کے الیکٹرک کوئی فلاحی ادارہ نہیں ہے : سپریم کورٹ
24 جولائی 2019 (18:32) 2019-07-24

کراچی: سپریم کورٹ کے جج جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے ہیں کہ کے الیکٹرک کوئی فلاحی ادارہ نہیں، یہ پاکستانی نہیں ہیں، یہ تو یہاں کمانے آئے ہیں، کے الیکٹرک اب پورے کراچی والوں کی کھال تک اتار کر لے جائے گی۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کے الیکٹرک اور شہری حکومت کے درمیان بجلی کے بلوں کی ادائیگی کے تنازع کی سماعت ہوئی۔ میئر کراچی وسیم اختر، کے الیکٹرک حکام، سیکرٹری بلدیات اور دیگر افراد عدالت میں پیش ہوئے۔میئر کراچی وسیم اختر نے عدالت سے کہا کہ انہیں اختیارات حاصل نہیں۔ سیکرٹری بلدیات نے وسیم اختر کے شکوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ کام کریں تو ان سے زیادہ با اختیار ادارہ کوئی نہیں۔

سپریم کورٹ نے چیف سیکرٹری کو کے ایم سی اور کے الیکٹرک کے درمیان مسئلے پر  جمعرات کو اجلاس بلانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں بجلی کے بلوں کی ادائیگی کا حتمی حل نکالا جائے۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ کے الیکٹرک کوئی فلاحی ادارہ نہیں، یہ پاکستانی نہیں ہیں، یہ تو یہاں کمانے آئے ہیں، کے الیکٹرک نے جتنا کمانا تھا کما لیا، یہ اب پورے کراچی والوں کی کھال تک اتار کر لے جائیں گے۔

نمائندہ سندھ حکومت نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے 34 کروڑ روپے واجبات کے سلسلے میں جاری کردیے۔ عدالت نے تمام متعلقہ حکام کو اجلاس بلاکر مسئلے کا حل نکالنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔


ای پیپر