل بجا ہو گا۔لیکن ہماری حکومت،نیشنل اسمبلی اور عامۃ المسلمین کو اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوناچاہیے کہ اس سلسلے میں ان کی ذمہ داری اب ختم ہو چکی ہے اور اس فیصلے سے قادیانی مسئلہ پورے کا پورا حل ہوگیا ہے ۔اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف پہلا قدم ہے جو صحیح سمت میں اٹھایا گیا ہے اور ابھی تک بہت سے ضروری اقدامات ایسے باقی ہیں جن کے بغیر یہ قضیہ جوں کا توں باقی رہے گا بلکہ خدشہ یہ بھی ہو سکتا ہے خدانخواستہ مزید پیچیدگیاں پیدا نہ ہوجائیں اور ہم اس اہم فیصلے کے فوائد سے محروم نہ ہوجائیں ۔آپ کا ایک عنایت نامہ پہلے آچکا تھا ۔اب یاددہانی اور تقاضے کا دوسرا خط آیا ہے ۔جس میں آپ نے جلد جواب مانگا ہے ۔چند ضروری کرنے کے کام جو اس وقت ذہن میں آرہے ہیں ،وہ درج ذیل ہیں:

۱۔۷/ستمبر]۱۹۷۴ء[کو قومی اسمبلی نے آئینی ترمیم کے علاوہ ایک قرارداد یہ بھی منظور کی ہے کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ الف کے بعد دفعہ ب کا اضافہ کیاجائے جس میں درج ہو کہ ’’ایک مسلمان جو محمدؐ کی ختم نبوت کے مفہوم مندرجہ آئین پاکستان دفعہ۲۶۰شق نمبر۳ کے خلاف عقیدے کا اعلان یا اس کے خلاف عمل یا تبلیغ کرے ،وہ قابل سزاو تعزیر ہو گا۔‘‘ یہ قرار دادا غالبا عجلت میں مرتب اور پاس کر دی گئی ہے اور اس کی ابتدا میں مسلمان کا لفظ رکھنے کی وجہ سے اس میں ابہام و اشتباہ پیدا ہو گیا ہے ۔ظاہر ہے کہ کسی مسلمان کے متعلق یہ تصور ہی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اس جرم شنیع کا مرتکب ہو گا اور مرتکب ہونے کے بعد وہ مسلمان کہلانے کا مستحق رہ سکے گا۔خود دستوری ترمیم ہی نے یہ طے کر دیا ہے کہ ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہو گا،خواہ وہ مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے ۔چنانچہ ان الفاظ کے ساتھ اس سزا کے اطلاق میں دشواری کا سامنا ہو گا۔لہذا تعزیرات پاکستان میں اس مجوزہ ترمیم کو واضح اور غیر مبہم بنانے اور اس کے مقصد تنفیذ کو آسان بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ایک مسلمان(A Muslim)کی بجائے ایک مدعی اسلام کیاجائے ۔تاکہ کوئی فرد بشر مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے ختم نبوت کے مسلمہ عقیدہ و مفہوم کے خلاف کسی قوم و عمل کا اظہار نہ کر سکے ۔

۲۔نیشنل اسمبلی کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے کچھ مزید قانون سازی بھی بالکل ناگزیر ہے ۔مثال کے طور پر انتخابی قوانین میں ایسی ترمیم ہونی چاہیے ،جس کے مطابق ووٹروں کے فارم میں نام درج کراتے وقت ہر لاہوری اور ربوی مرزائی پر یہ قانونا لازم قرار دیاجائے کہ وہ اپنے آپ کو غیر مسلموں کے خانے میں مرزائی یا احمدی لکھوائے اور ان دونوں گروہوں کا اپنے آپ کو مسلم لکھوانا جرم ہو گا جس کی کم سے کم سزا حق رائے دہی سے محرومی ہو گی ۔رجسٹریشن ایکٹ جس کے تحت شناختی کارڈ بن رہے ہیں ،ان میں بھی ترمیم ہونی چاہیے جس کی رو سے کارڈ میں بھی ایسی تصریح لازم اور غلط بیانی موجب سزا ہو ۔

۳۔اسی طرح ہر ملازم حکومت پر بھی یہ لازم ہونا چاہیے کہ اگر وہ قادیانیوں کے ان دونوں گروہوں میں سے کسی ایک سے تعلق رکھتا ہے تو وہ اس کی باقاعدہ اطلاع اپنے محکمے کے توسط سے حکومت کو دے اور جو ایسا نہ کرے یا غلط اطلاع دے ،اسے ملازمت کے لئے نااہل قرار دیاجائے ۔

پاسپورٹ میں بھی اسی قسم کا اندراج اور اس کی خلاف ورزی پر سزا ازروئے قانون لازم ہونی چاہیے ۔معلوم ہواہے کہ حکومت کے بعض محکموںمیں قادیانیوں کی فہرستیں تیار ہو رہی ہیں ،لیکن ان میںبعض قادیانیوں کا نام درج نہیں ہو رہا یا اندراج ہوجانے کے بعد اسے حذف کرا دیاگیا ہے ،لیکن اس پر کسی قادیانی کے خلاف کوئی باز پرس یا تادیبی کاروائی نہیں ہو رہی ،کیونکہ قانون اور قواعد و ضوابط میں ایسی گنجائش موجود نہیں ہے ۔

۴۔قادیانیوں نے سول اور بالخصوص فوجی ملازمتوں میں مسلمانوں کے حقوق پر جس طرح غاصبانہ اور ناروا قبضہ کر رکھا ہے ،اس کا تدارک اور تلافی بھی ضروری ہے ۔جس طرح صدارت اور وزارت عظمیٰ کے لیے مسلمان ہونا شرط لازم ہے ،اسی طرح بعض دوسرے کلیدی مناصب مثلا چیف آف دی سٹاف، عدالت ہائے عالیہ کے چیف جسٹس ،اسمبلیوں کے اسپیکر،سفرا،صوبوں کے گورنر ، پبلک سروس کمیشن کے صدر]چیئر مین[ کے لیے بھی مسلمان ہونا قانونا لازم قرار دیاجائے ۔اسی طرح بعض حکومتی اور نیم حکومتی تعلیم وتربیت کے اداروں میں داخلے کے لئے مسلمانوں اور غیر مسلموں کا کوٹہ الگ الگ مقرر کیاجاتا ہے ،وہاں بھی قادیانی امیدواروں کے لئے اپنے مذہب کا اعلان داخلے کے وقت لازم اور خلاف ورزی موجب سزا ہونی چاہیے۔

۵۔قادیانی یہ بات علی الاعلان کہہ رہے ہیں کہ قومی اسمبلی کے فیصلے کے باوجود وہ مسلمان ہیں ۔وہ اسلام کے نام پر اپنے عقائد کو اسلامی عقائد کہہ کر ملک کے اندر اور باہر ان کی تبلیغ و تلقین کر رہے ہیں ۔مرزا غلام احمد کووہ اب تک نبی ، مسیح موعود،مہدی موعود ،اس کے رفقاء کو صحابہ کرام اور اس کو خلیفۃ المسیح کہہ رہے ہیں اور لکھ رہے ہیں ۔یہ مسئلہ بڑا سنگین اور حکومت اور عامۃ المسلمین کے لیے حد درجہ غور طلب ہے ۔یہ دستور کی بھی خلاف ورزی ہے اور دنیا بھر کے مسلمانون کے لیے باعث دل آزاری اور اشتعال انگیزی بھی ہے ۔جس گروہ کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جا چکا ہے ،اسے اسلامی اصطلاحات استعمال کرنے اور اسلام کا مدعی و مبلغ ہونے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ اگر یہ لوگ اسی طرح مسلمانوں کے سینے پر مونگ دلتے رہے تو ان کے اور مسلمانوں کے مابین کبھی صلح و آتشی کی فضا قائم نہیں رہ سکے گی ،اور حکمران ان کی حرکتوں سے کتنا ہی اغماض کیوں نہ برتیں ،جب تک عام مسلمانوں میں ایمان و اسلام کی رمق باقی ہے ،وہ ایسی سرگرمیوں کو کبھی برداشت نہیں کر سکیں گے ۔

۶۔قادیانیوں کے بالمقابل مسلمانوں نے جس اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کیاہے، اسے دائما قائم رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔جزوی اختلافات اگر ہوں تو انہیں مناسب حدود کے اندر رہنا چاہیے،اختلاف کو مخالفت کا رنگ دینے سے اجتناب کرنا چاہیے اور ہر اختلاف کو حق وباطل اور کفر واسلام کا اختلاف نہیں بنا لینا چاہیے ورنہ اس کا فائدہ قادیانیوں ہی کو پہنچے گا ،جیسا کہ پہلے پہنچتا رہا ہے۔

۷۔قادیانیوں کی دستوری تکفیر کے بعد ایک ضروری کام کرنے کا کام یہ بھی ہے کہ قادیانیوں کوحکمت اور موعظہ حسنہ کے اسلوب و انداز میں قادیانیت سے تائب ہونے اور اسلام قبول کرنے کی دعوت دی جائے ۔جن لوگوں کے ہاتھ میں قادیانیوںکی قیادیت و سیادت ہے اور جن کے مفادات ان قائدین سے وابستہ ہیں ،ممکن ہے کہ وہ اسلام لانے میں تامل و تذبذب سے کام لیں اور پاکستان چھوڑ جانے کو ترجیح دیں ،لیکن عام قادیانی جو ’’قصر خلافت‘‘ کے نزدیک نہیں بلکہ مسلمانوں کی عام آبادیوں میں مقیم ہیں ،ان کے سامنے اگر اسلام کی اصل تعلیمات کو صحیح طریق پر پیش کیاجائے اور قادیانیت کے حقیقی خدوخال بھی ان پر اچھی طرح واضح کیے جائیں تو وہ ان شاء اللہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے میں توقف اور پس و پیش نہیں کریں گے ۔ان میں بہت سے لوگ ہم نے ایسے دیکھے ہیں جو مرزا غلام احمد اور اس کے لڑکوں کی بہت سے تحریروں سے واقف ہی نہیں ہیں اور جب ان کے سامنے پہلی مرتبہ وہ تحریریں آئیں ،تو وہ حیران اور دم بخود ہو کر رہ گئے اور قادیانیت سے تائب ہو کر مسلمان ہو گئے ۔

۸۔اس سلسلے میں ہماراایک مطالبہ یہ بھی مسلسل ہونا چاہیے کہ ’’صمدانی رپورٹ‘‘ کو من و عن شائع کیاجائے اور جولوگ اس رپورٹ کی رو سے مجرم ہیں ، ان کو کیفرکردا ر تک پہنچایا جائے ۔نیز جو مزید سیاسی اور انتظامی اقدامات اس رپورٹ کی روشنی میں ناگزیر ہوں ،ان کو فورا عمل میں لایا جائے ۔اگر ہماری حکومت اور عوام الناس نے غفلت اور تساہل سے کام لیا تو خدشہ ہے کہ اس سازشی گروہ کے ہاتھوں ہمیں مزید زخم نہ کھانے پڑیں ۔لاتدر اللہ

خاکسار

ابولاعلیٰ


ای پیپر