نیوز نائیٹ کے ایک کروڑسے زائد ویوز
24 جولائی 2019 2019-07-24

یہ بات حیرت انگیز نہیں کہ لوگ اب وزیروں، مشیروں اور بیوروکریٹوں کو سننا نہیں چاہتے کیونکہ ان کو علم ہے کہ یہ سب سٹیریو ٹائپ رٹی رٹائی باتیں کرتے ہیں، روایتی اور گھسے پٹے موقف ہیں جیسے کسی زمانے میں ٹیپ ریکارڈر ہوا کرتے تھے جن کا جب بھی بٹن دبائیں وہی گانے چل جاتے تھے۔ مجھے جناب عطاءالحق قاسمی کا لکھا ہوا ایک بلاک بسٹر ڈراما یاد آ گیا جس کے کریکٹر کی ٹانگ ٹوٹ گئی جب لوگ بار بار آ کے اس سے پوچھتے کہ ٹانگ کیسے ٹوٹی تو وہ ٹیپ ریکارڈ ر آن کردیتا اور سوال کرنے والے ہر شخص کو وہ روداد پوری کی پوری سننی پڑتی۔ اب مختلف ٹی وی چینلز ہیں، وہاں وہی گھسے پٹے سیاسی ایشوز ہیں ، اپوزیشن اور حکومت کے وہی الزامات ہیں، وہی کہانیاں ہیں ، لگتا ہے کہ ایک ہی کیسٹ ہر جگہ چل رہی ہے۔

یہ سچ ہے کہ کرنٹ افئیرز کے روایتی ٹاک شوز اہمیت کھوتے چلے جا رہے ہیں کیونکہ پروگراموں کے شرکاء نہ تو سچ بولتے ہیں اور نہ ہی غیر جانبداری کا مظاہرہ ہوتاہے بلکہ طے شدہ ایجنڈے ہیں، پروگرام نہیں ہیں گویا وضاحتی بیانات ہیں ، ہرکسی کی اپنی بولی ہے جو وہ بول کے چلا جاتا ہے، اس بولی کی ٹی وی سکرینوں کے سامنے بیٹھے ہوئے عوام کو ککھ سمجھ نہیں آتی اورمعاملہ مشہور پنجابی فلم ’ کیری آن جٹا‘ کے اختتامی ڈائیلاگ جیسا ہوجاتا ہے جس میں سرپنچ کا پُتر اپنے پیوسے پوچھتاہے، ’ تینوں کُج سمجھ آرئی اے‘ جواب ملتا ہے ’ سمجھ تے نئیں آرئی پر صواد بڑا آ رہیا اے‘، بات اگر صواد پر ہی مُک جاتی تو کچھ برا نہ تھا مگر مسئلہ یہ ہے کرنٹ افئیرز کے پروگرام صواد کے لئے نہیں ہوتے، اس کے لئے انٹرٹینمنٹ کے چینلز موجود ہیں۔ ’نیوزنائیٹ‘ کو ایک مرتبہ پھر ’ نئی بات میڈیا گروپ‘ کے چینل ’ لاہور رنگ‘ سے شروع کرتے ہوئے میرے سامنے یہی سوال تھا کہ آپ تیزی سے قدر، وقعت اور اہمیت کھوتے ہوئے الیکٹرانک میڈیا پروگراموںمیں قوم کی توجہ کیسے حاصل کر سکتے ہیں تواس کا ایک ہی طریقہ تھا کہ عوام کی زبان بولی جائے، ان کی ترجمانی کی جائے، ان کے مسائل کی نشاندہی کی جائے اوران کے حل پر زور دیا جائے۔

لاہور میں ایسے لوگوں کی تعداد لاکھوں میں ہے جنہوں نے کسی تبدیلی کا خواب دیکھتے ہوئے تحریک انصاف کو ووٹ دئیے تھے مگر جو کچھ ابھی تک حکومت نے بدلا ہے وہ بدلا نہیں ہے بلکہ محض بدلہ ہے۔ میں نے اپنے شہر کی سڑکوں ، بازاروں، چوکوں، چوراہوں میں ہزاروں اور لاکھوں سے بات کی ، وہ سخت پریشان ہیں۔ میں نے تاجروں سے پوچھا تو مجھے شکایت کرنے والے سینکڑوں میں عمران خان صاحب کی حکومت کی کارکردگی پر اعتماد رکھنے والے ایک ، دو سے زائد کہیںنظر نہیں آئے۔ میرا دل اس وقت دُکھ اور درد سے بھر گیا جب میں نے اچھرہ بازار، چونگی امرسدھو اور دیگر مقامات پر کھڑے سینکڑوں مزدوروں سے بات کی تو علم ہوا کہ بہت سارے ایسے ہیں جن کی دو ، دو ماہ میں چار، چار دیہاڑیاں بھی نہیں لگیں ، ان کے گھروں میں فاقے ہیں، ان کی بیٹیاں سکول نہیں جا رہیںمگر میں نے جانا اورجانچا کہ وہ ملکی معیشت پر کسی اسد عمر اورکسی حفیظ شیخ سے بھی بہترکمانڈ رکھتے ہیں اوراقتصادی مسائل حل کرنے کے لئے بہتر فارمولے جانتے ہیں۔ چونگی امرسدھو پر کھڑے ہوئے ایک رنگ ساز نے جب روپے کی گردش کا فارمولہ اورا س کے نتائج بتائے تو وہ اتنے حیران کن تھے کہ تھوڑے ہی دنوں میںاس کے ویوز ملین میں ہوگئے، ہزاروں نے اس کے پیش کئے ہوئے نکات کو سراہا۔

خواجہ سرا میرے معاشرے کا سب سے محروم اور مظلوم طبقہ ہیں۔ ہم سب’ اچھے لوگ‘ انہیں’ بُرا‘ سمجھتے ہیں مگر کیا کبھی آپ نے خود کو ان کی جگہ رکھ کر سوچا ہے کہ وہ ایسے کیوں ہیں۔ڈاکووں سے نشئیوں تک کے لئے کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے افعال اور حالات کے خود ذمہ دار ہیں مگر کیا ایک خواجہ سرا کے بارے میں بھی آپ ایسا کہہ سکتے ہیں۔کیا وہ اپنی مرضی سے خواجہ سرا پیدا ہوا اور کیا اسے اس کی مرضی سے دھتکارا گیا۔ یہ وہ میرے اور آپ جیسے انسان ہیں جن کے ایک فزیکل ڈس آرڈرکی وجہ سے انہیں والدین تک کی شفقت اور محبت نہیں ملی۔ میں نے لاہور کے ٹھوکر سے لے کر ڈیفنس تک ٹریفک سگنلوں پر کھڑے خواجہ سراوں سے پوچھا کہ نئے پاکستان میں آپ لوگوں کی گزر بسرکیسی ہور ہی ہے تو حیرت انگیزطور پران گنت خواجہ سراو¿ں میں سے مجھے کوئی ایک بھی عمران خان کی تعریف کرتا ہوانہیں ملا۔ بڑے بوڑھے کہا کرتے تھے کہ کھسروں کی دعائیں بہت قبول ہوتی ہیں کیونکہ یہ رب کی دکھی مخلوق ہیں ۔ میں نے ان خواجہ سراو¿ں کو جیل میں بند نواز شریف کے لئے دعائیں کرتے ہوئے دیکھا اور کیمرے میں محفوظ کر لیا۔مہنگائی کے اس دور میں خواجہ سراو¿ں کے پاس یہی آپشن بچے ہیں کہ وہ ٹریفک سگنلوں پر بھیک مانگیں یا جسم فروشی کریں۔

ایک طرف خود پی ٹی آئی کے کارکن تاجر بھی اپنی حکومت کے ہاتھوں تنگ ہیں تودوسری طرف میں نے خواتین کو حکومت کے خلاف بلاتکان بولتے ہوئے دیکھا ہے، مجھے وہ خاتون شاہ عالمی کے معروف برتنوں والے بازار میں ملی تھیں اور ان کی باتیں جب ریکارڈ کر کے آن ائیر کی گئیں تو انہوں نے بھی ملین میں ویوز لئے اور اب ایک دوسری اماں جی ٹاو¿ن شپ بازار میں ملیں۔ میٹرو پر سفر کرتی ہوئی خواتین کے جذبات بھی مجموعی طور پر انتہائی شدید تھے جن کی ٹکٹ حکومت بیس روپے سے بڑھا کر تیس روپے کر رہی تھی۔بہت سارے ایسے ہیں جو ماں باپ کی کمائی سے خریدے سمارٹ فون ہاتھ میں پکڑے بستروں میں اینڈھتے تبصرے کرتے ہیں کہ اگر پٹرول دوسو روپے لیٹر بھی ہوجائے تووہ خان کے ساتھ ہیں اور کبھی کبھی ایسے لوگ مجھے سڑکوں پر مظاہرے کرتے ہوئے بھی مل جاتے ہیں، جو مظاہرے تو کر رہے ہوتے ہیں مگر کہتے ہیں کہ پٹرول ہزار روپے لیٹر ہوجائے، بجلی اور گیس کے بل دو کے بجائے چار گنا بھی ہوجائیں تو وہ گاڑی بیچ دیں گے، بجلی کٹوا دیں گے مگر خان کے ساتھ رہیں گے ، جی ہاں، ایسے لوگ بھی ہیں اور میں نے توکہا ہے کہ میں نے عوام کی آواز بننا ہے، ان کی ترجمانی کرنی ہے اور یہ بات کہنے والے بھی اسی شہر میں ہیں۔

پیارے قارئین! ہو سکتا ہے آپ لاہور رنگ کو صرف لاہور تک محدود سمجھیں مگر لاہور پاکستان کا دل ہے، جو لہو اس دل سے نکلتا ہے وہی پورے بدن میں جاتا ہے، داتا علی ہجویری کی نگری سے شروع ہونے والی کوئی سیاسی تحریک ناکام و نامراد نہیں رہتی، لاہور ہمیشہ پاکستان کے مفاد میں سوچتا ہے، لاہور ہمیشہ پاکستان کی حقیقی اور سچی تصویر پیش کرتا ہے ۔ نئی بات میڈیا گروپ کے چیئرمین جناب چوہدری عبدالرحمن نے آزادی صحافت کا صحیح معنوں میں علم اٹھایا اور ہم نے بھی اپنے پروگرام میں لاہور یوں کی حقیقی، سچی اور اصلی ترجمانی کی تو اسے اندرون و بیرون ملک پاکستانیوں نے سوشل میڈیا پر اس طرح سراہا کہ صرف جون کے ایک مہینے میں فیس بُک پر پروگرام اور اس کے چنکس کو دیکھنے والوں کی تعداد ایک کروڑ سے بھی بڑھ گئی جو ایک نیا ریکارڈ تھا ، الحمدللہ، نیشنل چینلز کے بہت سارے ایسے پروگراموں سے یہ ویور شپ کئی گنا زیادہ تھی جن کا بجٹ اور ٹیم ہم سے کئی گنا بڑی ہے مگر وہ عوام کے بجائے کچھ خاص لوگوں کے لئے پروگرام کرتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ہمیں یہ اعزاز کیوں ملا کیونکہ ہمیں اپنے رب کے بندوں سے پیار ہے ، ہم اُن کی زبان بولتے ہیں، اُن کی ترجمانی کرتے ہیں، اُن کے غم میں ساجھے دار بنتے ہیں، اُن کی آنکھوں کے آنسو پونچھتے ہیں، اُن کی راہوں سے کانٹے سمیٹتے ہیں ،اسے عباد ت سمجھتے ہیں اوراس پر فخر کرتے ہیں۔


ای پیپر