امریکہ کے ساتھ برابری کی سطح پرتعلقات
24 جولائی 2019 2019-07-24

وزیر اعظم عمران خان کا دورہ واشنگٹن بہت سی چہ میگوئیوں اور پروپیگنڈے کے باوجود بالآخر مکمل ہوا۔دورہ کامیاب تھا یا ناکام ، سفارتی سطح پر پاکستان کی پوزیشن مضبوط ہوئی یا کمزور ، عمران خان پراعتماد نظر آئے یا نروس یہ وہ تمام ایشوز تھے جو سوشل میڈیا پر زیر بحث رہے لیکن ان کے ساتھ چند تصاویر اور کپشنز دیکھ کر افسوس بھی ہوااور حیرت بھی کہ ایک ایسی قوم جو مقابلہ تو امریکہ سے کرنا چاہتی ہے لیکن سوچ کا معیار یہ ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم کی امریکی خاتون اول کے ساتھ تصاویر پر ایسے ایسے کپشنز لکھے گئے جو یہاں بیان کرنا ممکن نہیں ۔دورے کا دوسرا قابل ذکر پہلو یہ رہا ہے کہ ایرینا سٹیڈیم میں اکٹھا ہونے والے ہجوم کا عقیدہ کیا تھا؟ تیسرا اور اہم ترین پہلو دورے کے باعث سفارتی کامیابی کا اندازہ کرنا تھا ۔ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی بات کرنا ، افغان جنگ میں پاکستان کے مثبت کردار کو تسلیم کرنا ، ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کے دورے کی دعوت قبول کرنا اور ڈو مور کا مطالبہ نہ کرنا یقینا اہم سفارتی کامیابیاں ہیں ۔ دورے کے بعد یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ ٹرمپ نے کشمیر میں ظلم کی بات کر کے بھارت کی جانب سے برسوں کی سازش پر پانی پھیر دیا ہے ۔امریکی صدر نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کر کے یہ بھی کہا کہ بھارتی وزیر اعظم مودی بھی ان سے مسئلہ کشمیر حل کرانے کی درخواست کر چکے ہیں ۔ بھارتی دفتر خارجہ کی جانب سے فوری تردیدکے باوجود ٹرمپ کے اس بیان نے پاکستان مخالف مہم سے ووٹ حاصل کرنے والے بھارتی وزیر اعظم کی بیک ڈور خارجہ پالیسی کو بے نقاب کر دیا ہے ۔یہ تمام پہلو اہم تھے مگر دورے کے اہم ترین پہلو جس پر نہ بات کی گئی نہ ہی امریکہ کی خوشنودی میں اس طرف دھیان دیا گیا کہ روس کے ساتھ ہمارے بہتر ہوتے تعلقات پر کیا فرق پڑے گا ؟ماضی میں روس کو نظر انداز کر کے امریکہ کی طرف ہاتھ بڑھانے کا تجربہ پاکستان پہلے بھی کر چکا ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ امریکہ نے اپنے مفادات کے لئے پاکستان کو بار بار استعمال کیا ۔ ایف اے ٹی ایف (فنانشل ایکشن ٹاسک فورس جو مالی بے ضابطگیوں اور دہشت گردی میں ملوث ہونے کے حوالے سے ممبر ممالک کی کارکردگی پر نظر رکھتی ہے ) کی گرے لسٹ میں شامل ہونے کے باعث پہلے ہی پاکستان کی معاشی حالت مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے ۔پاکستان پر دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والے عناصر کو پناہ دینے کا الزام بھی لگتا رہتا ہے ۔(جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید کی گرفتاری اسی سلسلے کی کڑی ہے لیکن قلیل المدتی انتظامات کے بجائے پاکستان کو اپنی پوزیشن طویل مدت کے لئے واضح کرنے کی ضرورت ہے ۔پاکستان میں اکثریت کا ماننا ہے کہ نہ حافظ سعیددہشت گرد عناصر کی مالی معاونت میں ملوث ہیں اور نہ ہی جماعت الدعوہ ۔۔بین الاقوامی اداروں کی جانب سے ان پر الزامات ضرور ہیں مگردباؤ کے باعث انکی گرفتاری کے بجائے اپنااصل موقف واضح کر کے انھیں بری الذمہ قرار دینے کی ضرورت ہے )۔موجودہ حالات میں امریکہ کی جانب سے مثبت رویہ پاکستان کے لئے ہر لحا ظ سے فائدہ مند ہے مگر ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے اس مرتبہ پاکستان کو امریکہ کے ساتھ دو طرفہ مگر برابری کی سطح پر تعلقات کے لئے زور لگانا ہوگا۔ وزیر اعظم عمران خان نے حکومت سنبھالتے ہی دسمبر 2018 میں امریکی اخبارواشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ ہم کسی کے آلہ کار نہیں بنیں گے ۔ امریکہ کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات چاہتے ہیں ۔انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ افغان جنگ میں پاکستان نے بہت سی قربانیاں دی ہیں جنھیں دنیا کو تسلیم کرنا پڑیگا ۔انھوں نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا ہم خریدی ہوئی بندوق نہیں ہیں ۔اب ہم وہ کریں گے جو ہمارے مفاد میں ہوگا ــ‘‘عمران خان کا یہ بیان اورامریکی دورہ ایک دوسرے کے ساتھ گہرا تعلق رکھتے ہیں ۔وائٹ ہاؤس میں عمران خان کو ملنے والا پروٹوکول ، ٹرمپ کی جانب سے میزبانی اور پاکستان کے موقف کو تسلیم کرنا محض اسی لئے ہے کہ امریکہ جانتا ہے کہ پاکستان کے پاس روس کی صورت میں بہتر آپشن موجود ہے اور اگر اس وقت پاکستان امریکہ کو افغانستان میں لڑنے کے لئے اکیلا چھوڑ دے تو امریکہ کے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں ۔دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کو معاشی مشکلات سے نکلنے کے لئے ماضی کی طرح آج بھی امریکہ کے ساتھ بہتر تعلقات کی ضرورت ہے ۔لہٰذا ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے پاکستان امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر ضرور کرے مگر برابری کی سطح پر جہاںدو طرفہ تجارت کی صورتحال بھی واضح ہو اوردونوں ممالک کا سفارتی مفاد بھی سامنے رکھا جائے ۔عمران خان نے ایڈ کے بجائے ٹریڈ کا موقف پیش کرکے پہلے کامیابی ضرور حاصل کی ہے مگر پائیدار ترقی کے لئے ڈو مور کرنا ہو گا مگر اپنے فائدے کے لئے ۔۔۔ امریکہ کی جانب سے پاکستان کو ڈرانے دھمکانے اور پھر تھپکانے کی مثال سمجھانے کے لئے ایک لطیفہ ذہن میں آیا ہے امید ہے قارئین کو پسند آئے گا۔

’’ نئی نویلی دلہن کے شوہر نے کہا کہ مجھے دوپہر کا کھانا ٹھیک 1بجے چاہیے ورنہ ۔۔۔دلہن نے خوف زدہ ہو کر کھانے کی تیاری شروع کر دی ۔۔۔ شام ہوئی تو شوہر بولے ٹھیک 8 بج کر 15منٹ پرشام کا کھانا میز پر لگ جانا چاہیے ورنہ ۔۔۔ بیچاری دلہن ایک مرتبہ پھر ڈر کر کچن میں مصروف ہو گئی ۔ صبح اٹھتے ہی شوہر صاحب بولے میرے اٹھنے سے پہلے میرا لباس تیارہونا چاہیے ورنہ ۔۔۔ ایک اور دھمکی نے نہتی دلہن کی کارکردگی مزیدبہتر کر دی ۔۔۔ شام کو ایک اور آرڈر موصول ہوا کہ صبح اہم میٹنگ میں جانا ہے گرم پانی صبح 4بجے تیار ہو ورنہ ۔۔۔ یہ سن کر دلہن کی برداشت جواب دے گئی اور اس نے دھاڑتے ہوئے پوچھا ورنہ کیا؟؟ اس پر حیران و پریشان شوہر نے سرگوشی کرتے ہوئے کہا ورنہ۔۔۔ میں ٹھنڈے پانی سے نہا کر چلا جاؤں گا ۔


ای پیپر