پاک امریکہ تعلقات۔ نیا موڑ یا ڈومور
24 جولائی 2019 2019-07-24

جب تک یہ سطور قارئین تک پہنچیں گی تب تک وزیر اعظم عمران خان اپنا دورہ امریکہ مکمل کر کے وطن واپس پہنچ چکے ہوں گے ۔ اس دورے کو پاکستانی میڈیا اور تحریک انصاف کے حامی اور اس کی حمایت کرنے والے دانشور اور تجزیہ نگار پہلے ہی کامیاب اور تاریخی قرار دے چکے ہیں۔ جبکہ حزب مخالف وزیر اعظم پر تنقید کرنے میں مصروف ہے۔ تحریک انصاف کے حامی اور حکومتی حلقے اس بات پر نازاں ہیں اور پھولے نہیں سماتے کہ وزیرا عظم عمران خان کو صدر ٹرمپ کی طرف سے بہت پذیرائی ملی۔

جہاں تک میڈیا کی طرف سے کی جانے والی کوریج کا تعلق ہے تو پاکستانی نیوز چینلز کی کوریج کے اعتبار سے یہ واقعی تاریخی اور کامیاب دورہ تھا ۔ ایسا لگتا ہے کہ زیادہ تر نجی نیوز چینلز تیزی سے پی ٹی وی ( PTV ) کے رنگ میں رنگتے جا رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے واشنگٹن ڈی سی میں ہونیو الے شاندار جلسے کی کوریج کے لیے موجود بعض اینکرز تو خود فرط جذبات سے مغلوب نظر آتے تھے اور شرکاء سے زیادہ پر جوش تھے ۔ مجھے تو حزب مخالف کے بیانات پر حیرانی ہے جو وہ وزیر اعظم کی اس جلسے میں کی گئی تقریر پر دے رہے ہیں ۔ یہ امریکہ میں تحریک انصاف کا طاقت کا بھر پور مظاہرہ تھا ۔ وزیر اعظم نے امریکہ میں مقیم پاکستانیوں سے نہیں اپنے تحریک انصاف کے حامیوں سے خطاب کیا۔ جو پورے امریکہ اور کینیڈا سے اپنے ’’ محبوب قائد ‘‘ کو سننے کے لیے جمع ہوئے تھے ۔ اس لیے وزیر اعظم نے وہی کہا جو ان کے حامی سننے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ یہ امریکہ میں رہنے والے وہ پاکستانی امریکن تھے جنہیں اس بات سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے پاکستان کے عوام کے ساتھ مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافے کے باعث کیا ہو رہا ہے ۔ ان کی زندگیاں کس حد تک اجیرن ہو چکی ہیں۔ وہ تو عمران خان کو سچا سمجھتے ہیں اس لیے ان کی حمایت کرتے ہیں ۔ وہ خود پاکستان میں معاشی ابتری مہنگائی، بے روزگاری کے عذاب کو نہیں جھیل رہے۔ اس لیے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف۔

آخر ایسا کیا ہوا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ جو پاکستان کو ناقابل اعتماد قرار دے رہے تھے ۔ وہ پاکستان کو ڈالروں کا طعنہ دے رہے تھے۔ ان کا پاکستان کی طرف انتہائی منفی تھا۔ مگر پھر یکا یک صورت حال تبدیل ہو گئی۔ صدر ٹرمپ نے پاکستانی وزیر اعظم کو دورے کی دعوت دی ۔ یہ وہی صدر ٹرمپ ہیں جنہوں نے پاکستان کی فوجی و سول امداد بند کی تھی ۔ اور پاکستان کی افغان پالیسی پر تنقید کی تھی۔

صدر ٹرمپ اور امریکہ کو ایک بار پھر افغانستان میں پاکستان کی مدد درکار ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کو اگلے سال نومبر میں ہونیو الے صدارتی انتخابات میں اپنی بیرون ملک کامیابی کی ایک کہانی درکار ہے جسے وہ اپنی کامیابی کے طور پر عوام کے سامنے رکھ سکیں۔ انہیں افغانستان میں افغان طالبان کے ساتھ امن معاہدے کی ضرورت ہے تاکہ وہ یہ اعلان کر سکیں کہ جو کام اوباما نہیں کر سکے وہ انہوں نے کر دکھایا ہے۔ انہوں نے نہ صرف افغانستان میں امن قائم کر دیا ہے بلکہ وعدے کے مطابق امریکی فوج میں بہت حد تک کمی کر دی ہے اور اربوں ڈالر بچا لیے ہیں جو امریکہ کو ہر روز خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ پاکستان افغان طالبان کو قائل کر ے کہ وہ اس سال کے آخر تک یا اگلے سال کی ابتداء میں امریکہ کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کر دیں تاکہ صدر ٹرمپ اس ’’ تاریخی کارنامے ‘‘ کا کریڈٹ لے سکیں۔ دوسرا وہ چاہتے ہیں کہ افغان طالبان، افغان حکومت کے ساتھ بھی بات چیت کریں تاکہ سیاسی سمجھوتہ ہو سکے اور مستقبل کے سیاسی اور انتظامی بندوبست پر بھی سمجھوتہ ہو سکے۔ اگر تو پاکستانی حکومت اور مقتدر قوتیں صدر ٹرمپ کے دونوں اہداف کے حصول میں توقعات کے مطابق مدد فراہم کر سکی اور ان کی توقعات پر پورا اتری تو پھر پاکستان کی فوجی و غیر فوجی امداد بھی بحال ہو سکتی ہے اور آئی ایم ایف اور عالمی بینک سے نرم شرائط پر مزید قرضے بھی مل سکتے ہین ۔ جبکہ تجارت میں اضافہ بھی ممکن ہے ۔ مزید مراعات کا حصول بھی ممکن ہو جائے گا ۔ امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ پاکستان کو مالی مدد کی اشد ضرورت ہے تاکہ معیشت کو دبائو سے نکالا جا سکے۔

مگر یہ سب کچھ اس وقت ممکن ہو سکے گا جب امریکی انتظامیہ کی توقعات پوری ہوں اور پاکستان امریکی اہداف کے حصول میں پوری طرح ان کی مدد کرے۔ اب دیکھنا یہ ہو گا کہ پاکستان کس حد تک ، افغان طالبان پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ گزشتہ 70 سالوں سے پاک امریکہ تعلقات سکیورٹی، فوجی امداد اور افغانستان کے گرد دوسری طرف افغانستان کے حوالے سے پاکستان کے مفادات کے تحفظ کا معاملہ بھی ہے ۔ کیا امریکہ افغانستان میں موجود بلوچ علیحدگی پسندوں اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوئوں کی موجودگی کے حوالے سے پاکستان کے تحفظات دور کرے گا۔ پاکستان کو یقین ہے کہ بھارت افغانستان کے ذریعے بلوچ علیحدگی پسندوں کی مدد اور حمایت کر رہا ہے جبکہ اس حوالے سے امریکہ کا کردار بھی قابل ستائش نہیں ہے۔ان حالات میں اپک امریکہ تعلقات میں گرم جوشی اور ماضی کے قریبی تعلقات کی بحالی کا دارومدار دونوں ملکوں کی توقعات اور اہداف کے حصول پر منحصر ہے ۔ دونوں طرف سے ایک دوسرے کو بتا دیا گیا ہو گا کہ اہداف اور توقعات کیا ہیں؟ اور ان کو پورا کرنے کی صورت میں کیا کچھ حاصل ہو سکتا ہے۔

افغانستان کا مسئلہ بہت پیچیدہ ہے اور اس میں پاکستان ، افغانستان کے مختلف گروہ، امریکہ ، روز، ترکی ، چین اور ایران کا اہم کردار ہے ۔ افغانستان میں قابل عمل معاہدے اور شراکت اقتدار کے فارمولے تک پہنچنے کے لیے تمام بڑی عالمی طاقتوں اور علاقائی طاقتوں کا اتفاق ضروری ہے ۔ پلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی بھر چکا ہے اور پاکستان کا افغان طالبان پر اثرو رسوخ اس حد کت فیصلہ کن نہیں رہا جو کہ ماضی میں تھا۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو نوعیت کا دارومدار اگلے چند ماہ کے اقدامات اور ان کے نتائج پر ہو گا ۔ امریکی توقعات پوری ہو گئیں تو گرم جوشی بڑھے گی ورنہ ڈومور کا راگ الاپا جاتا رہے گا اور سرد مہری بر قرار رہے گی۔

پاک امریکہ تعلقات میں بہتری آنے کے امکانات اس وقت بڑھیں گے جب امریکہ پاکستان کو محض افغانستان، بھارت اور چین کے تناطر میں دیکھنے کی بجائے ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھے گا جو اپنے تزویراتی مفادات کا تحفظ چاہتا ہے جو بھارتی بالادستی کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔ امریکہ کو اپنا رویہ اور پالیسی تبدیل کرنا ہو گی۔ پاکستان کے تحفظات اور مفادات کو سنجیدگی سے لینا ہو گا۔ اس طرح جہادی گروپوں کے حوالے سے پاکستان کو فیصلہ کن اور ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے اور ان گروپوں کا مکمل خاتمہ ہو گا جن پر دہشت گردی اور بیرونی مداخلت کے الزامات ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے معاملات کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ابھی دونوں طرف سے ٹھوس اقدامات اٹھائے جانے کی ضرورت ہے۔ محض ایک دورے سے تمام عوام اعتماد ختم نہیں ہو سکتا۔


ای پیپر